۱۸-  قسم میں بالعموم آدمی یا تو اپنی جان کی شہادت میں پیش کرتا ہے ۔ یا اللہ تعالیٰ کو،اور یہ دونوں صورتیں آدمی کی عزت اور اس کے مذہب کے لقطۂ نظر سے نہایت اہم ہیں ۔ پس تم قسم کے معاملہ میں بے پروائی اور بے احتیاطی کسی طرح صحیح نہیں ہے چنانچہ بعض حالتوں میں اس کی ممانعت ہوئی اور یہ ممانعت تین مختلف پہلوئوں کو پیش نظر رکھ کر وارد ہوتی ہے۔

۱-      مقسم علیہ کے پہلو سے۔

۲-      مقسم بہ کی جہت سے۔

۳-      مقسم علیہ اور مقسم بہ دونوں جہتوں سے۔

مقسم علیہ کے لحاظ سے ممانعت کی وجہ سے یہ ہے کہ جو آدمی ہر چھوٹی بڑی بات پر قسم کھاتا رہتا ہے وہ اپنے اس عمل سے ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر عزت نفس کا کوئی احساس نہیں ہے پس اس طرح کی قسم کے لیے ممانعت وارد ہوئی اور قرآن نے اس مضمون کو واضح کرنے کے لیے مبالغے کا صیغہ استعمال کیا تاکہ کسی کو گمان نہ گزرے کہ قسم کوئی بری چیز ہے بلکہ یہ واضح ہو جائے کہ بات بات پر قسم کھانا برا ہے۔

 وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ (القلم: ۱۰)

ہر ذلیل لباٹیے کی بات پر کام نہ دھرو۔

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بات بات پر قسم کھاتا ہے وہ اپنے نفس کو ذلیل کر دیتا ہے چاہیے وہ اللہ کی قسم کھائے یا کسی اور کی۔

اس کو مثال اس چھچھورے آدمی کی ہے جو بلا سبب غصے میں آجاتا ہے یا موقع بے موقع ہنستا رہتا ہے۔

  مقسم بہ کے پہلو سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ جب آدمی کوئی مذہبی قسم اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی اور ذات کی کھاتا ہے تو گویا اس ذات کو معبود کی حیثیت دے دیتا ہے پس شائبہ شرک سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہوا کہ جس طرح غیر اللہ کا سجدہ یا بتوں کا تراشنا ممنوع ہوا جیسا کہ تورات کے احکام عشرہ کے سلسلے میں مذکور ہے۔ اس طرح غیر اللہ کی قسم بھی ممنوع ہو چنانچہ تنبیہ بات۶۔۱۳میں ہے۔

’’تو اپنے خداوند سے ڈرے گا اسی کو پوجے گا اور اسی کے نام کی قسم کھائے گا‘‘

اسی طرح نبی ﷺ نے بھی غیر اللہ کی قسم کی ممانعت فرمائی ہے۔

مقسم علیہ اور مقسم بہ دونوں پہلوئوں سے قسم کے ممنوع ہونے کی صورت یہ ہے کہ آدمی ہر چھوٹی بڑی بات پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا پھرے یہ عزت نفس اور تقویٰ دونوں چیزوں سے محرومی کی دلیل ہے اور قرآن نے ایسی ہی قسموں کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں فرمایا ہے کہ

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ (البقرۃ ۲۲۴)

(اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو)

قسم کی یہ صورتیں ممنوع  ہیں اور ان کے ممنوع ہونے کے اسباب ظاہر ہیں باقی ان کے علاوہ جو قسمیں ہیں ان کے لیے کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بالخصوص جو قسمیں تمدنی ضروریات سے وجود میں آتی ہیں اور جن کرہم نے چھٹی اور دسویں فصل میں ذکر کیا ہے وہ خاص اہمیت رکھتی ہے اور شریعت اسلام میں جو ایک عالمگیر شریعت ہونے کی وجہ سے انسانی فطرت کی کمزوریوں اور تمدنی ضرورتوں کو سب سے زیادہ ملحوظ رکھنے والی شریعت ہے ۔ ان کی ممانعت کس طرح نہیں ہو سکتی ہماری فطرت کی کمزوریوں اور ہماری ضرورتوں کا جس قدر اہتمام اس شریعت میں کیا گیا ہے اس پر قرآن شاہد ہے ۔ مثلاً فرمایا:

 یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(النساء ۲۸)

اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

پھر ایسی شریعت میں ایک ایسی چیز کے لیے مطلق ممانعت کیسے ہو سکتی ہے جو تمام دینی وتمدنی مہمات میں واحد چارہ کا ہو ۔ یہ ہماری فطرت کی کمزوریوں ہی کا لحاظ تھا کہ ان قسموں پر کوئی مواخذہ نہیں ہوا جو متکلم بلا کسی مقصد کے عادۃ کھا لیا کرتا ہے۔

 لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ  اَیْمَانِکُمْ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْم (البقرہ ۲۲۵)

اللہ تعالیٰ تمہیں لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا بلکہ وہ انہیں چیزوں پر پکڑے گا جن کا تمہارے دل ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ غفور وحلیم ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اعمال کا تعلق دراصل نیت سے ہے پس لغو قسمیں اگرچہ وقار اور ثقاہت کے بالکل خلاف ہیں لیکن ہمارا پروردگار مہرمان اور ہماری کمزوریوں سے درگزر کرنے والا ہے اس وجہ سے اس طرح کی قسموں پر کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا۔

یہ ہم نے جو کچھ لکھا ہے عام قسموں کے متعلق ہے رہیں قرآن مجید کی قسمیں تو وہ بیشتر استدلال کے لیے ہیں اور استدلال میں وقار یا دین کے مجروح ہونے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا پھر یہ قسمیں یا تو توحید پر کھائی گئی ہیں یا معاد پر یا رسالت پر اور ان کی عظمت واہمیت مسلم ہے ان چیزوں پر قسم کھانے کی وجہ سے کسی کے دین ووقار کو کوئی صدمہ نہیں پہنچ سکتا ۔ ان کی قطعیت بالکل غیر مشتبہ ہے ان میں کسی جھوٹ کا احتمال اور کذب کا شائبہ نہیں ہے جن چیزوں پر خود اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے ملائکہ اور تمام اہل علم کی گواہی ثبت ہو  اس پر ایک بندہ اللہ کی گواہی پیش کرکے اپنی دینداری کے بارے میں کیسے مشتبہ ہو سکتا ہے اس طرح کی قسمیں تو شہادت کے اس حقیقی مفہوم کی تعبیر ہیں جس کی انبیائے کرام نہایت واضح لفظوں میں تبلیغ کرتے ہیں انبیائے کرام اپنی دعوت وتبلیغ میں کیا دعویٰ کرتے ہیں، یہی ناکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ ان کو مبعوث کیا وہ ان کی صدقت کا گواہ ہے وہ اسی کے دامنِ رحمت میں پناہ لیتے ہیں اسی پر اعتماد کرتے ہیں اوراپنے قول پر اسی کو گواہ ٹھہراتے ہیں ۔ یہ ساری باتیں تو بعینہٖ وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قسم سے سمجھی جاتی ہیں جیسا کہ دسویں فصل میں ہم بیان کر آئے ہیں پھر کیا حرج ہے اگر صورت بدل کر ان چیزوں کو قسم کے اسلوب میں پیش کردیا جائے اور یہ معلوم ہے کہ جب قسم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مخلوقات اور کلمات کی ہو تو شرک کا کوئی احتمال نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کی قسموں کا مفہوم صرف شہادت ہوتا ہے۔ ان میں تعظیم کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔

الغرض قرآن مجید کی قسموں کی ایک خاص نوعیت ہے اور انبیاء وصلحاء نے جو قسمیں کھائی ہیں ان کا مقصود اللہ تعالیٰ پر اعتماد توکل کا اظہار ہے پس جو لوگ ان قسموں پر اعتراض کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ قسم کھانا علی الطلاق ممنوع ہے ۔ وہ محض قلت تدبر کی وجہ سے ایک سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

معاملے کی صحیح شکل یہ ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے اب ہم چند لفظوں میں اس ممانعت پر بھی روشنی ڈالنا چاہتے ہیں جو حضرت مسیح کی طرف منسوب ہے ہمارے نزدیک اس ممانعت کی خاص وجہ ہے اور اس کی تشریح فائدے سے خالی نہیں۔