میاں اور بیوی کے درمیان صنفی تعلق کے بارے میں بہت سارے ابہام پائے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے۔ قرآن مجید نے اس معاملے میں تین باتوں سے منع فرمایا ہے:

۱۔حیض کے دوران صنفی تعلق ۔
۲۔دبر سے صنفی تعلق (anal sex)۔
۳۔زبان و دہن سے صنفی تعلق (oral sex)۔
درج بالا پابندیاں قرآن مجید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہیں:

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ.(البقرہ ۲: ۲۲۲)
’’اور وہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ یہ ناپاکی ہے، تو عورتوں سے حیض کے دنوں میں علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ تو جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک، اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ ان تین پابندیوں کے علاوہ ہر چیز کو میاں بیوی کے ذوق اور خواہش پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں انھیں جو آزادی حاصل ہے، وہ اس آیت میں بیان کی گئی ہے:

نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلاَقُوْہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ. (البقرہ ۲: ۲۲۳)
’’تمھاری بیویاں تمھاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی کے پاس آؤ جس طرح سے چاہو اور اپنے لیے آگے بڑھاؤ اور جان رکھو کہ تم اللہ تعالیٰ سے ملنے والے ہو اور مومنوں کو خوش خبری دے دو۔‘‘

آیت کا یہ حصہ ’فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئۡتُمْْ‘ (پس آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح سے تم چاہو)، اس کی آزادی کی طرف اشارہ کررہا ہے جس کی ایک آدمی کو اپنی بیوی کے قریب آنے کے لیے اجازت دی گئی ہے۔ یہ بالکل اس طرح سے ہے کہ جس طرح ایک کسان کو اپنی کھیتی میں جانے کی مکمل اجازت ہوتی ہے، اسی طرح شوہر کو بھی مذکورہ بالا پابندیوں کے علاوہ اپنی بیوی کے پاس جانے کے لیے ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’’فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئۡتُمْ‘ (پس آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح سے تم چاہو) میں بیک وقت دو باتوں کی طرف اشارہ ہے: ایک تو اس آزادی، بے تکلفی ، خودمختاری کی طرف جو ایک باغ یا کھیت کے مالک کو اپنے باغ یا کھیت کے معاملے میں حاصل ہوتی ہے، اور دوسری اس پابندی ، ذمہ داری اور احتیاط کی طرف جو ایک باغ یا کھیت والا اپنے باغ یا کھیت کے معاملے میں ملحوظ رکھتا ہے۔ اس دوسری چیز کی طرف ’حَرْث‘ کا لفظ اشارہ کررہا ہے اور پہلی چیز کی طرف ’اَنّٰی شِئۡتُمْ‘ کے الفاظ — وہ آزادی اور یہ پابندی، یہ دونوں چیزیں مل کر اس رویہ کو متعین کرتی ہیں جو ایک شوہر کو بیوی کے معاملے میں اختیار کرنا چاہیے۔
ہر شخص جانتا ہے کہ ازدواجی زندگی کا سارا سکون وسرور فریقین کے اس اطمینان میں ہے کہ ان کی خلوت کی آزادیوں پر فطرت کے چند موٹے موٹے قیود کے سوا کوئی قید ،کوئی پابندی اور نگرانی نہیں ہے۔آزادی کے اس احساس میں بڑا کیف اور بڑا نشہ ہے۔ انسان جب عیش وسرور کے اس باغ میں داخل ہوتا ہے تو قدرت چاہتی ہے کہ وہ اپنے نشے سے سر شار ہو، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس کے سامنے قدرت نے رکھ دی ہے کہ یہ کوئی جنگل نہیں، بلکہ اس کا اپنا باغ ہے اور کوئی ویرانہ نہیں بلکہ اس کی اپنی کھیتی ہے، اس وجہ سے اس میں آنے کو تو سو بار آئے اور جس شان ، جس آن ،جس سمت اور جس پہلو سے چاہے آئے، لیکن اس باغ کا باغ ہونا اور کھیتی کا کھیتی ہونا یاد رکھے، اس کے کسی آنے میں بھی اس حقیقت سے غفلت نہ ہو۔ اپنی کھیتی کے متعلق ہر کسان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس سے اسے برابر نہایت اچھی فصل حاصل ہوتی رہے، مناسب وقت میں اس پر ہل چلتے رہیں۔ ضرورت کے مطابق اس کو کھاد اور پانی ملتا رہے، موسمی آفتوں سے وہ محفوظ رہے، آیند و روند،چرند وپرنداور دشمن اور چور اس کو نقصان نہ پہنچا سکیں،جب وہ اس کو دیکھے تو اس کی طراوت وشادابی اس کو خوش کردے اور جب وقت آئے تو وہ اپنے پھلوں اور پھولوں سے اس کا دامن بھر دے۔ ‘‘ (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۸)

میاں بیوی کے تعلق کا ایک اور پہلویہ ہے کہ جہاں وہ ایک دوسرے کی اور بہت سی ضرورتیں پوری کررہے ہوتے ہیں، وہاں اس تعلق کا مقصد ایک دوسرے کی جنسی خواہش کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں ایک دوسرے کی خواہش کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں تو یہ چیز ان کی عفت و عصمت کی حفاظت کرتی ہے اورجنسی بے راہ روی سے بچاتی ہے اور اگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو اس کے نتیجے میں بہت سے انحرافات پیدا ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ تعلق میاں یا بیوی کو انحرافات سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے، اس لیے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ.(البقرہ ۲: ۱۸۷)
’’وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔‘‘

یہ بات یہاں واضح رہنی چاہیے کہ حیض کے دوران صرف جنسی ملاپ ممنوع ہے، جیساکہ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۲۲ سے واضح ہے۔ جنسی ملاپ کے علاوہ زن وشو کے تعلق کی باقی ساری صورتوں کی اجازت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

أَنَّ الْیَہُوْدَ کَانُوْا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ فِیہِمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْہَا وَلَمْ یُجَامِعُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللّٰہ تَعَالٰی: ’’وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسآءَ فِی الْمَحِیْضِ‘‘ إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوْا کُلَّ شَیْءٍ إِلاَّ النِّکَاحَ. (مسلم، رقم ۱۳۳۹)
’’یہود کی جب کوئی عورت حائضہ ہوتی تونہ تو اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ ہی ان کے ساتھ ان کے گھروں میں رہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ’’وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجیے کہ یہ گندگی ہے تو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے ساتھ جنسی ملاپ کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو۔ ‘‘

____________