گیارہواں باب 

آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت کرچکی ہے۔ ہر مسلمان ملک میں لاکھوں یا کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر غیر مسلم ملک میں بھی لاکھوں یا کروڑوں مسلمان بستے ہیں۔ تقریباً ہر مسلمان ملک کا کوئی نہ کوئی غیر مسلم بھی ہمسایہ موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ غیر مسلموں سے ہمارا تعلقِ کار (Working Relationship) کیا ہونا چاہیے؟ کیا سارے غیر مسلم ہمارے بالفعل(Potential)دشمن ہیں؟ کیا ان میں سے کسی سے دوستی کا تعلق نہیں رکھا جاسکتا؟ کیا ہر غیر مسلم ملک بھی ہمارا دشمن ہے، یا اس سے پرامن بقائے باہمی کا تعلق رکھا جاسکتا ہے؟۔ 
ایک مسلمان ملک میں غیر مسلموں کے حوالے سے چند اور سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہ قرآن مجید میں بعض جرائم کی سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ کیا یہ سزائیں غیر مسلموں پر بھی نافذ کی جائیں گی؟ اگر ایسا کیا گیا تو کیایہ غیر مسلموں پر ایک دوسرے دین کو زبردستی نافذ کرنے کی مترادف نہیں ہوگا؟ اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو غیر مسلموں کے ہاں وقوع پذیر ہونے والے جرائم کے ضمن میں کیا رویہ اختیار کیا جائے؟ 
ہمارا دین ہمیں یہ بتا تاہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اگر اس دنیا میں اس دینِ حق کو اس کے نہ ماننے والوں پر بزور نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ آزمائش کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں باربار یہ اصولی بات فرمائی گئی ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ 
مسلمانوں کے حوالے سے غیر مسلم دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ایک وہ گروہ جو مسلمانوں کے معاملے میں ہمدردانہ اور مبنی برانصاف رویہ رکھتا ہے یا کم ازکم غیر جانبدار ہے۔ دوسرا وہ گروہ ہے جو کھلم کھلا مسلمانوں کا دشمن ہے، اسلام کا مذاق اڑاتا ہے اور مسلمانوں سے عناد رکھتا ہے۔ غیر مسلم افراد بھی اِن دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور غیر مسلم حکومتیں بھی اِن دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ پہلے گروہ کے متعلق مسلمانوں کو یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ان سے اچھا تعلق رکھا جاسکتا ہے۔ اس اچھے تعلق کی وجہ سے مسلمان افراد اور حکومتیں بے جا مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتیں اور مسلمانوں کو یہ موقع بھی مل جاتا ہے کہ وہ غیر مسلموں تک دین کی دعوت پہنچائیں۔ دوسرے گروہ کے متعلق ہمیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اُن سے دوستی کا تعلق نہیں رکھا جاسکتا۔ البتہ اُن سے کام کا تعلق رکھا جاسکتا ہے۔ ان کی دشمنی اور اقدامات سے مسلمانوں کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ مسلمان کسی نقصان میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ مناسب موقعوں پر ان کو بھی دین کی دعوت پہنچانی چاہیے، لیکن اگر یہ لوگ دین کا مذاق اڑانے لگیں تو پھر اُس وقت اُن سے ہٹ جانا چاہیے۔ 
درج بالا دونوں باتوں کی طرف قرآن مجید نے باربار توجہ دلائی ہے۔ عقلِ عام (Common sense) سے بھی بالکل اسی نتیجے تک ایک انسان پہنچتا ہے۔ البتہ قرآن مجید کی سورہ مائدہ، آیت نمبر 51میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بنایا جائے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا سب یہودیوں اور عیسائیوں سے ہمیشہ کے لیے اچھا تعلق رکھنا منع ہے، یاپھر یہاں بھی صرف اُنہی یہودیوں اور عیسائیوں کی بات کی گئی ہے جو مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں؟ اس راقم کے نزدیک اِس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی اُنہی یہودیوں اور مسیحیوں کی طرف اشارہ ہے جن کی اسلام دشمنی بالکل واضح ہوچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت کے بعد آگے آیت نمبر57میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُن اہل کتاب اور دوسرے منکرینِ حق کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنایا جائے جو اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے بعد مزید آگے آیت نمبر82میں بہت واضح طریقے سے یہکہا گیا ہے کہ مسلمانوں سے دشمنی رکھنے میں یہودی اور مشرکین بہت سخت ہوں گے، تاہم مسیحی ہم سے دوستی میں قریب تر ہوں گے۔ اس کی وجہ بھی قرآن مجید نے یہ بیان کردی ہے کہ اُن میں عبادت گزار عالم موجود ہیں، نیز ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے دنیا کو ترک کرکے فقر اور انسانی خدمت کی زندگی اختیار کرلی ہے، اور یہودیوں کے برعکس ان میں غرور نہیں ہے۔ 
جہاں تک ملکوں کا تعلق ہے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب تو اُن کے درمیان عام طور پر دوستی کا تعلق نہیں ہوتا، بلکہ ڈپلومیسی کی زبان میں جس چیز کو دوستی کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت صرف تعلقِ کار ہی ہوتی ہے۔ البتہ افراد کے معاملے میں یہ ممکن ہے کہ اہلِ کتاب کے نیک افراد سے اچھا تعلق رکھا جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دین کی دعوت کے لیے اُن کے دلوں کو کھولا جاسکے گا۔ قرآن مجید میں کئی ایسی آیات موجود ہیں جن میں اچھے اہلِ کتاب کی تعریف کی گئی ہے، اُن کے ذبیحے کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ہے، اور مسلمانوں کو یہ اجازت بھی دی گئی ہیں کہ وہ اہلِ کتاب عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ میاں بیوی اور والدہ اور بچوں کا تعلق محبت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ دراصل سورۃ مائدہ کی آیت نمبر51 میں یہود ونصاریٰ کے نام سے پہلے ’’الف لام‘‘ کا لاحقہ آیا ہے، جس سے یہ اسم معرفہ (Proper Noun) بن گیا ہے۔ چنانچہ اس سے مراد یہود ونصاریٰ کا ایک مخصوص گروہ ہے۔ سورۃ مائدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ اہلِ کتابتھے جو مسلمانوں سے برسرجنگ تھے، مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ یقیناًایسے اہلِ کتاب سے دوستی ایک بڑا جرم ہے۔
جہاں تک غیر مسلم ممالک کا تعلق ہے،ہمیں قرآن مجید نے کئی مرتبہ یہ ہدایت کی ہے کہ ہم سب ممالک کے ساتھ تعلقِ کار رکھ سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ کسی دشمن قوم کے معاملے میں بھی ہمیں ہمیشہ عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے۔ خود حضورؐ نے کئی غیر مسلم قبیلوں سے امن اور اچھے تعلقِ کار کے معاہدے کیے تھے۔ 
اب سوال رہ جاتا ہے ایک مسلمان ملک کے اندر غیر مسلموں پر اسلام کے فوجداری قوانین نافذ کرنے کا۔ چونکہ یہ قوانین اسلام کا ایک جزو ہیں، اس لیے کسی مسلمان ملک کے غیر مسلم باشندے چاہیں تو انہی قوانین کو اختیار کرسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو اپنے لیے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کچھ دوسرے قوانین بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ ہمارے دین نے غیر مسلموں کو یہ اجازت بھی دی ہے کہ وہ کسی مسلمان ملک کے اندر اپنی عدالتیں بھی قائم کرسکتے ہیں۔ حضورؐ کے زمانے میں بھی غیر مسلموں کی عدالتیں قائم تھیں، جس کی طرف سورۃ مائدہ آیت نمبر42میں اشارہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام کے فوجداری قوانین اتنے اچھے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ کسی مسلمان ملک کے غیر مسلم باشندے انہی قوانین کو من وعن اختیار کرلیں، تاہم اگر وہ ایسا نہ کرنا چاہیں تو یہ اختیار بھی ان کو حاصل ہے۔ 
درج بالا امور میں سے اکثرپر اس راقم کی کتاب ’’جہادوقتال: چند اہم مباحث‘‘ میں تفصیلی بحث موجود ہے۔