پچھلے دنوں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ایک مضمون ’’غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر‘‘ تین قسطوں میں روزنامہ ’’اوصاف‘‘میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں مولانا محترم نے استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی بعض آرا پر اظہار خیال فرمایا ہے۔ مذکورہ مضمون میں مولانا محترم کے ارشادات سے اگرچہ ہمیں اتفاق نہیں ہے، تاہم ان کی یہ تحریر علمی اختلافات کے بیان اور مخالف نقطۂ نظر کی علمی آرا پر تنقید کے حوالے سے ایک بہترین تحریر ہے۔ مولانا محترم نے اپنی بات کو جس سلیقے سے بیان فرمایا اور ہمارے نقطۂ نظر پر جس علمی اندازسے تنقید کی ہے، وہ یقیناً موجودہ دور کے علما اور مفتیوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ مولانا محترم کے انداز بیان اور ان کی تنقید کے اسلوب سے جہاں ہمارے دل میں ان کے احترام میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اس سے ہمیں اپنی بات کی وضاحت اور مولانا محترم کے فرمودات کا جائزہ لینے کا حوصلہ بھی ملا ہے۔ اس مضمون میں ہم مولانا محترم کے اٹھائے ہوئے نکات کا بالترتیب جائزہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔

____________