اکتوبر1956ء میں اسرائیل نے صحرائے سینا اور غزہ کی پٹی پر حملہ کر کے انہیں دو دن کے اندر فتح کر لیا۔دو دن بعد برطانیہ اور فرانس کی فوجیں،پہلے سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت،نہر سویز میں اتر گئیں اور اس پر قبضہ کر لیا۔اس مداخلت پر امریکہ نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور صدر روز ویلٹ کے الٹی میٹم پرقابض افواج یہ جگہیں خالی کرنے پر مجبور ہو گئیں۔اس سے عربوں خصوصاً مصر کو یہ سبق حاصل ہونا چاہئیے تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں وہ کتنے کمزور ہیں اور اپنی کمزوری دور کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئیے تھی۔مگر اس کے برعکس اس پورے عرصے کے دوران میں تمام عرب ریاستیں آپس میں لڑتی بھڑتی رہیں۔مصر اور سعودی عرب کی افواج کئی برس تک یمن میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں۔کچھ عرب ممالک امریکی کیمپ میں شامل تھے اور کچھ روس کے گن گاتے تھے۔بذات خود روسی اور امریکہ دونوں اسرائیل کے پورے پورے پشتی بان تھے۔
جون 1967ء میں ایک اور عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔اس وقت مصر کے صدر جمال عبدالناصر تھے، جوبلا ضرورت نعرے بازی،دھمکیوں اور پرجوش تقریروں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔اُن کا تکیہ کلام ہی یہ تھا کہ ہم اسرائیل کو اٹھا کر بحیرہ روم میں غرق کردیں گے۔مئی کے اواخر اور جون کے شروع میں انہوں نے ہر جگہ یہ کہنا شروع کیا کہ ہم اسرائیل سے جنگ کے لئے تیار ہیں اور بس اسرائیل پر ہمارا حملہ ہوا ہی چاہتا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بحیرہ روم میں تمام بحری جہازوں کی آمدورفت رکوا دی۔اقوام متحدہ کے امن مشن کو،جو اسرائیل اور مصر کی سرحدات پر موجود تھا،باہر نکال دیا اور کہا کہ ہم اسرائیل پر حملے کے لئے اپنی افواج جمع کر رہے ہیں۔
بجائے اس کے کہ عرب ممالک اسرائیل پر حملہ کرتے،پانچ جون 1967ء کو اسرائیل نے نہایت خاموشی سے تینوں عرب ملکوں یعنی مصر،شام اور اردن پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ایک دن کے اندر اندر اس نے ان تینوں ممالک کے تمام ہوائی جہازوں کو ختم کر دیا اور سب ہوائی اڈے تباہ کر دئے۔چھ دن کے اندر اندر اسرائیل نے مصر سے سار ی غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا چھین لئے۔صحرائے سینا کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے، یعنی بذاتِ خود اسرائیل کے رقبے سے تین گنا زیادہ۔خود صدر ناصر کے مطابق اس وقت سویز کینال سے لے کر قاہرہ تک مصری فوج کا ایک سپاہی بھی موجود نہ تھا۔اور اگر اسرائیلی فوج چاہتی تو آسانی کے ساتھ قاہرہ پر قابض ہو سکتی تھی۔اس کے ساتھ اسرائیل نے اردن سے دریائے اردن کا سارا مغربی کنارہ بشمول یروشلم اپنے قبضے میں کر لیا اور شام سے گولان کی پہاڑیاں،جن کا رقبہ ایک ہزار ایک سو پچاس مربع کلو میٹر ہے،چھین لیں۔گویا اس جنگ میں اسرائیل نے سارے کے سارے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔
چھ اکتوبر1973ء کو مصر کے صدر انور السادات اور شام نے بیک وقت اسرائیل سے اپنے مقبوضہ علاقے واگزار کرانے کے لئے اس پر حملہ کیا۔ابتدا میں ان دونوں کو کامیابی ہوئی۔مگر امریکہ کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کی بہت بڑی اسلحی امداد نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔شام کے محاذ پر اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا اور سویز کے محاذ پر اس کی افواج مغربی ساحل پر بھی اتر گئیں۔اسی جنگ پر بعدمیں تبصرہ کرتے ہوئے انورالسادات نے کہاکہ اس جنگ سے مجھے یہ احساس ہو گیا کہ میں اسرائیل سے تو لڑ سکتا ہوں مگر امریکہ سے نہیں لڑ سکتا۔
1978ء میں سادات نے امریکی ثالثی کے ذریعے کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل سے سمجھوتہ کیا، جس کے تحت اسرائیل نے صحرائے سینا خالی کر دیا۔گویا سادات نے مصر کا علاقہ تو واپس لے لیا مگر فلسطین کا جو پورا علاقہ اس کے پاس تھا یعنی غزہ کی پٹی اور جسے اسرائیل نے 1967ء میں قبضہ کر لیا تھا،اسے اس نے اسرائیل ہی کے قبضے میں رہنے دیا۔ان مذاکرات میں شام اور فلسطین کے لیے خالی کرسیاں رکھی جاتی تھیں، مگر شام اور تنظیم آزادئ فلسطین نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کیا۔ بعد میں ان دونوں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا۔ گویا ان دونوں طاقتوں کو چاہیے تھا کہ وہ بھی اُس وقت مذاکرات میں شریک ہوجاتیں۔ تاہم مصر کے لیے بھی یہ بات بہت نامناسب تھی کہ غزہ کا جو علاقہ اسرائیل نے اُس سے چھینا تھا، اُس کا ذکر اور فیصلہ مذاکرات میں آیا ہی نہیں۔ 
یوں تو فلسطین کی لا تعداد سیاسی اور عسکری تنظیمیں قائم ہوئیں۔مگر ان میں سب سے اہم پی ایل او ہے۔جس کا قیام 1964ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔اس کے بنیادی چارٹر میں یہ بات شامل تھی کہ سارا فلسطین (بمعہ اسرائیل) فلسطینیوں کا ہے اور یہودیوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔اس تنظیم کے عسکری بازو کو ’’فلسطین لبریشن آرمی‘‘ کانام دیا گیا۔الفتح کی بنیاد 1957ء میں رکھ دی گئی تھی۔1967ء سے لے کر 1970ء تک مختلف مسلح فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کے خلاف بہت سی گوریلا کاروائیاں کیں۔ستمبر1970ء اور جولائی1971ء میں ان مسلح تنظیموں کی اردن کی افواج سے لڑائی ہو گئی جس کے نتیجے میں انہیں اردن سے نکال دیا گیا۔اسی طرح لبنانی فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد وہاں بھی ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔اس کے بعد مصر اور شام نے بھی اپنی سرحدوں کی طرف سے ان کی مسلح کاروائیوں پر پابندی لگا دی ۔1987ء میں اسرائیل نے لبنان میں موجود فلسطینی گوریلوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اسی(80)دن تک ایک آپریشن کیا جس کے بعد ایک معاہدے کے تحت چھ ہزار فلسطینی جنگجوؤں کو یمن،تیونس،الجزائر اور سوڈان کے دور دراز کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ان تمام ناکامیوں کی وجہ سے پی ایل اونے اسرائیل کو ختم کرنے کا نکتہ واپس لے لیا۔اور اس کے ساتھ پرامن طریقے سے ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنا مقصد بنا لیا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عسکریت کیوں ناکام ہوئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ پی ایل او ایک تنظیم ضرور تھی، بلکہ تقریباً ایک سو تنظیموں کا ایک اتحاد تھی، مگر اس کی پشت پر کوئی ایسی ریاست نہیں تھی جو کھلم کھلا اس کو اپناتی اوراسرائیل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی۔اس لئے ایک ایک کرکے تمام عرب ممالک نے اس کو اپنے سے دور(یعنیdisown)کیا۔یہ تنظیم اپنے مسلح حملوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی تھی کہ اسرائیل کو تنگ کرے۔
دوسری طرف پی ایل او کواس اتحاداور ایک متفقہ لیڈر یاسر عرفات چننے کا بڑا سیاسی فائدہ پہنچا۔1974ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور اس کے حق خودارادیت کے لئے کئی قرار دادیں منظور کیں۔
19اگست 1993ء کو اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان ’’اوسلوامن معاہدہ‘‘ ہوا۔اس معاہدہ پر گواہوں کی حیثیت سے امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے دستخط کئے۔یہ معاہدہ دوسال کے خفیہ مذاکرات کے بعد طے پایا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو نظری اعتبار سے تسلیم کر لیا۔اس معاہدے کا منفی نکتہ یہ ہے کہ اس میں ایک پیچیدہ اور بہت آہستہ رو طریقہ کارکے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات تفویض کئے جانے تھے۔ظاہر ہے کہ ایک ایسے علاقے میں جو انتہائی حساس ہو، جہاں بیسوں نقطہ نظر کے لوگ بستے ہوں،جہاں لاکھوں لوگوں کے پاس اسلحہ ہو،جہاں پرہر کوئی دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہو،وہاں ایک تنظیم کو بہت محدود قسم کے اختیارات تفویض کئے جائیں اور اس سے یہ توقع رکھی جائے کہ ان اختیارات سے کام لے کر اپنے لوگوں کو قابو کرے گی۔ایسی توقع رکھنا بالکل غلط ہے۔اس سے تو حالات کو مزید پیچیدہ ہونا تھا اور نئے نئے مسائل جنم لینے تھے۔اس کے بجائے صحیح طریقہ کا ریہ تھا کہ فلسطینی وفد اس بات پر اصرار کرتا کہ فلسطینی حکومت کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر مکمل اختیار دے کر یہ ریاست تسلیم کر لی جائے اور اسی طریقے سے یہ ریاست وجود میں آجائے،جس طرح ریاستیں وجود میں آیاکرتی ہیں۔بے شک یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے لیکن اس موقف سے انحراف نہ کیا جاتا۔
راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ اسرائیل جانتا تھا کہ اتنے پیچیدہ طریقِ کار کا کیا نتیجہ نکلناہے، لیکن اس نے جان بوجھ کر فلسطینی وفد کو پھنسایا تاکہ فلسطینی اتھارٹی ناکام ہو جائے اور آخری حل میں اسرائیل کو مزید رعایتیں اور غرب اردن کی مزید زمین مل جائے۔فلسطین وفد اس جال میں پوری طرح پھنس گیا۔اس معاہدے کا دوسرا منفی نکتہ یہ تھا کہ اس میں حساس ترین مسئلے یعنی یروشلم کی تقسیم اور دیوار گریہ اور قبۃ لصخر ۃ کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ان کے بغیر بھلا مذاکرات کا کیا مطلب تھا۔چنانچہ اس معاہدے پر عمل درآمد میں دونوں فریقوں کی طرف سے ناکامی ہوئی اور حالات مزید بگاڑ کی طرف چلے گئے۔


حماس اور پہلا انتفاضہ:

دسمبر 1987ء میں حماس کے نام سے ایک ایسی مزاحمتی تحریک سامنے آئی جو اپنے جذبات کی آ بیاری اسلام سے کرتی ہے۔اس کے رہنما جسمانی طور پر معذور لیکن انتہائی باصلاحیت شیخ احمد یاسین تھے۔اس تنظیم کے کارکن اجتماعی اخلاقیات کے اعتبار سے دوسری تنظیموں سے بہت ممتاز تھے،اس لئے اسے جلد مقبولیت حاصل ہو گئی۔اگلے سال اس تحریک نے انتفاضہ یعنی مزاحمت شروع کی۔اس کی مزاحمت کا انداز اچھوتا تھا۔بچوں،خواتین اور نوجوانوں کے پاس چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے جنہیں وہ اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر پھینکتے۔ظاہر ہے اس سے ان ٹینکوں کا تو کچھ نہ بگڑتا مگر اس سے اس مزاحمت کی مظلومیت،اس کا برحق ہونا اور اس کا عزم بھر پور طریقے سے ظاہر ہوجاتا۔یہ بین الاقوامی طورپر اپنے آپ کو منوانے اور عوام کو متحد،منظم اور پرعزم رکھنے کا نہایت اچھا ذریعہ تھا۔یہ تحریک اصلاًعدم تشدد کی تحریک تھی۔اسی لئے ہمیشہ اس تحریک کے لوگ تو شہید ہوتے رہے لیکن اس نے کسی اسرائیلی بچے یا خاتون پر تشدد نہیں کیا۔اس سے اس تحریک کی اخلاقی ساکھ پوری دنیا میں بیٹھ گئی۔
اس راقم کے نزدیک یہ اپنی اصل میں نہایت قابل قدر تحریک تھی،تاہم اس کے دو اجزا صحیح نہیں تھے۔ایک یہ کہ اس تحریک کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔درپیش صورت حال میں یہ ناقابل عمل بات تھی۔دوسرایہ کہ ٹینک کو پتھر مارنا بذات خود عدم تشدد ہے لیکن اس میں تشدد کے جراثیم موجود تھے۔یہ اقدام کسی بھی وقت اس سے کسی اگلے قدم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔عدم تشدد کی صحیح حکمت عملی موجود دنیا میں وہی ہے جو گاندھی،قائداعظم اور نیلسن منڈیلانے استعمال کی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس تحریک کے پہلے چار سالوں میں اس میں عوام کی شرکت اور اس کی اخلاقی ساکھ فقید المثال رہی۔لیکن آخری دوسالوں میں اس نے بھی دوسری تنظیموں کی طرح مسلح اقدامات شروع کردئے ۔ جس سے فلسطینی عوام آپس میں بری طرح تقسیم ہوگئے۔ 


فلسطینی اتھارٹی کا اقتدار

5جولائی 1994ء کو فلسطینی انتظامیہ نے دستوری حلف اٹھایا۔اس کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے سامنے چند بڑے مسائل نے جنم لیا۔پہلا مسئلہ یہ تھا کہ حماس اور اسلامی جہاد غرب اردن اور اسرائیل کے اندر مسلح کاروائیاں کر رہی تھیں۔اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ ان کاروائیوں کو روک دیا جائے۔فلسطینی اتھارٹی کے پاس ان کو روکنے کی کوئی طاقت نہیں تھی چنانچہ اسرائیل نے اس کو بہانہ بناکر اسے ا وسلو معاہدے پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ٹیکس جمع کرنا،امن برقرار رکھنا،مجرموں کو سزائیں دینا ایسے کام ہیں جن سے عوامی مقبولیت میں کمی آتی تھی۔چنانچہ عوام کی طرف سے بھی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون نہیں تھا۔
بدقسمتی سے جس طرح عام طور پر مسلمانوں میں آمریت کے جراثیم ہیں،وہی حال یاسر عرفات اور اس کی پوری ٹیم کا ہوا۔اتھارٹی نے اپنے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دیا۔کرپشن بہت بڑھ گئی۔علاقہ ایک پولیس سٹیٹ کا منظر پیش کرنے لگا۔کاروبار خراب ہو گئے۔چنانچہ اس اتھارٹی کی بین الاقوامی اور اندرونی پوزیشن بہت خراب ہو گئی۔اور اسرائیل کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ اس صورت حال کو ایکسپلا یٹ کرے۔
تاہم اس معاہدے کے کچھ فوائد بھی ہوئے۔ اگر فلسطینی قوم متحد رہتی اور فلسطینی اتھارٹی کی فروگزاشتوں پر تنقید کرتے ہوئے خالصتاً عدم تشدد سے کام لیتی تو بعد کی آزمائش اور مصیبتیں کم ہو سکتی تھیں۔مثلاً اس معاہدے کے بعد فلسطینی ریاست کو دنیا کو دوتہائی ممالک نے تسلیم کر لیا۔نوے فیصد فلسطینی عملاً اسرائیل کے قبضے سے آزاد ہوگئے اور اب ہر فلسطینی کے پاس اسرائیلی پاسپورٹ کے بجائے فلسطین کا پاسپورٹ ہے۔تاہم حماس نے اس درمیان میں خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔اس صورت حال سے اسرائیل کی انتہاپسند لیکوڈ پارٹی نے فائدہ اٹھایا اور 1996ء میں وہ انتخابات جیت گئی جس سے فلسطینیوں کے راستے میں مزید مشکلات پیدا ہو گئیں۔
جولا ئی2000ء کے مذاکرات
جولائی 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر کلنٹن کے ذریعے یاسر عرفات اور اسرائیل کے اعتدال پسند لیبر پارٹی کے وزیراعظم ا یہود بارک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔یہ مذاکرات کئی دن جاری رہے۔کلنٹن نے ان مذاکرات کی کامیابی کی سرتوڑ کوشش کی مگر یہ کامیاب نہ ہوسکے۔ناکامی کی اصل وجوہات دوتھیں ایک یہ کہ یروشلم کے معاملے میں یاسر عرفات کا رویہ غیرلچکدار تھا۔اور دوسرا یہ کہ ا یہود بارک نے اُن چھ لاکھ (جن کی تعداد اب بہت بڑھ چکی ہے)فلسطینی مہاجرین کو واپس لینے سے انکار کردیا جو 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بے گھر ہوگئے تھے۔بالآخر کلنٹن نے ایک فامولہ پیش کیا،جس کے مطابق مسجد اقصیٰ اورمشرقی یروشلم فلسطین کے پاس ہوتا اور دیوار گریہ سمیت مغربی یروشلم اسرائیل کے پاس ہوتا۔واضح رہے کہ مشرقی یروشلم میں دولاکھ فلسطینی بستے ہیں اورمغربی یروشلم میں ساڑھے چار لاکھ یہودی بستے ہیں ۔مہاجرین کے متعلق کلنٹن کی تجویز تھی کہ انہیں فلسطینی ریاست میں آباد کیا جائے اور ان کی آباد کاری کے سارے اخراجات امریکہ برداشت کرے گا۔یہ فارمولہ ا یہود بارک نے منظور کرلیااور یاسر عرفات نے اسے مسترد کردیا، چنانچہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔
راقم کے نزدیک یہ فلسطینیوں اور یاسر عرفات کی سب سے فاش غلطی تھی۔انہیں جو کچھ مل رہا تھا،اس سے زیادہ ملنا مستقبل قریب میں ناممکن تھا۔
اس حل کے بارے میں تفصیلی بحث ہم بعد میں کریں گے، جب بیت المقدس، قبۃالصخرا، دیوار گریہ اور مسجد اقصیٰ جیسی اصلاحات کی وضاحت کی جائے گی۔


28دسمبر کے بعد دوسرا انتفاضہ

مذاکرات کی ناکامی سے معتدل وزیراعظم ایہود بارک کی اپنے ملک میں مقبولیت کم ہوگئی اس لئے کہ وہ اس وعدے پر برسراقتدار آیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔اس کی اس کم ہوتی ہوئی مقبولیت سے اس کے حریف لیکوڈ پارٹی کے لیڈر ا یریل شیرون نے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔چنانچہ اس نے یہ اعلان کیا کہ وہ 28دسمبر2000ء کو قبۃ الصخرا کا باہر سے دورہ کرے گا۔واضح رہے کہ اس کا یہ دورہ مسجد اقصیٰ کا نہیں تھا۔مسجد اقصیٰ کی نگرانی آج بھی اردن کی وزارت اوقاف کے پاس ہے۔قبۃالصخرا ایک چٹان کے اوپر گنبد کا نام ہے۔ ( یہی وہ گنبد ہے جس کی تصویرکو لوگ عام طور پر غلطی سے مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں)۔جس کی ایک تاریخی اہمیت ضرور ہے مگر اس کی کوئی دینی اہمیت نہیں۔اس طرح ایرل شیرون دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ایک یہ کہ وہ اسرائیلی عوام کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف،ا یہود بارک کے برعکس،ایک سخت موقف اختیار کرنے والا فرد ہے۔دوسرا وہ اس طریقے سے فلسطینیوں کو اشتعال دلانا چاہتا تھا تاکہ ہنگامے ہوں،حالات ا یہود بارک کے کنٹرول میں نہ رہیں اور اسے نئے نتخابات کروانے پڑیں۔
سوال یہ ہے کہ اس وقت کونسی حکمت عملی فلسطینی عوام کے حق میں بہتر تھی؟۔کیا انہیں اشتعال میں آنا چاہےئے تھا؟اور یا انہیں شیرون کی چال ناکام بنانی چاہئیے تھی؟ظاہر ہے ان کے حق میں صحیح حکمت عملی یہ تھی کہ وہ اس دورے کی زبانی کلامی خوب مذمت کرتے، مگر کوئی متشددانہ اقدام نہ کرتے تاکہ شیرون کی سازش ناکام ہو جاتی۔مگر فلسطینی، شیرون کی چال میں آگئے۔اگلے دن سے ایک نیا انتفاضہ شروع ہو گیا۔پرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے۔اگلے چند دن مہینوں میں ان ہنگاموں میں سینکڑوں فلسطینی اور بیسویں یہودی کام آئے۔بالآخر ایہود بارک کو نئے انتخابات کا اعلان کر نا پڑا، جس میں شیرون نے باسٹھ(62)فیصد ووٹ لے کر ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔
شیرون کی کامیابی کے بعد اسرائیل کی طرف سے ظلم وبربریت کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔فلسطینیوں کی طرف سے ہر تشدد کا اسرائیل کی طرف سے دس گنا ردعمل کے ساتھ جواب دیا گیا۔کئی کئی دن تک یاسر عرفات کے دفتر کا محاصرہ کیا گیا۔اس کے دفتر کی بجلی اور پانی کو بند کر دیا گیا۔حتیٰ کہ اس کے لئے خوارک کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔بلڈوزروں کے ذریعے مشتبہ افراد کے گھر مسمار کردئے گئے۔
اسی دوران میں فلسطینیوں کی طرف سے خود کش حملے شروع ہو گئے۔یوں تو اس سے بہت پہلے سے اکاد کا خودکش حملے جاری تھے، مگر اب باقاعدہ ایک ترتیب کے ذریعے یہ کئے گئے۔کچھ خود کش حملے تو براہ راست فوجی تنصیبات پر کئے گئے لیکن کئی حملے سول جگہوں مثلاً ریستوران،بسوں اور عام علاقوں میں کئے گئے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل کے اندر خوف کی ایک فضا بن گئی۔اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ باقی دنیا نے اسرائیل کے خلاف ان خودکش حملوں کی مذمت کردی۔
ٍ یہ خودکش حملے حکمت عملی اور اصول دونوں کے خلاف تھے۔خودکش حملوں کے لئے وہی انسان اپنے آپ کو پیش کرتا ہے جو انتہائی پرعزم اور بہادر ہو۔ایسے ہی لوگ کسی تحریک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جب اپنی جان،جان آفرین کے سپرد کردیتے ہیں تو یہ تحریک کے لئے ایک بڑا نقصان ہوتا ہے۔پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ایسے حملوں کی رفتار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اصولی اعتبار سے بھی یہ حملے غلط ہیں۔ خصوصاً جب یہ حملے غیر فوجی تنصیبات کے خلاف ہوں اور اس میں عام لوگ ہلاک ہوں توعام انسان کا ضمیر بھی اسے گوارا نہیں کرتا۔
ایسے حملوں کا توڑ کرنے کے لئے حریف طاقتیں بھی اپنی حکمت عملی بنا لیتی ہیں۔اسرائیل نے اس سے نمٹنے کے لئے یہ حکمت عملی اپنائی کہ خودکش حملہ آورں کاگھر مسمار کر دیا اور ا ن کے رشتہ داروں کو جلاوطن کردیا۔ظاہر ہے کہ اسرائیل کا یہ طرز عمل بہت ظالمانہ اور غلط تھا۔مگر بہر حال اس سے یہ خودکش حملے آہستہ آہستہ تھم گئے۔
انتفاضہ کا یہ دوسرا دور کسی مثبت نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔اس سے فلسطینیوں کے جان ومال کا بڑا نقصان ہوا۔اور یہ بات صاف واضح ہو گئی کہ اس سے پہلے اسرائیل فلسطینی ریاست کے لئے جتنی زمین دینے کے لئے تیار تھا،اب وہ ان سے بھی سخت تر شرائط پر معاملہ کرے گا۔


امریکہ کا نیا روڈ میپ 

امریکہ نے یہ الزام لگایا کہ امن منصوبے کے راستے میں اصل رکاوٹ یاسر عرفات ہے اور جب تک وہ کسی اور فرد کو وزیراعظم نامزد نہیں کرلیتا،تب تک امریکہ اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔چونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اگرچہ امریکہ،اسرائیل کا پشتی بان اور حمایتی ہے، لیکن اس کے بغیر یہ مسئلہ حل توکیا،ایک انچ آگے بھی نہیں سرک سکتا، ملکہ مسلسل فلسطینیوں کے لئے مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس لئے یاسر عرفات پر ہر طرف سے یہ دباؤ پڑا کہ ایک بااختیار وزیراعظم مقرر کرے۔چنانچہ اس نے اپنے ایک قریبی ساتھی محمود عباس (ابومازن) کووزیراعظم نامزد کیا۔یہ نام امریکیوں کوبھی قبول تھا۔اس لئے انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور صدر بش نے مشرق وسطیٰ کے لئے اپنا روڈمیپ دے دیا۔اس روڈ میپ کے مطابق اگلے دوبرس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں آ ناتھا اور اس مقصد کے لئے ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں ہراہم مرحلے پراسرائیل اور فلسطین کو ایک ایک قدم لینا تھا۔اس روڈ میپ میں تین اہم ترین مسائل یعنی فلسطینی مملکت کی حدود،یروشلم کا مستقبل اور فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کا کوئی حل نہیں دیا گیا۔ظاہر ہے کہ اصل حل کا انحصار تو انہی مسائل پر ہے۔یہ روڈ میپ یاسر عرفات کے ساتھ ساتھ شیرون کو بھی منظور نہیں تھا۔لیکن امریکہ کے دباؤ پر دونوں فریقوں کو یہ منظور کرنا پڑا۔اس روڈ میپ کے بعد دونوں طرف سے تشدد کا سلسلہ کسی حد تک کم ہوگیا۔اسرائیلی فوج کچھ شہروں سے نکل گئی۔تاہم عمل درآمد کی رفتار تسلی بخش نہیں ۔اسرائیل کی طرف سے غرب اردن اور غزہ کو اسرائیل سے علیحدہ کرنے والی بہت بڑی دیوار کے منصوبے نے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دیوار اس لئے تعمیر کی جارہی ہے کہ تخریب کاروں پر نظر رکھی جاسکے۔فلسطین کا کہنا ہے کہ یہ دیوار جان بوجھ کر اس طرح تعمیر کی جارہی ہے کہ غرب اردن اور غزہ کا زیادہ سے زیادہ علاقہ اسرائیل اپنے ساتھ شامل کرسکے اور بالآخر یہی دیوار سرحد بنے۔
فی الوقت اس روڈ میپ کا ذکر بالکل ہی غائب ہوگیا ہے، اس لیے کہ حالات کی پیچیدگی کی وجہ سے مذاکرات کا سارا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ خودکش حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو یہ بہانہ مل گیا کہ چونکہ فلسطینیوں کی طرف سے روڈ میپ کی پابندی نہیں کی جارہی، اس لیے اب وہ بھی اس کا پابند نہیں ہے۔ اسرائیل نے فلسطینی جنگجو تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہتے فلسطینیوں کے خلاف بہت بڑی کاروائیوں کا آغاز کردیا اور یہ سلسلہ ابھی تک وقتاً فوقتاً جاری ہے۔ 
یوں لگتا ہے کہ امریکی روڈ میپ اپنی موت آپ آچکا ہے۔ اس وقت مکمل تعطل کی صورت ہے۔ متفقہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات گیارہ نومبر2004ء کو فوت ہوگئے۔ اسی دوران میں اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی سے اپنی فوج واپس بلالے گا اور وہاں موجود یہودی نوآبادیوں کو ختم کردے گا۔ اس فیصلے سے اسرائیل کا مقصد یہ تھا کہ غزہ کی پٹی کی طرف سے اُس پر خودکش حملے بند ہوجائیں۔ واضح رہے کہ زیادہ تر خودکش حملے غزہ کی پٹی کی طرف سے ہوتے تھے۔ چنانچہ 2005ء میں اسرائیل نے غزہ کے علاقے کو عملاً آزاد کردیا۔ 
اسی اثناء میں فلسطین کے اندر نئے انتخابات کا وقت قریب آگیا۔ اس انتخاب میں دو بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں، یعنی الفتح اور حماس۔ الفتح اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرکے اُس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے فلسطینی ریاست بنانے کے حق میں تھی۔ جب کہ حماس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر حماس کو دو مزید معاملات میں برتری ملی۔ ایک یہ کہ الفتح کی موجودہ حکومت نہایت کرپٹ تھی، جب کہ اس کے مقابلے میں حماس کے رہنماوؤں کو بہت دیانت دار سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ چونکہ غزہ کی پٹی میں حماس کی ایک واضح اکثریت تھی، اس لیے اس پٹی سے اسرائیل کے انخلا کو حماس نے اپنی کامیابی سے تعبیر کیا۔ جب پچیس جنوری 2006ء کو انتخاب ہوا، تو حماس نے ستر فیصدی (70%) نشستیں حاصل کرلیں۔ 
اب اس موقعے پر ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت نے جنم لیا۔ وہ یوں کہ صدارت کے عہدے پر الفتح کے محمود عباس فائز تھے، اور وزارت عظمیٰ، حماس کے اسماعیل حانیہ کے پاس تھی۔ دونوں کی پالیسیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا، چنانچہ مستقلاً بحران کی ایک کیفیت رہی۔ اس راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ اُس وقت محمود عباس کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا اور پورا اقتدار حماس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ یہی جمہوری اصولوں کا تقاضا تھا، اور ممکن تھا کہ اس طرح اسرائیل اور حماس دونوں کے موقف میں ایک دوسرے کے لیے لچک آجاتی۔ تاہم ایسا نہ ہوا۔ 
فروری 2007ء میں سعودی عرب کی کوششوں سے ’’معاہدہ مکہ‘‘ ہوا، جس کے تحت دونوں پارٹیوں پر مشتمل حکومت وجود میں آئی۔ تاہم چونکہ دونوں پارٹیوں کے مسلح ونگ موجود تھے، اس لیے کھچاؤ کی کیفیت جاری رہی۔ جون 2007ء میں حماس کے مسلح ونگ نے غزہ کی پٹی میں الفتح کے مسلح ونگ اور اس کے دفاتر پر حملہ کرکے ان پر قبضہ کرلیا۔ اس لڑائی میں دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ اس لڑائی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی مکمل طور پر حماس کے قبضے میں آگئی۔ دوسری طرف محمود عباس، جو کہ مغربی کنارے میں موجود تھے، نے حماس کی حکومت کو ختم کرنے کا اعلان کردیا، اور ایک عبوری کابینہ بنادی۔ گویا فلسطینی ریاست وجود میں آنے سے قبل ہی دوحصوں میں تقسیم ہوگئی۔فلسطینی ریاست کے آئین کے مطابق یہ ضروری ہے کہ جلد از جلد نیا انتخاب کرایا جائے۔ حماس نے نئے انتخاب کی مخالفت کی ہے۔ مستقبل کا اغلب منظر نامہ شاید یہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں انتخاب منعقد نہیں ہوسکے گا، اور مغربی کنارے میں انتخاب منعقد ہوجائے گا، جس کے نتیجے کے متعلق فی الوقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اس راقم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ پورے فلسطین میں نیا انتخاب ہونا چاہیے تاکہ نئے حالات کی روشنی میں فلسطینی عوام اپنے مستقبل کا تعین کرسکیں۔ اگر اس انتخاب میں حماس ایک دفعہ پھر جیت جاتی ہے، تو پھر محمود عباس کو صدارت سے استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ حماس کو اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے کھلا میدان مل جائے۔