۳۱ دسمبر کی شب، جب بیسویں صدی رخصت ہوئی تو اس کے ساتھ علم و فضل کا وہ چراغ بھی بجھ گیا جو برصغیر پاک و ہند کی مشترکہ اور روشن علمی روایت کا آخری امین تھا۔ ایک طرف ماہ وسال کے پیمانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا اور دوسری طرف فکر و نظر کا ایک دور اپنے اختتام کو پہنچا۔اس رات ندوۃ العلما کے عظیم فرزند مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اپنے پروردگار کے حضور میں جا پہنچے، جہاں ہم سب کو ایک معین وقت پر حاضر ہونا ہے۔

نظری اعتبار سے انیسویں صدی کو مغرب میں’’افکار کا دور‘‘(Age of Ideology)کہا گیا ہے۔ کانٹ، کومٹے، مل، سپنسر، نیطشے، شوپن ہائر، ہیگل، مارکس صاحبان فکر و نظر کی ایک کہکشاں ہے جو اس صدی کے آسمان پر بکھری ہوئی ہے۔ اس عہد میں فلسفۂ تاریخ کو علم کی دنیا میں یہ مقام ملاکہ انسان کی قسمت سازی میں وہ ایک بڑا عامل قرار پایا۔ دنیا مارکس کی جدلیاتی مادیت (Dialactical Materialism)،نیطشے کے’’سپرمین‘‘اور فلسفۂ جرمنی کے تصور خودی (Egoism)سمیت ان گنت نئی فکری تعبیرات سے آشنا ہوئی۔ بالکل اسی طرح بیسویں صدی میرے نزدیک مسلم فکر کے حوالے سے ’’افکار کا دور‘‘ (Age of Muslim Ideology) ہے۔ ایک طرف مصر میں محمد عبدہ، رشید رضا، حسن البنا ،سید قطب شہید اور محمد الغزالی جیسے حضرات نے علم و عرفان کا چراغ روشن کیا۔ اور دوسری طرف ایران و عراق کی سرزمین پر ابوالقاسم الخوئی، باقر الصدر، مرتضی مطہری اور علی شریعتی جیسے لوگوں کا غلغلہ بلند ہوا۔ انڈونیشیا میں محمد ناصر اور شمالی افریقہ میں مالک بن بنی جیسے صاحبان علم کا ظہور ہوا۔ برصغیر کا معاملہ تو سب سے منفرد رہا۔ سرسید احمد خان، شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، حمید الدین فراہی، ابوالکلام آزاد، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور امین احسن اصلاحی جیسے جلیل القدر لوگ پیدا ہوئے جن کے افکار نے آج بھی ایک زمانے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سر سید احمد خان اگرچہ ۱۸۹۸ ء میں دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کے افکار نے بیسوی صدی کے برصغیر کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ،اسی وجہ سے ہم ان کا شمار بیسویں صدی کے مفکرین میں کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کانٹ کا انتقال تو انیسویں صدی کے اوائل (۱۸۰۴ء) میں ہو گیا تھا، لیکن وہ بجا طور پر اس صدی کے مفکرین میں شمار ہوتے ہیں ۔

برصغیر میں جنم لینے والی فکری روایت میں ایک نام مولانا ابوالحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علی میاں کے نام سے بھی معروف ہیں۔ ایک متوازن دینی فکر کے فروغ میں ندو ۃالعلما کا اپنا حصہ ہے۔ ندوہ نے جو بڑے لوگ پیدا کیے، ان میں ایک علی میاں بھی تھے۔ اپنے علم و فضل اور حسن سیرت کے اعتبار سے وہ فی الواقع ہمارے اسلاف کی نشانی تھے، وہ علما کے اس کردار کی عملی تصویر تھے جس کا ذکر قرآن مجید نے کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ساری عمر ایک داعی اور نذیر بن کر جیے۔ انھوں نے’’انذار‘‘کی وہ ذمہ داری بحسن وخوبی سرانجام دی جس کاتذکرہ سورۂ توبہ( ۹:۱۲۲) میں ’تفقہ فی الدین‘رکھنے والوں کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مولانا نے تمام عمر ایک غیر مسلم ریاست میں گزاری، لیکن وہ پوری امت کے لیے فکر مند رہے اور ہر جگہ مسلمانوں کے درد کو انھوں نے اپنا درد سمجھا۔ اس میدان میں، بلاشبہ ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔وہ مسلمان حکمرانوں سے مخاطب ہوتے تو یہ درد ان کے الفاظ میں ڈھل جاتا۔ کوئی اس درد کو محسوس کرنا چاہے تو ان کے ایسے خطوط پڑھ لے جو انھوں نے عرب دنیا کے ارباب اقتدار کو لکھے۔ یہ خطوط اردو میں بھی’’حجاز مقدس اور جزیرۃ العرب‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ جس متانت اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہتے،اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے جو مجھے ایک محترم دوست، اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے استاد ڈاکٹر محمد الغزالی نے سنایا اور جسے ایک سعودی عالم نعمان ثمر قندی نے روایت کیا۔ وہ کچھ عرصہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بھی استاد رہے۔ نعمان ایک ملاقات کا حال بیان کرتے ہیں جب علی میاں، شاہ فیصل شہید سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے، مولانا شاہی محل کے کمرۂ ملاقات میں داخل ہوئے تو بہت دیر تک اس کی چھت اور درودیوار کی طرف حیرت اور استعجاب کے ساتھ دیکھتے رہے۔ شاہ فیصل نے اس کا سبب پوچھا تو مولانا گویا ہوئے:

’’میں نے بادشاہوں کے دربار کبھی نہیں دیکھے۔ آج پہلا تجربہ ہے،اس لیے محو حیرت ہوں۔ میں جس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں، وہاں اب بادشاہ نہیں ہوتے، لیکن تاریخ کا ایک دور ایسا بھی تھا جب وہاں بھی بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ میں نے تاریخ میں ایسے بہت سے لوگوں کا بارہا تذکرہ پڑھا ہے۔ آج اس دربار میں آیا ہوں تو ایک تقابل میں کھو گیا ہوں... ۔‘‘

جو لوگ مولانا کے عربی زبان کے ذوق سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ علی میاں ایسی فصیح و بلیغ زبان لکھتے اور بولتے تھے کہ اہل عرب بھی اس کے سحر میں کھو جاتے۔ عرب بہت کم کسی کی عربی دانی کا اعتراف کرتے ہیں۔ علی میاں ہمارے عہد کے شاید واحد عجمی ہیں جن کی فصاحت و بلاغت کو وہ رشک بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ مولانا اگر عہد جاہلیت میں ہوتے تو عرب کے فصحا، ان کی زبان دانی کے اعتراف میں ان کو سجدہ کرتے۔ ان کی یہی فصاحت تھی جس نے شاہ فیصل کو مبہوت کر رکھا تھا اور وہ ہمہ تن گوش مولانا کے سامنے کھڑے تھے۔ مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں بھی ایک بادشاہ ہو گزرا ہے۔ آج کا بھارت، پاکستان، سری لنکا، برما، نیپال، دور دور تک اس کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے باون سالہ عہد اقتدار میں بیس برس گھوڑے کی پیٹھ پر گزارے۔ اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے، خوش حال تھے، ان کے لیے آسانیاں تھیں، لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا۔ وہ قرآن مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں بنا کر گزر اوقات کرتا۔ رات بھر اپنے پروردگار کے حضور میں کھڑا رہتا اور اس کے دربار میں اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا۔ اس وقت مسلمان حکمران غریب اور سادہ تھے اور عوام خوش حال اور آسودہ۔ آج آپ کا یہ محل دیکھ کر خیال آیا کہ سب کچھ کتنا بدل گیا ہے۔ آج ہمارے بادشاہ خوش حال ہیں اور بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ فلسطین میں بے گھر ہیں، کشمیر میں ان کا لہو ارزاں ہے، وسطی ایشیا میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہیں۔ آج میں نے آپ کے محل میں قدم رکھا تو اس تقابل میں کھو گیا۔‘‘

راوی کا بیان ہے کہ جب علی میاں خاموش ہوئے تو شاہ فیصل کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔ اب ان کی باری تھی۔ پہلے ان کے آنسو نکلے، پھر ہچکی بندھ گئی۔ اس کے بعد وہ زار زار رونے لگے وہ اتنی بلند آواز سے روئے کہ ان کے محافظوں کو تشویش ہوئی اور وہ بھاگتے ہوئے اندر آ گئے۔ شاہ فیصل نے انھیں ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا۔ پھر مولانا سے مخاطب ہو کر بولے: ’’وہ بادشاہ اس لیے ایسے تھے کہ انھیں آپ جیسے ناصح میسر تھے۔ آپ تشریف لاتے رہیں اور ہم جیسے کمزور انسانوں کو نصیحت کرتے رہیں۔‘‘اس ملاقات میں شاہ فیصل نے ندوۃ العلما کے لیے ایک خطیر رقم پیش کرنا چاہی، لیکن مولانا نے انکار کر دیا اور کہا کہ ندوہ کے معاملات اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بہتر طور پر چل رہے ہیں۔

علی میاں ایسے شایستہ اطوار تھے کہ ان کے معاصرین میں کم لوگ ان کی مثل کے ہوں گے۔ وہ ایک دورمیں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی کے رکن بن گئے، لیکن جلد ہی علیحدگی اختیار کر لی۔ افتاد طبع کے اعتبار سے وہ ایک زاہد اور عبادت گزار آدمی تھے، اس لیے انھیں تبلیغی جماعت میں زیادہ کشش محسوس ہوئی اور انھوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں، لیکن یہ کام اتنی خاموشی سے ہوا کہ بہت کم لوگوں کو اس کی خبر ہوئی۔ بہت عرصے کے بعد انھوں نے اس اختلاف کا برملا اظہار کیا جو ان کی جماعت سے علیحدگی کا سبب بنا۔ ان کا خیال تھا کہ مولانا مودودی کی تعبیر دین میں سیاست کی طرف جھکاؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں انسانی شخصیت میں ایک عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس افراط کے باعث وہ شخصیت وجود میں نہیں آتی جو دین میں مطلوب ہے۔ انھوں نے اپنی اس راے کا اظہار اپنی کتاب’’عہد حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ میں کیا ہے۔ اس اختلاف کو بیان کرتے وقت انھوں نے مولانا مودودی کے علمی وقار اور دینی خدمات کا لحاظ رکھا اور کہیں بھی شایستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ مولانا مودودی کے ساتھ احترام اور محبت کا تعلق مولانا کی وفات تک باقی رہا۔ مولانا مودودی کا معاملہ تو ایک طرف رہا، ان کی شایستگی کا یہ عالم تھا کہ جب انھوں نے’’قادیانیت‘‘کے عنوان سے کتاب لکھی تو اس میں غلام احمد قادیانی کا تذکرہ’’غلام احمد صاحب قادیانی‘‘کے الفاظ سے کیا۔ بلاشبہ یہی ایک حقیقی داعی کی شان ہے۔ وہ مناظرہ باز اور کج بحث نہیں ہوتا۔ اس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ مخاطب تک حق کی بات پہنچا دے تاکہ وہ پلٹ آئے، وہ اسے صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے نہیں ہوتا۔

علمی اعتبار سے اگرچہ انھوں نے’’تدبر قرآن‘‘ یا’’تفہیم القرآن‘‘جیسی کوئی یادگار نہیں چھوڑی، لیکن اس کے باوجود ان کا تحقیقی و تصنیفی کام اتنا وقیع ہے کہ بیسویں صدی کے مسلم فکر کے ارتقا کا جائزہ لیتے وقت اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔’’نبی رحمت‘‘ کے ذکر جمیل سے لے کر ایک مورخ کی طرح انھوں نے چھ جلدوں میں’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ مرتب کی۔’’مطالعۂ قرآن کے مبادی اصول‘‘اور’’حدیث کا بنیادی کردار‘‘ جیسے مسائل پر ایک جید عالم کی طرح قلم اٹھایا۔ ’’معرکۂ ایمان و مادیت‘‘سے لے کر’’مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش‘‘جیسے عصری مسائل کو بھی موضوع بنایا۔ ان کے پاس ایک سوانح نگار کا قلم تھا اور ایک مصلح کا بھی۔ علامہ اقبال سے انھیں گہری عقیدت تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ پہلے آدمی تھے جنھوں نے موثر طور پر عالم عرب کو اقبال سے متعارف کرایا۔ مولانا کی یہ کتاب’’نقوش اقبال‘‘ کے عنوان سے اردو میں بھی ترجمہ ہوئی۔ اقبال کے ساتھ ان کی یہ محبت آخر دم تک باقی رہی۔ جی چاہتا ہے کہ انھیں اقبال ہی کے الفاظ میں آخری بار مخاطب کیا جائے:

 

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا

نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا