بعض لوگوں کے ذہن میں چونکہ یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں کفار کا تسلط ختم کرنے کے لیے تلوار کیوں نہیں اٹھائی؟ اس وجہ سے مولانا محترم نے اس پر بھی اپنی راے دے دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’مکہ میں جہاد و قتال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہاں معاشرہ مخلوط تھا، مسلمانوں اور کفار کی آبادی علیحدہ نہ تھی... اگر معاشرہ مخلوط نہ ہو تو بغیر اقتدار کے بھی جہاد کیا جائے گا۔‘‘ ( ۶۱)

مولانا محترم نے یہاں اپنی بیان کردہ بنیادوں میں ایک بنیاد کا مزید اضافہ فرما دیا ہے۔ اب ایک پانچویں بنیاد ان کو یہ بھی لکھ دینی چاہیے کہ جہاد و قتال کے فرض ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرہ مخلوط نہ ہو۔
بہرحال، ہم یہاں مولانا سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ ان کی اس بات کی دلیل کیا ہے؟ قرآن و سنت کی کس نص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معاشرہ اگر مخلوط نہ ہو تو بغیر اقتدار کے بھی جہاد کرنا فرض ہو جاتا ہے؟ مولانا کی توجیہ کو اگر مان بھی لیا جائے تو مکہ میں جہاد نہ کرنے سے یہ بات تو ثابت ہو سکتی ہے کہ معاشرہ اگر مخلوط ہو تو بغیر اقتدار کے جہاد کرنا جائز نہیں ہے۔ مولانا نے آگے چل کر جو حکمتیں بھی بیان فرمائی ہیں، ان سے بھی زیادہ سے زیادہ یہی بات ثابت ہوتی ہے، مگر اس واقعے یا مولانا کی بیان کردہ حکمتوں سے یہ بات کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتی کہ معاشرہ اگر مخلوط نہ ہو تو بغیر اقتدار کے بھی جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ مولانا نے اپنے مضمون میں آگے چل کر امت کے فقہا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ ہمارے فقہا کو جزائے خیر دے، انھوں نے کسی بھی معاملے میں علمی خلا نہیں چھوڑا۔‘‘ مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہمیں دو چار ایسے فقہا کا نام ہی بتا دیں، جو یہ کہتے ہوں کہ معاشرہ اگر مخلوط نہ ہو تو بغیر اقتدار کے بھی جہاد فرض ہوتا ہے۔ دو چار نہیں تو کسی ایک فقیہ کا نام ہی بتا دیں جس نے اس قسم کی راے کا اظہار کیا ہو۔ ہمارے لیے مولانا کی یہ بات بالکل اجنبی ہے۔ ہمیں اس سے ملتی جلتی بات بھی امت کے مستند اہل علم میں سے کسی کے ہاں نہیں مل سکی، اس وجہ سے ہماری گزارش ہے کہ مولانا اس کے ماخذ سے ہمیں ضرور مطلع فرمائیں۔
اس ضمن میں ایک بات ہم مولانا سے یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ مکہ کے پورے دور میں معاشرے کی کیا یہی کیفیت رہی تھی کہ ایک ہی گھر میں ایک شخص مسلمان اور دوسرا کافر تھا؟ کیا اس دوران میں ایسا کوئی وقت نہیں آیا جس میں مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کر کے انھیں معاشرہ سے کاٹ دیا گیا ہو؟ اگر ایسا کوئی وقت آیا، تو اس وقت کو موقع غنیمت جانتے ہوئے اعلان جنگ کیوں نہیں کر دیا گیا؟
مولانا اگر ان سارے سوالات کا جواب دینا پسند نہ فرمائیں تو اس کے بجاے انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی پوری تاریخ میں سے اس بات کی کوئی ایک مثال ہی دے دیں کہ معاشرہ خواہ مخلوط ہو یا غیر مخلوط، کسی پیغمبر نے اقتدار کے بغیر یا ایک بااختیار امیر کی قیادت کے بغیر تلوار اٹھائی ہو یا اپنے ماننے والوں کو اس کی ترغیب ہی دی ہو۔ مولانا اگر اس طرح کی کوئی مثال دے دیں گے تو بے شک ان کا مقدمہ بہت مضبوط ہو جائے گا۔
مکہ میں تلوار نہ اٹھانے کی مولانا نے ایک اور وجہ بھی بیان فرمائی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

’’مکہ میں جہاد و قتال اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہاں معاشرہ مخلوط تھا، مسلمانوں اور کفار کی آبادی علیحدہ نہ تھی، ایک ہی گھر میں ایک شخص مسلمان اور دوسرا کافر تھا۔ ایسی صورت میں اگر جنگ کا حکم ہوتا تو تحریک کو کچل کر رکھ دیا جاتا اور اس کا نام و نشان ختم ہو جاتا اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ ختم ہو کر رہ جاتی۔ وہ اخلاقی خوبیاں، جن کی بنا پر کسی تحریک، جماعت اور قوم کی قدر و منزلت قائم ہوتی ہے، وہ بھی پامال ہوتیں اور تحریک میں کشش باقی نہ رہتی۔ وہ بنیادی اخلاق اور خوبیاں، جن کی وجہ سے تحریک میں کشش تھی، یہ تھیں: انسانوں کو ان کا حقیقی مقام دلوانا، ظلم کا خاتمہ، یتیموں کی خدمت، بیواؤں کی اعانت، مسکینوں کی دیکھ بھال، بے سہارا لوگوں کو سہارا دینا، صلہ رحمی، مہمان نوازی، سچائی، پاک دامنی اور عدل و انصاف کا قیام، مکہ میں اگر جنگ برپا ہوتی، تو پھر دنیا کے سامنے تحریک کا جو نقشہ آتا وہ کیا ہو گا؟‘‘ ( ۶۱)

اس ساری بات کے حوالے سے ہم مولانا سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ مولانا، مہربانی فرما کر ہمیں صرف اتنی بات سمجھا دیں کہ ان کی اس ساری بات کی دلیل قرآن و حدیث میں کس مقام پر مل سکتی ہے؟ کیا قرآن مجید میں کہیں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جہاد تو مکہ ہی میں فرض تھا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محض، مولانا کی مذکورہ وجوہ کی بنا پر مدینہ جانے تک موخر کر دیا؟ کیا روایات میں اس طرح کی کوئی بات بیان ہوئی ہے؟ یہ دونوں ہی باتیں اگر نہیں ہیں تو پھر آخر اس ساری تقریر کا ماخذ کیا ہے؟
اس کے برعکس، ہماری سمجھ میں تو یہ بات آئی ہے کہ مکہ میں تلوار اٹھانا ممنوع تھا۔ ہجرت مدینہ کے بعد اس کی اجازت دی گئی۔ اس پر اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے تلوار اٹھانے سے روکنے کی وجہ اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ کو بچانا تھا تو اس کو یہ بات سمجھانی پڑے گی کہ جہاد سے مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ اگر مکہ میں مجروح ہو سکتی تھی تو مدینہ میں ایسی کون سی جوہری تبدیلی آ گئی تھی جس کے نتیجے میں اب جہاد کا حکم اخلاقی ساکھ کو مجروح کرنے کا باعث نہیں بن رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جو بنیادی اخلاق اور خوبیاں مکہ میں تحریک میں کشش کا باعث تھیں، کیا مدینہ آ کر ان میں کوئی تبدیلی آگئی تھی؟ کیا مدینہ میں انسانوں کو ان کا حقیقی مقام دلوانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا ؟ کیا مدینہ میں ظلم کا خاتمہ پیش نظر نہیں تھا؟ کیایتیموں کی خدمت، بیواؤں کی اعانت، مسکینوں کی دیکھ بھال، بے سہارا لوگوں کی مدد، صلہ رحمی، مہمان نوازی، سچائی، پاک دامنی اور عدل و انصاف کے قیام جیسی اقدار مدینہ میں اپنی اہمیت کھو بیٹھی تھیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ پھر مولانا نے آخر ان اقدار کی پاس داری کو مکہ میں جہاد نہ کرنے کی وجہ، قرآن و سنت کی کس نص کی بنا پر قرار دیا ہے؟

____________