ماہنامہ’’اشراق‘‘ جون ۱۹۹۹ء کے شمارے میں ’’الجماعۃ‘‘ سے متعلق مولانا وصی مظہر صاحب ندوی کے ایک مضمون پر ہم نے اپنی بعض معروضات پیش کی تھیں۔ مولانا محترم نے ان کا جواب دیا ہے جو اس شمارے* میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہاں ہمارے پیش نظر اختصار کے ساتھ مولانا کے فرمودات کا جائزہ لینا ہے۔
مولانا محترم نے سب سے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ ہماری تحریر میں انھیں مناظرے بازی کا رنگ نظر آیا ہے۔ ہم مولانا محترم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان جیسے بزرگ کے ساتھ تو بہت دور کی بات ہے، ہم تو کسی عام شخص سے بھی مناظرہ کرنے کا خیال نہیں کرسکتے۔ خدا گواہ ہے کہ کسی تحریر میں ہمارے پیش نظر اس کے سوا کبھی کوئی بات نہیں ہوئی کہ جو بات ہمیں قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی حیثیت سے سمجھ میں آئی ہے، اس بات کو ہم اپنے قارئین کو سمجھا دیں۔ قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنی کہی ہوئی کسی بات کا دفاع کرنا کبھی ہمارا ہدف نہیں رہا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہمارا قلم صرف اسی بات کو تحریر کرنے کے لیے اٹھے جو اس کی بات ہے، اور ہماری زبان صرف اسی بات کو بیان کرنے کے لیے کھلے جو اسے پسند ہے۔ ہم نے تو مولانا محترم کے مضمون پر بھی جو کچھ لکھا، وہ اکثر و بیش تر سوالات پر مشتمل تھا۔ ہم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہماری کس بات سے مولانا محترم کو مناظرہ بازی کی بو آئی۔ بہرحال انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر مولانا محترم کو ہماری تحریر میں مناظرہ بازی کا رنگ نظر آیا تو یقیناًہم سے غلطی ہوئی ہو گی۔ ہم اس غلطی پر تہ دل سے مولانا محترم سے معذرت کے خواست گار ہیں۔ امید ہے وہ ایک شفیق بزرگ کی طرح ہماری معذرت قبول فرمائیں گے۔ مولانا محترم سے ہماری ایک گزارش یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں، جہاں ہمارے پاس دلوں کے بھید جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، وہ ہمارے بارے میں یہ حسن ظن رکھیں کہ ان کی طرح ہم بھی کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ دین کے ایک مسئلے کی وضاحت کی غرض سے اس موضوع پر قلم اٹھائے ہوئے ہیں۔
مولانا محترم نے اپنے مضمون میں جو بنیادی بات فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا نظم ہو جس میں دنیا کے تمام مسلمان یا ان کی بھاری اکثریت شامل ہو۔ یہاں قارئین پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہمارے اور مولانا محترم کے مابین اختلاف کا بنیادی نکتہ یہی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان جب کسی خطۂ ارضی میں ایک منظم ریاست کی شکل اختیار کر لیں تو ان پر ’’الجماعۃ‘‘ کے لفظ کا اطلاق ہو سکتا ہے، جبکہ مولانا محترم کے نزدیک یہ لفظ صرف اسی صورت میں بولا جا سکتا ہے، جب یہ ریاست دنیا کے تمام مسلمان یا ان کی بھاری اکثریت مل کر بنائے۔
ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں مولانا محترم سے گزارش کی تھی کہ وہ دین و شریعت کی ان نصوص یا زبان و ادب کے ان شواہد کی طرف ہماری رہنمائی فرما دیں جن کی بنیاد پر وہ ’’دنیا کے تمام مسلمانوں یا ان کی بھاری اکثریت‘‘ کی شمولیت کو کسی گروہ کو ’’الجماعۃ‘‘ قرار دینے کے لیے لازم سمجھتے ہیں۔ مولانا محترم نے اپنے مضمون میں اس بات کا اعادہ فرمایا ہے کہ کسی نظم کو ’’الجماعۃ‘‘ قرار دینے کے لیے لازم ہے کہ وہ نظم تمام مسلمانوں کا نمائندہ نظم ہو۔ اس حوالے سے مولانا محترم نے سب سے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ:

’’...لفظ جماعت پر ’’ال‘‘ (لام تعریف، جس کو انگریزی میں 'Definite Article' کہا جاتا ہے) کے اضافے سے مراد وہ مخصوص جماعت ہے، جس کا ذکر متعدد صحیح احادیث میں آیا ہے اور جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مخصوص قسم کے احکام دیے ہیں۔‘‘ (۳۸)

ہم بڑے ادب کے ساتھ مولانا محترم سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایات میں لفظ ’’جماعت‘‘ پر جو ’’ال‘‘ آیا ہے، اسے انھی روایات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل عوضاً عن المضاف الیہ، یعنی مضاف الیہ کی جگہ پر لگایا گیا ’’ال‘‘ ہے۔ دوسری روایات میں اسی ’’ال‘‘ کی وضاحت ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے الفاظ سے کر دی گئی ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک، روایات میں جس ’’الجماعۃ‘‘ کا ذکر ہوا ہے، اس سے مراد روایات ہی کی روشنی میں ’’جماعۃ المسلمین‘‘ یا مسلمانوں کا نظم اجتماعی ہے۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اگر ہماری اس بات کو صحیح نہیں سمجھتے تو مہربانی فرما کر ہماری غلطی ہم پر واضح فرما دیں۔
مولانا محترم نے ’’الجماعۃ‘‘ میں تمام مسلمانوں کی شمولیت کو لازم قرار دیتے ہوئے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ:
’’اس الجماعۃ کی سب سے پہلی خصوصیت یہی ہے کہ یہ رنگ و نسل پر، نہ زبان و وطن پر مبنی تنظیم ہے نہ اس کی اساس کسی سیاسی و معاشی پروگرام پر ہے بلکہ وہ اسلام کے عقیدے پر ایمان لانے والوں کی جماعت ہے۔ جیسا کہ اس کے نام ’جماعۃ المسلمین‘ سے بھی ظاہر ہے۔ علاوہ ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

جو شخص کسی ضد یا گمراہی کے جھنڈے کے نیچے مارا جائے کسی عصبیت کے لیے جوش میں آئے اور عصبیت کے لیے جنگ کرے، وہ میری امت میں سے نہیں ہے (مسلم ،عن ابی ہریرہ)۔‘‘(۳۸۔۳۹)

مولانا محترم نے یہاں ’’الجماعۃ‘‘ کو لازماً تمام مسلمانوں کا نمائندہ نظم ہونے کے دو دلائل دیے ہیں: ایک یہ کہ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کا نمائندہ نظم ہو گا نہ کہ ان میں سے بعض لوگوں کا۔ دوسرے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب محولہ روایت میں کسی قسم کی گروہی عصبیت کے لیے لڑنے سے روکا گیا ہے۔
پہلی بات کے ضمن میں مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ یہ واضح فرما دیں کہ ان کے نزدیک ’’جماعۃ المسلمین‘‘‘ سے مراد لازماً ’’تمام مسلمانوں کی جماعت‘‘ یا ’’تمام مسلمانوں کا نظم‘‘ ہی کیوں ہے۔ آخر اس سے مراد محض ’’مسلمانوں کا نظم‘‘ یا ’’مسلمانوں کی جماعت‘‘ کیوں نہیں ہے؟ کیا مولانا کے نزدیک یہ کہنا غلط ہو گا کہ سعودی عرب میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے؟ ظاہر ہے کہ غلط نہیں ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ ’’سعودی عرب میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے‘‘ کے جملے سے آخر یہ کیسے لازم آتا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت دنیا کے تمام مسلمانوں کی نمائندہ حکومت ہے۔ ’’المسلمون‘‘ یا ’’المسلمین‘‘ کے الفاظ جس طرح تمام مسلمانوں کے لیے بولے جا سکتے ہیں، اسی طرح ان کے کسی مخصوص گروہ کے لیے بھی بولے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے نزدیک، کم از کم ’’جماعۃالمسلمین‘‘ کے الفاظ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ’’تمام‘‘ مسلمانوں کی شمولیت کو اس میں ایک لازمی شرط قرار دیتی ہو۔
جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اس روایت کا تعلق ہے جو مولانا محترم نے نقل فرمائی ہے، اس کے حوالے سے ہم صرف اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ ہمیں ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم سے یا اس کے لازمی شرائط سے اس کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آ سکا۔ اس روایت سے یہ بات تو یقیناًنکلتی ہے کہ مسلمان کی تلوار گروہی عصبیتوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف حق ہی کی حمیت میں اٹھتی ہے، مگر ہم نہیں سمجھ سکے کہ اس روایت سے یہ بات کیسے نکلتی ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ صرف اسی نظم کو کہا جا سکتا ہے جو ’’تمام‘‘ مسلمانوں کا نمائندہ نظم ہو۔ مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ وہ مہربانی فرما کر یہ بات واضح فرما دیں۔ ۱؂
اس کے بعد مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’الجماعۃ صرف مسلمانوں کی اس جماعت کو کہا جا سکتا ہے جس کے ساتھ اس کی بڑی اکثریت ہو، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
۱۔ سواد اعظم (بڑی اکثریت) کی پیروی کرو۔ کیونکہ جو (اس سے) کٹا، وہ جہنم میں گیا۔(ابن ماجہ، عن انس)
۲۔ شیطان انسانوں کا بھیڑیا ہے۔ بھیڑیا کٹ کر جدا ہو جانے والی، دور چلی جانے والی یا کونے میں رہ جانے والی بھیڑ ہی کو شکار کرتا ہے۔ تم گھاٹیوں اور پگڈنڈیوں سے بچو، جماعت اور عام لوگوں کے ساتھ رہو۔( احمد۔ عن معاذ ابن جبل)۔‘‘ ( ۳۹)

مولانا محترم کی ان دونوں محولہ روایتوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اس مضمون کی دوسری تمام روایتوں کی روشنی میں ہم پہلے بھی وضاحت کر چکے ہیں۔ اختصار کے ساتھ ہم یہاں اس کا اعادہ کیے دیتے ہیں۔ ’’بڑی اکثریت کی پیروی کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی معاملات میں اختلاف کی صورت میں اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنا بھی التزام جماعت کے حکم کا ایک تقاضا ہے۔ اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنے کا یہ حکم قرآن مجید کے حکم ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘۲؂ پر مبنی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں فرمایا ہے کہ جب تم اختلافات دیکھو تو اکثریت کی راے کی پیروی کرو۔ ۳؂
دوسری روایت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک نظم کے بجاے متحارب گروہوں میں تقسیم ہوجانا دراصل ’’الجماعۃ‘‘ کا نقیض ہے۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ (بن کر رہنا) رحمت اور تفرقہ عذاب ہے ۴؂ ،یعنی التزام جماعت کی اصل علت مسلمانوں کو انارکی اور خوں ریزی سے روکنا اور فتنوں میں پڑنے سے محفوظ رکھنا ہے۔ ۵؂ ہماری اس وضاحت سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان روایتوں کا تعلق اس بات سے بالکل نہیں ہے کہ کسی گروہ کو ’’الجماعۃ‘‘ قرار دینے کے لیے اسے دنیا کے تمام مسلمانوں یا ان کی بڑی اکثریت کا نمائندہ ہونا ضروری ہے۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ ان کے نزدیک ان روایتوں کی وہ توضیح اگر درست نہیں ہے جو ہم نے کی ہے تو وہ مہربانی فرما کر ہماری غلطی ہمیں سمجھا دیں اور ان روایتوں کے مکمل الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے مضمون کی تفصیل کے ساتھ وضاحت فرما دیں۔
ہم نے اپنے مضمون میں مولانا محترم کی خدمت میں ایک سوال یہ بھی عرض کیا تھا کہ ان کے نزدیک کسی نظم کو ’’الجماعۃ‘‘ قرار دینے کے لیے اگر یہ لازم ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کا نمائندہ نظم ہو اور اس میں شمولیت سے کسی مسلمان کو نہ روکا گیا ہو تو پھر صلح حدیبیہ کے بعد ریاست مدینہ کو ’’الجماعۃ‘‘ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جبکہ صلح کے اس معاہدے کی رو سے مکہ میں بسنے والے لوگ اسلام لا کر بھی ریاست مدینہ کے شہری نہیں بن سکتے تھے۔ مولانا محترم اپنے مضمون میں اس بات کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’...صلح حدیبیہ وقتی حالات اور جنگی مصلحتوں پر مبنی تھی۔ چنانچہ مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ آنے والوں کو واپس کر دینے کی جو شرط منظور کی گئی تھی، اس کی ایک وقتی مصلحت تھی۔ جس کو بعد کے حالات نے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت نے ظاہر کر دیا تھا۔‘‘ (۴۹)

ہم تھوڑی دیر کے لیے مولانا کی یہ ساری ہی بات درست مان کر ان سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر ریاست مدینہ ایک وقتی مصلحت کے لیے ایک وقتی پابندی لگا سکتی ہے تو پھر آخر دین و شریعت کے کون سے نصوص ہمیں مستقلاً وہی پابندی عائد کرنے سے روکتے ہیں ؟ اگر اسلامی ممالک اپنے شہریوں کی مصلحت کے پیش نظر وہی پابندی مستقل بنیادوں پر عائد کر دیتے ہیں یا بعض مصالح اور حالات کے تحت پابندی لگائے رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو آخر مولانا محترم کے نزدیک وہ اس پابندی سے ’’الجماعۃ‘‘ کہلانے کا حق کیوں کھو بیٹھتے ہیں؟
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ مہربانی فرما کر دین و شریعت کے ان نصوص کی طرف ہماری رہنمائی فرمائیں جن کی بنیاد پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’الجماعۃ‘‘ کہلانے کا حق دار مسلمانوں کا وہی نظم ہو سکتا ہے جس میں دنیا کے تمام مسلمان یا ان کی بڑی اکثریت شامل ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔

 [ستمبر ۱۹۹۹ء]

 

_______

* ماہنامہ اشراق، ستمبر ۱۹۹۹ء، ۳۸۔
۱؂ مکمل روایت کی روشنی میں اس کے موقع و محل کی وضاحت کے لیے دیکھیے: ماہنامہ ’’اشراق‘‘ اگست ۱۹۹۸ء میں ہمارا مضمون ’’التزام جماعت (۲)‘‘۔
۲؂ الشوریٰ ۴۲: ۳۸۔ ’’ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔‘‘تفصیل کے لیے دیکھیے: ماہنامہ ’’اشراق‘‘ ، ستمبر ۱۹۹۸ء میں ہمارا مضمون ’’التزام جماعت (۳)‘‘۔
۳؂ ابن ماجہ، رقم ۳۹۴۰۔
۴؂ احمد،رقم ۱۷۷۲۱۔۱۷۷۲۲، ۱۸۵۴۳۔۱۸۵۴۴۔
۵؂ تفصیل کے لیے دیکھیے:ماہنامہ ’’اشراق‘‘، اکتوبر ۱۹۹۸ء میں ہمارا مضمون ’’التزام جماعت (۳)‘‘۔

____________