باب ہشتم


ذیل میں پہلے چند ایسے سوالات درج کیے جاتے ہیں جو ’موریاہ‘ کا حقیقی محل وقوع دریافت کرنے کے سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکیں:

۱۔ کیا ابراہیم ؑ کا کوئی ایسا بیٹا تھا جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ وہ اس عمر کو پہنچنے تک ، جو تاریخی مواد کے اعتبار سے قربانی کے لیے پیش کیے جانے سے مناسبت رکھتی ہو، اس کا ’اکلوتا بیٹا‘ کہلا سکے؟
۲۔ کیا وہ ’اکلوتا بیٹا‘ مستقل طور پر اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہتا تھا یا وہ کسی اور جگہ مستقل سکونت کے لیے منتقل ہو چکا تھا؟ اس مقام کا نام اور محل وقوع کیا تھا؟
۳۔ کیا اس اکلوتے بیٹے کی نسل کے اس نئے مقام سکونت [فاران / بیر سبع] پر عرصہ دراز سے سکونت اختیار کرنے کے کوئی شواہد موجود ہیں؟
۴۔ کیا اس اکلوتے بیٹے کے اس جگہ اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی کوئی روایت موجود ہے؟
۵۔ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی یہ روایت موریاہ کے اس علاقے میں کسی پہاڑ سے منسلک ہے؟
۶۔ کیا بائبل میں مذکور اس کوہِ موریاہ کے قریب قربانی کے عمل سے متعلق کوئی واقعی آثار موجود ہیں؟
۷۔ کیا اس موریاہ کے مقام پر حضرت اسماعیل علیہ السلام ، ان کی والدہ ہاجرہ اور ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موجودگی کے کوئی ٹھوس، عملی اور مادی شواہد موجود ہیں؟
۸۔ کیا وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے اس عظیم واقعے کی یاد منانے کے لیے قدیم زمانے سے کوئی تقریبات یا رسوم منائی جاتی رہی ہیں اور کیا یہ تقریبات اس موریاہ کے ارد گرد کچھ مقامات سے منسلک ہیں؟
۹۔ کیا عربوں میں کچھ اور ایسے رسم و رواج یا روایات بھی پائی جاتی ہیں جن سے ان کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے رشتہ ثابت ہوتا ہو؟
۱۰۔ کیا اس ’مروہ‘ کے قرب و جوار میں کوئی ایسی مقدس عمارت یاجگہ بھی موجود رہی ہے جس کی تعمیر بزرگ آبا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب ہو؟
۱۱۔ کیا کوئی ایسے نشانات بھی موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ الکعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی؟
۱۲۔ کیا کوئی ایسے شواہد بھی پائے جاتے ہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام یا ان کی نسل کے لوگ حضرت اسحاق علیہ السلام کے قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی یاد منانے کی غرض سے کسی’ مروہ‘ کے مقام پر قربانی پیش کرنے کے لیے جایا کرتے تھے؟
۱۳۔ جس طرح بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، ان کی زوجہ حضرت سارہ اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں بیان ہے کہ ان کا کہاں انتقال ہوا تھا، اور انھیں کس جگہ دفن کیا گیا تھا۔ کیا اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے بارے میں بھی ان تفصیلات کا کوئی ذکر ہے؟اگر ہے تو کس جگہ ہے اور اگر نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
۱۴۔ کیا عربوں میں، جو تاریخی اعتبار سے مسلمہ طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہیں، ایسی کوئی مسلمہ روایت موجود ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ہاجرہ کو کہاں دفن کیا گیا تھا؟
۱۵۔ بائبل کے مؤلفین نے یہ ابہام کیوں پیدا کیا؟

 

 

ان سوالوں کے جواب

 

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے کہ ’کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوئی ایسا بیٹا تھا جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ وہ اس عمر کو پہنچنے تک، جو تاریخی مواد کے اعتبار سے قربانی کے لیے پیش کیے جانے سے مناسبت رکھتی ہو، اس کا اکلوتا بیٹا کہلا سکے؟‘ تو اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے’ پہلونٹے بیٹے‘ تھے اور قریباً چودہ سال کی عمر تک ان کے ’اکلوتے بیٹے‘ بھی رہے۔ تیرہ سال کی عمر اُن کے قربانی کے لیے پیش کیے جانے کے سلسلے میں حالات و واقعات کے لحاظ سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور تمام مناسبتوں سے مطابقت رکھتی ہے۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ’ کیاوہ ’’اکلوتا بیٹا‘‘ مستقل طور پر اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہتا تھا یا وہ کسی اور جگہ مستقل سکونت کے لیے منتقل ہو چکا تھا؟ اس مقام کا نام اور محل وقوع کیا تھا؟‘، تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ ہاجرہ سمیت ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرزمینِ موریاہ میں بیر سبع (سات کے کنوئیں) ۱؂کے نزدیک فاران کے بیابان میں منتقل کر دیا تھا اور وہ وہاں مستقل طور پر آباد ہو گئے تھے۔ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی سارہ کے ساتھ جنوبی کنعان میں حبرون اور بیر سبع ( عہد یا قسم کے کنوئیں) ۲؂ میں آباد ہو گئے تھے۔ ضمیمہ ۱ میں ’بیر سبع‘ پر ایک مفصل مقالہ شاملِ کتاب ہے۔ ’فاران کے بیابان ‘پر بھی کتابِ ہٰذا کے مصنف نے کسی اور مقام پر مفصل روشنی ڈالی ہے، جو ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔ جہاں تک ’موریاہ‘ کا تعلق ہے تو وہ اسی کتاب کے ابواب ۵، ۶، ۷اور۸ میں بیان ہو چکا ہے۔
جہاں تک تیسرے سوال کا تعلق ہے کہ’ کیا اس اکلوتے بیٹے کی نسل کے اس نئے مقام سکونت [فاران / بیر سبع] پر عرصہ دراز سے سکونت اختیار کرنے کے کوئی شواہد موجود ہیں؟‘ ، تو صورت حال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل مکہ اور عرب کے دیگر مقامات پر قدیم زمانے سے آباد رہی ہے اور آج بھی وہاں مقیم ہے۔ بائبل کا دعویٰ ہے کہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فاران کے بیابان اور بیر سبع کے مقام پر آباد کیا تھا۔ بائبل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ دونوں مقامات صحراے سینا میں واقع ہیں، لیکن بائبل ہی کے بیان کے مطابق صحراے سینا میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل کی کسی شاخ کے نشانات موجود نہیں۔ یہ بات کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سرزمینِ عرب میں مکے کے ارد گرد زمانۂ قدیم سے آباد چلی آ رہی ہے، اس کتاب کے اگلے باب میں تفصیل سے بیان کر دی گئی ہے۔
جہاں تک چوتھے سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا اس اکلوتے بیٹے کے اس جگہ اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی کوئی روایت موجود ہے؟‘، تو یہ ایک زمینی اور واقعاتی حقیقت ہے کہ لاکھوں حجاجِ کرام ذوالحجہ کے قمری مہینے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی یادگار کے طور پر مکے کی طرف سفر کرتے ہیں۔ انھی ایام میں کروڑوں لوگ یہی قربانی اپنے گھروں پر سرانجام دیتے ہیں۔ یہ رسم و روایت آغازِ اسلام سے بھی صدیوں پہلے سے موجود چلی آ رہی ہے۔ روے زمین پر کسی جگہ بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی یادگار میں کبھی کوئی تہوار یا رسم ورواج منائے جانے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
جو دنبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس کے سینگ اس وقت تک خانہ کعبہ میں موجود و محفوظ رہے جب ۶۴ ہجری (۶۸۳ ء) میں عبد اللہ ابن زبیر نے اس کی دوبارہ تعمیر کرائی تھی۔ ’انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام ‘میں درج ہے :

The two horns of Abraham's ram did not crumble to dust until the rebuilding of the Ka'bah by 'Abd Allah b. al-Zubayr. ؂3

ابراہیم ؑ کے اس دنبے کے دو سینگ عبد اللہ ابن زبیر کی خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر تک مٹی میں مل کر مٹی نہ ہوئے تھے۔

بائبلی اور اسلامی روایات میں درج ہے کہ جس بیٹے کو قربان کیا جانا تھا، اُسے فدیے میں ایک دنبہ دے کر چھڑا لیا گیا تھا۔ ایک نام ور مسلمان صاحبِ علم اور مفسرِ قرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی بے مثال تفسیر ’تدبرِقرآن‘ میں قرآنی آیت (وَفَدَیْْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ الآّٰفّٰت۳۷: ۱۰۷) کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا ہے:

فرمایا کہ ہم نے اسماعیل ؑ کو ایک ذبح عظیم کے عوض چھڑا لیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو یہ ہدایت فرمائی کہ اِس بیٹے کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی کردیں اور یہ قربانی ایک عظیم قربانی کی شکل میں ہمیشہ ہمیش آئندہ نسلوں میں اس واقعہ کی یادگار کی حیثیت سے باقی رہے گی۔ یہی قربانی ہے جو مناسکِ حج میں شامل ہو کر حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے آج تک برابر چلی آرہی ہے اور قیامِ قیامت تک باقی رہے گی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قربانی اگرچہ تمام ادیان میں حضرت آدم ؑ کے وقت سے چلی آ رہی ہے لیکن دنیا میں کسی قربانی نے یہ عظمت واہمیت اور یہ وسعت و ہمہ گیری نہیں حاصل کی جو حضرت ابراہیم ؑ کی اس قربانی نے حاصل کی۔۴؂

بائبل میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
اور ابرہام نے ہاتھ بڑھا کر چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔ تب خدا وند کے فرشتے نے اُسے آسمان سے پکارا کہ اے ابرہام، اے ابرہام!اُس نے کہا میں حاضر ہوں۔ پھر اُس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اُس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لیے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔ اور ابرہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرہام نے جا کر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا۔ اور ابرہام نے اُس مقام کا نام ’یہواہ یری‘ رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خدا وند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔ اور خدا وند کے فرشتے نے آسمان سے دوبارہ ابرہام کو پکارا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کر دوں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہو گی اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی، کیونکہ تو نے میری بات مانی۔ ۵؂
جہاں تک پانچویں سوال کا تعلق ہے کہ’کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی یہ روایت موریاہ کے اس علاقے میں کسی پہاڑ سے منسلک ہے؟‘ تو یہ صرف سرزمینِ موریاہ کے پہاڑی علاقے میں مکہ ہی کا مقام ہے جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی روایت منسلک ہے۔ ’موریاہ‘ کے لیے عربی زبان میں’ مروہ‘ کا لفظ آتا ہے۔ عبرانی ۶؂ میں ’موریاہ‘ پانچ حروف سے مل کر بنا ہے، جبکہ عربی زبان کا’ مروہ‘ چار حروف سے مل کر بنتا ہے۔ پہلے اور آخری حروف، یعنی ’م‘ اور ’ہ ‘ دونوں لفظوں میں مشترک ہیں۔ درمیانی حروف ’ر ‘ اور ’و‘ عبرانی زبان میں ہم شکل حروف ہیں۔ عبرانی حروف ابجد میں انھیں دیکھ کر اس کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کاتب حضرات سے عام طور پر لکھتے وقت ان کو آپس میں ایک دوسرے سے بدل دینے کی غلطی ہو جایا کرتی تھی۔ جہاں تک حرف ’ی‘ کا تعلق ہے ،یہ عبرانی حروف ابجد میں ایک بہت چھوٹا سا حرف ہے اور کسی کاتب کی معمولی سی بے احتیاطی یا غلط فہمی کی وجہ سے حذف بھی ہو سکتا ہے اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ اس بات کا غالِب اِمکان ہے کہ بائبل میں بھی اصل لفظ’ مروہ‘ تھا جو کسی کاتب کی غلطی سے ’موریاہ‘ درج ہو گیا،کیونکہ موریاہ / مروہ کوئی ایسا لفظ نہ تھا جو بائبلی ادب میں بار بار آیا ہو۔ ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ ’موریاہ‘ اور ’مروہ‘ کا اختلافِ تلفظ عبرانی زبان اور عربی زبان میں جغرافیائی حالات کی تبدیلی کے باعث رونما ہونے والے اختلافِ تلفظ کی وجہ سے ہو۔ اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں جن سے ایک باشعور قاری بے خبر نہیں ہو سکتا۔
جہاں تک چھٹے سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا بائبل کے اس کوہِ موریاہ (اہل عرب کا المروہ) کے نزدیک قربانی کے عمل سے متعلق کوئی واقعی آثار موجود ہیں؟‘ تو اس سلسلے میں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جو دنبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، اس کے سینگ کعبہ میں محفوظ تھے اور وہ ۶۴ھ (۶۸۳ء) تک وہاں موجود رہے۔’ انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام‘ میں ونسنک اور جومیئر(Wensinck and Jomier ) اپنے مقالے ’کعبہ‘ میں رقم طراز ہیں کہ اگست ۶۲۹ء میں فتح مکہ کے موقع پر:

All the pagan trappings which had adhered to the Ka\'ba were now thrust aside. (133). The two horns of Abraham\'s ram did not crumble to dust until the rebuilding of the Ka\'ba by \'Abd Allah b. Zubayr. ؂7

وہ تمام مشرکانہ اشیا جو خانہ کعبہ میں آویزاں تھیں، اکھاڑ پھینکی گئیں۔ (...)۔ ابراہیم ؑ کے دنبے کے دو سینگ [حضرت] عبداللہ ابن زبیر کی خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر تک پیوندِ خاک نہ ہوئے تھے۔

جہاں تک ساتویں سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا اس موریاہ کے مقام پر حضرت اسماعیل علیہ السلام ، ان کی والدہ ہاجرہ اور ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موجودگی کے کوئی ٹھوس، عملی اور مادی شواہد موجود ہیں؟‘ تو اس طرح کی بہت سی شہادتیں موجود ہیں، مثلاً حجرِ اسود، مِعجن، مقامِ ابراہیم ، چاہِ زم زم، اور حطیم میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبریں، یہ سب چیزیں کعبہ کے قرب و جوار میں واقع ہیں۔
حجرِ اسود ،جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے بزرگ آبا (حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام) نے کعبہ کے کونے میں نصب کیا تھا۔ اس کے متعلق ’انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجین‘ (Encyclopedia of Religion ) کا بیان ہے:

The Black stone is of unknown pre-Islamic origin, possibly meteoric. ؂8

حجرِ اسود اسلام سے پہلے کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت معلوم نہیں۔ غالباً یہ کسی شہابیے کا ٹکڑا ہے۔

معجن کعبہ کے بالکل قریب واقع ہے۔ اے جے ونسنک نے اس کے متعلق مندرجہ ذیل تفصیل بیان کی ہے:

(...); a depression in it [the Ka'bah] just opposite the door has still to be mentioned; it is called al-mi'djan "the trough"; according to legend, Ibrahim and Isma'il here mixed the mortar used in building the Ka'bah. ؂9

دروازے کے عین مقابل اس[کعبہ] میں ایک نشیب [ہے] جس کا ذکر ابھی باقی ہے۔ اسے المعجن یا ’ناند‘ بھی کہتے ہیں۔ روایت کے مطابق اس جگہ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کعبے کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گارا اور مسالہ ملایا کرتے تھے۔

مقامِ ابراہیم ؑ کے متعلق ’انسا ئیکلوپیڈیا آف ریلیجین‘ کا بیان ہے:

Near the Ka'bah stands a gilded glass case (replacing an earlier simple wooden framework) that contains a stone marking the station of Ibrahim (Abraham). This stone is said to have miraculously preserved the footprint of Ibrahim, Who stood on it in order to complete the construction of an earlier Ka'bah: it is, as it were, the builders mark . ؂10

کعبے کے قریب شیشے کا ایک مُرَصّع و مُطلّا چوکھٹا ہے (پہلے اس کی جگہ لکڑی کا ایک سادہ سا فریم ہوتا تھا)۔ اس کے اندر ایک پتھر ہے جس پر ابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کے نشانات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس پتھر پر معجزانہ طریق سے ابراہیم ؑ کے قدموں کے نشانات ثبت ہو گئے جو پہلے والے کعبہ کی تعمیر کی تکمیل کے لیے اس پتھر پر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ اس طرح لگتا ہے جیسے یہ مِعمار کا نشان ہو۔

اے جے ونسنک نے مقام ابراہیم ؑ کی تشریح اس طرح بیان کی ہے:

Between this archway [al-H atim] and the facade (N.E.) is a little building with a small dome, the makam Ibrahim. In it is kept a stone bearing the prints of two human feet. The patriarch Ibrahim, father of Isma'il, is said to have stood on his feet when building the Ka'bah and the marks of his feet were miraculously preserved. ؂11

اس قوس نما راستے [الحطیم] اور [شمال مشرقی سمت]خالی میدان کی طرف والے حصے کے درمیان ایک مختصر سے گنبد والی ایک چھوٹی سی عمارت مقامِ ابراہیم ؑ ہے۔ اس میں ایک پتھر رکھا ہے، جس پر انسانی قدموں کے دو نشان موجود ہیں۔ اسماعیل ؑ کے والد ابراہیم ؑ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کعبہ تعمیر کرتے وقت اس پر پاؤں رکھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ اور ان کے پیروں کے نشانات اس پر معجزانہ طریق سے نقش ہو گئے تھے۔

زمزم کا کنواں خانہ کعبہ کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔ ’انسا ئیکلوپیڈیا آف ریلیجین‘ اگرچہ اسے ایک خرافات ہی قرار دیتا ہے، لیکن مندرجہ ذیل الفاظ میں اس کی وضاحت بھی کرتا ہے:

Opposite the corner of the Black Stone is a small building housing the sacred well of Zamzam, from which pilgrims drink water at the conclusion of their circumambulations and prayers. Its origin is mythically associated with Hajar (Hagar) and Ismail (Ishmael), for whom God provided water in this desert place after commanding Ibrahim to abandon mother and child and promising to care for them in his place. ؂12

حجر اسود والے کونے کے بالمقابل ایک چھوٹی سی عمارت ہے، جس میں ’زم زم‘ کا مقدس کنواں واقع ہے، جس سے حاجی اپنا طواف اور دعائیں مکمل کرنے کے بعد، پانی پیتے ہیں۔ اس کی اصل بنیاد کو افسانوی انداز میں ہاجرہ اور اسماعیل ؑ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس صحرائی مقام پر پانی فراہم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ ماں اور بچہ کو یہاں چھوڑ جائیں اور ا س] ابراہیم ؑ [ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ [اللہ تعالیٰ] اس [ابراہیم ؑ ] کی جگہ ان[ماں بیٹے] کی دیکھ بھال کرے گا۔

حطیم میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبریں ہیں۔ اے جے ونسنک ’انسائیکلوپیڈیا آف اسلام‘ میں اپنے مقالے ’کعبہ‘ میں اسلامی حج کے رسوم و مقامات کی وضاحت کرتا ہے۔اس نے اس کے متعلق مندرجہ ذیل تفاصیل دی ہیں:

Opposite the north-west wall, but not connected with it, is a semi-circular wall (al-hatim) (...). The semi-circular space between the hatim and the Ka\'bah enjoys an especial consideration, because for a time it belonged to the Ka'bah; (...) The space bears the name al-hidjr or hidjr Isma'il [lap of Ishma'el]. Here are said to be the graves of the patriarch [Isma'il] and his mother Hagar. ؂13

شمال مغربی دیوار کے بالمقابل ایک نیم دائرے کی شکل میں دیوار [الحطیم] ہے، لیکن وہ اس کے ساتھ ملحق نہیں ہے۔ (... ) ۔ کعبہ اور حطیم کے درمیان یہ نیم دائرے جیسی جگہ خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک عرصے تک یہ جگہ خانہ کعبہ کا حصہ تھی۔(... )۔ اس جگہ کا نام الحِجر یا حجرِ اسماعیل ؑ [اسماعیل ؑ کی گود] ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں بزرگ باپ [اسماعیل] اور ان کی والدہ ہاجرہ کی قبریں ہیں۔

جہاں تک آٹھویں سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا اُس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے اس عظیم واقعے کی یاد منانے کے لیے قدیم زمانے سے کوئی تقریبات یا رسوم منائی جاتی رہی ہیں اور کیا یہ تقریبات اس موریاہ کے ارد گرد کچھ مقامات سے منسلک ہیں؟‘ ، تو اس قربانی سے متعلق متعدد ایسی تقریبات ہیں جو عرب کے لوگ آغازِ اسلام سے صدیوں پہلے سے مستقلاً مناتے چلے آ رہے ہیں۔ ان تقریبات کا تعلق اس موریاہ کے ارد گرد کے متعدد مقامات سے ہے۔ ان میں سے ایک تو صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر ہیں، جنھیں ’سعی‘ کہتے ہیں۔ یہ ’سعی‘ لاکھوں کی تعداد میں ایسے حاجی سر انجام دیتے ہیں جو ذوالحجہ کے مہینے میں حج ادا کر رہے ہوں یا وہ کروڑوں زائرین جو پورے سال کے دوران میں کسی بھی وقت عمرہ کر رہے ہوں۔ یہ ’سعی‘ حضرت ہاجرہ کی اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کے لیے پانی کی تلاش میں کی جانے والی اسی طرح کی ’سعی‘ کی یادگار کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔ ’سعی‘ کی رسم میں اس واقعے کی تفصیلات اتنی باریک بینی سے محفوظ کی گئی ہیں کہ اپنی ’سعی‘ کے دوران میں حجاجِ کرام بھی اسی جگہ تیز تیز چلنا شروع کر دیتے ہیں، جہاں حضرت ہاجرہ تیز تیز چلی تھیں۔ اس جگہ پر آج کل سبز روشنیوں کے ذریعے سے نشان دہی کی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ مقام’ مَسعیٰ‘ کے نشیب میں واقع ہے، کیونکہ اس جگہ حضرت ہاجرہ کو اپنا بیٹا نظر نہیں آتا تھا، اس لیے وہ اس جگہ اپنی رفتار تیز کر دیتی تھیں۔ پھر اسی قربانی کی یادگار کی ایک شکل یہ ہے کہ عید الاضحٰی کے تہوار پر پوری دنیا کے کروڑوں مسلمان اپنے اپنے گھروں میں بکریوں، بھیڑوں، دنبوں، گائیوں اور اونٹوں کی قربانیاں کرتے ہیں اور لاکھوں مسلمان حاجی حج کے دوران میں یہ قربانی مکے میں پیش کرتے ہیں۔ پھر آبِ زم زم ہے جسے حاجی ایک متبرک مشروب کے طور پر پیتے ہیں۔ یہ وہی چشمہ ہے جو اس بے آب خطے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پھوٹ نکلا تھا ۔یہ پورے سال کے دوران میں ایک بہت بڑی آبادی کو حیرت انگیز طور پر پانی فراہم کرتا ہے۔ اور دنیا بھر کے کروڑوں زائرین اور حجاجِ کرام اس کا پانی ایک تبرک کے طور پر اپنے گھروں کو بھی لے جاتے ہیں۔ اسلامی حج کے سلسلے میں ایک اور رسم بھی ہے جسے تلبیہ کہتے ہیں۔ حجاجِ کرام جب حج کا خصوصی لباس، جسے احرام کہا جاتا ہے، پہن لیتے ہیں تو وہ مسجدِ حرام میں داخل ہونے تک یہ تلبیہ پڑھتے رہتے ہیں:

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ.

حاضر ہوں اے اللہ، میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔

یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے اکلوتے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قربانی کے لیے پیش کرنے پر آمادگی کی یادگار ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس کام کے لیے پکارا تو اس نے کہا:

لَبَّیْکَ، یعنی: ’میں حاضر ہوں‘۔ ۱۴؂

جہاں تک نویں سوال کا تعلق ہے کہ ’ کیا عربوں میں کچھ اور ایسے رسم و رواج یا روایات بھی موجود ہیں جن سے ان (عربوں) کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے رشتہ ثابت ہوتا ہو؟‘ تو اس سلسلے میں عربوں میں ختنہ کی رسم پائی جاتی ہے جس کی وہ بڑی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ اور یہ ان کے بزرگ آبا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ان کے تعلق کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں کے درمیان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے میثاق کی علامت کے طور پر اس رسم کو اسی طرح جاری رکھا جس طرح یہودیوں نے رکھا ہوا ہے۔ اگر ابتدائی عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے نہ ہوتے تو ان کی اس روایت کی پابندی اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ’ انسا ئیکلو پیڈیا ببلیکا‘ کے خیال کے مطابق ختنہ کی رسم ’پہلونٹے بیٹے‘ کی قربانی کی علامت کے طور پر ادا کی جاتی ہے:

Indeed, the evidence goes to show that in exceptional cases the offering was actually made. However, just as the first-fruits were offered as a part of the whole, it is conceivable that originally the rite of circumcision was instituted upon the same principle to typify the offering of the firstborn. ؂15

درحقیقت شہادت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غیر معمولی حالات میں [انسانی] قربانی فی الواقع بھی پیش کی جاتی تھی، تاہم عین اس طرح ،جیسے پہلے پہلے پھل پوری پیداوار کے ایک حصے کے طور پر نذر کیے جاتے تھے، یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ابتدائی طور پر ختنے کی رسم اسی اصول کے تحت ادا کی جاتی تھی، تاکہ یہ پہلونٹے کی قربانی کی قائم مقام بن سکے۔

جوزیفس نے اپنی کتاب’ Antiquities‘میں ،جو آغازِ اسلام سے پانچ سو سال سے بھی زیادہ پہلے لکھی گئی تھی، بیان کیا ہے کہ عربوں میں ختنہ کی رسم ان کی قوم کے بانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ختنہ کی یاد میں ادا کی جاتی ہے:

And they circumcised him upon the eighth day. And from that time the Jews continue the custom of circumcising their sons within that number of days. But as for the Arabians, they circumcise after the thirteenth year, because Ismael, the founder of their nation, who was born to Abraham of the concubine, was circumcised at that age; ؂16

اور انھوں نے آٹھویں دن اس کا ختنہ کیا اور اس وقت سے یہودیوں میں اپنے بیٹوں کی اتنے دنوں کے اندر اندر ختنہ کرنے کی رسم چلی آ رہی ہے، لیکن جہاں تک عربوں کا تعلق ہے، وہ تیرھویں سال کے بعد ختنہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کی قوم کے بانی اسماعیل ؑ جو ابراہیم ؑ کے ہاں باندی سے پیدا ہوئے تھے، ان کا ختنہ اس عمر میں کیا گیا تھا۔

جہاں تک دسویں سوال کا تعلق ہے کہ ’کیا اس’مروہ‘ کے قرب و جوار میں کوئی ایسی مقدس عمارت یاجگہ بھی موجود رہی ہے جس کی تعمیر بزرگ آبا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب ہو؟‘ تو اس ’المروہ یا موریاہ‘ کے قریب ہی الکعبہ کا حرم موجود ہے، جس کی تعمیر بزرگ آبا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب ہے اور اس روایت کے قدیم ہونے کی معقول شہادت موجود ہے۔ قرآن کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے والے مشہور مترجم جارج سیل نے اپنے مقالے 'The Preliminary Discourse'میں مکہ کے مقام پر حرم الکعبہ کی  موجودگی کا مندرجہ ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے:

The temple of Mecca was a place of worship, and in singular veneration with the Arabs from great antiquity, and many centuries before Mohammed (...) the Mohammedans are generally persuaded that the Caaba (...) was rebuilt by Abraham and Ismael, at God\'s command, (...). After this edifice had undergone several reparations, it was a few years after the birth of Mohammed, rebuilt by the Koreish on the old foundation, (...). Before we leave the temple of Mecca, two or three particulars deserve further notice. One is the celebrated black stone, which is set in silver, and fixed in the south-east corner of the Caaba, (...). Another thing observable in this temple is the stone in Abraham\'s place, wherein they pretend to show his footsteps, telling us he stood on it when he built the Caaba,\' and that it served him for scaffold, (...). The last thing I shall take notice of the temple is the well Zem-zem, on the east side of the Caaba, (...). The Mohammedans are persuaded that it is the very spring which gushed out for the relief of Ismael, when Hagar his mother wandered with him in the desert, and some pretend it was so named from her calling to him, when she spied it, in the Egyptian tongue, Zem, zem, that is, "Stay, stay, " ؂17

مکہ کا معبد عبادت کی جگہ تھی اور عرب کے لوگ محمد [ﷺ] سے صدیوں پہلے قدیم زمانے سے اس کی بے مثال تعظیم کرتے تھے۔ (...)۔ مسلمان بالعموم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ کعبہ (...) ابراہیمؑ اور اسماعیل ؑ نے اللہ کے حکم سے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ (...)۔ یہ عمارت متعدد مرتبہ کی مر مت کے بعد محمد [ﷺ ] کی پیدایش کے چند سال بعد قریش نے پرانی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کی تھی۔ (...)۔ مکہ کے معبد کا بیان ختم کرنے سے پہلے مزید دو یا تین خاص باتوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو وہ مشہور و معروف حجر اَسود ہے جو چاندی سے جڑا ہوا ہے اور خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب ہے ۔(...)۔ اس معبد میں ایک اور قابلِ دید شے مقامِ ابراہیم میں وہ پتھر ہے جس میں ان [عربوں] کا دعویٰ ہے کہ ان [حضرت ابراہیم علیہ السلام[کے قدموں کے نشان نمایاں ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جب وہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس کے اوپر کھڑے ہوتے تھے اور یہ کہ یہ پتھر ان کے لیے ایک گو(scaffold)کا کام دیتا تھا۔ (...)۔اس ہیکل کی آخری چیز جس کا میں ذکر کروں گا ،وہ کعبے کے مشرقی جانب زم زم کا کنواں ہے۔ (...)۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہی وہ چشمہ ہے جو اسماعیل ؑ کی مدد کے لیے اس وقت، جب اس کی ماں ہاجرہ اس کو لے کر صحرا میں گھوم رہی تھی، پھوٹ بہا تھا۔ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس کا نام ’زم زم‘ اس لیے پڑا کہ جب اس [ہاجرہ] نے یہ دریافت کیا تو اس نے مصری زبان میں اسے کہا ’زم زم‘، جس کامطلب ہے ’ٹھہر ٹھہر‘۔

قرآن کے انگریزی زبان کے ایک مشہور مترجم پروفیسر پامر نے اپنے مقدمۂ قرآن میں لکھا ہے:

The traditions of Abraham the father of their race and the founder of Muhammad\'s own religion, as he always declared him to be, no doubt gave the ancient temple a peculiar sanctity in the Prophet\'s eyes, and although he had first settled upon Jerusalem as his Qiblah, he afterwards reverted to the Kaabah itself. Here, then, Muhammad found a shrine, to which, as well as at which, devotion had been paid from time immemorial; it was one thing which the scattered Arabian nation had in common, the one thing which gave them even the shadow of a national feeling; and to have dreamed of abolishing it, or even of diminishing the honours paid to it, would have been madness and ruin to his enterprise. He therefore did the next best thing, he cleared it of idols and dedicated it to the service of God. ؂18

عربوں کی نسل کے مورثِ اعلیٰ اور محمد[ﷺ] کے دین کے بانی، جیسا کہ وہ [محمد ﷺ ان کے بارے میں] ہمیشہ دعویٰ کرتے تھے،ابراہیم ؑ کی روایت نے بلاشبہ اس قدیم معبد کو رسول اللہ[ﷺ] کی نظروں میں ایک مخصوص تقدس عطا کیا۔ اگرچہ انھوں نے پہلے یروشلم کو اپنا قبلہ بنایا تھا،لیکن بعد میں وہ کعبے ہی کی طرف رخ کرنے لگے۔ اس طرح یہاں محمد [ﷺ] نے ایک ایسی مقدس عمارت پالی جسے قدیم ایام سے تقدس حاصل تھا۔ یہ وہ واحد چیز تھی جو منتشر عرب قوم کی مشترک میراث تھی: وہ واحد چیز، جو اُن میں ایک قومی احساس کی جھلک بھی پیدا کرتی تھی، اسے ترک کر دینے ، یا جو احترام اسے حاصل تھا، اس میں کمی کر دینے کا خواب بھی ایک دیوانگی اور آپ ؐ کی تحریک کے لیے تباہی کا موجب ہوتی۔ اس لیے آپ ؐ نے اس کے بجاے وہ کام کیا جو سب سے بہتر تھا۔ آپ ؐ نے اس [خانہ کعبہ] کو بتوں سے پاک صاف کر دیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مخصوص کر دیا۔

________

 

حواشی

1. Entry No. 875, p. 18: 'be-ayr; from 874; a pit; espec. a well.\' Entry No. 874, p. 18: 'ba'ar, baw-ar ; a prim. Root; to dig'; + Entry No. 7650, p. 112: \'shaba shaw-bah ; a prim. Root; to seven oneself, i.e. swear (as if by repeating a declaration seven times).'
2. Beer Sheba. 'be-ayr' sheh-bah; from 875 and 7651 (in the sense of 7650); well of an oath. :-adjure, charge (by an oath, with an oath), take an oath.' (A Concise Dic. of the words in The Heb. Bible by J. Strong, NY: The Methodist Book Concern, 1984, Entry No. 884, p. 18).
3. The Enc of Islam New Edition, ed E. Van Donzel, B. Lewis and ch. Pellat, C. E. Bosworth (Leiden: E. J. Brill, 1978), 4:320.

۴؂ مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن، لاہور، ۱۹۷۷ء، (الصّٰفّٰت ۳۷: ۱۰۷)، ۵:۴۸۵۔
۵؂ بائبل، کتابِ پیدایش ۲۲: ۱۱ ۔۱۸۔
۶؂ یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ عبرانی زبان اپنی ہم جنس دوسری سامی زبانوں (سُریانی، ارامی، عربی، وغیرہ ) کے رسم الخط کی طرح دائیں سے بائیں طرف لکھی جاتی ہے۔

7. Enc. of Islam, New (1997) edn., s.v. 'Ka'ba', 4:320.
8. The Enc. of Religion (NY: Macmillan Publishing Co, 1987), 8:225ff.
9. Enc. of Islam, New (1997) edn., s.v. 'Ka\'ba', 4:318-20.
10. The Enc. of Religion (NY: Macmillan Publishing Co, 1987), 8:225-26.
11. Enc. of Islam, New (1997) edn., s.v. 'Ka'ba', 4:318-20.
12. The Enc. of Religion (NY: Macmillan Publishing Co, 1987), 8:225-26.
13. Enc. of Islam, New (1997) edn., s.v. 'Ka\'ba', 4:318-20.

۴؂۱ بائبل، کتاب پیدایش ۲۲:۱۔

15. Enc. Biblica, 2:1525-26.
16. Flavius Josephus, Antiquities, Book I, Ch. xii: 2, 4, p.41.
17. George Sale, 'The Preliminary Discourse' to the 'ALKORAN OF MOHAMMED' (London: Frederick Warne & Co.), na., p. 90.
18. The QUR\'AN, Tr. by E. H. Palmer (Delhi: Motilal Banarsidass, 1988), p. liii.

____________