۱۔ مولانا امامحمید الدین فراہی۴۷؂

حمید الدین فراہی ۱۸۶۳ء میں پھریہہ میں پیدا ہوئے جو کہ اعظم گڑھ ڈسٹرکٹ (اتر پردیش، انڈیا)کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ آپ مشہور عالم اور مؤرخ مولانا شبلی نعمانی کے ماموں زاد بھائی تھے۔انھیں سے آپ نے عربی زبان سیکھی۔ فراہی صاحب نے مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے عربی ادب پڑھا جن کو عربی زبان پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا۔اکیس سال کی عمر میں آپ نے جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ مسلم کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں انھوں نے جرمن مستشرق جوزف ہورووٹز سے عبرانی زبان سیکھی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ نے علی گڑھ اور دارالعلوم حیدرآباد کے علاوہ مختلف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
دار العلوم میں تدریس کرنے کے دوران انھوں نے ایک ایسی یونیورسٹی بنانے کا تخیل پیش کیا، جہاں تمام مذہبی اورسائنسی علوم اردو زبان میں پڑھائے جاسکیں۔ ۱۹۱۹ء میں ان کی یہ سوچ حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ کی شکل میں تشکیل پائی۔۱۹۲۵ء میں آپ اپنے آبائی گاؤں اعظم گڑھ واپس آگئے اور’’ مدرسۃ الاصلاح‘‘ کی عملی ذمہ داری سنبھال لی۔ یہاں مدرسے کے معاملات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے کچھ طلبا کی تربیت کرنے کے لیے بھی خود کو وقف کرلیا۔ان میں سے ایک نوجوان امین احسن بھی تھے جن کے بارے میں قدرت نے یہ طے کرلیا تھا کہ فراہی صاحب کے بعد وہ ان کے نظریات کے سب سے بڑے ترجمان بنیں گے۔ فراہی صاحب نے۱۱؍ نومبر ۱۹۳۰ء میں متھرہ میں وفات پائی، جہاں وہ اپنے علاج کے لیے گئے تھے۔
تقریباًپچاس سال تک فراہی صاحب نے قرآن مجید پر غوروفکرکیا۔ان کی تمام تحریروں میں ان کی بنیادی اور اصل توجہ کا مرکز ومحور قرآن مجید ہی تھا۔ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انھوں نے مسلمان علما کی توجہ اس جانب مرکوز کروائی کہ تمام معاملات میں قرآن مجید ہی دین کا اصل ماخذ اور حتمی حجت ہے۔انھوں نے اس بات پر بہت زیادہ زور دیا کہ قرآن مجید ہی کوعملاً فرقان اور میزان مانا جائے، جیسا کہ قرآن مجید اپنے بارے میں خود کہتا ہے۔احادیث قرآن مجید کے مفہوم میں کوئی ترمیم، تغیریا تبدل نہیں کرسکتیں اور نہ ہی شرح زائد کرسکتی ہیں۔احادیث کو قرآن ہی کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ قرآن کو احادیث کی روشنی میں۔ قرآن مجید کی یہی حیثیت ہے جس کی وجہ سے انھوں نے قرآن مجید کو قطعی الدلالۃ قرار دیا اور قرآن کی دیگر قراء ت کو قرآن کا درجہ نہیں دیا۔ قرآن مجید پر ان کے گہرے غور وفکر کا نتیجہ ہے جس نے ان پرقرآن مجید کے نظم کو ان پر منکشف کیا۔
ان کے نزدیک نظم کے تین اجزا ہیں: ترتیب ،تناسب اور وحدانیت۔ انھوں نے نظم کے تصور کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ قرآن مجید کی ہر آیت کا ایک ہی مفہوم ہوتا ہے نہ کہ متعدد۔ قرآن مجید کی آیات کے مفاہیم میں متعدد اختلافات جنھوں نے فرقہ واریت کے ناسور کو جنم دیا، اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ قرآن مجید کے نظم کو نظر انداز کیا گیا۔ ہر فرقے نے ایک ہی آیت کے مختلف مفاہیم سمجھے ہیں، کیونکہ جب آپ کسی آیت کو اس کے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھیں گے تو اس کے ایک سے زیادہ مفاہیم بن سکتے ہیں۔یہ قرآن مجید کا نظم ہی ہے جوہر آیت کے ایک ہی مفہوم کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
فراہی صاحب کا ایک قابل ذکرکارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے عربی زبان و ادب کے جن علوم کی ضرورت تھی، انھیں دوبارہ سے مرتب و مدون کرنے کا آغاز کیا۔ فراہی صاحب کا تقریباً سارا کام عربی زبان میں ہے۔ زیادہ کام نوٹس اور نامکمل کتابوں کی صورت میں ہے۔ وہ ان میں سے چند کاموں کو مکمل کرسکے۔ ان کاموں میں جو سب سے اہم کام ہے، وہ ان کی چودہ سورتوں پر مبنی تفسیر ہے جو ’’تفسیرنظام القرآن‘‘ کے نام سے شائع کی جاچکی ہے۔ اپنی کتاب ’’مفردات القرآن‘‘ میں انھوں نے چند مشکل قرآنی الفاظ وتراکیب کی وضاحت کی ہے ۔ انھوں نے قسم کی حقیقت اور قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں، ان کی نوعیت پر اپنی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ میں روشنی ڈالی ہے۔ اپنی کتاب ’’الرأی الصحیح فی من ہو الذبیح‘‘ میں انھوں نے بڑی تفصیل سے قرآن مجید اور تورات سے دلائل پیش کیے ہیں کہ یہود کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحق علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کیا، نہ کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ۔ انھوں نے ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘ میں بلاغت کے اصول واسالیب کو از سر نو مدون کیا ہے جو قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں اور’’ اسالیب القرآن‘‘ میں قرآن مجید کے بعض بلیغ اسالیب کی نشاندہی کی ہے۔ قرآن مجید کے نظم اور اس کے اصولوں کے بارے میں انھوں نے اپنی کتاب ’’دلائل النظام‘‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ عربی اور فارسی زبانوں پر ان کی گرفت کتنی مضبوط تھی، اسے ان کی دونوں زبانوں میں شعری مجموعوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ درج بالا کتب کے علاوہ ان کی تقریباً بیس کے قریب کتابیں تشنۂ تکمیل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل علم ان نا مکمل کتابوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوں۔
www.hamid-uddin-farahi.org ان کی شخصیت اور کام پر مبنی ویب سائٹ ہے۔


۲۔ مولانا امین احسن اصلاحی

امین احسن اصلاحی۱۹۰۴ء میں اعظم گڑھ (یو پی) کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھمبھور میں پیدا ہوئے۔۱۹۲۲ء میں انھوں نے ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ حصول تعلیم کے دوران جس استاد نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ عبدالرحمن نگرامی تھے۔ اس قابل اور ذہین استاد کی بھر پور توجہ نے اصلاحی صاحب کا رجحان عربی لٹریچر پڑھنے کی طرف مائل کردیا۔ مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ صحافت سے منسلک ہوگئے۔ کچھ عرصہ انھوں نے بجنور میں ایک اخبار ’’مدینہ‘‘ کے نام سے نکالا اور اخبار ’’سچ‘‘ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔یہ وہ اخبار ہے جس کے ایڈیٹر نام ور عالم عبدالماجد دریا آبادی تھے۔
۱۹۲۵ء سے۱۹۳۰ء تک اصلاحی صاحب فراہی صاحب کے ساتھ سائے کی طرح رہے۔ فراہی صاحب کے ساتھ گزارے گئے اس وقت نے اصلاحی صاحب کی قرآن فہمی میں زبردست کردار ادا کیا اور انھوں نے اللہ کی کتاب پر براہ راست غوروفکر کرنے کے اصول سیکھے۔ فراہی صاحب کی وفات کے بعد اصلاحی صاحب نے اپنے دور کے نام ور عالم عبدالرحمن محدث مبارک پوری سے حدیث کی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ پڑھی۔۱۹۳۶ء میں انھوں نے ایک چھوٹے سے ادارے ’’دائرہ حمیدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی تاکہ فراہی صاحب کے قرآنی افکار کی اشاعت کی جاسکے۔اس ادارے کے تحت انھوں نے ایک ماہانہ رسالہ ’’الاصلاح‘‘ نکالا جس میں انھوں نے فراہی صاحب کی کتابوں کے بہت سے حصوں کا ترجمہ کیا۔
اصلاحی صاحب جماعت اسلامی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ ۱۹۵۸ء میں انھوں نے جماعت کے دستور کی نوعیت کے بارے میں مودودی صاحب سے اختلافات کی وجہ سے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کی۔ جماعت اسلامی کو چھوڑنے کے بعد ان کو آخر کار موقع مل گیا کہ وہ اپنی تفسیر’’ تدبر قرآن‘‘ کو مکمل کریں۔ اس کے ساتھ انھوں نے ایک ماہنامہ رسالہ ’’میثاق‘‘ جاری کیا جس میں ان کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ قسط وار شائع ہوا کرتی تھی ۔۱۹۶۱ء میں انھوں نے ’’حلقۂ تدبرقرآن‘‘ کی بنیاد رکھی جس کے تحت وہ کالج کے طالب علموں کو عربی زبان وادب، قرآن مجید اور امام مسلم کی ’’الجامع الصحیح‘‘ پڑھایا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے کچھ شاگردوں کو شاہ ولی اللہ کی ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اور ابن خلدون کا ’’مقدمہ‘‘ بھی پڑھایا۔
۲۹؍رمضان۱۴۰۰ھ بہ مطابق ۱۲؍ اگست۱۹۸۰ء کو وہ یادگار دن آپہنچا جب ایک عظیم علمی کاوش اپنی تکمیل کو پہنچی، یعنی’’ تدبر قرآن‘‘ ۲۲برس کی شبانہ روز علمی غوروفکر کے بعد مکمل ہوئی۔’’ تدبر قرآن‘‘ میں ان کی تحقیق کی عظیم الشان مثالیں ملتی ہیں جس میں نہ صرف ان کے قابل استاد جناب حمید الدین صاحب فراہی کے اصول تفسیر کا عکس نظر آتا ہے، بلکہ اس میں ان کی اپنی انفرادیت کی بھی چھاپ ہے۔ ’’تدبر قرآن‘‘ ایک منفرد کام ہے جس نے تفاسیر قرآن میں ایک نئے دور کی ابتدا کی ہے۔
اصلاحی صاحب ہی نے قرآن کی ایک آیت (الحجر ۱۵: ۸۷) سے یہ بات ثابت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کوسات مختلف گروپوں میں تقسیم کیا ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کار نبوت کے مختلف مراحل بیان کیے ہیں ۔ان میں سے ہرگروپ کا ایک موضوع ہے اور ہر گروپ کی سورتوں کی ترتیب اس کے موضوع کو سامنے رکھ کے کی گئی ہے۔ ہر گروپ کے اندر سورتیں اپنے موضوع کے اعتبار سے جوڑا جوڑا ہیں۔ ہر سورہ کا اپنا بھی ایک موضوع ہے۔
۱۹۸۱ء میں اصلاحی صاحب نے ’’ادارہ تدبر قرآن وحدیث‘‘ کی بنیاد رکھی جو ان کی وفات (۱۵؍دسمبر۱۹۹۷ء) تک قائم رہا۔ یہ ادارہ آپ کی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ ۱۹۸۱ء میں آپ نے ایک سہ ماہی رسالہ ’’تدبر‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ اس ادارے کے تحت وہ قرآن کے متن پر ہفتہ وار لیکچر دیتے تھے۔ بعد میں انھوں نے اپنے قریبی شاگردوں اور کام سے منسلک لوگوں کوہفتہ وار نشست میں اصول حدیث اور’’ موطا امام مالک‘‘ پڑھانا شروع کردی۔ ’’موطا‘‘ مکمل کرنے کے بعد انھوں نے امام بخاری کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بہت سے حصے پڑھائے ۔ ’’تدبر قرآن‘‘ کے علاوہ اصلاحی صاحب نے اسلام کے مختلف موضوعات پر اردو میں کئی کتابیں لکھیں۔ ان میں’’تزکیۂ نفس‘‘ ، ’’حقیقت شرک وتوحید‘‘،’’ دعوت دین اور اس کا طریقہ کار‘‘، ’’اسلامی ریاست‘‘ ، ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ ،’’ مبادی تدبر حدیث‘‘ ،’’ اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل‘‘ اور’’ اسلامی قانون کی تدوین‘‘ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے فراہی صاحب کی چودہ سورتوں پر مبنی تفسیر کا اردو میں ترجمہ کیا اور ان کی عربی کتابوں ’’الرأی الصحیح فی من ہو الذبیح‘‘(ذبیح کون ہے؟) اور ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘(قرآن مجید کی قسمیں)کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔
www.amin-ahsan-islahi.orgان کی زندگی اور کام کے متعلق معلومات پرمبنی ویب سائٹ ہے۔


۳۔جاوید احمد غامدی

جاوید احمد غامدی۱۹۵۱ء میں پنجاب کے ایک ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ایک مقامی اسکول سے میٹرک پاس کرنے کے بعد وہ۱۹۶۷ء میں لاہور آگئے۔انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے۱۹۷۲ء میں انگریزی ادب میں بی۔ اے آنرز (پارٹ ون) کیا اور مختلف اساتذہ اور عالموں سے اپنی ابتدائی زندگی میں روایتی انداز میں اسلامی علوم پڑھے۔۱۹۷۳ء میں آپ امین احسن صاحب اصلاحی کی شاگردی میں آگئے جنھوں نے ان کی زندگی پر گہرا اثرڈالا۔ آپ مشہور عالم دین مولانا سیّد ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کے ساتھ بھی کئی سال تک منسلک رہے۔ دس سال سے زیادہ (۱۹۷۹ئتا ۱۹۹۱ء)تک سول سروسز اکیڈمی لاہور میں علوم اسلامیہ کی تدریس کی۔
انھوں نے قرآن مجید، اسلامی قانون اور اسلام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور ان موضوعات پر کئی لیکچر دیے۔ آپ ادارۂ علم وتحقیق ’’المورد‘‘ (www.al-mawrid.org)کے بانی اور صدر ہیں اور اردو ماہانہ رسالہ’’ اشراق‘‘ (www.ghamidi.net/Ishraq.html) اورانگریزی ماہانہ رسالہ ’’Renaissance‘‘ (www.monthly-renaissance.com)کے مدیراعلیٰ ہیں۔ آپ مصعب اسکول سسٹم (www.musab.edu.pk)کے بھی بانی ہیں۔ آپ باقاعدگی سے مختلف ٹی وی چینلزپر اسلام اور دور حاضر کے موجودہ مسائل پرلوگوں کی آگہی کے لیے گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو اور لیکچرز (www.tv- almawrid.org) پر سنے جاسکتے ہیں۔
غامدی صاحب کے فکر پر اپنے دوجلیل القدرپیش رو علما حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی کے فکر کی گہری چھاپ ہے۔ تاہم اس ضمن میں انھوں نے کئی انفرادی تحقیقات بھی کی ہیں۔
اپنے اساتذہ کے علمی فکر کے عکس اوران کی اپنی منفرد تحقیقات دونوں کو ان کے قرآن مجید کے ترجمے’’البیان‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ترجمہ قاری کو قرآن کی کلاسیکی زبان کے قریب لے جاتا ہے جس میں حد درجہ ایجاز پایا جاتا ہے۔ الفاظ اور مفاہیم جو آپ سے آپ واضح ہوتے ہیں، اس کو قاری کے فہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور کلام سے حذف کردیا جاتا ہے۔ کلاسیکی عربی میں اختصار اور جامعیت پیدا کرنے کے لیے بہت سارے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جوبعض اور زبانوں میں نہیں پائے جاتے۔غامدی صاحب نے کوشش کی ہے کہ ترجمہ میں ان کی رعایت کی جائے اور مقدرات اور محذوفات کو کھولا جائے تاکہ عبارت کا مفہوم کھل کر سامنے آجائے۔
غامدی صاحب کا ایک اورمنفرد کام دین اسلام کے مشتملات کی تقسیم ہے۔ ان کے مطابق قرآن مجید نے خود کو باعتبارمشتملات دو بڑے عنوانات میں تقسیم کیا ہے: ’الحکمۃ‘ اور’الشریعۃ‘۔ غامدی صاحب کے مطابق ان میں سے مقدم الذکر کا تعلق ایمان واخلاق کے مباحث سے ہے اور مؤخر الذکر کا تعلق قانون کے مباحث سے ہے۔ ’الحکمۃ‘ اور ’الشریعۃ‘ کو غامدی صاحب نے مزید ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ ’الحکمۃ‘ ’’ایمانیات ‘‘اور ’’اخلاقیات‘‘ کے دو عنوانات پر مشتمل ہے، جبکہ ’الشریعۃ‘ کو انھوں نے دس عنوانات میں تقسیم کیا ہے ، یعنی :’’قانون عبادات‘‘، ’’قانون معاشرت‘‘، ’’قانون سیاست‘‘، ’’قانون معیشت‘‘، ’’قانون دعوت‘‘، ’’قانون جہاد‘‘، ’’حدودو تعزیرات‘‘، ’’خورو نوش‘‘ ،’’ رسوم وآداب‘‘ اور’’ قسم اور کفارۂ قسم‘‘۔ ان عنوانات کے ذیل میں غامدی صاحب نے بہت سے نئے پہلوؤں کو دریافت کیا ہے۔ مثال کے طور پر ذریت ابراہیم کی دعوت ، ارتداد کی سزا، عورت کی گواہی اور دیت ، اختلاط مردوزن کے آداب ، غلامی،مسلم شہریت کے شرائط، قانون میراث اور جہاد میں عام اور خاص احکام کے بارے میں ان کی آرا قارئین کو کچھ نئے پہلوؤں کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ غامدی صاحب کی ایک اور اہم خدمت علم اصول سے متعلق ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’اصول ومبادی‘‘ میں فہم دین کے اصولوں کو مرتب کیا ہے۔ یہ اصول قرآن ، سنت اور حدیث کی تفہیم میں معاون ہیں۔
غامدی صاحب کا ایک اہم علمی کام یہ ہے کہ انھوں نے شریعت کو فقہ سے الگ کیا ہے۔ان کوبالعموم ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔ پہلی چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جبکہ دوسری انسانی کاوش کا نتیجہ۔چنانچہ ان دونوں میں فرق ملحوظ رکھناایک ناگزیر امرہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں شریعت کو اسلام کے ماخذ سے مستنبط کیا ہے۔
ان کی ایک اور اہم علمی کاوش سنت کے تصور کی تعیین اورتشریح ہے۔ سنت کو انھوں نے حدیث سے الگ چیز قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک سنت قرآن ہی کی طرح مستقل بالذات دین کا ماخذ ہے اور امت کے اجماع اور عملی تواتر سے منتقل ہوئی ہے۔ چنانچہ یہ قرآن ہی کی طرح مستند ہے۔ احادیث، البتہ قرآن و سنت میں موجود دین کی تفہیم و تبیین کرتی ہیں اور اس دین پر عمل کے ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ ان میں مستقل بالذات دین نہیں پایا جاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے حاصل کردہ علم درجۂ یقین تک نہیں پہنچتا۔ تعیین سنت کے اصولوں کی مدد سے انھوں نے سنن کی فہرست مرتب کی ہے۔
غامدی صاحب نے دین کے بنیادی مباحث اور اصطلاحات کو اپنے مضمون ’’دین حق‘‘ میں بیان کیا ہے۔ یہ تصور دین کی ایک مکمل تعبیر ہے جو دوسری دو تعبیرات (تصوف کی تعبیر اور جہادی تعبیر)سے بالکل الگ ایک تیسری تعبیر ہے جو دراصل سلف صحابہ کی نمائندگی کرتی ہے۔
’’برھان‘‘ اور ’’مقامات‘‘غامدی صاحب کی دو اہم کتابیں ہیں۔ پہلی کتاب معاصر علوم پر تنقید اور ان کے تجزیے پر مبنی ہے، جبکہ دوسری مذہبی اور ادبی مضامین کا مجموعہ ہے۔
www.javedahmadghamidi.com ویب سائٹ پر ان کی زندگی اور کام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

_____
۴۷؂ مندرجہ بالا معلومات ڈاکٹرمستنصرمیر کے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں بیان کردہ تفصیلات پر مزید اضافے کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ مقالے کا عنوان ہے:

Coherence in the Qur'an, A Study of Nazm in Tadabbur-i Qur'an, 1st ed. (Indianapolis: American Trust Publications, 1986), 6-9.

____________