اسرائیل کی تعمیر میں امریکہ کا کردار

اسرائیل کی تخلیق اصلاً برطانیہ کی مرہون منت ہے۔اور اسرائیل کی تعمیر میں یہودیوں کی اَن اتھک جدوجہد کے ساتھ ساتھ امریکی یہودیوں کا پیسہ اور حکومت امریکہ کی مسلسل مادی واخلاقی امداد بھی شامل ہے۔
فی الوقت یہودیوں کی سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں بستی ہے جن کی تعداد باون(52)لاکھ ہے۔اس کے بعد اسرائیل کا نمبر آتا ہے جہاں اڑتالیس(48)لاکھ یہودی بستے ہیں۔امریکی یہودی انتہائی بااثر اور مالدار ہیں۔ہراہم ادارے میں ان کے بہت مضبوط لوگ ہیں۔دونوں سیاسی پارٹیوں میں اہم ترین عہدوں پر وہ فائز ہیں۔اگرچہ ان یہودیوں کے اندر بہت سے معاملات پر بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں تاہم اسرائیل کی سلامتی،بقا،تحفظ اور تعمیر کے معاملے میں وہ سب پوری طرح متحد ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی امریکی حکومت کے لئے اسرائیل کی مخالفت کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قیام کے پہلے دن سے ہی اسے امریکی امداد کی فراہمی شروع ہو گئی۔یہ امداد دوشکلوں میں ہے۔ایک شکل امریکی یہودیوں کی طرف سے اسرائیل کو براہ راست رقم کی فراہمی اور دوسری شکل امریکی حکومت کی طرف سے ریاستی سطح پر امداد۔امریکہ کی طرف سے سب سے زیادہ امداد اسرائیل کوملتی ہے۔بلکہ یہ کسی بھی ملک کی طرف سے کسی بھی ملک کو ملنے والی سب سے زیادہ امداد ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اگراسرائیل کوکوئی مسئلہ درپیش آجائے مثلاً کسی جنگ میں اس کے اخراجات ہو جائیں توامریکہ فوراً اس نقصان کو پورا کردیتا ہے۔اسرائیل نے جان بوجھ کر اپنے ملک میں ایسی طرز معاشرت رکھی ہوئی ہے کہ اگر امریکہ سے کوئی سیاح اسرائیل چلا جائے تو اسے کسی غیریت کا احساس نہ ہو۔اس معاملے میں اسرائیل نے یہودی نظامِ اخلاقیات کی تمام پابندیوں کی دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں۔درحقیقت اسرائیل نے ایک بڑے عرصے سے یہ شعوری فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کا رکھوالا ہوگا اور عملاً امریکہ کے اکیاون ویں (51st) ریاست کی حیثیت سے زندگی گزارے گا۔ چنانچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے، تاہم ہمیں اس کا شعور ہونا چاہئیے کہ مستقبل قریب میں بھی اسرائیل کے لئے امریکی امداد یونہی جاری رہے گی۔


چند اہم نکات:

اب تک کی بحث سے چند اہم نکات ہمارے سامنے آتے ہیں:
*اسرائیل کی تخلیق برطانیہ نے کی اور اس کی تعمیر میں امریکہ نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔
*مسلمانوں کی خود غرضی،کوتاہ اندیشی،غلط فیصلوں،عدم جمہوریت اور حقائق کی بنیاد پرحکمت عملی نہ بنانے کی روش نے اسرائیل کے قیام کو آسان اور اس کی تعمیر کو آسان تربنا دیا ہے۔مثلاً اگر سلطنت عثمانیہ میں جمہوریت اور صوبائی خود مختاری ہوتی،اگر وہ ہوا کا رخ بھانپ کر عرب مقبوضات کو آزادی دے دیتی اور اگر ترکی کی حکومت پہلی جنگ عظیم میں کود نہ پڑتی تو اسرائیل کا قیام ناممکن حد تک مشکل ہوتا۔
*عربوں کی نااتفاقی ، عاقبت نا اندیشی اور اپنے ذاتی مفادات کے لئے اجتماعی مقاصد کو قربان کرنے کی روش نے بھی اسرائیل کی تعمیر اور تسلسل میں پورا کردار ادا کیا۔مثلاً پہلی جنگ عظیم میں عربوں نے برطانیہ کی حمایت کی۔قیام اسرائیل کے وقت فلسطینی ریاست نہ بننے کے معاملے میں اسرائیل اور اردن کے شاہ عبداللہ نے باقاعدہ خفیہ معاہدہ کیا۔پچھلے پچاس سال میں تمام عرب مسلسل آپس میں لڑتے رہے۔اردن اور مصر نے فلسطینی ریاست پرقبضہ کیااور اپنے زیرقبضہ علاقے میں فلسطینی ریاست نہ بننے دی۔سادات نے اسرائیل سے گفت وشنید میں صحرائے سینا تو واپس لے لیا ،مگر غزہ کا علاقہ بدستور اس کے قبضے میں رہنے دیا، حالانکہ وہ علاقہ اسرائیل نے مصر سے ہی چینا تھا۔
*فلسطین کے معاملے میں عربوں نے ہمیشہ حکمت عملی اور زمینی حقائق کے خلاف قدم اٹھایا۔1917ء میں اعلان بالفور اور سائی کس پیکاٹ معاہدہ منظر عام پر آچکا تھا۔یہی وہ وقت تھا جب عربوں کوانگریزوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر ایک قابلِ عمل معاہد ہ کر لینا چاہئیے تھا۔اس وقت عربوں اور انگریزوں کی طاقت میں ایک نسبت ہزار کا فرق تھا۔اور جب یہ صورت ہو تو قابلِ عمل پرامن معاہدہ ہی کمزور قوم کے مفاد میں ہوتا ہے۔پھر 1948ء میں اگر عرب اقوام متحدہ کی قرار داد منظور کرلیتے تو آج کی نسبت ایک تہائی اسرائیل وجود میں آتا۔اس کے بعد بھی اگر عرب اپنے زیر قبضہ علاقہ میں فلسطینی ریاست بنادیتے تو اسرائیل سے گفت وشنید آسان ہوجاتی اور یروشلم بمعہ بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہتا۔اگر صدر ناصر مبالغہ آمیز دعوے نہ کرتے، اور مسلسل دھمکیاں دینے کے بجائے اپنی مملکت کے دفاع کی طرف توجہ دیتے تو 1967 ء کا سانحہ پیش نہ آتا۔اسی طرح فلسطینیوں کی طرف سے ہرمتشددانہ کاروائی نے ان کی آزادی کو مزید دور اور ان کے ممکنہ علاقے کومزید محدود کردیا ہے۔
*آج اسرائیل کم آبادی والی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے جس کے پاس سینکڑوں ایٹم بم بھی ہیں۔دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ٹیکنالوجی اور فی کس آمدنی لحاظ سے وہ دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔اردگرد کے تمام عرب ممالک کی مجموعی معاشی،فوجی اور اسلحی ذخائر سے اُس کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں۔کئی مسلمان ممالک بشمول اردن،مصر،تنظیم آزادئ فلسطین،قطر اور ترکی نے اسے تسلیم کیاہوا ہے اور ان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔
چنانچہ اب ہمیں اس امر پر غور وفکر کرنا ہے کہ موجودہ حالات میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کے لئے بہتر اور قابلِ عمل حل کیا ہے۔
اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں بیت المقدس اور یروشلم کی صورت حال کو سمجھنا ہوگا۔یروشلم اس شہر کا نام ہے جہاں یہ مقدس احاطہ ’’بیت المقدس‘‘کے نام سے موسوم ہے جسے ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے یہ ایک احاطے کا نام ہے جس کی لمبائی اندازاً پندرہ سو (1500) فٹ ہے اور چوڑائی اندازاً ایک ہزار(1000)فٹ ہے۔یہ دراصل وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمانؑ نے ایک بڑا عمارتی کمپلکس بنایا تھا جو ان کا سیکرٹریٹ تھا۔اس کی تعمیر کے ساڑھے تین سو برس بعد بابل کے بادشاہ نبو کد نظر نے اس کو تباہ کردیا۔اس کے تقریباً ستر سال بعد ان کو دوبارہ یہ جگہ تعمیر کرنے کی اجازت ملی اس لئے کہ اس وقت وہاں فارس کے بادشاہ کا قبضہ ہوچکا تھا۔اس کے بعد یہ جگہ کئی دفعہ مختلف حملہ آوروں کی طرف سے تباہی کا نشانہ بنتی اور بار بار تعمیر ہوتی رہی۔حتیٰ کہ پہلی بڑی تباہی کے ساڑھے چھ سو برس بعد یعنی 70ء میں رومی حکومت نے اس کو بالکل تباہ کردیا،یہود کا قتل عام کیا اور زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلاوطن کردیا۔اس تباہی میں ہیکل کی صرف مغربی دیوار کا ایک حصہ محفوظ رہ گیا۔یہی وہ دیوار ہے جسے اب دیوار گریہ (Wailing Wall) کہا جاتا ہے یعنی وہ جگہ جہاں یہودی آکر اپنی عظمت رفتہ کی یاد میں روتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے مقدس ترین جگہ اور ان کا قبلہ ہے۔
اس دوسری تباہی کے پانچ سوستر سال بعد یعنی 638ء میں مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے وقت میں یروشلم فتح کیا۔حضرت عمرؓ نے اس پوری جگہ کو،جہاں کوڑا کرکٹ پڑا ہواتھا،صاف کیا اور اس کے جنوب میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کردی۔یہی جگہ اب مسجد اقصیٰ ہے۔موجودہ مسجد اقصیٰ کی لمبائی تقریباًساڑھے چھ سو(650) فٹ اور چوڑائی اندازاًتین سو(300) فٹ ہے۔راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے وقت اُن کی اصل مسجد اسی جگہ واقع تھی،اسی لئے حضرت عمرؓ نے خاص اسی جگہ کو مسجد ٹھہرایا۔ورنہ وہ چاہتے تو اس تمام احاطے کو مسجد قرار دے سکتے تھے۔حضرت عمرؓ نے باقی احاطے کو عیسائیوں یا یہودیوں کے لئے ممنوع قرار نہیں دیا۔
درمیان میں اٹھاسی(88)سال کے ایک وقفے کے سوا پچھلے چودہ سوسال سے یہ پوری جگہ مسلمانوں کے قبضے میں رہی۔1967ء میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کرلیا۔تاہم حکومتِ اسرائیل نے مسجد پر قبضہ نہیں کیا ،بلکہ اس جگہ کی چابیاں حکومتِ اردن کے حوالے کردیں۔اس وقت سے لے کر اب تک مسجد کا کنٹرول یروشلم کے مسلم و قف کے پاس ہے۔
قبۃ الصخر ا:اس پورے احاطے کا ایک انتہائی اہم حصہ’’ قبۃ اصخرا ‘‘ہے۔اہم اس حوالے سے کہ اس بھی کے متعلق مسلمانوں کی معلومات بہت کم ہیں۔یہ دراصل ایک چٹان ہے جس کی اونچائی تقریباً پانچ فٹ ہے۔اس چٹان کے اردگرد لکڑی کا ایک کٹہرا ہے۔ اس کے اوپر ایک بڑا سبز گنبد ہے۔یہی وہ گنبد ہے جو ہر تصویر میں نظر آتا ہے اور جسے عام مسلمان لاعلمی کے باعث مسجد اقصیٰ کی گنبد سمجھتے ہیں۔یہ بالکل ایسی ہی ایک جگہ ہے جیسے ہمارے ہاں مزار اور گنبد والا مقبرہ ہوتا ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ یہاں مزار کے بجائے چٹان ہے۔گویا یہ کوئی مسجد نہیں بلکہ محض ایک یادگار ہے۔
اس کی تعمیر کی داستان بھی دلچسپ ہے ۔صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اس چٹان اور اس سے ملحق جگہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔یہاں نماز بھی نہیں پڑھی جاتی تھی۔اسے مسجد کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔یعنی یہ کوئی تقدس کی حامل جگہ نہیں تھی۔بعد میں بنو امیہ کے زمانے میں ولیدبن عبدالملک نے اس پر گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔دراصل اُس وقت مکہ معظمہ میں ولید کے مخالف عبداللہؓ بن زبیر کی حکومت تھی اور جو لوگ بھی باہر سے حج کے لئے جاتے تھے،ان سے ابن زبیر اپنی حکومت کی بیعت لیتے تھے۔چنانچہ ولید نے اپنی مملکت کے لوگوں کو حج پر جانے سے روک دیا اور یہاں اس چٹان کو ایک مقدس مقام قرار دیا تاکہ حج کے بجائے لوگ یہاں آئیں اور اس جگہ کا طواف کریں۔
جب بھی کسی جگہ کو باقاعدہ ایک مقصد کے تحت تقدس دی جاتی ہے تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی عظمت سے متعلق داستانیں لوگوں میں پھلائی جائیں اور اس کے متعلق قصے کہانیاں مشہور کی جائیں۔چانچہ قبۃالصخراکے متعلق بھی یہی ہوا ہے اور اس ضمن میں بہت سی احادیث بھی گھڑی گئیں۔اس طرح کی من گھڑت روایات کو احادیث کی چھ اہم ترین کتابوں میں سے کسی نے اپنے ہاں جگہ نہیں دی۔تمام اہل علم ان روایات کو انتہائی ضعیف قرار دیتے ہیں اور ابن القیم اور البانی جیسے علمائے حدیث ان کو جھوٹا اور من گھڑت کہتے ہیں۔
چونکہ خانہ کعبہ ،مسجد اقصیٰ سے جنوب کی طرف ہے۔اس لئے جب مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھتے ہیں تو ان کی پشت قبۃ لصخرا کی طرف ہوتی ہے۔یہ قبہ،مسجد اقصیٰ کی عمارت سے تقریباً پانچ سو(500)فٹ شمال میں ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں 28ستمبر2000ء کا اس وقت کے اسرائیل کے حزب اختلاف کے رہنما ایریل شیرون نے باہر سے دورہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں دوسرا انتفادہ اور فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
قارئین کو سمجھانے کے لئے اس پوری جگہ کا خاکہ دیا جا رہا ہے۔
یہاں تین اہم سوالات پر غور وفکر ضروری ہے۔ایک سوال یہ ہے کہ کیا سارا احاطہ بیت المقدس یعنی 1500x1000مربع فٹ جگہ مسلمانوں کا قدرتی،اخلاقی اور مذہبی حق ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔کیونکہ حضرت عمرؓ نے اس کا ایک ٹکڑا مسجد اقصیٰ کی شکل میں مسجد کے لئے مختص کردیا تھا۔باقی احاطے میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔چنانچہ آج بھی اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوجائے جس میں تمام مذاہب کے تقدس واحترام کو مدنظر رکھا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ پچھلے ساٹھ برس سے معرکہ فلسطین سے متعلق تصویر میں مسجد اقصیٰ کی تصویر تو کہیں نظر نہیں آتی اور ہمیشہ قبۃا لصخر ا کی تصویر ہی نمایاں ترین حصے کے طور پر سامنے لائی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی لیڈر شپ شروع سے ہی سیکولر لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔اس لئے انہوں نے دانستہ طور پر ایک مذہبی عمارت کو اپنا شعار بنانے سے گریز کیا۔بعد میں جب اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کو بھی آزادئ فلسطین کی تحریک میں اہمیت حاصل ہوگئی تو چونکہ ان پر بھی جذبات کا غلبہ تھا۔اس لئے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس پورے احاطے پر مسلمانوں کے علاوہ کسی کا حق نہیں۔چنانچہ انہوں نے بھی مسجد اقصیٰ کو نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا دینی اعتبار سے یہ ممکن ہے کہ ہم اس پوری زمین کے کسی حصے پر اسرائیل نامی ایک ریاست کو تسلیم کرکے قانونی طور پر یہودیوں کا یہ حق مان لیں کہ وہ بھی یہاں رہ سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اسرائیل کا وجود بے انصافی،ظلم اور جبر کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اور اس لحاظ سے اس کی اخلاقی حیثیت کچھ بھی نہیں۔تاہم اس دنیا میں بے شمار ممالک ظلم اور جبر ہی کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں اور ہم سیاسی حقیقت کے طور پر ان کا وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان سے معاملات کرتے ہیں، مثلاً ہم امریکہ پر ریڈ انڈین کے بجائے موجودہ سفید فام لوگوں کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔اسی طرح ہم سنکیانگ پر چین کی عمل داری تسلیم کرتے ہیں۔یہی حال اسرائیل کا ہے ۔دینی اعتبار سے ہمارے لئے کافی ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس تک پہنچنے کے راستے مسلمانوں کے قبضے میں ہوں تاکہ ہم اپنے اس تیسرے مقدس ترین مقام تک آسانی اورخود اعتمادی سے پہنچ سکیں۔باقی رہا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال،تویہ دینی نہیں بلکہ سیاسی ایشو ہے۔ مسلمان ممالک اس کے مثبت اور منفی اثرات کا معروضی جائزہ لے کر اس کا کوئی بھی مناسب فیصلہ کر سکتے ہیں۔ہماراکام تو یہ دیکھنا ہے کہ دستیاب حالات میں مسلمانوں کے لئے بہترین حکمت عملی کونسی ہے جس کے ذریعے مسلمان امن ووقار سے رہ سکیں اور ترقی کرسکیں۔


حل

مسئلہ فسطین کے حل میں اس وقت تین معاملات سب سے زیادہ اہم ہیں۔ایک یہ کہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی کا کتنا حصہ فلسطین کو دیا جائے۔دوسرا یہ کہ یروشلم کے مقدس مقامات کو کیسے تقسیم کیا جائے اور تیسرا یہ کہ جو فلسطینی 1948ء مہاجر ہوگئے تھے۔ان کی دوبارہ آباد کاری کہاں اور کیسے کی جائے۔جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے،انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ دونوں علاقے سو فیصد فلسطینی ریاست کی عمل داری میں دئے جائیں۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں علاقوں خصوصاً غرب اردن میں اسرائیل نے بہت سی یہودی آبادیاں تعمیر کر لی ہیں۔چنانچہ اگر ان میں سے کچھ آبادیوں پر فلسطین کی طرف سے لچک دکھائی جائے تو مناسب ہے ۔ویسے بھی فلسطینی ریاست کا اصل مسئلہ زمین نہیں ہے اس لئے کہ اردگرد کے عرب ممالک کے پاس بے تحاشہ علاقے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنے کچھ علاقے (مثلاً صحرائے سینا)فلسطین کے حوالے کرکے اسے اسرائیل سے کئی گنابڑا ملک بنا سکتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یروشلم کے مقدس مقامات کا ہے۔جیسا کہ قارئین کے مطالعے میں آچکا ،اس مسئلے کا قابل عمل حل موجود ہے۔وہ یہ کہ مسجد اقصیٰ اور یروشلم کا مسلم اکثریتی علاقہ،فلسطین کے حصے میں آئے اور دیوارِ گریہ،مغربی یہودی اکثریتی علاقے سمیت اسرائیل کو دیا جائے۔جہاں تک قبۃالصخرا کا تعلق ہے،اسے فلسطین اور اسرائیل کی مشترکہ عمل داری میں دیا جاسکتا ہے۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ اسرائیل ،اسے مکمل طور پر فلسطین کو دینے پر رضامند ہو جائے۔اس لئے کہ وہاں عام طور پریہودی زائرین نہیں جاتے۔اس پورے رقبے جسے ’’الحرم الشریف‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کا ایک قابلِ عمل حل یہ بھی ہے کہ اسے سب زائرین کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے اور اقوام متحدہ کی ضمانت کے ساتھ اس رقبے پر اسرائیل اور فلسطین کی یکساں عمل داری ہو۔ 
تیسرا مسئلہ ان لاکھوں فلسطینیوں کا ہے جو 1948ء میں مہاجر ہوگئے تھے۔انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان سب کو واپس اپنے اپنے گھروں کو آنے کی اجازت دی جائے۔ان کے سابقہ گھر موجودہ اسرائیل میں واقع ہیں۔تاہم اسرائیل کبھی یہ بات نہیں مانے گا، اس لئے کہ اس طرح اسرائیل میں یہودی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔یہ تاریخ کا ایک سفاک جبر ہے کہ مہاجرین کے لئے عموماً واپس اپنے علاقے میں جانا ممکن نہیں ہوتا۔مثلاً افغانستان سے روسی افواج کو نکلے ہوئے پندرہ برس ہو چکے، مگر افغان مہاجرین ابھی تک پاکستان میں ہی ہیں۔بنگلہ دیش میں پچھلے تیس برس سے لاکھوں بہاری،مہاجر کیمپوں میں زندگی بسر کررہے ہیں، مگر پاکستان ان کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔یہی صورت فلسطینی مہاجرین کی ہے۔ان کی آباد کاری کی سب سے قابل عمل صورت یہ ہے کہ ان کو فلسطینی ریاست میں آباد کیا جائے اور اس کی ذمہ داری اقوام متحدہ اٹھائے۔
امت مسلمہ کی ترقی کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ فلسطین میں امن قائم ہوجائے۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اس امن کی قیمت ادا کرکے اسے خرید لیں۔