*کشمیر کی مسلح جدوجہد کے پاکستان پر بھی کچھ اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔کلاشنکوف کلچر مزیدبڑھ رہا ہے۔ہرمسلک وفرقہ نے اپنی اپنی مسلح تنظیم کھڑی کی ہے۔فرقہ پرستی بڑھ ر ہی ہے۔دلیل کے بجائے اسلحے کا استعمال روز افزوں ہے۔سوسائٹی میں عام طور پر تشدد کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔
*اگر حالات جوں کے توں رہے تو کیا کشمیر میں مسلح جدوجہد غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے؟اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے۔پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ کی مستقبل میں کیا صورت ہوتی ہے؟کیا بھارت اور مجاہدین ایک دوسرے کو تھکا رہے ہیں؟اگر سری لنکا اور تامل،سوڈان اور جنوب کے عیسائی،ترکی اور کرد علیحدگی کی پسند ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں تھکے تو یہاں کون تھکے گا ؟۔کیا بھارت اس کو اپنے عزت ووقارکی لڑئی بنا کر اسے اسی طرح قومی وحدت کا ذریعہ نہیں بنا لے گا،جس طرح اس نے کارگل کی لڑائی کے موقعہ پر کر لیا تھا؟
*پاکستان ہمارے لئے ایک بڑی نعمت ہے۔تاہم ہر نعمت کے کچھ ذیلی اثرات بھی ہوتے ہیں۔تقسیمِ برصغیر کے نتیجے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تیس کروڑ مسلمان آزادی سے بہرہ ور ہوئے تاہم اس کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر اس وقت پندرہ کروڑ مسلمان اقلیت کی حیثیت سے بھارت میں مقیم ہیں۔بھارت کے یہ مسلمان کئی اعتبار سے کمزور ہیں۔پاکستان کے مسلمانوں پر اپنی آزادی کا شکر بجا لانا لازم ہے۔اس شکر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اہلِ پاکستان ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے بھارتی مسلمانو ں کے حوصلے بڑھیں۔ان کے اور بھارت کے غیر مسلموں کے درمیان نفرت کی فضا نہ بڑھے۔وہ نسبتاً پرامن ماحول میں رہیں۔ تاکہ وہ اسلامی معاشرے کے مطابق جتنی بھی زندگی گزار سکیں،اس میں ہم ان کی مدد کریں۔
یہ ایک قابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے درمیان دشمنی جتنی بڑھتی جاتی ہے اور پاکستان کے اندر بھارت کے خلاف جتنے شدید جذبات ظاہر کئے جاتے ہیں، ان کا اثر بھارت کے اندر براہ راست وہاں کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔بھارت کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کے لئے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ بھارت چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔یوں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی تمام کسمپرسی کے لئے پاکستان کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔بھارت کے اندر ونی سیاست میں ہندوانتہا پسندوں نے اسی مدت میں طاقت پکڑی ہے جس میں بھارتی کشمیر کے اندر مسلح کاروائیاں شروع ہوئی ہیں۔
اس کے برعکس بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات جتنے زیادہ پُرامن ہوں، اتنی ہی بھارت کے مسلمانوں کے لئے زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم بھارتی مجبور مسلمانوں کے لئے آسانیاں فراہم کریں، نہ کہ ان کو مزید مشکلات میں مبتلا کریں۔یاد رکھنے کے قابل بات یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی سے زیادہ مسلمان بھارت کے اندر اب بھی ہماری آزادی کی قیمت مسلسل ادا کر رہے ہیں۔چنانچہ کشمیرکے متعلق پاکستان کی پالیسی جتنی پرامن ہوگی اتنا ہی بھارتی مسلمانوں کو چین نصیب ہوگا۔
*وادی کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں کے حریت پسند عوام سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کم وبیش تیس تنظیموں میں تقسیم ہیں جن کاایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نام سے موجود ہے۔اب یہ اتحاد بھی دوحصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ان پارٹیوں میں سے کوئی بھی دوسری کی قیادت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس اتحاد کی قیادت ہر سال بدلتی ہے۔آزادی کی خواہش مند قوموں کویہ لچھن زیب نہیں دیتے۔تحریک آزادی کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ تمام قوم ایک سیاسی پارٹی تلے،ایک ہی قیادت کی سرکردگی میں منظم ہو۔جو قوم یہ نہیں کر سکتی،اس کے لئے آزادی کا تصور ہی محال ہے۔اگر تقسیم کے وقت تمام غیر مسلم گاندھی کی قیادت قبول نہ کرتے اورتمام مسلمان قائداعظم کی شخصیت پر اعتماد کا اظہار نہ کرتے تو آزادی ناممکن تھی۔زمانہ قریب میں امام خمینی اور نیلسن منڈیلا کی جدوجہد کی کامیابی اسی کا اظہار ہے۔بوسنیا میں سب لوگ عالی جا ہ عزت بیگووچ کی قیادت میں متحد ہوئے اور مسلمہ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کے مطابق جدوجہد کر کے کامیابی حاصل کی۔


مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور ممکن حل میں فرق

ہر قوم اور علاقے کو اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا غیر متزلزل اور ناقابلِ انکار حق حاصل ہے۔یہ بات اب ضمیرِ عالم میں ایک زندہ حقیقت ہے۔اس لئے اہل کشمیر کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے یہ فیصلہ کریں کہ وہ کس طرح جینا چاہتے ہیں۔درج بالا تجزئے سے یہ بات واضح ہے کہ پوراکشمیر اب ایک اکائی نہیں ہے۔لداخ اور جموں سمیت تمام غیر مسلم اکثریتی اضلاع بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔جب کہ وادی او رضلع کارگل کا مسلم اکثریتی ضلع بھارت کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا۔اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وادی اور دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں میں استصواب رائے کے ذریعے عوام سے پوچھا جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں۔ایسے استصواب کے بعد جو بھی فیصلہ ہو،اس کو روح ومعنی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔
مگر موجودہ حالات میں اس منصفانہ حل پر عمل ناممکن ہے۔دونوں ملک اس منصفانہ حل کو نہیں مان سکتے۔بھارت اس کو اپنے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی ابتدا سمجھتا ہے۔اور پاکستان کے لئے کشمیریوں کے کسی آزاد وطن کی بات خارج ازبحث ہے۔چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسا ممکن،قابل عمل اور حقیقت پسندانہ حل موجود ہے۔جس پر بھارت اور پاکستان دونوں متفق بھی ہو سکیں،جس سے کشمیری مسلمانوں کی حالت بھی سدھر سکے،جو انصاف سے قریب تر ہو اور جس سے دونوں ملکوں کا قومی وقار مجروح بھی نہ ہو۔
ایک حل یہ ہے کہ بغیر رائے شماری کرائے مسلم اکثریتی اضلاع مثلاً پوری وادی، ضلع کارگل اور ضلع پونچھ پاکستان کو دے دئے جائے اور جموں اور لداخ بھارت کے ساتھ رہیں۔دریائے چناب کو سرحد تسلیم کرنے والاحل بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔یہ ایک نسبتاًبہتر حل ہے۔تاہم بھارت کی طرف سے اس کو قبول کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔کیونکہ کوئی ملک اپنی حدود میں رد وبدل پرصرف اسی وقت رضامند ہوتا ہے جب وہ پے درپے بحرانوں کے نتیجے میں کمزور ی کی آخری حد کو پہنچ جاتاہے،سیاسی خلاء کی وجہ سے ملکی قیادت بالکل ڈانوں ڈول ہوتی ہے اور اس کے حصے بخرے ہونے کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔اگر کبھی بھارت پر ایسا وقت آیا تو اس وقت وہ نہ صرف کشمیرکے حل پر رضامند ہو جائے گا بلکہ خالصتان،ناگالینڈ اور اس طرح کی دوسری تحریکیں بھی ایک حقیقت بن جائیں گی۔پچھلے پچاس برس میں بھارت پر تو ایسا وقت تو نہیں آیا البتہ پاکستان پر ایسا وقت آچکا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم اپنے آدھے حصے سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
اس حل کا ایک منفی نکتہ یہ ہے کہ اس کے روبہ عمل آنے سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور غیض وغضب میں انتہائی اضافہ ہو جائے گا۔بھارت کے ہندو مستقلاًاس غم وغصہ میں رہیں گے کہ جب بھی مسلمانوں کو موقعہ ملے گا،وہ اس ملک کے مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اس نفسیاتی کیفیت کے نتیجے میں وہاں کے مسلمان مسلسل دفاعی پوزیشن اور کسمپرسی کی صورت میں رہیں گے۔وہ اپنی خراب حالت کے لئے پاکستان کو الزام دیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہو ئی ہے۔تب سے بھارت میں بی جے پی مسلسل زور پکڑ رہی ہے۔
چنانچہ ہمیں کسی ایسے حل کے بارے میں سوچ بچار کرنا چاہئیے جس سے کشمیری مسلمانوں کی حالت بہتر ہو سکے،جو بھارتی مسلمانوں کے بھی مفاد میں ہو، جس سے بھارت کو اپنے حدود میں ردوبدل سے بھی نہ گزرنا پڑے اور جو پاکستان کے لئے بھی اطمینان کا باعث ہو۔راقم الحروف کی رائے میں ایسے دوحل موجود ہیں۔ایک یہ کہ پورے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین میں ایک دفعہ پھر خصوصی حیثیت دی جائے،اسے پوری اندرونی خودمختاری دی جائے۔پاکستان کے ساتھ اس کے بارڈر پر خصوصی آسانیاں فراہم کی جائیں۔اس خصوصی حیثیت کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتے کا حصہ بنا دیا جائے اور اس میں اقوام متحدہ ضامن بن جائے۔گویا آئینی طورپر مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ رہے گا، تاہم اسے اپنے اندرونی معاملات میں پوری خودمختاری حاصل ہوگی۔دوسراحل بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔وہ یہ کہ وادی اوردوسرے مسلم اکثریتی اضلاع پر مشتمل ایک نیا صوبہ ریاستِ کشمیر کے نام سے تخلیق کیا جائے۔جموں اور لداخ کو اس سے علیحدہ کیا جائے۔او ر اس مسلم اکثریتی صوبے کو کامل اندرونی خودمختاری دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن کو بین الاقوامی لیکن کھلی سرحد کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔کامل اندرونی خود مختاری کے ضمن میں چند ایک سوالات پیداہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہ کیا اس ریاست کے سربرا ہ کو صدر یا وزیراعظم کہا جائے یا نہیں۔کیااس ریاست کو بیرونی ممالک سے ازخود سمجھوتے کر نے کی آزادی ہو یا نہیں۔کیا اس کو اپنا پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کی اجازت ہو یا نہیں۔تاہم یہ سب سوالات ضمنی ہیں اور ان پر باہمی گفت وشنید کے ذریعے تسلی بخش سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
راقم کے نزدیک درج بالا حل تمام فریقوں کے لئے باعث اطمینان ہوسکتا ہے۔کشمیریوں کے لئے یہ اس اعتبار سے باعث تشفی ہوگا کہ اس سے وہ اپنی امنگوں اور آرزوؤں کے مطابق ایک خوبصورت معاشرے کی تعمیر کر سکیں گے۔عملی طور پر ان پر کوئی قد غن نہیں ہوگی۔بین الاقوامی سرحد کے باوجود دونوں طرف کے کشمیری ایک دوسرے سے روابط رکھ سکیں گے۔اگرچہ وہ آزادی سے ایک قدم پیچھے ہونگے تاہم وہ عملی طور پر آزاد ہونگے۔اور اگر وہ اپنے ہاں کامل جمہوریت لے آئیں تو پھر تو وہ اپنی قسمت کے کلےۃًخود ہی مالک ہونگے۔اس حل کا پاکستان کو یہ فائدہ ہوگا کہ پاکستان کا اصل مطمح نظر تو یہ ہے کہ کشمیری مسلمان جبراور گھٹن کی فضا سے نکلیں۔وہ خود اپنا معاشرہ بنا سکیں۔ان پر بھارتی دباؤ نہ ہو۔قیام پاکستان کا اصل مقصد بھی یہی تھا۔کیبنٹ مشن پلان کو تسلیم کرکے قائداعظم نے سب کو یہ باور کرا دیا تھا کہ ان کی جدوجہد کا اصل مقصد جغرافیائی سرحدات کی توسیع نہیں بلکہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔اگرچہ اس حل سے کشمیر پاکستان کو نہیں مل جائے گا،تاہم وہ عملاًبھارت کے ہاتھ میں بھی نہیں رہے گا۔اس سمجھوتے کے بعد یہ قوی توقع ہے کہ پاکستان بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔
اس سے بھارت کو یہ فائدہ ہوگا کہ اپنی جغرافیائی سرحدات کی شکست وریخت سے گزرے بغیر اس کا اہم ترین مسئلہ حل ہو جائے گا۔اگرچہ بھارت کو اندرونی خودمختاری دینے کا بظاہر کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا تاہم آج کے جمہوری ممالک میں اندرونی خود مختاری ایک مسلمہ اور منصفا نہ تصور ہے۔جس سے کسی کی سبکی نہیں ہوتی۔بھارت بھی ایک غریب ملک ہے۔اگر اسے کامل اندرونی خودمختاری کی قیمت پر اس مسئلے سے نجات ملے تو یہ اچھا سودا ہے۔
راقم کے نزدیک اس حل سے مزید دوعظیم فواید متوقع ہیں۔ایک یہ کہ اس سے بھارتی مسلمانوں کو ایک بڑی سپورٹ مل جائے گی۔بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ بھارت کے اندر کسی ایک صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور وہاں مسلمانوں ہی کی حکومت قائم ہو۔ایسے صوبے اور اس کی حکومت سے بھارت میں آباد تمام مسلمانوں کی عزت نفس بحال ہوگی۔پورے ملک میں جہاں بھی مسلمانوں سے کوئی زیادتی ہوگی،یہ صوبہ اس کے خلاف آواز اٹھا سکے گا۔یوں ریاست کشمیر بھارتی مسلمانوں کے لئے تائید ونصرت کی حیثیت اختیار کر جائے گی۔یہی صوبہ آگے چل کر بھارت کے اندر اسلام کی دعوت واشاعت کامرکز بنے گا۔اس ملک کے اندر ہندو مسلم تعلقات میں بہتری آئے گی اور انتہاپسندی کی آوازیں کمزو ر سے کمزور تر ہوتی جائیں گی۔
اس حل کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ریاست کشمیر مستقبل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گی۔پاکستان اور بھارت نہ صرف ہمسائیگی بلکہ بھارت میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کی وجہ سے ایک ایسے تعلق میں جڑے ہوئے ہیں،جس سے دونوں کی گلوخلاصی ناممکن ہے۔یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے برادرانہ تعلقات ہوں۔چنانچہ خودمختار کشمیر اس تعلق میں ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔
اس حل کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاملے میں پہل کون کرے۔اپنی اپنی سیاسی مجبوریوں کے سبب سے پاکستان اور بھارت دونوں کے لئے اس معاملے میں پہل کرنا مشکل ہے۔اس لئے سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ مسلمہ کشمیری رہنما اس ضمن میں متفقہ فارمولہ اور موقف بنا کر دونوں حکومتوں سے گفت وشنید شروع کردیں۔درحقیقت مسئلے کی حل کی اصل کلید خود بھارتی کشمیر کے رہنماوؤں کے ہاتھ میں ہے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ اگر بھارت نے یہ حل بھی ماننے سے انکار کر دیا توپھر کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں یہ لازم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام مسلمان اپنی علیحدہ علیحدہ سیاسی شناخت ختم کر کے صرف ایک سیاسی تنظیم،ایک جھنڈے اور ایک قاید کے تحت منظم ہوں۔آج اُن کی تیس سیاسی تنظیمیں ہیں۔ہر کوئی اپنی الگ الگ بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے۔آل پارٹیز حریت کانفرنس ایک انتہائی ڈھیلا ڈھالا اتحاد ہے جس کا قاید ہر سال بدلتا رہتاہے۔ایک عظیم مقصد حاصل کرنے کے لئے اس طرح کے چونچلوں سے کام نہیں بنتا۔ا س کے لئے تو سب کو اپنی انا کی قربانی دینی پڑے گی۔اور اپنی اپنی سیاسی گروپ بندیاں چھوڑ کر ایک متفقہ پارٹی بنانی پڑے گی اور ایک متفقہ لیڈر چننا پڑے گا۔درحقیقت کشمیریوں کی جدوجہد کی آج تک ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے اور موجودہ صورت حال کے جاری رہنے میں آئندہ بھی کامیابی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
اگر کشمیری متحد ہو گئے اور خالصتاًپرامن سیاسی طریقوں سے انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی سے دور نہیں رکھ سکتی۔ایسی صورت میں پاکستان کے لئے صحیح لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ کشمیروں کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے۔تاہم وہ کسی طرح کی مسلح کاروائی میں ملوث نہ ہو۔درحقیقت مسلح کاروائیاں،خواہ وہ پاکستان کی طرف سے ہوں یا کشمیریوں کی طرف سے،دین وحکمت دونوں اعتبار سے غلط ہیں۔آج تک پاکستان نے کشمیر کے ضمن میں ہر فارمولا آزمایا ہے مگر’’قومی اتحاد‘‘کا فارمولا کبھی پاکستان نے آزمایا ہے نہ کشمیریوں نے۔حالانکہ حل اسی کے اندر مضمر ہے۔
یہ قدم بھی ضروری ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کا انتظار کئے بغیر،بھارت کے ساتھ دوسرے تمام تصفیہ طلب امور پر اسی طرح سمجھوتے کرے جس طرح’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ ’’اور معاہدہ رن کچھ‘‘ہو چکا ہے۔اس سے مسئلہ کشمیر کی مرکزیت خود بخود نمایاں ہوگی اور ان دونوں ملکوں کے درمیان ہر نیا معاہدہ کشمیر کے حل کی طرف ایک پیش رفت ہوگا۔