باب ہفتم


جہاں تک اس ’موریاہ‘ کا تعلق ہے جس کا عربوں کے نزدیک تلفظ ’المروہ‘ہے تو اصلی موریاہ صرف یہی ہے (کتاب پیدایش ۲۲: ۲) ۔ یہی وہ حقیقی مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمعلیہ السلام کو اپنا ’اکلوتا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ بائبل کے علما کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کو اپنا اکلوتا بیٹا کس جگہ قربانی کے لیے پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔
آیندہ سطُور میں اس موضوع کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے ایک معروضی اور بے لاگ تنقیدی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔

 

 

بائبل کے علما موریاہ کے حقیقی محل وقوع سے بے خبر ہیں

ذیل میں بائبل کے چند مستند علما کے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتاہے کہ بائبل کے یہ علما اس حقیقی جگہ کی نشان دہی سے قاصرہیں جہاں حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اپنے ’اکلوتے بیٹے ‘کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔
۱۔ ڈبلیو گنتھرپلاٹ کا خیال ہے:

The original name is obscure and the actual location unknown. ؂1

اصل نام مبہم ہے اور اس کا حقیقی محل وقوع نامعلوم ہے۔

۲۔ اَیل رِیڈ اور اے ایچ میک نِیل (L.Reed and A.H.McNeile)’ہیسٹنگز کی نظرثانی شدہ لغاتِ بائبل‘ میں اپنے مضمون ’موریاہ‘میں رقم طراز ہیں کہ ’ ابراہیم ؑ کے عہد کے موریاہ کی نشان دہی کے لیے کوئی شہادت دستیاب نہیں‘:

Because the place of origin of the journey is not stated in Genesis, it is best to conclude that evidence is not available for locating Moriah of Abraham\'s time. ؂2

کیونکہ کتاب پیدایش میں آغازِ سفر کی جگہ بیان نہیں کی گئی، اس لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا بہت مناسب ہے کہ ابراہیم ؑ کے زمانے کے موریاہ کے محلِ وقوع کی کوئی شہادت موجود نہیں۔

۳۔ ’دی نیوجیروسیلمبائبل‘ کا بھی یہی بیان ہے کہ موریاہ کامحلِ وقوع نامعلوم ہے:

But the text speaks of a 'land of Moriah', of which the name is otherwise unattested: the site of the sacrifice is unknown. ؂3

لیکن متن ایک ’سرزمینِ موریاہ‘ (land of Moriah) کا ذکر کرتاہے جس کے نام کی کسی اور حوالے سے تصدیق نہیں ہوتی۔ قربانی کی یہ جگہ نامعلوم ہے۔

۴۔ ’اے نیوکمِنٹری آن ہولی سکرپچر ‘کا بیان ہے:

The land of Moriah is an unknown locality. ؂4

سرزمینِ موریاہ ایک نامعلوم مقام ہے۔

۵۔ ’دی سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل کمنٹری ‘نے وضاحت کی ہے:

The name seems to have been rather uncommon. ؂5

بلکہ یہ نام تو اجنبی اور انوکھا سا دکھائی دیتا ہے۔

۶۔ ’دی نیو آکسفرڈ اَینوٹیٹڈ بائبل‘ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک نامعلوم مقام ہے:

The mountain in the land of Moriah is unknown. ؂6

’سرزمینِ موریاہ میں ا یک پہاڑ ‘ ایک نا معلوم مقام ہے۔

۷۔ ڈملو کی تفسیر دونوں مقامات کے تعین کے سلسلے میں بے یقینی کا اظہار کرتی ہے:

The land of Moriah] only mentioned again 2 Ch 3:1, \'Then Solomon began to build the house of the Lord at Jerusalem in Mount Moriah.\' It is uncertain whether the two places are to be identified. ؂7

سرزمینِ موریاہ ۔اس کا دوبارہ ذکر صرف ۲۔ تواریخ ۳:ا میں ہے:’تب سلیمان نے یروشلم میں کوہِ موریاہ پر خداوند کے گھر کی تعمیر کا آغاز کیا ‘۔ یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا یہ دونوں مقامات ایک ہی ہیں۔

۸۔ ’دی نیوبائبل کمنٹری‘ کا بیان ہے کہ ایسے کوئی زمینی شواہد موجود نہیں جن سے اس جگہ کا متعیّن محلِ وقوع ثابت ہو سکے:

The land of Moriah (2). There is nothing in ancient topography to certify the exact location of this place, nor yet the mountain itself, ؂8

سرزمینِ موریاہ (۲) قدیم جغرافیائی خدوخال میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جس سے اس جگہ کا متعین محلِ وقوع ثابت ہوسکے، نہ اب تک خود اس پہاڑی کا (محلِ وقوع معلوم ہے)۔

۹۔ ’وکلف کی تفسیر بائبل‘ کا بیان ہے:

The place of the sacrifice cannot be positively identified. ؂9

قربانی کی جگہ کی مثبت طور پر نشان دہی ممکن نہیں ۔

۱۰۔ ’اِنٹر پریٹرز ڈکشنری آف دی بائبل‘ میں بیان کیا گیا ہے:

The location is otherwise unspecified. ؂10

بصورتِ دیگر اس کے محلِ وقوع کی نشان دہی ممکن نہیں۔

۱۱۔ ’ہارپرز بائبل ڈکشنری‘ نے بھی اس کے متعلق اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیاہے :

An unidentified site in rugged terrain three day\'s travel from Beersheba where Abraham was to sacrifice Isaac. ؂11

سطح مرتفع میں ایک غیر متعین مقام، بِیرسَبع سے تین دن کی مسافت پر، جہاں ابرہام ؑ نے اسحاق ؑ کی قربانی دینا تھی۔

۱۲۔ ٹی کے چینی ’انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا‘ میں رقم طراز ہے:

Great obscurity hangs about this name, ؂12

اس نام کے بارے میں بہت زیادہ اِبہام پایا جاتاہے۔

۱۳۔ ریورنڈ بی واؤٹر، پروفیسر آف سیکرڈ سکرپچر، ڈی پال یونیورسٹی، شکاگو اپنی ’اے نیو کیتھولک کمنٹری‘ میں بیان کرتے ہیں:

The land of Moriah\' has never been identified. ؂13

سرزمین موریاہ کی کبھی نشان دہی نہیں کی جاسکی۔

۱۴۔ میخائیل ایوی یونا نے بھی ’انسا ئیکلوپیڈیا جودائیکا‘ میں انھیں خیالات کا اظہار کیا ہے:

MORIAH, an unidentified locality mentioned in the Bible. ؂14

موریاہ، بائبل میں مذکورہ ایک غیر متعین مقام۔

۱۵۔ ’دی انسا ئیکلوپیڈیا آف جودا ئزم ‘نے بھی اسی طرح کے ملاحظات پیش کیے ہیں:

Moriah; a place, originally unidentified, to which God sent Abraham ؂15

موریاہ: ایک مقام ، اصلاً غیر متعین ، جہاں خداوند نے ابراہام کو بھیجا تھا۔

۱۶۔ ’جیروم کی تفسیر بائبل‘ کا خیال ہے:

The 'district of Moriah' is unknown. ؂16

’موریاہ کا ضلع‘ نا معلوم ہے ۔

۱۷۔ پیٹرآرایکرائیڈ اور سموئیل ڈیوڈسن (Peter R. Ackroyd, Samuel Davidson) پروفیسرآف اوٹی اسٹٹدیز، کنگز کالج، لنڈن یونیورسٹی اپنے مقالے ’دی اوٹی اِن دی میکنگ ‘(The OT in the Making) میں لکھتا ہے :

So we have sanctuary legends (133) and a high place at Jebus (Jerusalem, 2 Sam. 24) subsequently rightly or wrongly identified with the site of the Jerusalem temple (I Chrn. 21-22:1).

اس طرح ہمارے پاس اس حرم کے متعلق افسانے ہیں۔ (... )۔ اورجبوس ( یروشیلم)کے مقام پر ایک بلند مقام جو بعد میں صحیح یا غلط طور پر ہیکل یروشیلم کے محل وقوع کی نشان دہی کا آئینہ دار بنا۔

اس نے یہاں ایک ذیلی حاشیہ درج کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے :

The identification must remain uncertain, and indeed suspect, since the Chronicler also identifies the same site with Moriah (2 Chron. 3:1, cf. Gen. 22). ؂17

اس کی نشان دہی لازماً غیر یقینی رہے گی، بلکہ حقیقت میں مشکوک ، کیونکہ کتابِ تواریخ کا مؤلف اسی مقام کوموریاہ بھی قرار دیتا ہے ۔

۱۸۔ یہی مصنف مزید بیان کرتا ہے:

What is clear, however, is that the Chronicler sees this narrative in I Chron. 21 as providing an appropriate introduction to his account of how David prepared for the building of the Temple by Solomon (I Chron. 22:2-19; 28:-29:9. The intervening section, chs. 23-7, may well be a later insertion, but it too illuminates the ideas concerning David\'s organising of the worship of the Temple). Whereas the 2 Sam. narrative makes no link with the building of the Solomonic Temple--and this strongly suggests that the narrative originally had to do with another sacred place--the Chronicler identifies the site precisely (22:1), explains why David could not go to Gibeon where the Tabernacle was (21:29-30), and subsequently also identifies this site explicitly with the Mount Moriah of Gen. 22 (2 Chron. 3:1), an even more improbable identification. ؂18

تاہم جوبات واضح ہے، وہ یہ ہے کہ کتاب تواریخ کا مؤلف اپنے اس ’۱۔ تواریخ ۲۱‘ والے بیان کو اس انداز میں دیکھتا ہے کہ یہ اس امر کا موزوں تعارف ہے کہ داؤد ؑ نے سلیمان ؑ سے ہیکل تعمیر کرائے جانے کے لیے کیا کیا تیاری کی۔ (۱۔تواریخ ۲۲: ۲ تا۱۹؛ باب۲۸تا باب۲۹: ۹۔ درمیانی فصل، ابواب ۲۳ تا ۲۷ بعد کا اضافہ لگتا ہے، لیکن اس سے بھی اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ داؤد ؑ نے ہیکل کی عبادت کومنظم کیا)، جبکہ ۲۔سموئیل کے بیان سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ اور اس سے مضبوط اشارہ ملتا ہے کہ یہ بیان ابتداءً کسی اور مقدس مقام سے تعلق رکھتا تھا۔ کتاب تواریخ کا مؤلف اس مقام کی معین طور پر نشان دہی کرتا ہے (۲۲:۱)، وہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ داؤد جِبِعُون۱۹؂، جہاں خیمۂ عبادت تھا، نہیں جا سکا (۲۱: ۲۹،۳۰)، نتیجۃً وہ اس مقام کو واضح طور پر کتاب پیدایش باب ۲۲ (۲۔ تواریخ ۳: ۱) والا کوہِ موریاہ ہی قرار دیتا ہے۔ یہ اور بھی زیادہ نا ممکن نشان دہی ہے ۔

۱۹۔ ’انٹر نیشنل اسٹینڈرڈ بائبل انسائیکلو پیڈیا‘ نے بھی اس موضوع پر بات کی ہے۔ یہ اس کے محلِ وقوع کی ان الفاظ میں وضاحت کرتا ہے:

This land is mentioned only here Gen 22:2, and there is little to guide us in trying to identify it. A late writer (2 Chronicles 3:1) applies the name of Moriah to the mount on which Solomon\'s Temple was built, possibly associating it with the sacrifice of Isaac. A similar association with this mountain may have been in the mind of the writer of Genesis 22 (see 22:14), who, of course, wrote long after the events described (Driver). (133). The description could hardly apply to Jerusalem in any case, as it could not be seen \"afar off\" by one approaching either from the South or the West. (133). With our present knowledge we must be content to leave the question open. W. Ewing. ؂20

اس سرزمین کا صرف یہی ذکر کیا گیا ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کے ذریعے سے ہم اس کی شناخت کرنے کی کوشش کر سکیں۔ بعد کے ایک مصنف (۲۔ تواریخ ۳:۱) نے، غالباً اسے حضرت اسحاق کی قربانی سے جوڑتے ہوئے، موریاہ کے نام کا اُس پہاڑ پر اطلاق کیا ہے جس پر ہیکلِ سلیمانی تعمیر کیا گیا تھا۔اس پہاڑ کے ساتھ اسی طرح کا ایک تعلق کتابِ پیدایش (۲۲: ۱۴) کے مصنف کے ذہن میں بھی ہو سکتا ہے جس نے بلاشبہ یہ واقعات بہت بعد میں بیان کیے ہیں (ڈرائیور)۔ (...)۔ اس بیان کا یروشیلم پر اطلاق کسی بھی حالت میں بہت مشکل ہی سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسے جنوب یا مغرب کی طرف سے پہنچنے والا کوئی شخص بہت دور سے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ (...)۔ اپنی زمانۂ حال کی معلومات کی موجودگی میں ہمیں اسی بات پر اکتفا کر لینا چاہیے کہ اس سوال کو کھلا [بے جواب]ہی چھوڑ دیں (ڈبلیو ای ونگ)۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک موضوع پر اتنے زیادہ مستند حوالے پیش کرنا ایک غیردلچسپ عمل ہے ، لیکن یہ ایک ناگزیز ضرورت تھی تاکہ یہ ظاہر ہوکہ جوبات پیش کی گئی ہے، وہ کوئی انوکھی یا اقلیت کی راے پر مبنی نہیں۔ چنانچہ تقریباً ہر مکتبِ فکر کے علما کے حوالے سے وسیع شہادت پیش کر دی گئی ہے۔ یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ جولوگ اس بات کے قائل نہیں کہ موریاہ کا محلِ وقوع نامعلوم ہے، وہ بھی اس کے متعلق ابہام اور تشکیک کا شکار ہیں اور اس کے لیے مختلف مقامات تجویز کرتے ہیں۔ بائبل کے غیر متعصب اور صاحبِ تحقیق علما کی اکثریت کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنا اکلوتا بیٹا قربانی کے لیے پیش کرنے کی جگہ کی متعین اور یقینی طورپر نشان دہی نہیں کی جا سکتی ۔
بائبل سے متعلق تاریخ کے تحریری مواد میں قربانی کے مقام کی نشان دہی میں ناکام ہونے کے بعد، اس بات کی ضرورت ہے کہ اسے متعلقہ اقوام اور موضوعات سے متعلق زمینی حقائق یا متواتر روایات، یادگاروں، تقریبات، تہواروں، مراسمِ عبادت، مقامات ، عمارات وغیرہ کی چھان بین کرکے تلاش کیا جائے۔

________

 

 

حواشی باب ہفتم

1.W. Gunther Plaut, The Torah, A Modern Commentary, 146.
2. Hastings Dic. of the Bible (Revise by Frederick Grant & H. H. Rowley), 674-75.
3. Henry Wansbrough, The New Jerusalem Bible (London: Darton, Longman & Todd Ltd., 1993), 41.
4. Charles Gore, Goudge, A Guillaume, A New Com. on H. Scripture, (London: Society for Promoting Christian knowledge, 1928), 53.
5. 7th Day Adventist BCom., (Hagerstown: Review & Herald Publg. Association, 1978), 1:349.
6. The New Oxford Annotated Bible, (NY: Oxf. Univ. Press, 1989), Footnote on p. 27.
7. J. R. Dummelow, CHB, (NY: The Macmillan Co, 1956), 30.
8. New Bible Com., Ed F. Davidson (Michigan: W M B. Eerdmans Publishing Co, Grand Rapids, 1953), 94.
9. The Wycliffe Bible Com., Charles F. Pfeiffer (Chicago: Moody Press, 1983), 27.
10. Interpreter\'s Dic of the Bible, 3:438.
11. Harper\'s Bible Dic, 654.
12. Enc. Biblica, 3:3200.
13. A New Catholic Commentary on Holy Scripture, revised and updated 1975, Ed. Rev. Reginald, C. Fuller, (Hong Kong: Thomas Nelson Ltd, 1981), 195.
14. Enc Judaica (Second Edn.), Fred Scolnik (NY: Thomson Gale, 2007), 14:491 s.v. \'Moriah\'.
15. The Judaic CD ROM Reference Library Vol. I, Contents. The Enc. of Judaism Copyright 1989-G. G. the Jerusalem Publishing House, 1993, DAVKA Corporation and the Institute for Computers in Jewish Life, s.v. \'Moriah\'.
16. The Jerome Biblical Com., ed. R. E. Brown, etc (Bangalore: TPI, 1987), 23.
17. The Cambridge History of the Bible, ed. P. R. Ackroyd, (Cambridge: at the University Press, 1970), 1:69.
18. The Cambridge History of the Bible, ed. P. R. Ackroyd (Cambridge: at the University Press, 1970), 1:89.

۱۹؂ جبعون، حضرت داوٗدؑ کی فلسطین پر فتح کا مقام ہے۔ ہیکل کی تعمیر سے پہلے خیمۂ اجتماع اور کانسی کا چبوترہ یہاں نصب تھا۔

20. International Standard Bible Encyclopedia, 1997, 7:924.

____________