اللہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دین اس امت کو منتقل ہوا ہے، وہ تین اجزا پر مشتمل ہے: قرآن مجید، سنت ثابتہ اور حدیث۔ قرآن مجید کے بارے میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جو پورے اہتمام کے ساتھ اس امت میں ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی اسی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جس صورت میں یہ دورصحابہ میں تھا۔ یہی مقام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو حاصل ہے جو عملی تواتر اور دوسرے ذرائع سے، ہر دور میں محفوظ رہی۔ یہ اسی اہتمام کی بنا پر ہے کہ قرآن مجید اور سنت ثابتہ سے حاصل ہونے والے علم کی حیثیت دین اسلام میں علم یقین کی ہے۔ حدیث کا معاملہ، البتہ قرآن مجید اور سنت سے قدرے مختلف ہے۔ روایت حدیث میں احتیاط کا وہ معیار برقرار نہ رکھا جا سکا جس کا مظاہرہ قرآن مجید اور سنت ثابتہ کے باب میں نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر، ہر دور میں اس امت کے جلیل القدر محدثین نے تحقیق کے کئی مراحل سے گزارنے کے بعد کسی روایت کو رسول اللہ کی طرف منسوب کیا۔ احادیث کا یہ ذخیرہ زیادہ تر اخبار آحاد پر مشتمل ہے اور ان میں موجود علم کو علم ظن ہی کی حیثیت حاصل ہے۔

حدیث و سنت میں فرق، اخبار آحاد کی حجیت، صحت روایت کے لیے محض سند کو بنیاد قرار دینا اور اس طرح کے دوسرے مسائل پر امت مسلمہ میں اختلاف رہا ہے۔ ایک گروہ سنت اور حدیث میں کسی فرق کا قائل نہیں۔ وہ خبر واحد سے ملنے والی معلومات کو قرآن اور سنت کی طرح حجت قرار دیتا ہے اور ان کے نزدیک کسی روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کے لیے سند کی صحت کفایت کرتی ہے۔ اس کے برخلاف، امت کا دوسرا طبقہ حدیث اور سنت میں قطعی فرق ملحوظ رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک، کسی قول یا فعل کو اللہ کے رسول سے منسوب کرنے کے لیے سند کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ روایت کی اساس قرآن مجید، سنت ثابتہ اور عقل و فطرت کے مسلمات میں پائی جاتی ہو اور وہ کسی پہلو سے ان کے منافی نہ ہو۔
عصرحاضر کے جلیل القدرعالم دین مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اس موضوع سے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی کتب و رسائل کے مطالعہ سے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے ہی طبقے کی راے کو درست قرار دیتے ہیں۔
حدیث و سنت کے اصولی فرق کو واضح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’...حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے متعلق سند کے ساتھ اگلوں سے پچھلوں تک منتقل ہوئیں۔ اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جو حضور کی قولی و عملی تعلیم سے مسلم معاشرے کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رائج ہوا جس کی تفصیلات معتبر روایتوں سے بھی بعد کی نسلوں کو اگلی نسلوں سے ملیں اور بعد کی نسلوں نے اگلی نسلوں میں اس پر عمل درآمد ہوتے بھی دیکھا۔‘‘(تفہیم القرآن۶ /۱۷۰۔۱۷۱)

لاہور میں، ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اس موضوع پر وضاحت کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں: 

’’سنت اس طریقے کو کہتے ہیں جسے حضور نے خود اختیار فرمایا اور امت میں اسے جاری کیا۔ سنت کے لفظ کا اطلاق اس امرواقعی پرہوتا ہے جو حضور سے ثابت ہے۔ اس کے برعکس حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے کیاکیا اور کس چیز کو کرنے کا حکم دیا۔ اس لحاظ سے حضور کی پوری زندگی کا طورطریقہ سنت ہے۔ آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں: اخلاق، تہذیب، عبادات، معاملات کے متعلق جو کچھ تلقین کی، اسے آپ کی سنت کہا جائے گا۔ حدیث کا اطلاق متعدد چیزوں پر ہوتا ہے۔ علم حدیث کو بھی حدیث کہتے ہیں، احادیث کے مجموعے کو بھی حدیث کہتے ہیں۔ ایک ایک حدیث کو بھی حدیث کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ حدیث کے مختلف مجموعوں کو بھی حدیث کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ احادیث کے تمام مجموعوں کا حکم یکساں نہیں ہو سکتا اور کوئی ہوش مند آدمی یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ سارے ذخیرۂ احادیث میں جو کچھ درج ہے، اسے بلاچون وچرا سنت کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جائے۔‘‘ (مولانا  مودودی کی تقاریر، حصہ دوم، ثروت صولت۴۵۷) 

حدیث سے حاصل شدہ علم کی حیثیت اگر ظنی ہے تو کیا یہ علم کفر اور ایمان کا مدار ہو سکتا ہے؟ یعنی اگر کسی معاملے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں اور سنت ثابتہ بھی اس کے بارے میں خاموش ہے تو کیا محض حدیث کی بنیاد پر اسے کفر یا ایمان قرار دیا جا سکتا ہے؟ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

’’یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جن چیزوں پر کفر و اسلام کا مدار ہے، اور جن امور پر انسان کی نجات موقوف ہے، انھیں بیان کرنے کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ وہ سب قرآن میں بیان کی گئی ہیں اور قرآن میں بھی ان کو کچھ اشارۃً و کنایۃً بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان کو کھول دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: ’اِنَّ عَلَیْْنَا لَلْہُدٰی‘۱؂ ،لہٰذا جو مسئلہ بھی دین میں یہ نوعیت رکھتا ہو اس کا ثبوت لازماً قرآن ہی سے ملنا چاہیے، مجرد حدیث پر ایسی کسی چیز کی بنا نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے۔ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمان صحت ہے نہ کہ علم یقین۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس خطرے میں ڈالنا ہرگز پسند نہیں کر سکتا کہ جو امور اس کے دین میں اتنے اہم ہوں کہ ان سے کفر و ایمان کا فرق واقع ہوتا ہو انھیں صرف چند آدمیوں کی روایت پر منحصر کر دیا جائے۔ ایسے امور کی نوعیت ہی اس امر کی متقاضی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صاف صاف اپنی کتاب میں فرمائے، اللہ کا رسول انھیں اپنے پیغمبرانہ مشن کا اصل کام سمجھتے ہوئے ان کی تبلیغ عام کرے اور وہ بالکل غیرمشتبہ طریقے سے ہر ہر مسلمان تک پہنچا دیے گئے ہوں۔‘‘ ( رسائل و مسائل۱/ ۵۷۔۵۸)

مولانا کی اس تحریر کی بابت جب ان سے استفسار کیاگیا تو انھوں نے جواباً لکھا:

’’...مدارکفر و ایمان اگر ہو سکتے ہیں تو صرف وہ امور ہو سکتے ہیں جو کسی یقینی ذریعۂ علم سے ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچے ہوں، اور وہ ذریعہ یا تو قرآن ہے یا پھر نقل متواتر، جس کی شرائط امام سرخسی نے واضح طور پر بیان کر دی ہیں۔۲؂ باقی جو چیزیں اخبارآحاد یا روایات مشہورہ سے نقل ہوئی ہیں، وہ اپنی اپنی دلیل کی قوت کے مطابق اہمیت رکھتی ہیں، مگر ان میں سے کسی کی بھی یہ اہمیت نہیں ہے کہ اسے ایمانیات میں داخل کر دیا جائے۔ اور اس کے نہ ماننے والے کو کافر ٹھہرایا جائے۔‘‘(رسائل و مسائل۳ /۹۷) 

مولانا مرحوم کی ان تحریروں سے یہ بات اظہر من الشمس ہو کر سامنے آتی ہے کہ مطلق حدیث کی بنیاد پر کوئی نیا دین ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ کسی امر کو دین قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابتہ میں موجود ہو۔
سند کے بارے میں بھی ہمارے ہاں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ اہل حدیث علما کا یہ موقف ہے کہ اگر محدثین کسی روایت کو سند کے اعتبار سے صحیح قرار دے دیں تو پھر اس کا انکار قول رسول کا انکار ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مطلق سند کی صحت اس بات کے لیے کافی نہیں کہ ایک روایت کو اللہ کے رسول کا فرمان قرار دیا جائے۔ چنانچہ سند کے لحاظ سے صحیح روایت اگر قرآن کے مطابق نہیں تو قبول نہیں کی جائے گی:

’’...کوئی روایت، خواہ اس کی سند آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو، ایسی صورت میں قابل قبول نہیں ہو سکتی، جبکہ اس کا متن اس کے غلط ہونے کی کھلی کھلی شہادت دے رہا ہو اور قرآن کے الفاظ، سیاق و سباق، ترتیب، ہر چیز اسے قبول کرنے سے انکار کر رہی ہو۔‘‘(تفہیم القرآن۳ /۲۴۳۔۲۴۴ ) 

اسی طرح سند کے اعتبار سے صحیح روایت اگر عقل عام کے خلاف ہے تو اسے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت موجود ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک دن قسم کھائی کہ میں ایک رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا۔ نتیجۃً ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی ادھورا۔ جسے لا کر دائی نے حضرت سلیمان کی کرسی پر ڈال دیا۔ اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا مودودی رقم طراز ہیں:

’’...جہاں تک اسناد کا تعلق ہے، ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے، اور باعتبار روایت اس کی صحت میں کلام نہیں کیا جا سکتا لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے بلکہ آپ نے غالباً یہود کی یاوہ گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہوگا ،اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ اس بات کوحضور خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔ ایسی روایات کو محض صحت سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اتروانے کی کوشش کرنا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔‘‘(تفہیم القرآن۴ /۳۳۷) 

مولانا کے نزدیک کسی روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کے لیے جن چیزوں کا لحاظ ضروری ہے، سند ان میں ایک ہے، اس لیے سند تنہا کسی حدیث کے صحیح ہونے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں:

’’...ہمارے نزدیک سند کسی حدیث کی صحت معلوم کرنے کا واحد ذریعہ نہیں ہے بلکہ وہ ان ذرائع میں سے ایک ہے جن سے کسی روایت کے حدیث رسول ہونے کا ظن غالب حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ متن پر غور کیا جائے، قرآن و حدیث کے مجموعی علم سے دین کا جو فہم ہمیں حاصل ہوا ہے اس کا لحاظ بھی کیا جائے،اور حدیث کی وہ مخصوص روایت جس معاملے سے متعلق ہے اس معاملے میں قوی تر ذرائع سے جو سنت ثابتہ ہمیں معلوم ہواس پر بھی نظر ڈالی جائے۔ علاوہ بریں اور بھی متعدد پہلو ہیں جن کا لحاظ کیے بغیر ہم کسی حدیث کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دینا درست نہیں سمجھتے۔‘‘(رسائل و مسائل۱ /۲۳۳) 

انھی اصولوں کے پیش نظر مولانا نے کئی ایسی روایات کو قبول نہیں کیا جو سند کے لحاظ سے درست ہونے کے باوجود، دین کے مجموعی تصور یا عقل عام کے خلاف ہیں۔ ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذب ثلاثہ، آیۂ رجم اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ستر بیویوں کے پاس جانا، جیسی روایات شامل ہیں۔ یہ روایات موطا امام مالک، بخاری اور مسلم جیسی مستند کتب حدیث میں نقل ہوئی ہیں۔
محدثین امت نے احادیث کی جرح و تعدیل کے باب میں بڑی عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں۔ ایک غیرمتعصب آدمی کے پاس ان کی عظیم خدمات کے اعتراف کے بغیر کوئی چارہ نہیں، لیکن اس اعتراف کے باوجود، کیا اس باب میں ان بزرگوں کی راے حرف آخر ہے۔ کیا احادیث کی تحقیق و تنقیح کا کام اگلے محققین پر ختم ہو گیا ہے۔ مولانا مودودی کے نزدیک ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’...احادیث کی تنقید و تحقیق و ترتیب کا کام جو کچھ ابتدائی چار صدیوں میں ہو اہے وہ اگرچہ نہایت قابل قدر ہے، مگر کافی نہیں ہے۔ ابھی بہت کچھ اس سلسلے میں کرنا باقی ہے۔ رہی یہ بات کہ علما نے پھر یہ کام کیوں نہیں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن علما نے چوتھی صدی کے بعد اجتہاد کو حرام قرار دیا ہو ان کے متعلق یہ پوچھنا ہی غلط ہے کہ انھوں نے حدیث کی چھانٹ پرکھ کا کام کیوں نہیں کیا۔‘‘ (رسائل و مسائل۱ /۱۹۶)

محدثین کا یہ کام اگر کافی نہیں ہے تو پھر انھوں نے روایات کی تحقیق کے باب میں جو کام کیا ہے اس کی نوعیت کیا ہے؟ مولانا مودودی اس بارے میں لکھتے ہیں: 

’’محدثین رحمہم اللہ کی خدمات مسلم۔ یہ بھی مسلم کہ نقد حدیث کے لیے جو مواد انھوں نے فراہم کیا ہے وہ صدر اول کے اخبار و آثار کی تحقیق میں بہت کارآمد ہے۔ کلام اس میں نہیں بلکہ اس امر میں ہے کہ کلیۃً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے۔ وہ بہرحال تھے تو انسان ہی۔ انسانی علم کے لیے جو حدیں فطرتاً اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں ان سے آگے تو وہ نہیں جاسکتے تھے۔ انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا ہے اس سے تو ان کے کام محفوظ نہ تھے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس کو وہ صحیح قرار دیتے ہیں وہ حقیقت میں بھی صحیح ہے؟ صحت کا کامل یقین تو خود ان کو بھی نہ تھا۔ وہ بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہتے تھے کہ اس حدیث کی صحت کا ظن غالب ہے۔ مزید براں یہ ظن غالب ان کو جس بنا پر حاصل ہوتا تھا، وہ بلحاظ روایت تھا، نہ کہ بلحاظ درایت۔ ان کا نقطۂ نظر زیادہ تر اخباری ہوتا تھا۔ فقہ ان کا اصل موضوع نہ تھا، اس لیے فقیہانہ نقطۂ نظر سے احادیث کے متعلق راے قائم کرنے میں وہ فقہاے مجتہدین کی بہ نسبت کمزور تھے۔ پس ان کے کمالات کا جائز اعتراف کرتے ہوئے یہ ماننا پڑے گا کہ احادیث کے متعلق جو کچھ تحقیقات بھی انھوں نے کی ہیں، اس میں دو طرح کی کمزوریاں موجود ہیں۔ ایک بلحاظ اسناد اور دوسرے بلحاظ تفقہ۔‘‘(تفہیمات۱ /۳۵۶) 


مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے فن حدیث کو علمی لحاظ سے کبھی موضوع نہیں بنایا۔ اپنے مضامین میں اگر کہیں قرینہ پیدا ہوا یا کسی استفسار کے جواب میں، جیسا کہ درج بالا سطور سے بھی معلوم ہوتا ہے، انھوں نے اس کے بارے میں اجمالاً کلام کیا ہے، لیکن اس اجمال کے باوجود، روایت حدیث سے متعلق ان کا نقطۂ نظر بآسانی معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ واضح رہنی چاہیے کہ مولانا مرحوم و مغفور قرآن مجید کے ساتھ سنت کو بھی ماخذ حقیقی مانتے تھے اور سنت کی اس حیثیت پر منکرین حدیث کے ساتھ ان کا مشہور تحریری مناظرہ بھی ہوا جو ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ہمارے مذہبی ادب کا گراں قدر حصہ ہے۔

]اکتوبر ۱۹۹۰[


۱؂ اللیل۹۲:۱۲ ۔’’اور ہمارا کام سمجھا دینا ہے۔‘‘
۲؂ اپنے اس مضمون میں مولانا نے فقہ حنفی کے نامورعالم سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’اصول السرخسی‘‘ کے حوالے سے خبر واحد اور خبر متواتر کے بارے میں ان کی راے درج کی ہے جو ان کے درج بالا موقف کی تائید کرتی ہے۔