نواں باب 

مسئلہ فلسطین دنیا کا سب سے پیچیدہ،قدیم اور حساس مسئلہ ہے۔اس لئے کہ اس قضئے میں تینوں آسمانی مذاہب،نسل اور کلچر کے تمام تر تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے موجودہ زمینی حقائق کو سمجھ لیا جائے۔اس وقت موجودہ اسرائیل کا رقبہ تقریباً اکیس ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی انسٹھ (59)لاکھ ہے۔اس آبادی میں یہودیوں کی تعداد اڑتالیس(48)لاکھ ہے اور عربوں کی تعداد گیارہ لاکھ ہے۔یعنی بیاسی(82)فیصد یہودی اور اٹھارہ (18)فیصد مسلمان۔
جس علاقے پر اسرائیل نے جون 1967کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور جس کے متعلق فلسطینی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہی مستقبل کی فلسطینی ریاست ہے۔اس میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے۔اس علاقے کا رقبہ چھ ہزار مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ ہے۔اسے عام طور پر غربِ اردن (West Bank)کہا جاتا ہے۔دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔یہ اسرائیل کی مغربی سرحد،مصر اور بحیرہ روم میں گھری ہوئی ایک چھوٹی سی پٹی ہے۔جس کا رقبہ تین سو سا ٹھ مربع کلو میٹر ہے اور جس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔گویا مجوزہ فلسطینی ریاست میں اکتیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
اس علاقے کی قدیم تاریخ کے مطابق 2500قبل مسیح میں عرب سے لوگ آکر یہاں آباد ہوئے۔جنہوں نے اس کا نام ’’کنعان‘‘ رکھا۔اس کے بعد ایشیائے کوچک (یعنی موجودہ ترکی) کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں آکر آباد ہوئے۔انہیں فلسطی کہا جاتا تھا۔چنانچہ اس علاقے کا یہ نام پڑ گیا۔جلد ہی یہ دونوں گروہ آپس میں پوری طرح گھل مل گئے۔
حضرت ابراہیمؑ غالباً1900قبل مسیح میں اس علاقے میں تشریف لائے تھے۔یہیں ان کے ہاں حضرت اسحاقؑ پیدا ہوئے۔حضرت اسحاقؑ کے ایک بیٹے کا نام حضر ت یعقوبؑ تھا۔ان کا لقب ’’اسرائیل‘‘تھا۔چنانچہ ان سے جو نسل دنیا میں پھیلی،اسے بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔حضرت یعقوبؑ کے بیٹے حضرت یوسفؑ کے مصر جانے اور وہاں کی سلطنت میں ایک اہم مقام پانے کی وجہ سے حضرت یعقوبؑ اور ان کے باقی ماندہ گیارہ بیٹے بھی مصر تشریف لے گئے۔وہاں ایک عرصے تک بنی اسرائیل بہت اہم عہدوں پر فائز رہے۔مگر پھر مصر کے اصلی باشندوں یعنی قبطیوں میں ان کے خلاف ردعمل پیدا ہوا اور ا ن کی پوری نسل کو غلام بنا لیا گیا۔ایک عرصے تک یہ قوم اسی حالت میں رہی حتیٰ کہ حضرت یوسفؑ کے چار سو سال بعد حضرت موسیٰؑ پیدا ہوئے۔جنہوں نے اس پوری قوم کو لے کراپنے پرانے وطن یعنی ارضِ فلسطین کا رخ کیا۔وہاں کئی صدیوں پر پھیلی ایک لمبی جدوجہد کے بعد سلطنت اسرائیل قائم ہوئی۔اسی سلطنت کا دورِ زرین حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا ایک سو بیس سال پر پھیلا ہوا عہد تھا۔یہودیوں کے مقدس ترین مقام ہیکل سلیمانی (یعنی حضرت سلیمانؑ کے سیکرٹریٹ) کی تعمیر اسی دور میں یروشلم میں ہوئی۔اس کے بعد یہ ریاست دو حصوں میں بٹ گئی۔350قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلم پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کو برباد کیا اور بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا۔
اس کے پچاس برس بعد ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل (موجودہ عراق)کو فتح کیا اور بنی اسرائیل کو واپس جاکر ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔اس دوران میں اور اس کے بعد سن 70ء تک یہاں بنی اسرائیل کبھی اقتدار میں رہے،کبھی غلام رہے اور کبھی دوسروں کے تحت نیم خودمختار رہے۔
سن70ء میں رومیوں نے حملہ کرکے یروشلم کو ایک دفعہ پھر تباہ کیا،یہودیوں کا قتل عام کیا اور زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلاوطن کر دیا۔چوتھی صدی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی۔چنانچہ اس پورے علاقے کا سرکاری مذہب بھی عیسائیت ہو گیا۔
تین سو برس بعدیعنی ساتوں صدی عیسوی (سن638ء )میں حضرت عمرؓکے وقت میں مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کیا۔اُس وقت ہیکل سلیمانی کا پورا علاقہ کھنڈرات بنا ہوا تھا۔حضرت عمرؓ نے اس علاقے کو صاف کروایا اور اس کے جنوبی حصے میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مخصوص فرمائی۔یہی آج کا ’’مسجد اقصیٰ‘‘ہے۔
یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ سے متعلق یہودیوں اور قرآن مجید کے موقف کے اختلاف کو سمجھا جائے۔یہودیوں کے مطابق حضرت یعقوبؑ اور ان کی پوری نسل کو پروردگار نے اپنی چہیتی نسل قرار دیا۔چنانچہ یہ نسل باقی پوری دنیا پر فضیلت رکھتی ہے۔اسی نسل کو پروردگار نے فلسطین کا سارا علاقہ حوالے کیا اور ہیکل سلیمانی کو اس کا قبلہ بنایا۔چنانچہ اس علاقے میں آباد ہونا ان کا حق ہے۔
اس کے برخلاف قرآن مجید کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کو فضیلت ایک خاص مقصد کے لئے دی گئی تھی،وہ یہ کہ وہ خود بھی پروردگار کے احکام پر عمل کریں گے اور پوری دنیا میں توحید کا پیغام پھیلائیں گے۔چنانچہ جب بھی وہ یہ کام کرتے تھے، پروردگار ان پر انعام فرماتا تھا۔اور جب وہ ا س کو پس پشت ڈالتے تھے تو پروردگاران کو سزا دیتا تھا۔چونکہ انہوں نے بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰؑ کوجھٹلایا اور اپنی طرف سے ان کے قتل کے درپے ہوئے۔اس لئے پروردگار نے ان سے یہ فضیلت واپس لے لی۔
اس بحث کے بعد ہم ایک دفعہ پھر بنی اسرائیل کی تاریخ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
حضرت عمرؓکے زمانے میں یہ علاقہ فتح ہونے کے بعد اگلے ساڑھے چار سو برس تک یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔
1078ء میں سلجوقی ترکوں نے یروشلم پر قبضہ کیا۔ان کے بیس سالہ دور حکومت میں عیسائی زائرین کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا جس کے رد عمل میں یورپ میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔اور ایک متحد عیسائی لشکر نے یروشلم پر قبضہ کر لیا۔اسی کو تاریخ میں صلیبی جنگیں کہتے ہیں۔یہ واقعہ سن 1099ء کا ہے۔
اٹھاسی سال کے بعد اکتوبر 1187ء میں مسلمانوں نے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں دوبارہ یروشلم پر قبضہ کر لیا۔اگر چہ اس کے بعد مزید سو سال تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں تاہم مسلمانوں کا قبضہ برقرار رہا۔گویا عیسائیوں کے اٹھاسی سالہ اقتدارکے بعد یروشلم پر اگلے آٹھ سو برس یعنی پہلی جنگ عظیم تک مسلمانوں کا قبضہ رہا۔
1517ء میں عثمانی ترکوں نے فلسطین پر قبضہ کرلیا اور اگلے چار سو برس تک یہ علاقہ عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔ ہر آمرانہ حکومت کی طرح اس میں آہستہ آہستہ خرابیاں در آتی گئیں۔ کرپشن،عیاشی اور سازشیں پروان چڑھتی گئیں۔اجتماعی اخلاقیات دن بدن گرتی گئیں۔اس حکومت نے اپنی مقبوضات کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ کیا۔ اس دور میں سب عرب ممالک اس سلطنت کا حصہ تھے، لیکن یہ سب کے سب اپنے آپ کو ترکوں کا غلام سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں یورپ جمہوریت اور سائنس کی نعمتوں سے بہرہ ور ہو رہا تھا،عثمانی سلطنت نے ان دونوں کے لئے اپنے دروازے بند کر لئے اور ہر سلطان نے اپنی حکومت بچانے کی جدوجہد ہی کو اپنا مقصد سمجھا۔چنانچہ یہ سلطنت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی گئی۔حکومت کا سارا نظام قرضوں کے سہارے چلنے لگا۔یورپی ممالک سے لئے گئے ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے جب صوبوں پر اضافی ٹیکس لگائے گئے تو اکثر صوبوں نے بغاوت کردی۔حتیٰ کہ اکثر مقبوضات ترکی کے ہاتھ سے نکل گئیں۔اس پورے دور میں مذہبی طبقہ عام طور پر سلاطین کا حامی رہا۔چنانچہ عام لوگ،سلاطین اورمذہبی طبقہ دونوں کے خلاف ہوگئے۔چنانچہ 1908ء میں سلطان عبدالحمید کو برطرف کر دیا گیا اور ایک موثر قوم پرست تنظیم’’ینگ ٹرک‘‘یعنی نوجوان ترکوں نے اقتدار سنبھال لیا۔اس حکومت نے ایک فاش غلطی یہ کی کہ اس نے 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کی ابتدا سے جرمنی سے خفیہ معاہدہ کر لیا اور اتحادی افواج جن میں (برطانیہ ،فرانس،روس اور بعد میں امریکہ بھی شامل ہوگیا)،کے خلاف اعلان جنگ کر دیا،اور روسی بندرگاہوں پربمباری شروع کر دی۔یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ترکی کے لئے سب سے اچھی پالیسی غیر جانبداری کی تھی۔بہر حال اس اعلان جنگ کے بعد اتحادی افواج نے ترک مقبوضات پر بھی حملہ شروع کیا اور یروشلم دسمبر1917ء میں برطانوی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔یروشلم کے تمام مسلمان باشندوں نے ترکی حکومت کی مخالفت میں برطانوی جنرل ایلن بی کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا۔
یہاں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس قبضے سے پیشتر یہودیوں کی کیا حالت تھی،عالم عرب کی کیا صورت حال تھی اور بڑی طاقتیں کیاکھیل کھیل رہی تھیں۔
70ء میں جب رومیوں نے یہودیوں کو جلاوطن کر دیا،تو اس کے بعد یہ قوم اٹھارہ سو سال تک تتر بتر رہی۔اسے یہودیوں کی اصطلاح میں Diasporaیعنی’’ عظیم انتشار اور لامرکزیت‘‘ کہتے ہیں۔اس دوران میں اکثر جگہوں میں یہودیوں پر مظالم ڈھاتے جاتے رہے۔تاہم سپین کے مسلم عہد اور شمالی یورپ کے بعض ممالک میں ان سے اچھا سلوک کیا گیا۔صلیبی جنگوں کے دوران میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کا بھی خوب قتل عام کیا۔عثمانی ترکوں کے عہد میں بھی ان کے ساتھ مناسب سلوک کیا گیا۔مغربی یورپ میں جمہوریت آنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے ساتھ سلوک میں بھی بہتری آتی گئی۔تاہم روس اور جرمنی میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک روا رکھا گیا۔زارِ روس ان کا سخت مخالف تھا۔سترھویں صدی کے لگ بھگ یہودیوں میں اپنی کم مائیگی اور بے چارگی کا احساس پیدا ہونے لگا۔اور مختلف مقامات پر یہودیوں نے اپنی مقامی تنظیمیں بنانی شروع کر دیں۔
یوں تو یہودیوں میں یہ احساس بھی سترھویں صدی سے ہی پیدا ہوگیا تھا کہ ان کا اصل وطن فلسطین ہے جہاں انہیں واپس جانا چاہئیے۔مگر اس کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل جرمنی کے ایک مشہور دانش ور اور وکیل تھیوڈر ہرزل نے دی، جس نے 1895میں صیہونیت (Zionism)کے نام سے یہ تحریک شروع کی۔زایان یا صیہون دراصل یروشلم کے قریب ایک پہاڑی کا نام ہے۔ابتدا میں یہ خیال بھی تھاکہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسی جگہ مل جائے جہاں یہودی امن سے رہ سکیں اور اس ضمن میں نظر انتخاب یوگنڈا پر گئی۔تاہم یہودیوں کی اکثریت نے اسے نامنظور کرکے فلسطین ہی کو اپنا مقصد قرار دیا۔1881ء میں فلسطین میں صرف چوبیس ہزار یہودی تھے۔روس میں زار کے ظلم سے بچنے کے لئے بہت سے یہودیوں نے روس چھوڑ کر فلسطین کا رخ کیا۔چنانچہ1914میں فلسطین میں پچاسی ہزار یہودی آباد تھے۔اُس وقت وہاں فلسطینیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔
اُس وقت بین الاقوامی صورت حال کیا تھی۔اس کا جاننا بھی ضروری ہے۔انیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ سب سے بڑی طاقت تھی۔مگر اس صدی کے دوسرے آخر میں جرمنی بھی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا۔یہ دونوں اور یورپ کی باقی طاقتیں صنعتی اعتبار سے ترقی کے منازل طے کر رہی تھیں اور ظاہر ہے کہ ان کے درمیان خام مال،تیار مال کی فروخت اور دوسرے وسائل کے لئے مقابلہ لازمی تھا۔چانچہ ایک طرف برطانیہ،فرانس اور روس کا اتحاد بن گیااور دوسری طرف جرمنی،اٹلی اور آسٹریا ہنگری کا اتحاد بن گیا۔اس منظر نامے میں ترکی کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔اس لئے کہ وہ ہر اعتبار سے پس ماندہ تھا اور اسی لئے یورپ کا’’مرد بیمار‘‘کہلاتا تھا۔چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم 1914ء میں چھڑ گئی تو ترکی نے بلاضرورت اس میں جرمنی کا ساتھ دیا اور روسی بندرگاہوں پر حملہ کر کے اپنی طرف سے جنگ کی ابتدا بھی کر دی۔چنانچہ برطانیہ اور اس کی اتحادی افواج نے ترکی مقبوضات،جن میں فلسطین بھی شامل تھا،کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا۔
اب دیکھئے کہ اُس وقت عالم عرب کی صورت حال کیا تھی۔1517ء میں عثمانی ترکوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی کے لگ بھگ مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضے میں چلے گئے۔عربوں میں قبائلی معاشرت تھی اور ترکوں کا ر ویہ ان کے ساتھ حاکمانہ تھا۔چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی رہیں۔قوم پرستی کا جذبہ بڑھتا رہا۔اور ترک انتہائی بے رحمی کے ساتھ مختلف بغاوتوں کو کچلتے رہے۔چنانچہ پورے عالم عرب میں بلحاظ مجموعی ترکوں کے خلاف نفرت کی ایسی فضا پیدا ہوگئی کہ وہ ترکوں کے خلاف ہر طاقت کا خیر مقدم کر نے کے لئے تیار تھے۔
چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم چھڑی تو برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لئے ایک پلان بنایا۔اس پلان کے تحت برطانیہ نے ایک طرف دنیا بھر کے یہودیوں کی حمایت حاصل کر نے کی کوشش کی، جواب بہت مالدار ہو چکے تھے اور جن کے پیسے اورعلم وہنر کی برطانیہ کو سخت ضرورت تھی۔دوسری طرف برطانیہ نے ان عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں سے برسرپیکار تھے۔ کیمسٹری کا یہودی پروفیسر ڈاکٹر وائنر مین جو اُس وقت صیہونی تحریک کا سربراہ تھا،نے برطانوی حکومت کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلہ بھاری ہوگیا۔اس کے عوض اس نے برطانوی حکومت سے یہ انعام مانگا کہ وہ یہ وعدہ کرے کہ جنگ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کا ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔چنانچہ نومبر1917میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے یہ وعدہ کر لیا۔اس خط کو عرف عام میں’’اعلانِ بالفور‘‘ کہا جاتا ہے۔
دوسری طر ف برطانیہ نے جنگ عظیم کے دوران میں سرزمین حجاز (یعنی مکہ ومدینہ)کے حاکم حسین ابن علی،جسے عام طور پر ’’شریف حسین آف مکہ‘‘کہا جاتا ہے،کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ ترک عثمانی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے اپنی آزادی کا اعلان کرے تو برطانوی حکومت اس کی حمایت اور مدد کرے گی۔چنانچہ شریف حسین نے یہی کیا اور ترک حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔یہ بڑی عجیب لیکن اہم بات ہے کہ 24اکتوبر1915ء کو مصر میں برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری مک موہن نے شریف حسین کے نام خط میں تمام عرب آبادی کی آزادی کا وعدہ کیا تھا’’ماسوائے شام کے چند مغربی اضلاع کے‘‘۔یہی وہ بات ہے جس کی بنیاد پر برطانیہ یہ دعویٰ کرتاہے کہ اس نے اسرائیل کے قیام کے اپنے ممکنہ عزم کو کبھی خفیہ نہیں رکھا۔تاہم اس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے مئی 1916ء میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کو سائی کس پائی کاٹ معاہدہ کہا جاتا ہے جس کے مطابق جنگ کے بعد لبنان اور شام فرانس کو ملنا تھا اور عراق،اردن اور فلسطین برطانیہ کو۔
برطانیہ کے اس معاہدے کا راز 1917ء میں روسی حکومت نے اُس وقت افشا کیا جب جنگ عظیم اول کے درمیان میں ہی روس میں کمیونسٹو ں نے زار کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت قائم کر لی۔اعلان بالفور کا بھی اسی طریقے سے پتہ چلا۔
اِدھر یہ حال تھا اور اُدھر عرب،انگریزوں کے گن گا رہے تھے۔دسمبر 1917ء میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچیں تو یروشلم کے تمام شہریوں نے شہر سے باہر آکر ان کا والہانہ استقبال کیا، حالانکہ اس وقت تک برطانیہ کے یہودیوں سے کئے گئے تمام وعدے سامنے آچکے تھے۔
اس کے بعد اگلے تیس برس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے کام لیا۔تاہم برطانیہ کی اس کوشش میں بہت سے عربوں نے بھی اپنا حصہ یوں ادا کیا کہ شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے تمام غیر حاضر زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کردیں۔ایک بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے بھی اپنی زمین یہودیوں کو فروخت کردی اگرچہ بہت سے لوگوں اور اہلِ علم نے انہیں اس سے روکا۔
جب یہودیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی تب وہاں کے مسلمانوں کو ہوش آیا اور1936ء سے لے کر 1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔مگر اس بغاوت کے مقابلے میں برطانوی اور یہودی اکٹھے تھے، چنانچہ بغاوت کچل دی گئی۔یہ بھی ایک دلخراش حقیقت ہے کہ اُس وقت بھی فلسطینی آپس میں تقسیم تھے، جب کہ یہودی پہلے دن سے ہی ایک متحد تنظیم ’’جیوش ایجنسی‘‘کے تحت منظم تھے۔اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے ایک منظم اور تربیت یافتہ فوج بھی تیار کر لی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مملکت کے قیام کے لئے یہودیوں نے جتنی قربانی دی، اس کی تاریخ میں مثالیں بہت کم ہیں۔مختلف حکومتوں کے خوف سے بھاگنے والے تو خیر آ ہی رہے تھے،لیکن بہت بڑ ے مالدار اور نامی گرامی یہودی بھی اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر فلسطین کے صحراوؤں میں آکر اپنے مستقبل کی مملکت کی تعمیر میں جُت گئے۔
فلسطین میں یہودیوں کی آبادی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ ساری دنیا سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش میں یہاں آتے گئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جرمنی سے بھاگ کر آنے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا اور باقی جان بچا کر فلسطین بھاگ آئے۔1948ء میں یعنی اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی بس گئے تھے۔جب برطانیہ نے دیکھا کہ اب وہاں ایک یہودی وطن بن سکتا ہے تو اس نے اس پورے علاقے کو اقوام متحدہ کے حوالے کردیا۔اس وقت صورت حال یہ بنی کہ امریکہ اور روس سمیت تمام طاقت ور ممالک اسرائیل کے حامی تھے۔چنانچہ نومبر1947ء میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن(56%)فیصد دیا گیا، حالانکہ یہودیوں کی آبادی اُس وقت کل آبادی کی ایک تہائی تھی اور فلسطینی ریاست کو چوالیس (44%)فیصد دیا گیا، حالانکہ فلسطینیوں کی آبادی دوتہائی تھی۔ یہ صریحاً ایک ناجائز تقسیم تھی۔چنانچہ فلسطینیوں اور ارد گرد کے عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔
راقم کے نزدیک اُس وقت فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک کا یہ انکار ایک غلطی تھی۔اس لئے کہ یہ انکار زمینی حقائق کے خلاف تھا اور اس سے فلسطینیوں کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔اُس وقت تمام بڑی طاقتیں اسرائیلی ریاست کے قیام کے حق میں تھیں۔یہودی،مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ طاقت ور اور پرجوش تھے۔اس کے مقابلے میں مسلمان ممالک کمزور اور آپس میں ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے والے تھے۔بات یہ ہے کہ اپنا مقصد کبھی نہیں بھولنا چاہئیے لیکن سمجھوتہ ہمیشہ پیش آمدہ حالات کی بنیاد پر کر نا چاہئیے۔اور اُس وقت کا صبر سے انتظار کرنا چاہئیے جب حالات ایک نئی کروٹ لے لیں ۔سمجھوتہ کبھی بھی منصفانہ نہیں ہوا کرتا،بلکہ یہ ہمیشہ عملی ہوا کرتا ہے۔
یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اردن کا شاہ عبداللہ بھی فلسطینی ریاست کا سخت مخالف تھا۔اس لئے کہ اس سے اُس کو اپنی ریاست کے لئے خطرہ محسوس ہوتا تھا۔چنانچہ اس نے اسرائیلی حکومت سے خفیہ مذاکرات کر کے فلسطینی ریاست رکوانے اور اس کے بعض حصوں پر خود قبضہ کرنے اور بعض حصوں پر اسرائیلیوں کو قبضہ کرنے کی اجازت دینے کا خفیہ سمجھوتہ کر لیا۔
چودہ مئی 1948ء کو آخری برطانوی رجمنٹ کے رخصت ہوتے ہی اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کر لیا۔لیکن فلسطین نے اپنی آزادی کا اعلان نہیں کیا۔حالانکہ ہونا یہ چاہئیے تھا کہ فلسطینی اپنی چوالیس فیصد زمین پر آزادی کا اعلان کرتے اور بقیہ زمین حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے۔اس کے بجائے اردگرد کے چار عرب ممالک شام،اردن،مصر اور عراق نے مل کر اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کرلیا۔یہ تمام افواج بہت کمزور،نیم تربیت یافتہ،اورمورال کے لحاظ سے انتہائی پست تھیں۔یہ سب ملک آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے اور ان کے بہت سے کمانڈر اسرائیلیوں سے ملے ہوئے تھے۔چنانچہ ان کو شکست فاش اٹھانی پڑی۔اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا۔اب اس کے پاس ستتر(77%)فیصد علاقہ تھا۔مغربی کنارے کو اردن نے اور غزہ کی پٹی کو مصر نے اپنے قبضے میں کر لیا۔گویا فلسطینی ریاست نہ بننے کے جرم میں اسرائیل کے ساتھ یہ دونوں ممالک بھی شریک تھے۔ کیونکہ اگر یہ دونوں ممالک اپنے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینی ریاست بنا دیتے تو ساری دنیا اس کو فوراً تسلیم کر لیتی اور اسرائیل سے مزید گفت وشنید نہایت آسان ہوتی۔
عرب ممالک نے ایک اورطریقہ سے بھی اسرائیل کو بڑا فائدہ پہنچایا۔وہ یوں کہ 1948ء سے پہلے کے اسرائیل میں یورپ سے آنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی شامل تھے۔ان کو اشکینازے (Ashkenaze)کہا جاتا ہے۔لیکن 1948ء کے بعد آنے والے لاکھوں یہودیوں میں سے اکثر کا تعلق مشرقی ممالک خصوصاً مسلم عرب ممالک یعنی تیونس،مراکش،مصر وغیرہ سے ہے۔ان کو سیفارڈم(Sephardim)کہا جاتا ہے۔اسرائیل میں اب انہی مشرقی یہودیوں کی اکثریت ہے۔عرب ممالک چاہتے تو ان یہودیوں کے بدلے ریاست فلسطین کے لئے گفت وشنید کر سکتے تھے۔مگر ان کے ہاں اس امر کا کوئی شعور نہ تھا۔