تو مری جان ، زمانے میں سنبھل کے رہنا
اس میں رہنے کے برے ڈھنگ بدل کے رہنا
جب بھی دیکھے کہ دگرگوں ہے یہ دنیا تیری
ہو فقط صلح کی تدبیر تمنا تیری
گھر کے آنگن ہی میں دیکھوں مہ تاباں تجھ کو
زیب وزینت کی نمایش نہ ہو شایاں تجھ کو
تجھ کو جینا بھی ہے ، مرنا بھی مسلماں ہو کر
درد مندوں کے لیے درد کا درماں ہو کر
نرم خوئی ہو ہر اک کام میں عادت تیری
علم و اخلاق کی دولت ہو سعادت تیری
اپنے اوقات کو ہر گز نہ پریشاں رکھنا
حسن تدبیر کو ہر شے میں نمایاں رکھنا
میں ترے گھر میں پرندوں کو چہکتے دیکھوں
تیر ی آغوش میں پھولوں کو مہکتے دیکھوں

________