چودہواں باب 

دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت مسلمان ایک اہم اقلیت کی حیثیت سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ان میں سے اکثر ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی لحاظ سے کوئی مشکل نہیں ہے۔وہ اپنے دین پر عمل کرسکتے ہیں اور اپنے دین کی تبلیغ بھی کرسکتے ہیں۔کسی کے قبول اسلام پر بھی کوئی پابندی نہیں۔البتہ سماجی سطح پر ان کو مسائل درپیش ہیں۔چونکہ ان میں اکثریت تارکین وطن کی ہے اس لئے اصلی باشندے انہیں اپنے برابر نہیں سمجھتے۔تاہم یہ مسئلہ تو ہر جگہ ہے بلکہ مالدار مسلمان ممالک میں جتنا ہے،اس کا عشر عشیر بھی یورپ اور امریکہ میں نہیں۔مثلاً ایک دنیا جانتی ہے کہ مالدار عرب بادشا ہتوں میں غریب مسلم ملکوں سے جانے والوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔یا مثلاً کسی غریب ملک کے ایک مسلمان کو تو مغربی ممالک یا امریکہ میں گرین کارڈ بھی مل جاتا ہے اور کچھ شرائط پوری کرنے کے بعد وہ وہاں کا باشندہ بھی بن سکتا ہے لیکن ایسے ہی ایک مسلمان کے لئے کسی مالدار عرب ملک میں شہری بننا ناممکن ہے۔ایک اور مثال لیجئے خود ہمارے وطن عزیزمیں پچھلے بیس برس کے دوران میں،یعنی 1985ء کے بعد نسلی فسادات میں صرف صوبہ سندھ میں جتنے پختونوں،پنجابیوں،سندھیوں اور مہاجروں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور املاک لوٹیں،وہ امریکہ ،برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں اسی عرصے میں مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی پہنچنے والے نقصان سے ہزار گنا زیادہ ہے۔
البتہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں واقعتا مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ان میں میانمار(سابق برما)کے روہنگیا اور چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمان شامل ہیں۔مسلمان ممالک پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں معاملات پر مسلمانوں کی حالت زار کے متعلق صحیح اعدادوشمار اور رپورٹ اکٹھی کریں اور پھر ان دونوں ممالک پر یہ زور دیا جائے کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی دیں۔میانمار کی صورت حال تو بہت بری ہے۔اسی لئے تین لاکھ برمی مسلمان پناہ کے لئے بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں۔چنانچہ مسلمان ممالک کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ان مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرسکتے ہیں کہ ان علاقوں کے مسلمان اپنی حکومتوں کے خلاف کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں ہونگے۔
کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں مسلمان،مرکزی حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں۔مثلاً فلپائن میں منڈا ناؤ کے علاقے کے مسلمان پچھلے تیس برس سے بھی زیادہ سے اپنی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں۔یہ جدوجہد،باوجود ہزاروں قربانیوں کے،اب تک بے نتیجہ رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس سے کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں ہے۔ویسے بھی یہ کوئی صحیح حکمت عملی نہیں ہے کہ جس چھوٹی سی جگہ مسلمانوں کو اکثریت مل جائے،وہاں وہ اپنی آزاد مملکت کے لئے جدوجہد شروع کردیں۔اس کی چار وجوہات ہیں۔ایک یہ کہ اس طرح دوسری غیر مسلم ریاستیں آئندہ اپنے ہاں اشاعت اسلام کی اجازت نہیں دیں گی، اس لئے کہ وہ سوچیں گی کہ ان مسلمانوں کو کسی چھوٹے سے علاقے میں بھی اکثریت مل جاتی ہے تو یہ ملک توڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں بھی ایسے علاقے موجود ہیں۔جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہے۔مثلاً سوڈان کے جنوبی علاقے میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔اپنی اس حکمت عملی کے ذریعے وہاں کی علیحدگی پسند غیر مسلم گروہوں کو ہم اخلاقی جواز فراہم کردیتے ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ اب جہاں جہاں جمہوریت ہے،وہاں سے کسی اقلیت کی غلامی کا سوال ہی ختم ہو گیا ہے۔اس لئے کہ جمہوریت میں ہر ایک کو اپنے حقوق ملتے ہیں اور اگر کہیں نہیں ملتے تو پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ کھلا ہے۔چوتھی اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے حقیقی مشن کو کبھی نہیں بھولنا چاہئیے۔وہ مشن غیر مسلموں میں پرامن طریقے سے اسلام کی دعوت پھیلانا ہے۔جب ہم غیر مسلموں سے اپنے آپ کو سیاسی طور پر کاٹ دیتے ہیں تو اُن میں اسلام کی دعوت کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔چنانچہ منڈا ناؤ کے مسلمانوں کے لئے جدوجہد کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ سیاسی علاقائی خود مختاری کے لئے پرامن جدوجہدکریں،اور پورے فلپائن میں اشاعتِ اسلام کے لئے کام کریں۔
کئی علاقے ایسے ہیں جہاں مسلمان،مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔مثلاًاس وقت کرد نسل کے لوگ ایران،ترکی اور عراق میں منقسم ہیں اور وہ اپنی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔یہ جدوجہد بے فائدہ ہے۔اس کے بجائے ان کے لئے مناسب راستہ یہ ہے کہ اپنے اپنے ممالک سے غیر مشروط وفاداری کا اعلان کرکے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کا پرامن مطالبہ کریں۔
یہی حال آچے کا ہے جہاں نوے فیصد مسلمان ہیں اور اپنی مسلمان حکومت انڈونیشیا کے خلاف لڑرہے ہیں۔یہ لڑائی دونوں فریقوں کے لئے نقصان دہ ہے۔اس لئے آچے کے لوگوں کو بھی مسلح جدوجہد چھوڑ کر پرامن سیاسی راستہ اپنانا چاہئیے۔