ساتواں باب 
 

(اس نکتے پر راقم نے اپنے مقالے ’’مسئلہ کشمیر پس منظر، موجودہ صورت حال اور حل‘‘ میں نسبتاً تفصیل سے اپنا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے احباب اُس تفصیلی مقالے کی طرف رجوع کریں)۔ 
کشمیر کا کل رقبہ دولاکھ بائیس ہزار دوسو چھتیس مربع کلومیٹر ہے۔ اس میں سے ایک لاکھ ایک ہزار تین سو پچاسی مربع کلومیٹر بھارت کے قبضے میں ہے۔ جب کہ پاکستانی کشمیر کا رقبہ اٹھتر ہزار ایک سوچودہ مربع کلومیٹر ہے۔ چین کے زیر کنٹرول کشمیر کا رقبہ بیالیس ہزار سات سو پینتیس مربع کلومیٹر ہے۔ 
بھارتی کشمیر کی آبادی اندازاً(90)لاکھ ہے۔ ان میں مسلمانوں کی تعداد اڑسٹھ فیصد(68%)ہے۔ یعنی اس وقت بھارتی کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد اکسٹھ(61)لاکھ کے لگ بھگ ہے، جب کہ غیر مسلموں کی تعداد اندازاً انتیس(29)لاکھ ہے۔ 
پاکستانی کشمیر کی آبادی ایک اندازے کے مطابق اُنتیس(29)لاکھ ہے۔ شمالی علاقہ جات کی آبادی نو(9)لاکھ ہے۔ گویا اس وقت تمام کشمیر کو ملاکر مسلمانون کی آبادی ننانوے (99)لاکھ اور غیر مسلموں کی آبادی تیس(30)لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان ننانوے لاکھ میں سے اندازا ساٹھ یا اکسٹھ لاکھ مسلمان بھارتی کشمیر میں بستے ہیں۔ 
بھارتی کشمیر تین واضح حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا حصہ جموں ہے، جس کی سرحد پاکستانی ضلع سیالکوٹ سے ملتی ہے۔ اس حصے میں ہندو واضح اکثریت میں ہیں۔ دوسرا حصہ وادی کا ہے۔ یہی وادی اصل کشمیر ہے۔ یہ وادی، جس میں مسلمانوں کی تعداد نوے فیصد سے زیادہ ہے، ایک سو پینسٹھ کلومیٹر لمبی اور چالیس کلومیٹر چوڑی ہیے۔ اس کا کل رقبہ پانچ ہزار چار سو مربع کلومیٹرہے۔ اصل تنازعہ اسی پر ہے۔ تیسرا حصہ لداخ کا ہے۔ یہ وسیع وعریض علاقہ پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے اور اس میں بہت کم آبادی ہے۔ یہاں بدھ مت کے پیروکاراکثریت میں ہیں۔ کارگل کا ضلع اسی کی پاکستانی سرحد پر واقع ہے۔ اس ضلع میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ 
پاکستانی کشمیر بھی تین حصوں میں منقسم ہے۔ ایک مظفر آباد کا علاقہ، جس کو آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ اس کی حکومت پاکستان کی وزارتِ امورِ کشمیر کے تحت ہوتی ہے۔ عملی اعتبار سے اسے پاکستان کے ایک صوبے کی طرح چلایا جاتا ہے۔ البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ اس کا اپنا صدر، وزیراعظم اور اپنی سپریم کورٹ ہے۔ دوسرا حصہ گلگت اور تیسرا بلتستان پر مشتمل ہے۔ چونکہ بہت پہلے سے ان دونوں ریاستوں کی علیحدہ حیثیت اور شناخت چلی آرہی ہے، اس لیے ان کے لیے حال ہی میں شمالی علاقوں کی کونسل کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان کا انتظام وانصرام بھی حکومت پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ درج بالا اعداد وشمار سے یہ واضح ہے کہ اس وقت بھی کشمیر میں مسلمان 77%جب کہ غیر مسلم23%ہیں۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر کے ایک مسئلہ بننے کی بنیادی ذمہ داری اصلاً مسلم لیگ پر عائد ہوتی ہے۔تقسیم سے پہلے بھارت اور پاکستان کی سرحد پر واقع تمام خود مختار ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں کانگریس کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہر جگہ کے عوام کی رائے کی بنیاد پر ان کو بھارت یا پاکستان میں شامل کیا جائے۔اس کے برعکس مسلم لیگ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ ہر ریاست کے حکمران کی اپنی صوابدید پر ہے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں شامل ہونا چاہے یا آزاد رہنا چاہے۔مسلم لیگ کا یہ موقف غیر اصولی اور غیر جمہوری تھا۔اور اصلاً اسی موقف کی وجہ سے ریاست کپور تھلہ اور کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئے۔
پنجاب کی تقسیم کے بارے میں کانگریس کا موقف یہ تھا کہ فیصلے کا اختیار برطانوی فیڈرل کورٹ کو ہونا چاہئیے۔ماونٹ بیٹن کی تجویز یہ تھی کہ اقوام متحدہ کے ایک کمیشن کو فیصلے کا اختیار دیا جائے۔اس کے برعکس مسلم لیگ کی تجویز یہ تھی کہ سرسائیرل ریڈ کلف کو چےئرمین بنایا جائے اور اسے فیصلہ کن ووٹ کا اختیار بھی دیا جائے۔بالآخر اس تجویز کو منظور کر لیا گیا اور ریڈکلف نے ضلع گورداس پور کی چار میں سے تین تحصیلیں بھارت کے حوالے کر دیں۔
قیام پاکستان کے بعد بھی پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے کئی مواقع ضائع کر دئے۔بھارت کی طرف سے تجویز آئی کہ حیدر آباد ہم لے لیتے ہیں،کشمیر آپ لے لیں، مگر پاکستان نے اس سے انکار کیا۔نتیجۃًدونوں ہاتھ سے گئے۔اس کے بعد پاکستان نے بلا ضمانت مغربی بلاک میں شمولیت اختیار کی، جس کی وجہ سے بھارت کو اقوم متحدہ کی قرار دادوں سے راہِ فرار اختیار کرنے کا موقعہ ملا۔1962میں بھارت چین لڑائی میں بھارت بری طرح پھنس گیا تھا۔ مگر پاکستان نے اس موقعہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی بارہ قرار دادوں،جو جنوری1948سے لے کر دسمبر 1957کے درمیان میں منظور کی گئیں،میں کئی قرارد یں عملاً بھارت کے حق میں اور نظری طور پر پاکستان کے حق میں ہیں۔یہ تمام قراردیں شیڈول سات سے تعلق رکھتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نوعیت اصل میں سفارشی ہے ۔فریقین میں سے کوئی بھی اسے ماننے سے انکار کر سکتا ہے اور ان پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے۔
اگست 1988میں مجاہدین نے بھارتی افواج کے خلاف مسلح آپریشن شروع کیا۔اس کے بعد سے لے کر آج تک بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد جاری ہے۔اس مسلح جدوجہد میں چالیس ہزار سے لے کر اسی ہزار تک کشمیری اور دوسرے مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔جب کہ اِسی عرصے میں دس ہزار سے زیادہ بھارتی فوجی بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اس وقت وادی کشمیر اور بعض شورش زدہ علاقوں میں تقریباً سات لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں۔اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زخمیوں کی تعداد کتنی ہوگی اور جان ومال وعزت وآبرو کے دوسرے نقصانات کتنے ہونگے۔اس مسلح جدوجہد کے چند نمایاں تجزیاتی پہلو درج ذیل ہیں۔
* اس جدوجہد میں پندرہ کے قریب بڑی اور پچاس سے زیادہ چھوٹی تنظیمیں جان بازی،بہادری اور سرفروشی کی ایک بڑی داستان رقم کر رہی ہیں۔اگرچہ ان کے درمیان ڈھیلے ڈھالے اتحاد بھی قائم ہوتے رہے ہیں۔تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ جہاں اتنی بڑی تعداد میں مسلح تنظیمیں موجود ہوں،وہاں ان کی آپس میں منا قشت یقیناًموجود ہوگی۔اور جب دوتنظیموں کے پاس اسلحہ بھی موجود ہو،وہاں مسلح جھگڑے بھی خارج ازامکان نہیں۔
*ان میں سے کئی تنظیموں کے درمیان صرف قیادت کا جھگڑا ہے۔جب کہ بعض تنظیمیں ایک دوسرے سے بہت نظریاتی اختلاف رکھتی ہیں۔کئی تنظیمیں خالصتاً مسلک کی بنیاد پر وجود میں آگئی ہیں۔وہ مسلح مزاحمت کے ساتھ ساتھ اپنے مسلک کی توسیع اور دوسرے مسالک کی تغلیط کاکام بھی سرگرمی کے ساتھ کر رہی ہیں۔ایک اہم تنظیم’’لشکرطیبہ‘‘ کے ماہانہ مجلہ’’الدعوۃ‘‘ کے چند شمارے پڑھنے سے اس کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔
*اس تحریکِ مزاحمت میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد خودکشمیری نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اس میں پاکستانی نوجوان بھی موجود ہیں۔بہت سی جہادی تنظیموں کے دفاتر پاکستان میں قائم ہیں۔وہ نوجوانوں کو کشمیر کی آزادی کے مقدس مشن کے لئے بھرتی کرتی ہیں۔آئے دن اخبارات میں ان پاکستانی نوجوانوں کی شہادت کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔بھارت الزام لگاتا ہے کہ آئی ایس آئی ان تمام تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہی ہے۔اور ان کو سرحد پار کروانے کاکام بھی وہی کر رہی ہے۔پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔تاہم بیرونی دنیا اس معاملے میں عام طور پر بھارت کی ہم نوا ہے۔


پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے اس جدوجہد کے مثبت اور منفی اثرات

پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے اس جدوجہد کا مثبت اثر یہ ہے کہ دو دہائیوں سے سردخانے ہیں پڑا ہوا کشمیر کا مسئلہ ایک دفعہ پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔دنیا کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ کشمیری مسلمان موجودہ حالت پر رضامند نہیں ہیں۔ اور یہ کہ اس مسئلے کے حل کے بغیر حالات معمول پر نہیں آسکتے۔
اس کا منفی اثر یہ ہوا ہے کہ دنیا کی نظر میں ایسی تحریک پاکستان کی سرگرم سرپرستی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔اس لئے پاکستان پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اور وہ اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کے بجائے مسلح تنظیموں کے ذریعے شورش پھیلا کر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔


معاہدہ لاہور،جنگ کارگل اور معاہدہ واشنگٹن

یہ بات معلوم ہے کہ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی چاہتی ہیں کہ اس مسئلے کا جلد ازجلد کوئی حل نکل آئے۔غیر سرکاری طورپر وہ اس کے ایسے حل پر بھی آمادہ ہیں جس میں بھارتی کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے اندر رہتے ہوئے مکمل خود مختاری مل جائے۔پاکستان کے چار مزید بڑے سیاسی گروپ یعنی،اے این پی،ایم کیو ایم،بلوچستان کے نیشنلسٹ رہنمااور جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ بھی اس سے ملتے جلتے کسی بھی حل پر آمادہ ہیں۔البتہ مسلم لیگ کا نوائے وقت گروپ،فوج،جماعت اسلامی اور کچھ اہم مذہبی رہنما پورے کشمیر (بشمول جموں ولداخ کے غیر مسلم اکثریتی علاقے)کے استصواب رائے اور اس کے نتیجے میں پاکستان سے الحاق کو اس مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں جولائی 1989میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی پاکستان آمد کے موقع پر مسئلہ کشمیر لوپروفائل میں رہا۔اس کے بعد جب فروری1999میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیراعظم واجپائی پاکستان میں میاں نوازشریف کی دعوت پر پاکستان آئے اور معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے تو اس پوری صورت حال(Scenario)کے متعلق دو بالکل متضاد اطلاعات ہیں۔میاں نواز شریف کے قریب ترین حلقوں کے مطابق اس امر پر اتفاق رائے ہو چکا تھا کہ وادی کشمیر(جموں اور لداخ کے بغیر)کومکمل خود مختاری دی جائیگی۔اس کا اپنا وزیراعظم ،جھنڈا اور کرنسی ہوگی۔اختلاف صرف اس بات پر تھا کہ وادی کی خارجہ پالیسی اور دفاع کا کیا انتظام کیا جائے۔یہ بھی طے پایا تھا کہ اگلے ایک سال کے اندر ان دونوں مسائل کا حل بھی تلاش کرلیا جائے گا اور یہ کہ ان سب امور کو آخری لمحے تک خفیہ سفارتکاری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
اس کے بالکل برعکس ایک دوسرے حلقے کا یہ کہنا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔میاں نواز شریف اس مسئلے کو اٹھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔اسی لئے معاہدہ لاہور کے ابتدائی مسودے میں اس کا ذکر بہت بے جان الفاظ میں کیا گیا تھا۔اور فوجی سربراہ کے ا صرار پر ان الفاظ میں ردوبدل کر دیا گیا۔مستقبل ہی میں ہمیں معلوم ہو سکے گا کہ کونسی بات صحیح تھی۔
اس کے بعد مئی 1999میں جنگِ کارگل پیش آگئی۔اس جنگ کے متعلق بھی دوبالکل مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ طاقت ور اسٹیبلشمنٹ نے معاہدہ لاہور کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔اس لئے اس نے سیاسی حکومت سے بالا ایک پلان تیار کیا۔اس پلان کے مطابق کارگل کے علاقے میں اس تمام علاقے پر دوبارہ قبضہ مقصود تھا جومعاہدہ شملہ کے تحت بھارت کے قبضے میں رہنے دےئے گئے تھے۔چنانچہ ان مہینوں میں جب کہ سردی اور برف باری کی وجہ سے کارگل کی چوکیاں خالی ہوتی تھیں،پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پار کرکے ان پر قبضہ کرلیا۔اس وقت سیاسی قیادت کو صرف یہی بتایا گیا کہ پاکستانی فوج اس علاقے میں کنٹرول لائن کے اپنی طرف فوجی مشقیں کر رہی ہے۔مئی کے پہلے ہفتے میں بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی وزیر اعظم کو فون کرکے اس صورت حال سے آگاہ کیا۔یہ پہلا موقعہ تھا جب پاکستانی وزاعظم کو یہ معلوم ہو اکہ پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول کو پار کرلیا ہے۔مگر اس وقت ان کے لئے کچھ بھی کرنا ممکن نہیں تھا۔جب پوری دنیا کی توجہ اس لڑائی کی طرف مبذول ہوگئی اور جب امریکن سیٹلائٹ کی تصویروں کی وجہ سے پاکستان کے لئے ان چوکیوں تک اسلحہ اور سامان رسد پہنچانا ناممکن ہوگیا تو فوجی قیادت نے نوازشریف سے درخواست کی کہ وہ کلنٹن کو درمیان میں لاکر جنگ بندی کروائیں اور یہ ضمانت حاصل کریں کہ پاکستانی فوج کے پیچھے ہٹتے وقت اس پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ نواز شریف کو واشنگٹن جانا پڑا اور لائن آف کنٹرول کے احترام کے وعدے کے بدلے پاکستانی فوج کے پرامن پیچھے ہٹنے کی ضمانت حاصل کر لی۔
اس کے بالکل برعکس دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ نواز شریف کو اس آپریشن کے بارے میں پہلے دن سے ہی اعتماد میں لیا گیا تھا۔واشنگٹن بھی نواز شریف ازخود گئے۔فوج نے تو مستقل طور پر سیاسی حکومت کے فیصلوں کے مطابق عمل کیا۔
اِن دونقطہ ہائے نظر میں کونسا صحیح ہے۔اس کا فیصلہ بھی مستقبل قریب کی تاریخ میں ہوجائے گا۔البتہ بیرورنی دنیا بالعموم پہلے نقطہ نظر کو صحیح سمجھتی ہے اور اس کے حق میں کئی شواہد پیش کرتی ہے۔
معرکہ کارگل نے بھارت کو بہت زیادہ فائدہ اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔اس پورے معرکے کے دوران میں بھارت کے اندر اپنی حکومت کے لئے بہت جوش وخروش اور اتحاد دیکھنے میں آیا۔اس کے برعکس پوری دنیا نے پاکستان کو وعدہ خلاف،جھوٹا اور ناقابل اعتماد ملک قرار دیا۔چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک نے اس آپریشن پر ناراضگی کا اظہار کیا۔فوجی اعتبار سے بھی پاکستان گھاٹے میں رہا اور اس آپریشن کے بعد ان علاقوں میں بھارت کا قبضہ پوری طرح مستحکم ہو گیا۔اس آپریشن پر پاکستان کے پچاس ارب روپے خرچ ہوئے۔
معاہدہ واشنگٹن سے بھی پاکستان ایک کمزور اور امریکہ کے طفیلی ملک کی حیثیت سے سامنے آیا۔یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں بھارت سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ایسے معاہدے اور پاکستانی فوج کی بحفاظت واپسی کی ضمانت کے لئے پاکستانی وزیراعظم کو واشنگٹن جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔وہ یہیں سے امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ گفتگو کر سکتے تھے اور بحفاظت واپسی کی ضمانت حاصل کر سکتے تھے۔کیونکہ ایسی واپسی خود بھارت کے مفاد میں تھی۔


موجودہ حالات میں چند اہم حقائق

مناسب ہے کہ اس وقت دنیا کے حالات،برصغیر کی صورت حال اور خود کشمیر کے اندر جن نئے حقائق نے جنم لیا ہے ان کو زیر بحث لایا جائے۔
*بھارتی کشمیر مکمل طور پر مذہبی گروپوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔مسلمان بحیثیت مجموعی بھارت کے خلاف ہیں اور غیر مسلم بھارت کے حق میں ہیں۔وادی کشمیر سے زیادہ تر غیر مسلم جمو ں یا بھارت جا چکے ہیں۔مسلمانوں کی اصل آبادی وادی میں ہے۔اگرچہ ضلع کارگل اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی مسلمان بڑی تعداد میں ہیں۔
*جموں میں اب ہندوفیصلہ کن اکثریت میں ہیں۔لداخ میں بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں۔ہندو اور بد ھ پوری طرح بھارت کے ساتھ ہیں۔
*بھارت کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ پورے کشمیر یا اس کے کسی حصے کی اپنی ریاست سے کامل علیحدگی قبول کر لے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارت کے اندر علیحدگی کی کئی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔اس سے ان کو یوں مہمیز ملے گی کہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ظاہر ہے کہ کوئی ریاست بھی بقائمی ہوش وحواس ایسا فیصلہ نہیں کرسکتی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کرنے کے لئے بھارتی آئین میں ترمیم ضروری ہے جس کے لئے دوتہائی اکثریت چاہئیے۔گویا عملاً ایسا فیصلہ تب ہو سکتا ہے جب بھارت کی سب بڑی پارٹیاں اس پر متفق ہو جائیں۔بھارت کے اندر سیاست میں جیسی پولرائزیشن ہے اس کے پیش نظر یہ ممکن نہیں ہے۔
*پاکستان کے لئے بھی موجودہ حالت کو جو ں کا توں قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔پاکستان نے کشمیری مسلمانوں کے لئے پچاس سال تک قربانی دی ہے۔چنانچہ ان کو ریلیف ملے بغیر پاکستان کے لئے بھی اس مسئلے پر خاموش بیٹھ جانا ممکن نہیں ہے۔
*اس مسئلے نے بھارت او رپاکستان دونوں ریاستوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔لیکن بھارت کی نسبت اس سے پاکستان کو کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔پاکستان میں جمہوریت کی بنیادیں جو مستحکم نہیں ہو سکیں،یہ جو پاکستان پر بیرونی واندرونی قرضوں کا بوجھ آپڑا ہے،یہ جو ہم تعلیم اور صحت کی طرف کماحقہ توجہ نہیں دے سکے،یہ جو یہاں دفاع پر بجٹ کا بیشتر حصہ خرچ ہو تاہے۔ان کے عوامل میں سب سے بڑا عامل کشمیر کا مسئلہ ہے۔بھارت کو بھی اس مسئلے سے نقصان پہنچا ہے لیکن ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے وہ ان کو جذب کرنے میں نسبتاً کامیاب رہا ہے۔
*اس وقت یہ بڑی طاقتوں کے مفاد میں ہے کہ بھارت اور پاکستان میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔اس لئے کہ اب یہ دونوں طاقتیں ایٹمی صلاحیت کی حامل بھی بن گئی ہیں اور دونوں کے درمیان اس مسئلے پر اگر کبھی جنگ چھڑ جائے تو اس کے بہت خوفناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی طاقتوں میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ان دونوں ملکوں پر کوئی حل مسلط کر سکے۔
*پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ دونوں ملکوں میں سے کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ فی الوقت پاکستان کے پاس لڑنے کے لئے زیادہ سے زیادہ چالیس دن کا روایتی اسلحہ ہے جب کہ بھارت کے پاس اَسی(80) دن تک لڑنے کا اسلحہ موجود ہے۔گویا جب بھی لڑائی شروع ہوئی توچند ہفتے بعد دونوں کو جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑے گا۔جہاں تک ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کا سوال ہے تو اس کو دونوں میں سے کوئی بھی ملک پسند نہیں کرے گا۔اس لئے کہ اس سے دونوں تباہ ہوجائیں گے۔اور اس سے جو کچھ بچ جائے گا، اس پر بڑی طاقتیں آکر قبضہ کر لیں گے۔یوں کشمیر پر لڑتے لڑتے سارا برصغیر اپنے آپ کو تباہ کردے گا۔
*جہاں بھارت کا روس سے دفاعی معاہدہ موجود ہے۔وہاں فی الوقت کشمیر کے مسئلے پر کوئی بھی ملک پاکستان کی پشت پر نہیں کھڑا۔مسلمان ممالک بڑی نیم دلی سے پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں۔اور ان کے تجارتی تعلقات پاکستان کی نسبت بھارت سے کہیں زیادہ ہیں۔چین بھی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ایک حد سے زیادہ پاکستان کی مدد نہیں کرسکتا۔اسی لئے 1985,1971,1965سمیت کارگل کے معرکے تک وہ پاکستان کی عملی مدد نہیں کرسکا۔
*امریکہ کے لئے بھارت اور پاکستان دونوں اہم ہیں۔بھارت اس کے لئے ایک بہت بڑی منڈی ہے۔وہ کلچر کے اعتبار سے بھی اس سے قریب تر ہے۔دوسری طرف امریکہ پاکستان کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔اس لئے کہ پاکستان عالم اسلام اور اس خطے کا سب سے اہم ملک ہے۔چنانچہ امریکہ کشمیر کے مسئلے پر ہمیشہ افہام وتفہیم کی پالیسی اپنائے گا۔
*کشمیر میں جاری مسلح جدوجہدِ آزادی کو بھارت دہشت گردی کے روپ میں پیش کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔اور اس کوشش میں اسے کافی کامیابی بھی ملی ہے۔دنیا عام طور پر یہ بات مانتی ہے کہ اس کی سرپرستی پاکستان کر رہا ہے۔بھارت پاکستان کو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کا مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔چین بھی سنکیانگ کی مسلح کاروائیوں کوتشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ اس معاملے میں وہ پاکستان سے شاکی ہے۔