بتیس واں باب 

قرآن مجید میں سورہ توبہ میں شامل بہت سی موضوعات میں ایک موضوع یہ بھی ہے کہ جن مسلمانوں کی صحیح تربیت نہیں ہوئی، اُن کی تربیت کیسے کی جائے۔ اس کا جواب قرآن مجید نے یہ دیا کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں اور پھر اس کے بعد اپنی اپنی بستیوں میں جاکر لوگوں کی تربیت کریں۔ گویا اہل علم کا اصل کام لوگوں کی تربیت ہے۔ اگر کسی ملک کے اہل علم اس کام کو فراموش کریں، یا اس کے بجائے دوسرے کاموں میں زیادہ دلچسپی لینے لگیں تو قوم کی صحیح تربیت نہیں ہوسکتی۔ 
کسی بھی قوم کے صحیح اصولوں پر قائم رہنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ اہلِ علم سوسائٹی کی تربیت کے لیے کتنی کوششیں کررہے ہیں۔ جہاں جہاں عالم اور دانشور مختلف افراد کی تربیت پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں، وہاں سوسائٹی کا اونچا طبقہ اُن سے متاثر ہوجاتا ہے اور یوں عام لوگ بھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے لگتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زندہ اور اچھے معاشرے اسی طریقے سے قائم ہوئے اور برقرار رہے۔ 
آج ہماری سوسائٹی کے اہلِ علم بدقسمتی سے دوکاموں میں پڑگئے ہیں۔ یاتو وہ براہ راست سیاست میں حصہ لیتے ہیں، اور چونکہ ابھی اصول واقدار کے معاملے میں لوگوں کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی، اس لیے یہ اہلِ علم نہ چاہتے ہوئے بھی ان تمام خرابیوں میں آلودہ ہوجاتے ہیں، جن میں ہمارے دوسرے سیاسی لوگ آلودہ ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اہلِ علم کا مقام، وقار اور ان کی باتوں کا تاثر کمزور ہوجاتا ہے۔ دوسرا کام یہ ہے کہ یہ اہلِ علم ہر وقت حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں، ہر برائی کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں اور ہر معاملے میں حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوں کرے اور یوں نہ کرے۔ حکومت وسیاست کیا ہوتی ہے؟ یہ دراصل عوام کے مجموعی اخلاق وکردار کا اظہار اور عکس ہوتی ہے۔ اگر عوام کی تربیت صحیح خطوط پر ہوچکی ہوتی ہے تو ان کے سیاسی رہنما بھی ان اقدار کا خیال رکھتے ہیں، ورنہ نہیں رکھتے۔ دراصل ایک سیاسی لیڈر کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرے۔ چنانچہ ووٹوں کے حصول کے لیے وہ ہر وہ طریقہ اختیار کرتا ہے جس کا معاشرے میں چلن ہوتا ہے۔ مثلاً اگر معاشرہ بددیانت ہے، تو سیاسی لیڈر مجبور ہوتا ہے کہ اپنے ووٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بددیانتی کا ذریعہ استعمال کرے۔ اگر اس کے برعکس سوسائٹی میں دیانت داری کا چلن ہو، تو سیاست دان دیانت داری پر مبنی طریقے استعمال کرتا ہے۔ عملی اور انتخابی سیاست کے ذریعے چھوٹی موٹی تبدیلیاں تو آتی ہیں، لیکن اس کے ذریعے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی۔ بڑی تبدیلی کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ عوام کی تربیت کا صبرآزما کام کیا جائے۔ 
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ عملی سیاست یا حکومت پر تنقید کوئی شجر ممنوعہ ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ اگر کچھ اہلِ علم اپنے رجحان اور ذوق کی وجہ سے عملی سیاست میں حصہ لینا چاہیں تو ضرور لیں۔ لیکن اگر سارے ہی اہلِ علم یہ کام شروع کردیں تو پھر معاشرے کی تربیت کون کرے گا؟ یہی معاملہ حکومتوں پر تنقید کا ہے۔ حکومتوں پر تنقید نہایت ضروری ہے اور اُن کے سامنے اچھی تجاویز رکھنا بھی لازم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اُتنا ہی اہم ہے کہ عوام کو یہ بتایا جائے کہ خود وہ بھی صحیح اقدار پر عمل پیرا ہوجائیں۔ مثلاً حکومت سے یہ مطالبہ نہایت ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے اقدامات کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو یہ بتایا جائے کہ وہ خود بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور اپنے ساتھ انصاف کریں۔ 
دنیا میں اصل تبدیلی معاشرتی مصلح ہی لاتے ہیں۔ تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ امت مسلمہ کے ننانوے فیصد علماء نے عملی ریاستی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے عوام کی تربیت اور علم پھیلانے کا کٹھن کام کیا۔ اگر کہیں موقع ملا تو حاکمِ وقت کو نصیحت کردی یا مشورہ دے دیا، لیکن اس کے علاوہ اُس سے کوئی سروکار نہ رکھا۔ ہاں، اگر کسی حاکم نے اُن کی علمی آزادی پر کوئی قدغن لگانا چاہی تو اُس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہی اہلِ علم کی وجہ سے آج امتِ مسلمہ قائم ودائم ہے اور اس کے اندر کچھ نہ کچھ اقدار باقی ہیں۔
تاریخ میں کچھ ایسے سیاسی رہنماوؤں کا بھی ذکر آتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کے کردار پر گہرا اثر ڈالا۔ اگر ان سب رہنماوؤں کے کردار اور حالاتِ زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ دراصل معاشرتی مصلح تھے، اور ان لوگوں نے عملی سیاست کی وقتی آلودگی سے بڑی حد تک اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ اگر مہاتما گاندھی، مولانا مودودی،باچاخان، نیلسن منڈیلا اور امام خمینی جیسے اکابرین پارلیمنٹوں کی عوامی سیاست میں حصہ لینے لگتے تو پھر وہ معاشرے پر اتنا زیادہ اثر نہ ڈال سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اہلِ علم معاشرتی اور ریاستی اصلاح کاکام کریں تو اس کے نتیجے میں بااصول سیاسی لیڈر بھی پیدا ہوتے ہیں اور عوام بھی نسبتاً اچھے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں۔ گویا اس طرح معاشرے کا ہر طبقہ ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے ارتقاء کے راستے پر آگے بڑھتا ہے۔ تاہم اگر معاشرتی مصلح اپنے حصے کاکام نہ کرے تو پھر ملک کے اندر اصول اور اقدار کی پاسداری کا ذہن پروان نہیں چڑھتا۔ ایک مصلح کی باتوں میں صرف اُس وقت اثر ہوتا ہے جب وہ اپنے کام کے بدلے میں لوگوں سے کوئی اُجرت طلب نہ کرے ۔ ووٹ کا حصول اور اس کی طلب دراصل ایک اُجرت ہی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں سیاست دان کو اقتدار، طاقت اور اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ 
کسی قوم کے آگے بڑھنے کے لیے اچھے سیاست دان ضروری ہیں، اور اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی شعور بیدار ہو۔ یہ دونوں کام اُس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک کچھ اہم ترین لوگ بلحاظ مجموعی اصلاح (Reformation)کاکام انجام نہ دیں۔ آج ہماری سوسائٹی کے اندر جمہوری، منصفانہ، دیانت داری اور عدم تشدد پر مبنی روئے کی اقدار کو یوں عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر فرد کے دل میں فرائضِ دینی کے بعد انہی اقدار کی سب سے زیادہ اہمیت ہو۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انفرادی واجتماعی شعور کو بیدار کیا جائے۔ یہ کام اصلاح کی ایک ہمہ گیر، مسلسل اور صبر آزما جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔