ان نبیوں ہی میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ رسالت کے منصب پر فائز کردیتے ہیں۔ہمارے نزدیک نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کے اتمام حجت کے بعد اس کا نتیجہ دنیا میں نکلنا ضروری نہیں ہوتا ، لیکن ایک رسول کے اتمام حجت کے بعد دنیا ہی میں اس کی مخاطب قوم کی مہلت عمر کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نبی لوگوں کو صرف حق پہنچانے تک محدود رہتا ہے۔ وہ آسمان سے وحی کی ہدایت پاتا ہے اور اہل زمین کو اس حق پر مطلع کرتا ہے۔ اس کا یہ ابلاغ حق اس قدر واضح ہوتا ہے کہ لوگ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں یہ عذر پیش نہیں کرسکتے کہ صحیح بات ان پر واضح نہ تھی،تاہم ان کی تکذیب ونافرمانی کے نتیجے میں ان کی مخاطب قوم پر کوئی عذاب نہیں ٹوٹتا،حتیٰ کہ ان کی قوم اگر انھیں قتل کرڈالے، تب بھی ان پر سزا کا فوری نفاذ ضروری نہیں ہوتا۔
تاہم رسول کا معاملہ اس سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔قرآن سے ہمارے سامنے جو تصویر آتی ہے ، اس کے مطابق کسی قوم کی طرف ایک رسول کی بعثت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عدالت جو دوسروں کے لیے قیامت کے دن لگنی ہے، اس رسول کی مخاطب قوم کے لیے دنیا میں لگ چکی ہے۔ رسول ، ایک نبی کی طرح نہ صرف اپنی قوم کو اخروی زندگی میں کامیابی اور ناکامی کے بارے میں بتاتے ہیں ، بلکہ اس دنیا میں اپنے پیروکاروں کو کامیابی کی بشارت دیتے اور کفر و نافرمانی پر دنیا میں ہی اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے رب کا پیغام با صراحت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب ان کی قوم ان کی بات نہیں مانتی تو لازماً اس دنیا میں ہی خدا کے عذاب کا کوڑا اس قوم پر برس جاتا ہے اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے، تاہم اگر رسولوں کی بات مان لی جائے تو پھر دنیا میں ہی ان پر خدا کی رحمتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔گویا کہ دنیا میں قوم کا عروج و زوال اب صرف اس رسول سے وابستہ ہوجا تاہے۔ مختصر یہ کہ ایک رسول جب اپنی قوم کو حق سے آگاہ کرتا ہے تو اس کا کیا ہوا اتمام حجت اس درجہ کا قطعی ہوتا ہے کہ اس کے بعد قیامت کے انتظار کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ رسول کی مخاطب قوم کو دنیا میں ہی ان کے کفر کی پاداش میں فنا کردیتا ہے۔

____________