پاکستان میں کتابوں کی قدروقیمت کچھ زیادہ نہیں۔مگر اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کو جو غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی وہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک غیر معمولی عنایت ہے۔ یہی سبب ہے کہ دو ماہ بعد ہی دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کی نوبت آگئی ہے۔جن لوگوں نے اس کتاب کو پڑھا انھوں نے اس طالب علمانہ کاوش کی بہت حوصلہ افزائی کی۔گو کچھ حلقوں کی طرف سے بعض خیالات پر تنقید بھی ہوئی۔خاص طور پر رسول اور نبی کا فرق بہت سے لوگوں سے ہضم نہیں ہوسکا۔مگر اس کا سبب ہمارے دلائل کی کمزوری نہیں۔ امین احسن اصلاحی نے اپنی شاہکار تفسیر تدبر قرآن میں اس نقطۂ نظرکو اس طرح محکم کیا ہے کہ علم کی دنیا میں اب اس کاانکا رکرنا ممکن نہیں رہا۔ مگر اسے ماننے کے بعد پوری دنیا کو مغلوب کرنے کے نظریے کی فکری اساس ڈھہ جاتی ہے۔ یہ بات کچھ جذباتی لوگوں کو پسند نہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری قوم اس غیر حقیقی اور منفی بنیاد پر قائم فکر سے باہر آکرعروج وترقی کی حقیقی بنیاد وں کومتعین کرے ۔ اور انھی پر قومی تعمیر کے لائحہ عمل کی بنیاد رکھے۔
کتاب سے متعلق ایک تنقید ایسی ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ بہت سے احباب کے خیال میں عروج و زوال کے قانون کو اختصار کے ساتھ بیا ن کرکے ہمیں پاکستان پر زیادہ تفصیل کے ساتھ لکھنا چاہیے تھا۔یہ بات ٹھیک ہے کہ کتاب میں قوموں کے عروج و زوال کے قانون کو نسبتاً زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ محض ایک نظری گفتگو نہیں بلکہ پاکستان ہی کے پس منظر میں کی گئی بحث ہے۔اس نظر سے جب ان ابواب کامطالعہ کیا جائے گا تو یہ بحث ایک عام قاری کے لیے بھی بہت بامعنی ہوجائے گی۔ یہ بحث اگر سرسری طور پر کی جاتی تو پاکستان سے متعلق لکھے گئے اگلے دو ابوب علمی اور فکری استدلال کے بغیر محض جذباتی گفتگو اور نری وعظ و نصیحت بن کے رہ جاتے۔ یہ ہمیں منظور نہ تھا۔
یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ اس کتاب نے بہت سے لوگوں کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر آمادہ کیا ہے۔یہی ہماری خواہش بھی تھی ۔ ہمارے لیے یہ چیز بڑی اہم ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے کچھ لوگوں میں قومی درد کا جذبہ پیدا ہوا۔اس کتاب کے ضمیمے کے طور پر اور اس کے علاوہ بھی ہم نے پاکستانی قوم کے حوالے سے متعدد مضامین لکھے ہیں جو کتابچوں کی شکل میں بہت بڑی تعداد میں شائع بھی ہوچکے ہیں۔ قارئین کے تقاضے کے بعد ارادہ ہے کہ انھیں بھی ایک کتاب کی شکل میں شائع کردیا جائے ۔
ہم نے یہ کتاب ناموری کے کسی جذبے یا فکری برتری کے زعم میں مبتلا ہوکر نہیں لکھی ۔ یہ اس احساس کے تحت لکھی گئی ہے کہ پاکستان کا وجود اُس درخت کی مانند سوکھ رہا ہے جس کی جڑوں پر جلد یا بدیر کلہاڑا رکھ دیا جاتاہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی انحطاط کے اس عمل کو روکنا کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے اپنے وجود کی پوری قوت کے ساتھ ہم نے سوچنے والے اذہان اور صاحبان درد کودعوت فکر دی ہے۔ استاد نے کبھی کہا تھا کہ اورہم دہرارہے ہیں، ’ ہم متاع ہنر نہیں رکھتے متاع درد ضرور رکھتے ہیں‘۔ زندگی اس درد کو بانٹتے ہوئے گزر جائے تب بھی یہ خسارے کا سودا نہیں۔اس اندھیرے میں جو چراغ ہم جلارہے ہیں اس سے یہ دنیا روشن ہو یا نہ ہو، آسمانی بادشاہی ضرور روشن ہوگی۔ یہ خدا کا وعدہ ہے۔ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

ریحان احمد یوسفی
۹؍ جنوری ۲۰۰۴ء
کراچی

___________