بیش تر علما حضرات کی راے ہے کہ خواتین اکیلی سفر نہیں کر سکتیں۔ان پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ کسی محرم کے ساتھ سفرپر نکلیں۔ اسی طرح حج جیسی مقدس عبادت کے لیے انھیں اکیلے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس نقطۂ نظر کے حق میں استدلال مندرجہ ذیل احادیث سے کیا جاتا ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا یَحِلُّ لِإِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ باِللّٰہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِیْرۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ عَلَیْہَا. (مسلم، رقم ۱۳۳۹)
’’کسی ایسی خاتون کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ اپنے کسی محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کے سفر کے برابر اکیلے سفر کرے۔‘‘

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

نَہٰی أَنْ تُسَافِرَ المَرْأَۃُ مَسِیْرَۃَ یَوْمَیْنِ إِلَّا وَمَعَہَا زَوْجُہَا أَوْ ذُوْ مَحْرَمٍ. (مسلم، رقم ۸۲۷)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ دو دن کی مسافت طے کرے، سوائے اس کے کہ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔ ‘‘

اس بات کوپیش نظررہنا چاہیے کہ بہت سی احادیث ایسی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مصلحت اورعمومی بھلائی کے لیے ہدایات دی ہیں اور یہ ہدایات شریعت کا کوئی حصہ نہیں۔ مزید برآں اس طرح کے احکام حالات سے مشروط ہوتے ہیں۔اگر حالات تبدیل ہوجائیں تو اس طرح کی ہدایات کا حکم بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ عرب جیسے انارکی (anarchy) سے بھر پور معاشرے میں مسلمان خواتین کے سفر کو محفوظ بنانے اور ان کے کردار کو کسی بھی اسکینڈل سے بچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کسی محرم کے ساتھ سفر کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ تمام وہ سفر جس میں خواتین کے لیے یہ اندیشے موجود ہوں، وہاں خواتین کو اپنے لیے کوئی بھی حفاظتی تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ جدید دور کے بدلے ہوئے حالات میں سفر کے ذرائع بہت مختلف ہوگئے ہیں۔ اب سفر کے ایسے ذرائع وجود میں آچکے ہیں جن میں ایک خاتون کی جان، مال اور آبرو کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اس صورت حال میں محرم کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ جہاں تک اس فیصلے کا تعلق ہے کہ اس کے لیے کون سا سفر ایسا ہوگاجس میں اس کی جان، مال اورآبرو کو تحفظ حاصل ہے تواس کا فیصلہ خاتون کو اپنے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود کرنا چاہیے۔

____________