دسواں باب 

موجودہ عراق کی آبادی اندازاً دوکروڑ ہے۔ اس کا رقبہ اندازاً چار لاکھ چالیس ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی چار واضح حصوں پر مشتمل ہے۔ اندازاً باون فیصد(52%)عرب شیعہ ہیں، اندازاً 23فیصد(23%)عرب سُنی ہیں، اندازاً اٹھارہ فیصد(18%)کُرد ہیں، جب کہ سات فیصد(7%)آبادی ترکمند ، آشوریوں اور آرمینین لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ حضرت عمرؓ کے دور میں ایرانیوں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کی عمل داری میں آگیا تھا۔ 1534ء میں عثمانی ترکوں نے اس علاقے پر قبضہ جمالیا۔ یہ قبضہ تقریباً چار سو برس تک رہا، لیکن چونکہ ترکی سے عراق ایک لمبے فاصلے پر واقع تھا، اس لیے عموماً عراق میں نیم خودمختار حکومتیں رہیں۔ جب سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دینے کا اعلان کرلیا تو انتقاماً برطانیہ نے ترکی کے زیرِ قبضہ سارے مقبوضات پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یوں 1920ء میں یہ علاقہ برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب شریف حسین آف مکہ نے ترکی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور برطانیہ نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ترکی کے خلاف برطانیہ کا ساتھ دے گا تو سارے عرب علاقوں کو آزادی دے دی جائے گی۔ چنانچہ عراق پر قبضے کے دو برس بعد، یعنی 1921ء میں انگریزوں نے شریف حسین کے بیٹے فیصل کو عراق کا بادشاہ بنا دیا۔ تاہم اکثر اہم وزارتیں بدستور انگریز مشیروں ہی کے پاس رہی۔ 
جولائی 1958ء میں ایک فوجی انقلاب کے ذریعے بریگیڈئیر عبدالکریم قاسم نے اقتدار پر قبضہ جمالیا۔اس کے پانچ برس بعد ایک اور فوجی انقلاب آیا اور عبدالسلام عارف نے اقتدار سنبھال لیا۔ جولائی 1968ء میں ایک اور فوجی انقلاب آیا اور احمد حسن البکر نے اقتدار چھین لیا۔ پھر 1979ء میں صدام حسین برسراقتدار آیا اور یہاں سے عراق کی حقیقی بدقسمتی کا آغاز ہوا۔ اقتدار میں آنے کے ایک برس بعد صدام نے ایران کے خلاف ستمبر1980ء میں جنگ شروع کردی۔ جو آٹھ برس تک جاری رہی۔ اگرچہ پہلے ایک برس میں عراق کو کچھ کامیابی ملی لیکن اس کے بعد ایران نے اپنے علاقے سے عراقی افواج کو نکال باہر کیا۔ تاہم ایران نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ وہ عراقی سرزمین کے اندر گھس گیا۔ شاید ایران کا خیال یہ تھا کہ عراق کی شیعہ آبادی اس کی حمایت کرے گی، تاہم اُس کی یہ امید پوری نہ ہوسکی اور عراقی افواج نے اپنے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ اس کے اگلے چند برس بارڈر کے اردگرد یہ لڑائی مسلسل جاری رہی۔ حتیٰ کہ اگست 1988ء میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ 
اس لڑائی سے دونوں مسلمان ممالک کو بے حد نقصان پہنچا۔ دونوں کی معیشت جنگنے تباہ کر دی۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں چھ لاکھ ایرانی اور چار لاکھ عراقی جاں بحق ہوئے۔ اس جنگ کی ابتدا کا اصل جرم صدام حسین پر عائد ہوتا ہے۔ تاہم جب ایران نے ایک برس کے اندر اندر اپنے علاقوں کو واپس لے لیا تھا، تو پھر اُسے بھی چاہیے تھا کہ وہ فاتحانہ انداز میں یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرتا۔ اس سے فوجی فتح کے ساتھ ساتھ ایران کو ایک بہت بڑی اخلاقی فتح بھی مل جاتی۔ تاہم ایران نے ایسا نہ کیا اور اگلے سات برس تک یہ بے مقصد اور بے فائدہ جنگ جاری رہی۔ اس جنگ میں سارے عرب ممالک نے عراق کا ساتھ دیا اور پٹرو ڈالرز کے ذریعے اُس کی بڑی مدد کی۔ دوسری طرف اسرائیل نے اس جنگ سے یہ فائدہ اٹھایا کہ اُس نے جون 1981ء میں بغداد کے قریب نیوکلےئرری ایکٹر پر حملہ کرکے دو منٹ کے اندر اندر اس پورے ری ایکٹر کو تباہ وبرباد کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے طیارے سعودی عرب اور اُردن کے بارڈرز کے اندر پرواز کرتے ہوئے عراق کے عین قلب میں پہنچے مگر ان تینوں ممالک کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔ کیا یہ محض نااہلی تھی یا اس کے اندر کوئی اور کہانی بھی چھپی ہوئی تھی؟ اس کے بارے میں فی الحال ہم کچھ نہیں جانتے۔ اس آٹھ سالہ لڑائی میں اسلحہ بنانے والے ممالک کو بہت فائدہ پہنچا۔ گویا اس جنگ سے مغرب، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کو بہت بڑا فائدہ پہنچا۔ کہنے کو تو ایران اور عراق دونوں اسرائیل کے مخالف تھے، مگر دونوں نے اپنے طرزِ عمل سے اسرائیل کو بہت فائدہ پہنچایا۔ صدام اس کی بنیاد بنا اور ایک سال بعد ایران نے بھی اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 
اس جنگ کے خاتمے کے دوبرس بعد یعنی اگست1990ء میں عراقی فوج نے کویت پر حملہ کرکے اُسے فتح کرلیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عراق، کویت کے زیرِ قبضہ دو جزیروں پر ملکیت کا دعوے دار تھا۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے تنازعات تقریباً سارے ہمسایہ ممالک کے درمیان میں ہوتے ہیں، لیکن ان کی بناء پر جنگ چھیڑنا پرلے درجے کی بے وقوفی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب صدام حسین نے اس تنازعے کے بارے میں بغداد میں موجود امریکی خاتون سفیر سے گفتگو کی تو سفیر نے کہا کہ امریکہ اس تنازعے کے معاملے میں غیر جانبدار ہے۔ چنانچہ صدام نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ اگر وہ کویت کے خلاف جنگ چھیڑ دے تو امریکہ مدا خلت نہیں کرے گا۔ اگر واقعی صدام حسین نے اس بات سے یہ نتیجہ نکالا تھا تو اس کی عقل پر ماتم کیے بغیر چارہ نہیں۔ اور فرض کرلیجئے کہ امریکی سفیر نے اُسے کھلے الفاظ میں بھی اگر یہ شہہ دی کہ وہ کویت پر حملہ کرسکتا ہے، تو کیا صدام کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ ویسے بھی صدام کا دعویٰ تو صرف دو چھوٹے جزیروں پر تھا۔ اگر وہ ان دوجزیروں پر قبضہ کرلیتا تو حالات شاید پھر بھی قابو میں رہتے۔ لیکن اُس نے تو آگے بڑھ کر پورے کویت پر قبضہ کرلیا۔ 
اس قبضے کے فوراً بعد ساری دنیا نے عراق کی مذمت کی اور اقوام متحدہ نے اُسے الٹی میٹم دیا کہ وہ کویت کو خالی کردے، ورنہ اُس کے خلاف فوجی کاروائی کی جائے گی۔ عراق نے ان چند مہینوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور وہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا موڈ بھی نہیں سمجھ سکا ۔چنانچہ ساڑھے پانچ مہینے بعد یعنی جنوری 1991ء کو امریکہ اور اُس کی اتحادی افواج نے عراقی شہریوں پر بمباری شروع کردی یہ بمباری تقریباً ایک مہینہ جاری رہی اور اس بمباری میں عراق کا تقریباً سارا انفراسٹرکچر تباہ ہوکر رہ گیا، مگر صدام اپنی ضد پر اڑا رہا۔ چنانچہ فروری میں اتحادی افواج نے زمینی حملہ شروع کیا اور دو تین دن کے اندر اندر کویت کو آزاد کرلیا۔ اس لڑائی کی بھی عالم اسلام کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ کویت کی ساری دولت جنگی اخراجات کے نام پر امریکہ کے پاس چلی گئی۔ سعودی عرب کابھی چالیس ارب ڈالر سے زیادہ کا خرچہ آیا، کیونکہ صدام نے کہہ دیا تھا کہ اس کے بعد وہ سعودی عرب پر بھی حملہ کرے گا۔ عراق کی اپنی ساری آمدنی بھی ختم ہوکر رہ گئی اور اُس کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجی اور شہری اس سارے جنگ میں جاں بحق ہوگئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس جنگ کی وجہ سے عالم اسلام میں جذباتیت کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ عوام نے عمومی طور پر یہ سمجھا کہ گویا کویت کو فتح کرکے اسرائیل کو فتح کرلیا گیا ہے اور یا پھر امریکہ کو زیر کرلیا گیا ہے۔ 
اس شکست کے بعد عراق پر پابندیوں کا ایک بڑا دور چلا۔ عراق کا جنوبی علاقہ، جو شیعہ آبادی پر مشتمل ہے، تقریباً خودمختار ہوگیا۔ امریکہ نے اس پورے علاقے کو عراقی فضائیہ کے لیے نو فلائی زون قرار دیا۔ دوسری طرف کُرد بھی تقریباً آزاد ہوگئے، وہی کُرد جن پر صدام حسین نے 1987ء میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کرکے ہزاروں لوگوں، بشمول عورتوں اور بچوں کے، کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ عراق کی تیل کی برآمدات پر مکمل پابندی لگادی گئی اور اُسے صرف اتنا تیل برآمد کرنے کی اجازت دی گئی جو اُس کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرسکے۔ 
نائن الیون کے سانحے کے ایک برس کے اندر اندر امریکہ نے صدام کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (Weapons of Mass Destruction)موجود ہیں۔ یہ بات قطعاً جھوٹ تھی۔ برطانیہ کو چھوڑ کر سارے مغربی ممالک نے امریکی دعوے کو غلط قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کے سارے بڑے کمیشنوں کے سربراہوں نے بھی امریکی دعوے کو جھٹلایا۔ تاہم امریکی پروپیگنڈا جاری رہا۔ اُس وقت امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے سلامتی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے اپنی طرف سے اس بات کے کچھ نام نہاد ثبوت بھی پیش کیے۔ اگرچہ بعد میں کولن پاؤل نے متعدد مرتبہ یہ اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل میں اس کی یہ تقریر CIAکی طرف سے فراہم کردہ جھوٹ پر مبنی تھی اور یہ کہ وہ دن اس کی پوری زندگی میں سب سے زیادہ شرمساری کا دن تھا۔ 
امریکہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے گیا، لیکن روس، فرانس اور چین نے اُس کی حمایت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ چنانچہ امریکہ نے خود ہی اس معاملے سے نمٹنے کی ٹھان لی۔ دسمبر2002ء میں امریکہ نے صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں سمیت عراق چھوڑ دے۔ اُس وقت سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ صدام اور اس کے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ (اُس وقت راقم نے اپنے ایک مضمون کے ذریعے یہ لکھاکہ اگرچہ امریکہ کا الزام بالکل غلط ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ عراق عوام کو امریکہ کے ظلم وستم سے بچایا جائے۔ اس کا حل یہ ہے کہ صدام اقتدار عراقی دانشوروں پر مشتمل ایک عبوری حکومت کے حوالے کرکے خود اپنے خاندان سمیت سعودی عرب جائے اور یہ عبوری حکومت اگلے تین ماہ کے اندر اندر عراق میں انتخابات کرواکر ملک منتخب نمائندوں کے سپرد کردے) ۔تاہم صدام نے اس موقعے سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ اور وہ آنے والی تباہی کا کوئی تجزیہ ہی نہ کرسکا۔ ویسے بھی بدقسمتی سے عالم اسلام کے اندر وسیع تر مفادات کے لیے اپنی انا کو قربان کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ 
بالآخر مارچ2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اور بظاہر ایک مہینے کے اندر اندر عراق پر قبضہ کرلیا۔ امریکہ کی یہ کاروائی نہایت غیر اصولی اور ظالمانہ تھی۔ امریکہ نے عراق پر یہ حملہ کیوں کیا؟ اس کے متعلق مختلف تھیوریاں اور اس میں اس راقم کے نقطہ نظر کا تذکرہ پانچویں باب میں ہوچکا ہے۔ جنگ کے بظاہر اختتام کے فوراً بعد امریکہ نے دو بڑی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ اُس نے عراقی فوج اور پولیس کے محکمے کو ختم کردیا اور دوسری یہ کہ بعث پارٹی پر پابندی لگادی۔ چنانچہ یہ سب لوگ زیرِ زمین چلے گئے۔ اس کے بعد عراق میں تین طرفہ لڑائی شروع ہوگئی۔ سب سے خوفناک لڑائی شیعوں اور سنیوں کے درمیان ہے۔ دوسری لڑائی شیعوں کے سخت ترین امریکہ مخالف گروہ اور امریکی فوج کے درمیان ہے، اور تیسری لڑائی سنیوں کی طرف سے شیعوں اور امریکی افواج پر خودکش حملوں کی شکل میں ہے۔ عراقی آرمی اور بعث پارٹی میں اکثریت سنیوں کی تھی جو جنگی مہارت کے اعتبار سے تربیت یافتہ تھے۔ دوسری طرف اہل تشیع کے عسکریت پسند بھی پچھلے کئی برس کے دوران میں جنگی تربیت حاصل کرچکے تھے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے اقتدار عملاً سنیوں کے ہاتھ میں تھا اور اب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ مستقبل کے عراق میں انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنی پڑے گی۔ چنانچہ 2003ء کے وسط میں خاک وخون اور خودکش حملوں کا جو کھیل شروع ہوا ہے وہ تادم تحریر (جولائی2007) جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے تین برس میں چھ لاکھ عراقی اس لڑائی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کا بھی کچھ کم نقصان نہیں ہوا۔ اُسے اس لڑائی پر ہر مہینے اندازاً دس ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے پڑھ رہے ہیں۔ اس کے کم وبیش چار ہزار سپاہی اس جنگ میں کام آچکے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے امریکی قوم جس طرح تقسیم ہوگئی ہے، پچھلے سو برسوں میں ایسی تقسیم کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ 
مستقبل کے لیے بے پناہ خطرات اور اندیشے ہیں۔ اگر امریکی افواج موجود رہتی ہیں تویہ تصادم جاری رہے گا۔ اور اگر وہ نکلتی ہیں تو خدشہ ہے کہ شیعہ سنی تصادم نہ صرف یہ کہ لاکھوں مزید افراد کو ہلاک کردے گا بلکہ عجب نہیں کہ عالم اسلام میں شیعہ سنی تفریق اپنی آخری انتہاوؤں کو پہنچ جائے۔ صدر بش کی سربراہی میں امریکہ نے یہ غیر منصفانہ جنگ چھیڑ کر عالم اسلام اور خود اپنے آپ کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ خدشہ ہے کہ اس کے مزید بھیانک نتائج ہمیں مستقبل میں دیکھنے کو ملیں گے۔ 
ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ اگر عراق کسی وقت بھی پرامن طریقے سے جمہوری کلچر کی طرف رُخ کرلیتا تو اتنی بڑی تباہی سے اس ملک کو بچا یاجا سکتا تھا۔ اگر صدام ایران پر حملہ نہ کرتا، اگر صدام کویت پر قبضہ نہ کرتا، اگر قبضے کے بعد وہ کویت سے پرامن طور پر نکل جاتا اور اگر صدام سعودی عرب کے پیش کش قبول کرکے وہاں سیاسی پناہ حاصل کرلیتا تو اتنی بڑی تباہی نہ آتی۔ بڑی طاقتوں کے ظلم سے بچنے کا واحد طریقہ صبروحکمت اور اپنی انا کی قربانی ہے۔ صبروحکمت کو استعمال کرکے بڑی طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، اور ان کے ہتھیاروں کو پرامن طریقے سے کند کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ابھی عالم اسلام نے اس کا شعور وادراک نہیں ہوا۔ اب بھی اگر عراقی عوام اور رہنما چاہیں تو اس مسئلے کا ایسا پرامن حل تلاش کرسکتے ہیں جس کے ذریعے عراق بھی متحد رہے اور امریکہ کو مزید ٹھہرنے کا بہانہ بھی نہ ملے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ شیعہ، سُنی اور کُرد رہنما آپس میں مل بیٹھیں اور صوبائی خودمختاری کی حدودطے کرلیں۔ اگر یہ تینوں فریق آپس میں ایک دوسرے کے لیے لچک پیدا کرکے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر عمل کرنے کا عزم کرلیں تو ایک پرامن عراق وجود میں آسکتا ہے۔ پھر یہ سب لوگ مل کر امریکہ سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ چونکہ عراق میں آئین اور قانون کی عمل داری پوری طرح بحال ہوگئی ہے، اس لیے اب یہاں سے امریکی افواج کو چلے جانا چاہیے۔ لیکن کیا اہل عراق نے جمہوری کلچر سے یہ وابستگی، عراق کے وسیع تر مفادات کا ادراک اور اپنی انا کی قربانی کا جذبہ سیکھ لیا ہے؟