غیر ملکی تسلط کے خلاف جہاد

ماہنامہ ’’اشراق‘‘، مارچ ۲۰۰۱ء میں استاذ گرامی کی بعض آرا سے متعلق مولانا زاہد الراشدی صاحب مد ظلہ العالی کے فرمودات اور ان کے حوالے سے ہماری معروضات شائع ہوئی ہیں۔ مولانا محترم نے استاذ گرامی کی جن آرا پر اظہارخیال فرمایا ہے ، ان میں سے ایک جہاد سے متعلق ہمارے استاذ کی راے ہے ۔ یہ بات مولانا محترم کے فرمودات ہی سے واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ’’کسی قوم یا ملک کے خلاف جہاد تو بہرحال مسلمان حکومت ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے‘‘۔ اپنی معروضات میں ہم نے مولانا محترم کے ساتھ اپنے اختلاف کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا:

’’...اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اسی مسئلے میں ہے کہ اگر کبھی مسلمانوں پر کوئی بیرونی قوت اس طرح سے تسلط حاصل کر لے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی اس کے آگے بالکل بے بس ہو جائے تو اس صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ ایسے حالات میں مولانا ہی کی بات سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ بیرونی طاقت کے خلاف اگر مسلمانوں کا نظم اجتماعی اپنی سلطنت کے دفاع کا انتظام کرنے کو آمادہ ہو تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کے نظم اجتماعی ہی کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد ہی اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے جہاد قرار دیا جائے۔ مزید براں ایسے حالات میں نظم اجتماعی سے ہٹ کر جتھا بندی کی صورت میں کی جانے والی ہر جدوجہد غلط قرار پائے گی۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا کو ہماری اس بات سے اتفاق ہو گا، تاہم پھر بھی ہم یہ چاہیں گے کہ مولانا ہمارے اس خیال کی تصدیق یا تردید ضرور فرما دیں تاکہ اس معاملے میں قارئین کے ذہن میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے۔ چنانچہ ہمارے فہم کی حد تک اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق ہے جب مسلمانوں کا نظم اجتماعی ، کسی بھی وجہ سے، بیرونی طاقت کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے سے قاصر ہو۔مولانا کے نزدیک اس صورت میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی سلطنت کے دفاع کی جدوجہد کرنی چاہیے، خواہ یہ جدوجہد غیر منظم جتھا بندی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو منظم یا غیر منظم جدوجہد بھی مسلمانوں کی طرف سے کی جائے گی، وہ مولانا محترم کے نزدیک ’جہاد‘ ہی قرار پائے گی۔‘‘

ہم نے مولانا محترم کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے یہ عرض کیا تھا:

’’دین و شریعت کی رو سے جہاد و قتال کی غیر منظم جدوجہد، بالعموم جن ہمہ گیر اخلاقی و اجتماعی خرابیوں کو جنم دیتی ہے، شریعت اسلامی انھیں کسی بڑی سے بڑی منفعت کے عوض بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قرآن مجید اور انبیاے کرام کی معلوم تاریخ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف، خواہ یہ قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، اسی صورت میں تلوار اٹھانے کا حکم اور اس کی اجازت دی، جب مسلمان اپنی ایک خودمختار ریاست قائم کر چکے تھے۔ اس سے پہلے کسی صورت میں بھی انبیاے کرام کو کسی جابرانہ تسلط کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘

اس کے بعد ہم نے جابرانہ تسلط کی مختلف صورتیں اور ان کے بارے میں دین و شریعت کا حکم اور اللہ کے اولوالعزم پیغمبروں کا اسوہ بیان کیا تھا۔ ہماری اس بحث کا خلاصہ اس طرح سے ہے:
۱۔ ایسا جابرانہ تسلط، جہاں محکوم قوم کو اپنے اختیار کردہ مذہب و عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہو۔
اس صورت میں جابرانہ تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہدکرنا ہر محکوم قوم کا حق تو، بے شک ہے، لیکن یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوہ سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔
۲۔ ایسا جابرانہ تسلط، جہاں محکوم قوم کو اپنے اختیار کردہ مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل نہ ہو۔
اس صورت میں اگر محکوم قوم کے لیے جابرانہ تسلط کے علاقے سے ہجرت کر جانے کا موقع موجود ہو تو اس کے لیے دین و شریعت کا حکم یہی ہے کہ اپنے ایمان کی سلامتی کی خاطر وہ اپنے ملک وقوم کو خیر باد کہہ دیں۔ حضرت موسیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے یہ رہنمائی ملتی ہے۔ اس کے برعکس محکوم قوم کے لیے اگر ہجرت کی راہ مسدود ہو تو ان حالات میں درج ذیل دو امکانات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں:
اولاً ، محکوم قوم اپنی مدد کے لیے کسی منظم اسلامی ریاست سے مدد طلب کرے۔ قرآن مجید کے مطابق اگر اس اسلامی ریاست کے لیے ظلم وجبر کا نشانہ بنے بغیر ان مسلمانوں کی مدد کرنی ممکن ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرے، الاّ یہ کہ جس قوم کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا جا رہا ہے، اس کے اور مسلمانوں کی اس ریاست کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو۔(الانفال ۸: ۷۲، النساء ۴: ۷۵)
ثانیاً، محکوم قوم کے لیے کسی منظم ریاست سے استمداد یا کسی منظم ریاست کے لیے اس محکوم قوم کی مدد کرنے کی راہ مسدود ہو ۔اس صورت میں محکوم قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کا اسوہ یہی ہے کہ وہ اللہ کا فیصلہ آنے تک حالات پر صبر کریں۔ (الاعراف ۷: ۸۷)
روزنامہ ’’اوصاف‘ ‘کی ۱۵ اور ۱۶ مارچ کی اشاعت میں مولانا محترم نے ہمارے استدلال کا محاکمہ کیا ہے۔ ہم مولانا محترم کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے اس طالب علم کی بات کو قابل اعتنا سمجھا اور اس میں غلطی واضح کرنے کے لیے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر مولانا کی توجہ اسی طرح سے ہمیں نصیب رہی تو ان شاء اللہ صحیح بات پوری طرح سے نکھر کر سامنے آجائے گی۔
اپنے پہلے مضمون میں مولانا محترم نے اپنے استدلال کی بنا فلسطین، برصغیر پاک و ہند، افغانستان اور الجزائر کی جدوجہد آزادی اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ان کوششوں پر رکھی تھی جو انھوں نے تاتاریوں کے خلاف اہل دمشق میں جہاد کی روح پھونکنے کے لیے کیں۔ اس حوالے سے ہم نے لکھا تھا:

’’عام انسانوں کی بات، بے شک مختلف ہو گی، مگر مولانا محترم جیسے اہل علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہل علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کے بجاے شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعت اسلامی کے بنیادی ماخذوں، یعنی قرآن و سنت میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اس سے ہٹا ہوا قرار دیں۔‘‘

مولانا محترم اس بات کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’میرے نزدیک ہمارے درمیان نقطۂ نظر کے اختلاف کا نکتہ اور اصل موڑ یہی ہے۔ یہ اگر واضح ہو جائے تو باقی معاملات کا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہے گا۔ ‘‘(روزنامہ اوصاف، ۱۵ مارچ، ۲۰۰۱ء)

اس ضمن میں اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’۔ قرآن و سنت کے بیان کردہ قطعی اور صریح اصولوں کو ہر چیز پر فوقیت اور بالاتری حاصل ہے۔
۔ جو اصول اہل علم نے قرآن وسنت کی روشنی میں خود مستنبط کیے ہیں، ان میں اصل مدار شخصیات پر ہے اور شخصیات کی باہمی ترجیحات ان کے وضع کردہ اصولوں میں بھی کارفرما ہوں گی۔
۔ ظنی اور استنباطی اصولوں اور سوسائٹی میں ان کے اطلاق و تطبیق کی عملی مشکلات دونوں کو سامنے رکھ کر احکام وضوابط طے کیے جائیں گے۔
۔ بعد میں پیش آنے والی ضروریات کے لیے وضع کیے جانے والے اصولوں کا موثر بہ ماضی اطلاق ضروری نہیں ہوگا اور نہ ہی ماضی کے معاملات کا ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا دور چونکہ ان سب استنباطات، استدلالات اور اجتہادات سے مقدم ہے اور وہ چشمۂ نبوت سے براہ راست فیض یاب ہوتے ہیں، اس لیے قرآن و سنت کے مفہوم ومصداق کے تعین اور بعد میں آنے والے اصولوں کے تعارض وتضاد کے حل کے لیے ان کا تعامل حتمی حجت ہے۔‘‘(روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ، ۲۰۰۱ء)

مولانا محترم نے اگرچہ اسی نکتے کو ہمارے مابین نقطۂ نظر کے اختلاف کا ’بنیادی موڑ‘ قرار دیا ہے، تاہم انھوں نے چونکہ اپنے مضمون میں اس کے ساتھ ساتھ ہمارے استدلال پر تبصرہ اور اپنی راے کے حق میں استدلال بھی پیش فرمایا ہے، اس وجہ سے فی الحال ہم اس نکتے سے تعرض نہیں کریں گے۔ مولانا محترم فی الواقع اگر مذکورہ بنیاد ہی پر زیر بحث راے کو اختیار کیے ہوئے ہیں تو پھر انھیں قرآن و سنت سے ہمارے استدلال پر نہ کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اپنی راے کے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کی۔ اس صورت میں تو انھیں قرآن مجید اور اللہ کے پیغمبروں کی زندگیوں سے ہمارے حوالوں کے جواب میں اور اپنی راے کی دلیل کے طور پر ’شخصیات‘ کی پیروی کی تلقین کا درس دیتے رہنے ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہم یقینا’شخصیات‘ کی آرا، ان کے استنباط اور استدلال کے بارے میں مولانا محترم کے فرمودات کا تفصیلی جائزہ قارئین کے سامنے پیش کر دیتے، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا، اس وجہ سے فی الحال خواہ مخواہ کی طوالت اور غیر متعلق مباحث میں الجھنے کے بجاے ہم مولانا کے ان فرمودات کا جائزہ پیش کر رہے ہیں جو مسئلۂ زیر بحث سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔
مولانا محترم ہمارے پیش کردہ نکات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’انھوں نے اس جواب میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے بقول مسلمانوں کی آبادی پر کافروں کے تسلط کی صورت میں دو ہی راستے بتائے ہیں: پہلا راستہ یہ ہے کہ اگر ہجرت کا راستہ اور مقام موجود ہو تو وہاں سے ہجرت کر جائیں اور دوسرا یہ کہ اگر ہجرت قابل عمل نہ ہو تو صبر وشکر کر کے بیٹھے رہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں سورۃ النساء، سورۃ الانفال اور سورۃ الاعراف کی بعض آیات کریمہ کا حوالہ بھی دیا ہے، مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ مسئلہ کی نوعیت کو سرے سے نہیں سمجھ سکے، کیونکہ ان آیات کریمہ میں ان مسلمانوں کے لیے احکام بیان کیے گئے ہیں جو کافروں کی سوسائٹی میں مسلمان ہو گئے ہیں اور ان کے زیر اثررہ رہے ہیں۔ ان کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ وہاں سے ہجرت کر سکتے ہیں تو نکل جائیں، ورنہ صبر وحوصلہ کے ساتھ حالات کی تبدیلی کا انتظار کریں، جبکہ ہم جس صورت پر بحث کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پر باہر سے آکر کافروں نے تسلط جما لیا ہو اور مسلمان اکثریت پر کافر اقلیت کا جبر و اقتدار قائم ہو گیا ہو۔ اس صورت میں محترم غامدی صاحب اور ان کے تلامذہ ہی مسلم اکثریت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنا علاقہ کافر تابعین کے حوالے کر کے وہاں سے چلے جائیں یا ان کے جبر وظلم کو خاموشی سے برداشت کرتے چلے جائیں۔‘‘(روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ، ۲۰۰۱ء)

سب سے پہلے تو ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جسے مولانا محترم نے ’دو ہی راستے‘ قرار دیا ہے، وہ درحقیقت دو نہیں ، بلکہ دو سے زیادہ راستے ہیں۔ یہاں ان راستوں کے ذکر کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیر نظر مضمون کے آغاز میں ہم اپنی بات کا خلاصہ کرتے ہوئے ان راستوں کا ذکر کر چکے ہیں، وہاں ان پر نظر ڈال لیجیے۔
دوسری بات یہ کہ مولانا محترم کی اس توضیح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اگر کسی غیر مسلم آبادی میں کچھ لوگ مسلمان ہو جائیں تو ان پر ان صورتوں کا اطلاق ہو گا جو ہم نے اپنے مضمون میں تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق باقی رہ گیا ہے جب کسی بیرونی قوت کی طرف سے مسلمانوں پر یلغار کی گئی ہو اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت بالکل مفلوج یا ناپید ہو کر رہ جائے۔ ہم یہ بات، البتہ بالکل سمجھ نہیں پائے کہ جبر واستبداد، خواہ اپنی غیر مسلم حکومت کی طرف سے ہو یا مسلمانوں کے علاقے پر حملہ آور ہو کر اس پر قبضہ کر لینے والی حکومت کی طرف سے، دونوں صورتوں میں دینی لحاظ سے وہ کون سا فرق واقع ہوتا ہے جس کے باعث ان دونوں صورتوں کے دینی احکام میں تفاوت ہو گا۔ معاملہ اگر دینی جبر واستبداد اور ظلم و عدوان ہی کے خلاف لڑنے کا ہے تو وہ تو دونوں صورتوں میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، معاملہ اگر قومی و ملی حمیت کا ہے تو پھر اس صورت حال میں اور قبطیوں کے آل یعقوب (بنی اسرائیل) کو من حیث القوم اپنا غلام بنا لینے کی صورت میں وہ کون سا فرق ہے جس کے باعث حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو قبطیوں کے خلاف جہاد کی نعمت عظمیٰ کا درس نہیں دیا؟
تیسری بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں صرف سورۂ نساء، سورۂ اعراف اور سورۂ انفال کی آیتوں ہی کا حوالہ نہیں دیا تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے بعض پیغمبروں کی سیرت سے بھی استدلال کیا تھا۔ ان پیغمبروں میں سے ایک حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تھے۔ قارئین پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے وقت فلسطین پر رومیوں کا جابرانہ تسلط قائم تھا۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ بنی اسرائیل کے لیے رومی ایک غاصب قوم ہی تھے جنھوں نے باہر سے حملہ آور ہو کر ان کی آزادی چھین لی اور انھیں من حیث القوم اپنا مطیع و فرماں بردار بنا لیا تھا۔ اس صورت حال میں حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت ہوئی تھی، مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ انھوں نے کسی ایک موقع پر بھی اپنی قوم میں ’جہاد‘ کی روح پھونکنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں قارئین کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت پر ایمان ہی نہیں لائے، اس وجہ سے آپ کو رومی غاصبوں کے خلاف جہادوقتال کی روح پھونکنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہمارے نزدیک بات صرف یہی نہیں ہے کہ حضرت مسیح نے بنی اسرائیل کو اپنے غاصب حکمرانوں کے خلاف جہاد وقتال کا درس نہیں دیا، بلکہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جب ان سے کھلے کھلے الفاظ میں ان حکمرانوں اور ان کی طرف سے بنی اسرائیل پر خراج عائد کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو آپ نے اس موقع پر بھی ایسی کوئی بات نہیں فرمائی جس میں ان غاصبوں کے خلاف تلوار اٹھانے یا ان کے خلاف بغاوت کرنے کی ترغیب پائی جاتی ہو۔متی کی انجیل میں یہ واقعہ اس طرح سے نقل ہوا ہے:

’’اس وقت فریسیوں نے جا کر مشورہ کیا کہ اسے (یعنی مسیح علیہ السلام کو) کیونکر باتوں میں پھنسائیں۔ پس انھوں نے اپنے شاگردوں کو ہیرودیوں (یعنی حکمران کے لوگوں) کے ساتھ اس کے پاس بھیجا اور انھوں نے کہا کہ اے استاد ہم جانتے ہیں کہ تو سچا ہے اور سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے اور کسی کی پروا نہیں کرتا، کیونکہ تو کسی آدمی کا طرف دار نہیں۔ پس ہمیں بتا تو کیا سمجھتا ہے کہ قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں؟ یسوع نے ان کی شرارت جان کر کہا: اے ریا کارو، مجھے کیوں آزماتے ہو؟ جزیہ کا سکہ مجھے دکھاؤ۔ وہ ایک دینار اس کے پاس لائے۔ اس نے ان سے کہا: یہ صورت اور نام کس کا ہے؟ انھوں نے اس سے کہا :قیصر کا۔ اس پر اس نے ان سے کہا: پس جو قیصر کا ہے، قیصر کو اور جو خدا کا ہے، خدا کو ادا کرو۔‘‘ (۲۲: ۱۵ ۔ ۲۲)

حضرت مسیح علیہ السلام کے جواب پر غور کیجیے تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ اس جواب کی اصل روح یہ ہے کہ جب حکومت قیصر کی قائم ہے اور جب سکہ اسی کے نام کا چلتا ہے تو پھر خراج بھی اسی کو ادا کرنا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ غاصب قوم کے خلاف تلوار اٹھانا اگر ’جہاد‘ ہوتا تو حضرت مسیح علیہ السلام کم از کم اسی موقع پر اللہ کے دین کا یہ تقاضا ضرور بیان فرما دیتے۔
ہمیں مولانا کی اس بات سے پوری طرح سے اتفاق ہے کہ سورۂ نساء، سورۂ اعراف اور سورۂ انفال کی وہ آیتیں جن کا ہم نے اپنے مضمون میں حوالہ دیا ہے، ان کا تعلق اصلاً اسی صورت حال سے ہے جب کافروں کی کسی بستی میں کچھ لوگ اسلام قبول کر لیں اور اس کے نتیجے میں انھیں حکمرانوں کی طرف سے جبر و استبداد کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہوں، مگر ہمارے نزدیک، یہ صورت حال دینی و اخلاقی لحاظ سے اس سے کچھ مختلف نہیں ہے کہ جہاں کوئی غیر مسلم قوم کسی مسلمان بستی پر قابض ہو گئی اور اس کو اپنے مظالم کا نشانہ بنا رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے مضمون میں ان آیات کو بناے استدلال بنایا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیہما السلام کے حالات و واقعات سے بھی غیر قوم کے استیلا کے حوالے سے دین و شریعت کے جو احکام مستنبط ہوتے ہیں، وہ ہماری محولہ آیات کے عین مطابق ہیں۔
اس کے بعد مولانا محترم فرماتے ہیں:

’’ہمیں تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس سے برعکس رہنمائی ملتی ہے، کیونکہ یمن کا علاقہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلم مملکت میں شامل ہو گیا تھا اور شہر بن باذان کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے وہاں کا گورنر مقرر کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ یمن کے مختلف علاقوں میں حضرت علی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور دوسرے عمال کا تقرر کیا تھا، مگر اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر کے صنعاء پر چڑھائی کی اور شہر بن باذان کو قتل کر کے یمن کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا، مقتول گورنر کی بیوی کو زبردستی اپنے حرم میں داخل کیا ،یمن کے مختلف علاقوں سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عاملوں کو یمن سے نکال دیا اور اس طرح یمن کا صوبہ اسلامی حکومت سے نکل کر کافروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس پر تین حضرات، حضرت فیروز دیلمی، حضرت قیس بن مکشوح اور حضرت دادویہ نے باہمی مشورہ کر کے گوریلا طرز جنگ پر شب خون مارنے کا پروگرام بنایا۔ مقتول گورنر شہر بن باذان کی بیوی سے، جو اسود عنسی نے زبردستی اپنے حرم میں داخل کر رکھی تھی، ان تینوں حضرات نے رابطہ کر کے سازباز کی، جس کے تحت اس نے رات کو اسود عنسی کو بہت زیادہ شراب پلا دی۔ ان حضرات نے محل کی دیوار میں نقب لگا کر اندر داخل ہونے کا راستہ نکالا اور رات کی تاریکی میں اسود عنسی اور اس کے پہرہ داروں کو قتل کر کے اس کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ یہ گوریلا کارروائی تھی اور مسلح کارروائی تھی۔ اس میں معز امجد صاحب کو یقیناً کچھ اخلاقی خرابیاں نظر آرہی ہوں گی اور بلا ضرورت قتل و غارت بھی دکھائی دیتی ہو گی، لیکن عملاً یہ سب کچھ ہوا جس کے نتیجے میں یمن کے مسلمانوں کا اقتدار دوبارہ بحال ہوا اور جناب نبی اکرم کو جب ان کے وصال سے صرف دو روز قبل وحی کے ذریعے سے اس کارروائی کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خوش خبری سنائی۔ اس کے بعد حضرت فیروز دیلمی جب اس کامیابی کی خبر لے کر یمن سے مدینہ منورہ پہنچے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی رپورٹ خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو پیش کی اور انھوں نے اس پر اطمینان ومسرت کا اظہار فرمایا۔ اس لیے محترم معز امجد صاحب سے عرض ہے کہ جن آیات کریمہ سے انھوں نے استدلال کیا ہے، ان کا مصداق یہ نہیں ہے، بلکہ اس کی عملی شکل وہی یمن والی ہے کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافروں کا تسلط قائم ہو تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو صورت بھی اس وقت کے حالات کی روشنی میں اختیار کر سکیں، اس سے گریز نہ کریں اور وہ کافر و ظالم قوت کے جابرانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی جو صورت بھی اختیار کریں گے، وہ حضرت فیروز دیلمی کی اس گوریلا کارروائی اور شب خون کی طرح ’جہاد‘ ہی کہلائے گی۔‘‘

(روزنامہ اوصاف، ۱۶ مارچ ،۲۰۰۱ء)

یہ اگر مان بھی لیاجائے کہ یہ واقعہ بعینہٖ اسی طرح سے ہوا، جیسا کہ مولانا محترم نے بیان فرمایا ہے، تب بھی یہ جابر وغاصب قوم کے خلاف گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے ’جہاد‘ کرنے کا واقعہ نہیں، بلکہ ایک غاصب حکمران کے قتل کا واقعہ ہے۔ گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے جہاد کرنا اور کسی (اچھے یا برے) حکمران کے قتل کی سازش کرنا دو بالکل الگ معاملات ہیں۔ ایک صورت ان ہمہ گیر اخلاقی خرابیوں کا باعث بنتی ہے جن کی طرف ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں اشارہ کیا تھا، جبکہ دوسری صورت میں وہ مسائل پیدا ہی نہیں ہوتے۔ معاملہ یوں نہیں ہوا کہ ان تین مذکورہ لوگوں نے صنعاء اور یمن کے مسلمانوں کو غاصب قوم کے خلاف منظم کرنے کی جدوجہد کی ہو، بلکہ، جیسا کہ مولانا محترم نے بیان فرمایا، معاملہ تو یوں ہے کہ ان تینوں حضرات نے غاصب حکمران کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔قتل کے کسی منصوبے کا آخر جہاد سے کیا تعلق ہے؟
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اس طرح سے رونما ہوا ہی نہیں، جیسا کہ مولانا نے بیان فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر ’’الاصابہ فی تمییز الصحابہ ‘‘ کے مطابق:

بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی جشیش والی دازویہ والی فیروز یامرھم بمحاربۃ الاسود العنسی. (۱/ ۵۳۵)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جشیش، دازویہ اور فیروز دیلمی کو ایک پیغام بھیجا جس میں آپ نے انھیں اسود عنسی کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا۔‘‘

تاریخ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری کارروائی ایک صوبے میں بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک منظم ریاست ہی کی طرف سے کی گئی تھی۔ اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ اسلامی حکومت نے اپنے تین ایجنٹوں کے ذریعے سے ایک صوبے میں رونما ہونے والی بغاوت کا خاتمہ کرایا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہ واقعہ بڑی تفصیل سے نقل کیا ہے۔ ان کے بیان کے چند اہم نکات حسب ذیل ہیں:
۔ اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر کے اپنے سات سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کی ریاست کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ سب سے پہلے اس نے نجران پر قبضہ کیا، اس کے بعد صنعاء کا قصد کیا اور وہاں کے عامل شہر بن باذام کو قتل کر کے اس پر بھی اپنی حکومت قائم کر لی۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جو اس وقت یمن ہی میں تھے، وہاں سے نکل گئے۔ راستے میں وہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ملے اور وہ دونوں حضر موت کی طرف چلے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال طاہر تک پسپا ہو گئے اور ان میں سے حضرت عمر بن حرام اور حضرت خالد بن سعید بن عاص مدینہ لوٹ آئے۔
۔اسود عنسی کی حکومت پوری طرح سے مستحکم ہو گئی۔ اس وقت اس کی فوج میں سات سو گھڑ سوار شامل تھے۔ اس کی فوج کے امرا کے نام یہ ہیں: قیس بن عبد یغوث (یہ قیس بن مکشوح ہی ہیں)، معاویہ بن قیس، یزید بن محرم بن حصن حارثی اور یزید بن افکل ازدی۔
۔اسود کی حکومت کے زور پکڑنے کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ مرتد ہونے لگے۔ ان مرتدین میں بظاہر مسلمان عمال بھی شامل تھے۔
۔ اس نے قیس بن عبد یغوث کو اپنا امیر الجنداور فیروز دیلمی اور دادویہ کو ابنا کے معاملے کا ذمہ دار بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے شہر بن باذام کی بیوہ سے جس کا نام زاذ تھا اور جو فیروز دیلمی کی چچازاد تھی، شادی کر لی۔ زاذ حسین و جمیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مومن و صالح عورت تھی۔
۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسود عنسی کی بغاوت کی خبر ملی تو آپ نے وبر بن یحنس دیلمی کے ذریعے سے ان مسلمانوں کو اسود عنسی کے خلاف جنگ کرنے اور اس پر حملہ کرنے کا حکم دیا جو وہاں موجود تھے۔
۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کے لیے پوری طرح سے کمر بستہ ہو گئے۔ سکون کے لوگ جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سسرالی رشتے دار تھے، ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ان تمام عمال اور مسلمانوں تک پہنچا دیا جن تک پہنچنا ان کے لیے ممکن تھا۔
۔ مسلمانوں کے اجتماع نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ کام قیس بن عبد یغوث کے ذریعے سے کرایا جائے، کیونکہ اسے اسود عنسی پر بہت غصہ تھا اور وہ اسے حقیر جانتا اور اس کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہی معاملہ فیروز دیلمی اور دادویہ کا بھی تھا۔
۔ چنانچہ جب وبر بن یحنس نے قیس کو اس اسکیم کی خبر دی تو اس کے لیے یہ ایسا ہی تھا گویا اسے آسمان سے ایک موقع مل گیا ہو اور اس طرح انھوں نے اسود عنسی کے قتل کی اسکیم بنائی۔ اس کے بعد قیس نے دادویہ اور فیروز دیلمی کو اپنی اس اسکیم میں شامل کیا۔ بالآخر ، ان تینوں حضرات نے اسود عنسی کی بیوی کے ساتھ مل کر اسود کے قتل کے منصوبہ کو رو بہ عمل کیا۔
ان نکات سے جو باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آجاتی ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔ اسودعنسی کے خلاف اس کے محکوم و مظلوم عوام نے کوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ وہ بے چارے تو اس کے ظلم وستم سے تنگ آ کر مرتد ہونا شروع ہوگئے تھے۔
۲۔ یہ پوری کارروائی اصلاًمسلمانوں کی منظم ریاست ہی کی طرف سے اپنے ایک صوبے میں ہونے والی بغاوت کے قلع قمع کے لیے کی گئی تھی۔
۳۔ اس کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کا کامیاب منصوبہ بنانے کی صورت میں ہوا۔
اب قارئین خود ہی اس بات کا فیصلہ فرمائیں کہ اس کارروائی سے مولانا محترم نے جو استدلال کیا ہے، وہ صحیح ہے یا غلط۔

____________