نواں باب 

درج بالا الفاظ ایک روایت کا ٹکڑا ہیں۔ اس روایت کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’حضورؐ نے فرمایا جب تم میں کوئی کسی منکر کو دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر اس کی ہمت واستطاعت اپنے اندر نہ پاتا ہو تو زبان سے روکے۔ اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ پاتا ہوتو دل میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘۔ اس روایت کا سہارا لے کر بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جہاں بھی کوئی برائی دیکھے تو اسے طاقت کے ساتھ روکے۔ تاہم اگر اس استدلال کو صحیح مان لیا جائے تو پھر دنیا میں ضابطے اور قانون نام کی کوئی چیز نہ رہے گی، ہر شخص اپنے خیال میں جس چیز کو برائی سمجھتا ہے، اسے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گااور یوں انارکی اور بدامنی ہر طرف پھیل جائے گی۔ 
یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے کبھی اس روایت سے یہ استدلال نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مرتبہ حضورؐ کو مخاطب کرکے یہ فرمایا گیا کہ آپ ؐ کوئی داروغہ یا حوالہ دار بناکر نہیں بھیجے گئے۔ خود حضورؐ کی مکی زندگی اس بات پر گواہ ہے کہ اُس وقت مشرکینِ مکہ کے ہاں ہر وہ خرابی موجود تھی جس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بیت اللہ میں تین سو سے زیادہ بُت موجود تھے اور فحاشی اور سودی کاروبار اپنے عروج پر تھا۔ لیکن حضورؐ اور صحابہ کرامؓ نے ان کو ختم کرنے کے لیے کبھی طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ مدنی دور میں بھی کسی مسلمان نے برائی کو براہ راست اپنے ہاتھوں سے ختم نہیں کیا، بلکہ ہر معاملہ ہمیشہ حضورؐ کے نوٹس میں لایا گیا اور پھر قانون کے مطابق کاروائی کی گئی۔ 
اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ درج بالا روایت سے یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کے نزدیک یہ روایت دراصل ہر انسان کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔ یعنی جہاں جہاں کسی انسان کو قانونی اختیار حاصل ہے، اُسی حدتک انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنے اختیار سے کام لے کر برائی کو روکے۔ اگر اس کی ہمت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہوتو وعظ ونصیحت کے ذریعے اُسے روکنے کی کوشش کرے، ورنہ کم ازکم دل میں تو برا جانے۔ ایک حاکم کا دائرہ اختیار اُس کا ملک ہے۔ کسی ادارے کے سربراہ کا دائرہ اختیار اُس کا ادارہ ہے۔ کسی والد یا والدہ کا دائرہ اختیار اُس کی اولاد ہے۔علیٰ ھٰذ القیاس۔ 
’’منکر‘‘ کے معنی ہیں جانی پہچانی برائی۔ یعنی وہ چیز جسے ساری انسانیت برائی سمجھتی ہو۔ جس فرد کا جو بھی دائرہ اختیار ہے، اُس کے اندر اس کو چاہیے کہ برائی کو روکے۔ اس کی ایک مثال ابھی حال ہی میں ہمارے ملک میں دیکھنے میں آئی، جب کچھ بہت بڑے ذخیرہ اندوزوں نے چینی کو سٹاک کرلیا، جس کے نتیجے میں چینی کی قیمتیں بڑھ گئیں اور عام انسان کو بڑی پریشانی ہوئی۔ پہلے پہل تو حکومت نے کہا کہ ہم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کریں گے۔ مگر جب اس کی ہمت اپنے اندر نہ پائی تو زبانی وعظ ونصیحت شروع کردی کہ ذخیرہ اندوز اپنے سٹاکس لے آئیں۔ جب حکومت کو یہ اندازہ ہوا کہ ذخیرہ اندوز اس پر بھی بُرا مان رہے ہیں تو یہ زبانی نصیحت بھی ترک کردی گئی۔ اس کے بعد میں ہم نہیں جانتے کہ کیا حکمران اپنے دل میں بھی اس ذخیرہ اندوزی کو بُرا سمجھے یا نہیں۔ 
حضورؐ کی ساری زندگی ایمان وعمل کی اعلیٰ ترین تصویر تھی۔ حضورؐ کے اسوہ حسنہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے قانونی دائرہ کے اندر ہی اپنے اختیارات کا استعمال کرنا چاہیے۔ کسی بھی انسان کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے بدنظمی، انتشار، جھگڑے اور انارکی جنم لیتی ہے۔