کچھ علما حضرات۲۶؂ سورۂ طلاق (۶۵) کی آیت ۴ کی بنیاد پر یہ راے رکھتے ہیں کہ اسلام نے نابالغ لڑکیوں سے شادی کرنے اور ان کے ساتھ صنفی تعلق رکھنے کی اجازت دی ہے۔اس آیت سے یہ بالکل غلط استدلال کیا گیا ہے۔ نابالغ لڑکیوں سے شادی کا معاملہ قرآن مجید میں سرے سے زیر بحث ہی نہیں ۔نہ اس آیت میں اور نہ کسی اور آیت میں۔
جس آیت کو اس نقطۂ نظر کی حمایت میں پیش کیا جاتا ہے، اس آیت کا اس موضوع سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرعربی زبان کے اصولوں کو سامنے رکھا جائے تو آیت کے آخری حصے کا صحیح ترجمہ یوں ہوگا :

وَالّآءِیْ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِن نِّسَآءِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ وَالّآءِیْ لَمْ یَحِضْنَ. (الطلاق ۶۵: ۴)
’’اور تم میں سے جو خواتین حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ، ان کے بارے میں اگر تمھیں کوئی شک ہے تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جن کو حیض کی عمر تک پہنچنے کے باوجود حیض نہ آیا ہو۔‘‘

خط کشیدہ آخری حصے کا درج بالا ترجمہ اس لیے کیا گیا ہے کہ نفی کے لیے’ لَمْ‘ استعمال ہوا ہے،’ما‘ ۲۷؂نہیں۔ ترجمے میں اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے عام طور پر درج ذیل ترجمہ کیا جاتا ہے:

وَالّٰٓئِیۡ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِن نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ وَالّٰٓئِیۡ لَمْ یَحِضْنَ. (الطلاق ۶۵: ۴)
’’اور تم میں سے جو خواتین حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اور انھیں اس بارے میں شک ہو تو وہ تین مہینے انتظار کریں اور وہ جن کو حیض ابھی شروع نہیں ہوئے، وہ بھی تین مہینے انتظار کریں۔‘‘

چنانچہ اس خط کشیدہ عبارت (جو دراصل غلط ترجمہ پر مبنی ہے)۲۸؂ سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آیت میں نابالغ مطلقہ لڑکیوں کی عدت بیان ہوئی ہے۔ اس سے مزید یہ نتیجہ اخذ کیا گیاہے کہ اسلام نا بالغ لڑکیوں سے شادی کی اجازت دیتا ہے جو حقیقت میں اسلام پرسراسر بہتان ہے۔
_____
۲۶؂ مثال کے طور پر دیکھے: تفہیم القرآن، ابوالاعلیٰ مودودی ۵/ ۵۷۱۔
۲۷؂ دیکھیے: میزان ، جاوید احمد غامدی ۴۵۲۔
۲۸؂ اس حصہ کا درست ترجمہ وہی ہے جو پہلے کیا گیا، یعنی جن خواتین کو حیض کی عمر تک پہنچنے کے باوجود حیض نہ آیا ہو۔

____________