ذیل میں کچھ مزید شہادتیں بھی نقل کی جاتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مکہ میں کعبہ کی عمارت زمانۂ قدیم سے موجود تھی۔ سی ای بوسورتھ (C. E. Bosworth)’ انسا ئیکلوپیڈیا امریکانا‘ میں مندرجہ ذیل الفاظ میں خانہ کعبہ کی قدامت کی تصدیق کرتا ہے:

The Kaaba was almost certainly an important shrine of a well attested Semitic pattern, in pre-Islamic times. It is not clear when it was first associated with the rites of the Pilgrimage, which itself must be of pre-Islamic origin. Muslim tradition traces it to Abraham and Ishmael. The Prophet Mohammed cleansed the Kaaba of its idols and its pagan features in 630. ؂19

خانہ کعبہ قریباً یقینی طور پر زمانۂ قبلِ اسلام میں مسلمہ سامی طرزِ تعمیر کی ایک اہم عبادت گاہ تھی۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ زمانۂ قبلِ اسلام سے جاری مراسمِ حج سے پہلی دفعہ کب منسلک ہوئی۔ مسلمانوں کی روایت اسے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ سے منسلک کرتی ہے۔ محمدرسول اللہ[ﷺ] نے ۶۳۰ء میں اس کے مشرکانہ خدوخال اور اس کے بتوں سے اسے پاک کیا۔

ایڈورڈ جے جرجی’ کولیئرز انسا ئیکلوپیڈیا‘ میں بیان کرتا ہے کہ قریش کعبہ کے متولی اور روایتِ نسلِ اسماعیل ؑ کے محافظ تھے:
As custodians of Kaaba and preservers of the Ishmaelite tradition, the Quraysh tribe presided over its pagan worship until Mohammed appropriated it for his new faith, ؂20
قبیلۂ قریش کعبے کے متولی اور نسلِ اسماعیل کی روایت کے محافظ ہونے کی حیثیت سے اس (کعبہ) میں اداکی جانے والی مشرکانہ عبادات کی رہنمائی کرتا تھا۔ حتیٰ کہ محمد[ﷺ] نے اسے اپنے نئے دین کے لیے مخصوص کر لیا۔
’انسا ئیکلوپیڈیا آف ریلیجئن‘ کا بیان ہے کہ کعبہ بلاشبہ محمدﷺ کی پیدایش کے صدیوں پہلے سے موجود تھا:

The historical origin of the Ka'bah is uncertain, but it had undoubtedly existed for several centuries before the birth of Muhammad (c. 570 CE). By his time it was the principal religious shrine of central Arabia and, located at the centre of a sacred territory (haram), had the characteristic of a Semitic sanctuary. ؂21

یہ بات غیر یقینی ہے کہ تاریخی طور پر خانہ کعبہ کی بنیاد کب پڑی، لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ عمارت محمد [ﷺ] کی پیدایش(قریباً۵۷۰ء) سے کئی صدیاں پہلے موجود تھی۔ اس [محمدﷺ] کے زمانے تک یہ مرکزی عرب کی سب سے بڑی مذہبی عبادت گاہ تھی۔ یہ ایک مقدس خطے (حرم) کے مرکز میں واقع تھی اور سامی حرم کی خصوصیات کی حامل تھی۔

قدیم زمانے کے مشہور مصری جغرافیہ دان کلاڈیَس بطلیموس (جو عام طور پرٹالمی کے نام سے مشہور ہے اور تقریباً ۹۰ء تا ۱۶۸ء کے زمانے کا ہے) نے بھی مکہ کے نزدیک ایک عبادت گاہ کی موجودگی کا ذکر کیا ہے جس کے لیے وہ ’میکورابہ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے:

It is to be noted that Ptolemy (Geography, vi.7) in place of Mecca mentions Macoraba, which is probably to be interpreted, as does Glaser, as the South Arabian or Ethiopic mikrab, "temple". From this one may conclude that the Ka\'ba already existed in the second century A. D. ؂22

واضح رہے کہ ٹالمی (جغرافیہ۶:۷) مکے کے بجاے’ میکورابہ‘ کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی وضاحت، جیسا کہ گلیزر بیان کرتا ہے،غالباً یہ ہے کہ یہ جنوبی عرب یا ایتھوپیا کا لفظ ’مِقرب‘ یعنی ’ہیکل‘ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ خانہ کعبہ دوسری صدی عیسوی سے بھی پہلے سے موجود چلا آ رہا تھا۔

’شارٹر انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام ‘نے اس کے متعلق ایک اور شہادت بھی بیان کی ہے:

The information available regarding the distribution of the offices among the sons of Kusaiy shows that the worship of the sanctuary had developed into a carefully regulated cult several generations before [email protected] ؂23 (...). The Ka\'ba had offerings dedicated to it in the heathen as well as the Muslim period. Al-Azrak devotes a detailed chapter to this subject (ed. Wustenfeld, p. 155 sqq.). ؂24

قصی کے بیٹوں کے درمیان مناصب کی تقسیم کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حرم میں اداکی جانے والی عبادت محمد[ﷺ] سے کئی نسلوں پہلے ہی ایک احتیاط سے ترتیب دی ہوئی باقاعدہ عبادت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔(...)۔ خانہ کعبہ میں مشرکین کے دور میں بھی، اور مسلمانوں کے دور میں بھی، باقاعدہ قربانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ الازرقی (ed. Wustenfeld, p. 155 sqq.) نے اس موضوع کے لیے ایک مفصل باب مختص کیا ہے ۔

جہاں تک گیارھویں سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا کوئی ایسے نشانات بھی موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ الکعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی؟‘ ، تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ خانہ کعبہ کے دروازے کے عین بالمقابل مطاف میں ایک نشیب تھا، جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ گارا اور مسالا ملایا کرتے تھے جو کعبے کی تعمیر میں استعمال ہوتا تھا۔ ’انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام‘ میں اسے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

The pavement on which the tawaf is performed is called mataf; a depression in it just opposite the door has still to be mentioned; it is called al-mi\'djan \"the trough\"; according to legend, Ibrahim and Isma\'il [q.v.] here mixed the mortar used in building the Ka\'ba. ؂25

وہ راستہ جس پر طواف کیا جاتا ہے، مطاف کہلاتا ہے۔ اس میں دروازے کے عین بالمقابل ایک نشیب کا ذکر ابھی باقی ہے۔ اسے المعجن، یعنی ’ناند‘ کہا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کعبے کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مسالا یہاں ملایا کرتے تھے۔

اس سلسلے میں ایک نشانی مقامِ ابراہیم ؑ بھی ہے جو اس بات کی ایک اور شہادت ہے کہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔’ انسا ئیکلوپیڈیاآف اسلام‘ کا بیان ہے:

Between this archway and the facade (N.E.) is a little building with a small dome, the makam Ibrahim. In it is kept a stone bearing the prints of two human feet. The patriarch Ibrahim, father of Isma'il, is said to have stood on this stone when building the Ka'ba and the marks of his feet were miraculously preserved. ؂26

اسی قوسی راستے اور شمال مشرقی حصے کی پیشانی کے درمیان ایک مختصر سے گنبد والی ایک چھوٹی سی عمارت مقامِ ابراہیم ؑ ہے۔ اس میں ایک پتھر ہے جس پر انسانی پاؤں کے دو نقش ثبت ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسماعیل ؑ کے والد ابراہیم ؑ کعبہ تعمیر کرتے وقت اس پر کھڑے ہوا کرتے تھے اور ان کے قدموں کے نشانات معجزانہ انداز میں اس پر ثبت ہو گئے تھے۔

جہاں تک بارھویں سوال کا تعلق ہے کہ ’کیا کوئی ایسے شواہد بھی پائے جاتے ہیں کہ اسحاق ؑ یا ان کی نسل کے لوگ اسحاق علیہ السلام کے قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی یاد منانے کی غرض سے کسی ’مروہ‘ کے مقام پر قربانیاں پیش کرنے کے لیے لے جایا کرتے تھے؟‘تو بائبل یا عربوں کی روایات میں نہ تو اس بات کی کوئی شہادت موجود ہے کہ اسحاق علیہ السلام کبھی کسی ’موریاہ‘ نامی مقام پر گئے ہوں اور نہ بائبل یا تاریخ کے اوراق میں حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل کے حق میں کوئی ایسی شہادت موجود ہے جس سے ثابت ہو کہ وہ قربانیاں پیش کرنے کے لیے’ موریاہ‘ جایا کرتے تھے یا کوئی مراسمِ حج ادا کیا کرتے تھے۔ البتہ، دوسری طرف، زمانۂ قبل اسلام کے عرب قبائل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی یاد میں زمانۂ قدیم سے مروہ کے مقام پر قربانیاں پیش کرتے چلے آ رہے تھے اور بعد میں پورا عالمِ اسلام بھی آج تک اس پر عمل پیرا ہے ۔ بلاشبہ اہلِ عرب، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں،صدیوں بلکہ ہزاروں سال قبلِ اسلام سے اپنے بزرگ آبا کی قربانیوں کی رسم ادا کرتے آئے ہیں۔
جہاں تک تیرھویں سوال کا تعلق ہے کہ’ جس طرح بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، ان کی زوجہ حضرت سارہ اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں بیان ہے کہ ان کا کہاں انتقال ہوا تھا اور انھیں کس جگہ دفن کیا گیا تھا۔ کیا اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے بارے میں بھی ان تفصیلات کا کوئی ذکر ہے؟اگر ہے تو کس جگہ ہے اور اگر نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟‘، تو یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بائبل حضرت اسماعیل علیہ السلام اورحضرت ہاجرہ کی جائے تدفین کے بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے، جبکہ اس میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ کنعان میں حبرون کے مقام پر مکفیلہ کا غار حضرت ابراہیم ۲۷؂علیہ السلام ان کی بیوی حضرت سارہ۲۸؂اور ان کے فرزند حضرت اسحاق ۲۹؂علیہ السلام کی جائے تدفین ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ تو بس یہ فرض ہی کیا جا سکتا ہے کہ ایسا اسرائیلیوں کی اپنے کزن بنو اسماعیل سے عدم دلچسپی، اظہارِ لا تعلقی ، نظر اندازی اور بے رحمی، بلکہ حسد اور رقابت کی وجہ ہی سے تھا۔
جہاں تک چودھویں سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا عربوں میں، جو تاریخی اعتبار سے بدیہی طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہیں، ایسی کوئی مسلمہ روایت موجود ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ہاجرہ کو کہاں دفن کیا گیا تھا؟‘تو اس کا جواب اثبات میں، یعنی ’ہاں‘ ہے۔ اے جے ونسنک اور جے۔ جومیئر’ انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام‘ میں اپنے مقالے ’کعبہ‘ میں لکھتے ہیں:

The space (al-hatim) bears the name al-hidjr or hidjr Isma'il. Here are said to be the graves of the patriarch and his mother Hagar.؂30

اس جگہ (الحطیم) کا نام الحجر یا حجرِ اسماعیل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ ہاجرہ کی قبریں یہاں پر واقع ہیں۔

’دی نیو اسٹینڈرڈ انسا ئیکلوپیڈیا‘ میں وضاحت ہے:

Ishmael Son of Abraham and Hagar. He was exiled with his mother to the wilderness on account of Sarah\'s jealousy of him. He married an Egyptian, was famed as an archer and was buried in Mecca. Mahomet claimed him as an ancestor.؂31

ابراہیم ؑ اور ہاجرہ کے فرزند، اسماعیل ؑ : ان ]اسماعیل ؑ [کو سارہ کے ان سے حسد کی وجہ سے ان کی والدہ [ہاجرہ] کے ساتھ بیابان میں جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے ایک مصری عورت سے شادی کر لی تھی۔ وہ ایک تیر انداز کے طور پر مشہور ہوئے اور انھیں مکے میں دفن کیا گیا۔ محمد[ﷺ] کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے آباواجداد میں سے تھے۔

جہاں تک پندرھویں سوال کا تعلق ہے کہ ’بائبل کے مؤلفین نے یہ ابہام کیوں پیدا کیا ہے‘، تو اس کا جواب بالکل واضح ہے۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اپنے بزرگ باپ حضرت اسحاق علیہ السلام کو عزت و احترام اور تقدس دینا چاہتے تھے۔ کتابِ تواریخ کے مؤلف نے غیر منصفانہ طور پر ارونایبوسی کے کھلیان کے محلِ وقوع کا نام ’موریاہ‘ رکھ کر ان کی اس ناروا خواہش کے لیے ایک بنیاد گھڑ دی۔ یہ ابہام کبھی جڑ نہ پکڑتا اگر کتابِ تواریخ کا مؤلف ہیکل سلیمانی کو تقدس فراہم کرنے کے لیے اسے گھڑ کر اپنی کتابِ تواریخ میں داخل نہ کر لیتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتابِ تواریخ عرصۂ دراز تک ایک مسترد اور غیر مستند کتاب سمجھی جاتی تھی۔۳۲؂ اس مضمون کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بیٹے کو قربانی کے سلسلے میں اعتماد میں نہ لیا گیا ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو بیٹے کے لیے کوئی اعزاز یا خوبی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کو آخری وقت تک بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ انھیں قربانی کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ لکڑی اور آگ تو یہ موجود ہے، لیکن سوختنی قربانی کے لیے برّہ کہاں ہے؟۳۳؂ پھر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ان پر یہ ظاہر کر دیں کہ وہ انھی (حضرت اسحاق علیہ السلام) کی قربانی پیش کرنے کے لیے جا رہے ہیں، بلکہ وہ کہتے ہیں: ’میرے بیٹے، اللہ تعالیٰ خود ہی سوختنی قربانی کے لیے برّہ مہیا کر دے گا‘۔۳۴؂ اس طرح قربانی کا عمل صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے لیے مُوجبِ افتخار ہو سکتا تھا، جن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمایش مطلوب تھی ۔ اس سلسلے میں حضرت اسحاق علیہ السلام کو کوئی اعزاز نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ انھیں تو اس بات کا علم تک نہ تھا کہ ان کے والد انھیں قربان کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، لیکن جہاں تک حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تعلق ہے تو نہ صرف یہ کہ انھیں ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پورے اعتماد میں لیا تھا، بلکہ انھوں نے قربانی کے تصور کی تائید کی تھی، اللہ کے حکم کے آگے خوشی سے سرِتسلیم خم کر دیا تھا اور اپنے آپ کو اپنے والد کے ہاتھوں قربان ہونے کے لیے پیش کر دیا تھا۔ قرآن نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے:

قَالُوا ابْنُوا لَہُ بُنْیَاناً فَأَلْقُوہُ فِیْ الْجَحِیْمِ . فَأَرَادُوا بِہِ کَیْْداً فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَسْفَلِیْنَ . وَقَالَ إِنِّیْ ذَاہِبٌ إِلَی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ . رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ . فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ . فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ . فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ . وَنَادَیْْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمُ . قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْن. إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَآءُ الْمُبِیْنُ . وَفَدَیْْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ . وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ . سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ . کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ . إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ . وَبَشَّرْنَاہُ بِإِسْحَاقَ نَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْنَ . وَبَارَکْنَا عَلَیْْہِ وَعَلَی إِسْحَاقَ وَمِن ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ مُبِیْنٌ. ۳۵؂

انھوں نے آپس میں کہا کہ ’ اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو‘ ۔ انھوں نے اس کے خلاف ایک کارروائی کرنی چاہی، مگر ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔
ابراہیم ؑ نے کہا، ’میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا۔ اے میرے پروردگار ، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو۔ ‘ (اس دعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی۔ وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو ( ایک روز) ابراہیم ؑ نے اس سے کہا، ’ بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟ ‘ اس نے کہا، ’ ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔‘ آخر کو جب ان دونوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی کہ ’اے ابراہیم ؑ ، تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًیہ ایک کھلی آزمایش تھی‘۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیم ؑ پر۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ اور ہم نے اسے اسحاق ؑ کی بشارت دی: ایک نبی صالحین میں سے۔ اور اسے اور اسحاق ؑ کو برکت دی۔ اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔۳۶؂

________

 

حواشی


19. The Enc. Americana International Edn. in 30 Vols. (Connecticut; Grolier Incorporated, Danbury: 1987), 16:254.
20. Colliers Enc. In 24 Vols. (NY, 1995), 13:695.
21. The Enc. of Religion, 8:225-26.
22. H.A.R. Gibb and J.H.Krammers, Shorter Enc. Of Islam, (Karachi: South Asian Publishers, 1981), s.v. "Ka\'ba", p.193.
23. Shorter Enc. Of Islam, p. 193.
24. Shorter Enc. Of Islam, p. 193.
25. The Enc. of Islam, 4:318.
26. The Enc. of Islam, 4:318.

۲۷؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۲۵: ۹۔۱۰۔
۲۸؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۰۔
۲۹؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۴۹: ۲۹ ۔ ۳۰۔

30. The Enc. of Islam, 4:318.
31. The New Standard Enc. and World Atlas (London: Odhams Press Ltd,, W. C. 2, 1932), p. 699.

۳۲؂ ملاحظہ کیجیے ضمیمہ ۲۔
۳۳؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۲۲: ۷۔
۳۴؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۲۲: ۸۔
۳۵؂ قرآن کریم، سورۃ الآّٰفّٰت۳۷: ۹۷۔۱۱۳
۳۶؂ ترجمۂ قرآنِ مجید مع مختصر حواشی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۲۰۰۱ء، صفحہ ۱۱۳۳، ۱۱۳۵۔

____________