القاعدہ کے متعلق طالبان کی پالیسی:

طالبان کی خارجہ پالیسی پہلے دن سے ہی دوسرے ممالک کے لئے تحقیرکی بنیاد پر قائم تھی۔دنیا بھر میں پاکستان ہی ان کا ساتھی تھا۔مگر پاکستان کی درخواست کے برعکس انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ظاہر ہے یہ پاکستان کے وجود کو نہ ماننے کے مترادف ہے۔پاکستان کے بے شمار مجرموں ،جن کے ہاتھ سینکڑو ں فرقہ وارانہ قتلوں میں آلودہ تھے،نے طالبان کے ہاں پناہ لی تھی۔انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کرنے سے مسلسل ٹال مٹول کا رویہ اختیار کئے رکھا۔یہی صورت حال ان کی القاعدہ تنظیم اور بن لادن کے بارے میں تھی۔
بن لاد ن 1980میں افغانستان آئے۔اور دس برس بعد واپس سعودی عرب چلے گئے۔اگلے دو سال وہ سعودی عرب میں ہی مقیم رہے۔پھر 1992میں وہ سوڈان چلے گئے۔وہاں چار برس رہنے کے بعد وہ مئی 1996میں اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت جلال آباد پہنچے۔اس وقت یہاں شمالی اتحاد اور طالبان کی کشمکش عروج پر تھی، تاہم بن لادن نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ا ن کے جلال آباد پہنچنے کے چار مہینے بعد وہاں طالبان کا قبضہ ہوگیا۔
سوال یہ ہے کہ 1990میں افغانستان چھوڑنے کے چھ سال بعد وہ واپس کیوں آئے۔ظاہر ہے کہ وہ اس دفعہ نہ تو جہاد کے لئے آئے تھے،نہ ہی شمالی اتحاد اورطالبان کے درمیان آویزش میں حصہ لینے آئے تھے۔اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ جب خلیجی جنگ کے موقع پر امریکی افواج سعودی عرب پہنچیں تو بن لادن نے اسے اسلامی تعلیمات کے خلاف جان کر ان پر کھلے بندوں تنقید شروع کر دی۔جب خلیجی جنگوں کے بعد بھی امریکی افواج سعودی عرب میں مقیم رہیں تو بن لادن نے سعودی حکمرانوں کو اسلام کا غدار کہنا شروع کیا۔اور اپنے لئے یہ مشن بنا لیا کہ وہ امریکی افواج کو سعودی عرب سے نکال کر رہیں گے۔یہی مشن لے کر وہ سوڈان گئے اور جب سوڈان پر دباؤ بہت بڑھ گیا تو یہی مشن لے کر وہ افغانستان چلے آئے۔
یہاں یہ مناسب معلوم ہو تا ہے کہ سعودی عرب میں امریکی افواج کے آمد کے متعلق چند اہم امور کی نشاندہی کی جائے۔جب کویت پر عراق نے قبضہ کر لیا تو اس نے کھلم کھلا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ اب سعودی عرب اس کا اگلا ٹارگٹ ہے۔تاہم جب کویت کو آزاد کرالیا گیا اور عراق کو بالکل بے دست وپا بنالیا گیا، تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ سعودی عرب میں امریکی افواج موجود رہیں۔ چنانچہ ان افواج کو سعودی عرب کی سرزمین سے نکالنے کا بن لادن کا مطالبہ حق بجانب تھا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے پرامن حکمت عملی اختیار نہیں کی جاسکتی تھی؟اگر بن لادن چاہتے تھے کہ ان افواج کوسعودی عرب سے نکال دیاجائے تو اس کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے اندر مستقل اس مقصد کے لئے ترغیب کاری کرتے رہتے کہ سعود ی افواج کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہوسکیں اور یوں امریکی افواج کی کوئی ضرورت نہ رہے۔بن لادن خاندان کے سعودی حکمرانوں سے نہایت گہرے تعلقات تھے اور اگر بن لادن اس مقصد کے لئے اپنی دولت اور دوسرے ذرائع استعمال کرتے تو شاید اب تک امریکی افواج سعودی عرب سے نکل چکی ہوتیں۔(واضح رہے کہ 2005ء میں امریکہ نے سعودی عرب سے اپنی تقریباً ساری فوج نکال لی تھی۔ تاہم اب بھی کویت، قطر،بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج موجود ہیں۔ ان سب ممالک کے بادشاہ امریکی افواج کی موجودگی کو اپنے اقتدار کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ گویا اصل مسئلہ یہ تھا ہی نہیں کہ صرف سعودی عرب سے امریکی فوج نکل جائے۔ اصل مسئلہ تو اس سے کہیں زیادہ گھمیر ہے، جس کا رشتہ جمہوریت سے جا ملتا ہے۔ جب تک مسلمان ممالک میں جمہوری طرزِ حکومت نہیں آئے گا، تب تک ساری مسلمان حکومتیں کسی نہ کسی بڑی طاقت کی پناہ ڈھونڈتی رہیں گی۔ افسوس کہ بن لادن نے مسئلے کی جڑ کے بجائے محض اُس کی ایک شاخ پر ہی توجہ دی)۔ 
بہر حال جب بن لادن مئی 1996میں افغانستان آئے تو ان کے سامنے یہی مشن تھا کہ امریکی افواج کو سعودی سرزمین سے طاقت کے بل پر نکال باہر کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اگست 1996میں انہوں نے پہلی بار امریکیوں کے خلاف اعلانِ جہاد (اعلانِ جنگ) کیا۔طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے ملاعمر کے ساتھ دوستی کا معاہد ہ کیا اور قندہار چلے گئے۔اُن کی زیرسرکردگی بہت سے کیمپ بنائے گئے جہاں سینکڑوں عربوں اور دوسری قومیتوں کے لوگوں کو مسلح تربیت دی جاتی تھی۔
23فروری 1998کو خوست کیمپ میں القاعدہ سے وابستہ تمام گروپوں نے ایک منشور جاری کیا جس میں یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف اعلان جہاد کیا گیا اور یہ فتویٰ دیا گیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ہر باشندے، خواہ وہ سویلین ہو یا فوجی، کو قتل کرنامسلمانوں پر فرض ہے۔
جب اگست 1998میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں میں بم دھماکوں میں دوسو بیس افرادہلاک ہوئے،تو قدرتی طور پر سب کی نگاہیں بن لادن کی طرف اٹھیں۔بن لادن نے بھی اپنے ایک بیان میں حملہ آوروں کی تعریف وتحسین کی ۔جتنے افراد کو ان کیسوں میں مورد الزام ٹھہرایا گیا اور جن کو عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی گئیں،ان سب نے القاعدہ سے تعلق کا اعتراف کیا۔یہ عین قدرتی امرتھا کہ امریکہ طالبان حکومت سے یہ مطالبہ کرتا کہ القاعدہ تنظیم سے وابستہ افراد کو اس کے حوالے کردیا جائے۔اس معاملے میں امریکہ نے اقوام متحدہ کو بھی ساتھ ملایا اور اس کی طرف سے یہ متفقہ قرار داد منظور ہوئی کہ ملزموں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے۔
اس کے جواب میں طالبان کی طرف سے دو وضاحتیں پیش کی گئیں۔پہلا جواز یہ تھا کہ یہ لوگ ہمارے مہمان ہیں اور دوسرا جواز یہ تھا کہ ان کی نقل وحرکت محدود کر دی گئی ہے۔یہ دونوں جواب بہت کمزور تھے۔کسی مہان کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ میزبان ملک میں بیٹھ کر کسی اور ملک کے خلاف اعلانِ جنگ کرے۔ اس اعلان جنگ کو آج تک واپس نہیں لیا گیا۔طالبا ن نے بھی کبھی اس کی مذمت نہیں کی۔بلکہ بن لادن نے ہر موقع پر اس کی بار بار تائید وحمایت کی۔
گویا القاعدہ تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کی افغانستان میں موجودگی طالبان کے لئے آگ سے کھیلنے کے مترادف تھی۔لیکن وہ اس کا ادراک نہ کرسکے۔


گیارہ ستمبر2001کے بعد طالبان کا موقف

گیارہ ستمبر کے سانحے کے بعد امریکہ نے بہت واضح الفاط میں طالبان کو الٹی میٹم دیا کہ القاعدہ تنظیم کے اہم ارکان کو اس کو حوالے کر دیا جائے ورنہ وہ افغانستان پر حملہ کر دے گا۔ اسی کے ساتھ اقوام متحدہ نے بھی اپنی متفقہ قرار داد کے ذریعے طالبان سے یہ مطالبہ کیا کہ ملزموں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے۔اس وقت طالبان کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ القاعدہ کے اہم ارکان کو امریکہ کے حوالے کر کے اپنے ملک اور اپنی حکومت کو تباہی سے بچایا جائے اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ انکار کیا جائے۔چنانچہ طالبان نے انکار والا راستہ پسند کیا۔یہ بات ہر انسان کو سمجھ میں آرہی تھی کہ اس انکار کی صورت میں القاعدہ کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت بھی جائے گی اور ممکنہ تباہی سے اموال واملاک اور عام انسانی جانوں کا اتلاف بھی یقیناًہوگا۔تاہم طالبان نے اپنے جواب کی حمایت میں یہ دلیل دی کہ یہ حق وباطل اور کفر واسلام کی جنگ ہے۔اس جنگ میں ہماری غیبی مدد ہوگی۔امریکہ اسی طرح جنگ ہارے گا جس طرح ابابیل کے مقابلے میں ابرھہ اور حضرت ابراہیم ؑ کے مقابلے میں نمرود ہارا تھا۔ایک افغانی دس امریکیوں پر بھاری ہوگا۔یہ دلیل طالبان نے اپنی ہر تقریر میں دہرائی۔بلکہ اپنی ہر تقریر میں وہ اس موازنے کے بعد یہ بھی کہتے کہ ایک طرف خدا کا وعدہ ہے اور دوسری طرف بش کی دھمکی ۔دیکھتے ہیں دونوں میں سے کس کی بات پوری ہوتی ہے۔پاکستان کے اکثر مذہبی لیڈروں نے بھی اس دلیل کو اپنی تقریرو ں میں دہرا کر نہ صرف طالبان کی پیٹھ ٹھونکی بلکہ پاکستانی عوام کو بھی یہ یقین دلایا کہ غیبی مددآیا ہی چاہتی ہے۔
مناسب ہے کہ اس دلیل کا مختصر تجزیہ کیا جائے۔ یہ پروردگار کا واضح حکم ہے کہ مقابلے کی پوری قوت فراہم رکھی جائے۔جب سامان حرب واسلحہ میں دوقومیں ایک دوسرے کے برابر ہوں تب اگر زیادہ صبر واستقامت والی طاقت افرادی قوت کے اعتبار سے کچھ کم بھی ہو،تب بھی وہ مقابلہ جیت سکتی ہے۔دور رسالتؐاور دور صحابہ کیؓ تمام جنگوں میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان اسلحہ کی تعداد میں یقیناًفرق رہا ہے لیکن دونوں طرف سے ہمیشہ ایک ہی جیسے ہتھیار استعمال کئے جاتے تھے۔ایسا نہیں تھاکہ دشمن کے پاس کوئی ایسا ہتھیار ہو جو مسلمانوں کے پاس نہ ہو۔پچھلے تین سو برس کی تاریخ مسلسل ہمیں سبق دیتی ہے کہ بہترین مسلمانوں کے مقابلے میں وہ دشمن جنگ جیتا جس کے پاس مسلمانوں سے برتر اسلحہ تھا۔مثلاً سید احمد شہیدؒ کے مقابلے میں سکھ حکومت جنگ جیت گئی۔1857کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے مقابلے میں انگریز کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔اسی طرح کی بیسوں مزید مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا پچھلے تین سو برس کے واقعات سے طالبان اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔
لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ حضور ؐ کی سیرت مبارکہ سے بھی یہ ثابت ہے کہ جب آپؐ کے پاس سامان حرب کی کمی تھی تو آپؐ نے ہمیشہ لڑائی کو ٹال کر مسلمانوں کو بچایا۔اس کی سب سے نمایاں مثال جنگِ احزاب ہے۔اس وقت دشمنوں کی تعداد دس ہزار ،جب کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی۔مزید یہ کہ دشمن کے پاس اسلحہ بہت بڑی مقدار میں تھا۔چنانچہ حضورؐ نے مقابلہ کرنے کے بجائے مدینہ کے گرد خندق کھود کر اس کے اندر مسلمانوں کو محصور کر کے انہیں دشمن سے بچایا۔حضورؐ کی سیرت کا یہ پہلو ہمارے لیے حکمت وصبر کا مینارۂ نور ہے۔ 
واضح رہے کہ گیارہ ستمبرسے پہلے خود طالبان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تین مسلمان ملکوں پر مشتمل ایک عدالت بنائی جائے جس کے سامنے بن لادن کو پیش کیا جائے۔جب گیارہ ستمبر کے بعد پاکستانی علماء کا ایک وفد ان سے ملاقات کے لئے قندہار گیا اور وہاں مفتی شامزیٰ نے اسی تجویز کا اعادہ کرنے کو کہا تاکہ اس کی بنیاد پر بات آگے بڑھائی جاسکے تو اب کے طالبان نے اپنی تجویز کا اعادہ کرنے سے انکار کر تے ہوئے کہاکہ اب حالات بدل چکے ہیں۔اب بن لادن پر صرف طالبان کی عدالت میں ہی مقدمہ چل سکتاہے۔ گیارہ ستمبر کے چند ہفتے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول نے پیش کش کر دی کہ بن لادن پر کسی دوسرے غیر جانبدار ملک میں اس ملک کے قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے تو یہ امریکہ کو منظور ہوگا۔ لیکن اس پیش کش کو طالبان نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ دنیا بھر میں شرعی عدالت تو صرف طالبان کی ہے۔اس لئے بن لادن کے متعلق اسی کا فیصلہ چلے گا۔
بدقسمتی سے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد بن لادن اور القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما اپنے ہر بیان اور ہر انٹرویو کی وجہ سے اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کرتے گئے۔مثلاً بن لادن نے بارہ ستمبر کو اپنے ایک بیان میں حملہ آوروں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تائید کی۔سات اکتوبر کے بیان میں انہوں نے کہا کہ حملہ آور بہت اچھے نوجوان مسلمان تھے جن کو پروردگار نے اس حملے کی توفیق بخشی اور جنت کی ابدی نعمتیں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔تیرہ اکتوبر کو القاعدہ کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی پر کہا کہ مغرب کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو اونچی عمارتوں میں رہنے اور ہوائی سفر سے گریز کرنا چاہئیے اس لئے کہ اس طرح کے مزید خود کش حملے بھی ہوسکتے ہیں۔اس کے بعد بن لادن نے اپنے ایک مبینہ انٹرویو میں نیوکلئیر،کیمیاوی اور حیاتیاتی ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کیا۔اس طرح انہوں نے اپنے خلاف ایکشن کے لئے دنیا بھر کو ایک بھر پور اخلاقی جواز فراہم کردیا۔
اگراُس وقت بن لادن کو امریکہ کے حوالے کیا جاتا تو اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت تھے بھی یا نہیں۔اول تو یہ مقدمہ سالوں تک چلتا پھر کہیں جا کر سزا کی نوبت آتی۔لیکن دوسری صورت میں تو سب بشمول القاعدہ کی تباہی یقینی تھی۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔طالبان کو شکست ہوئی۔اور افغانستان میں تباہی کی ایک اور داستان رقم ہوگئی۔
عالم اسلام میں اس موضوع پر ابھی تک بحث جاری ہے کہ نائن الیون کا حملہ کس نے کیا تھا۔ہمارے ہاں عام طور پر یہ بات مشہو ر ہے کہ یہ حملہ یہودیوں نے کیا تھا، اس لیے کہ اُس دن ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرنے والے چار ہزار یہودی غیر حاضر تھے، گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حملہ یہودیوں نے کیا ہے اور یہودیوں کو اس کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا۔ یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں۔ اس حملے میں بہت سے امریکی یہودی ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں اسرائیل کے انچاس (49)یہودی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ ممکن ہے کہ اُس دن کچھ یہودی غیر حاضر ہوں مگر اُس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اُن کے ایک اہم مذہبی تہوار کا دن تھا۔ اس راقم کے خیال میں اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ ہی پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے تین دلائل ہیں۔ ایک یہ کہ اُنتیس اکتوبر 2004ء کو بن لادن نے اپنی ایک ویڈیو تقریر میں واضح طور پر یہ کہا کہ یہ حملہ القاعدہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ممتاز صحافی حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ جب نائن الیون سے کچھ عرصے پہلے وہ بن لادن سے ملنے کے لیے گئے تھے تو وہاں القاعدہ کے کمپیوٹرز میں نائن الیون کے مرکزی کردار عطا محمد کی تصویریں اور معلومات موجود تھیں۔اور وہ یہ بات جانتے تھے کہ عطا محمد کو کوئی بھاری ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ ابھی حال ہی میں 2007ء میں نائن الیون کی چھٹی سالگرہ کے موقعہ پر بن لادن نے نائن الیون کے ایک خودکش حملہ آور کو خراج تحسین پیش کیا۔ بن لادن کے ذاتی معالج ڈاکٹر عامر عزیز نے ڈاکٹر اسرار احمد کو بتایا کہ بن لادن نے ان کے سوال پر یہ اعتراف کیا کہ اس حملے کا حکم انہوں نے دیا تھا۔ یہ بات ڈاکٹر اسرار احمد نے راقم الحروف کو خود بتائی تھی۔ واضح رہے کہ آرتھو پیڈک سپیشلسٹ ڈاکٹر عامر عزیز اعلیٰ ترین درجے کے دیانت دار اور مخلص انقلابی مسلمان ہیں۔ (23 جولائی 2008 کو القاعدہ کے اہم رہنما ابو یزید نے واضح طور پر نائن الیون کے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی)
یہ عین ممکن ہے کہ کچھ اور اداروں نے بھی القاعدہ کی مدد کی ہو۔ تاہم اس کی حقیقت کچھ عرصے بعد ہی کھل سکے گی۔ ممکن ہے کہ راقم کے اس تجزئے کے جواب میں یہ کہا جائے کہ خود امریکہ کے اندر کچھ ایسی فلمیں بنائی گئی ہیں جن میں اس پورے واقعے کے ذمہ داروں کے متعلق شکوک وشبہات کا اظہار کیاگیا ہے۔ اس ضمن میں اصل حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ملک میں بے شمار لوگ سازش کی تھیوریوں (Conspiracy Theories) پر یقین رکھتے ہیں، اسی طرح امریکہ میں بھی کچھ لوگ ایسی تھیوریز پر یقین رکھتے ہیں۔ مثلاً حال ہی میں ہالی ووڈ کی ایک فلم میں یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ انسان تو سرے سے چاند پر چڑھا ہی نہیں۔ بالکل اسی طرح ایک مشہور امریکی ڈاکومنٹری فلم میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو عرب نائن الیون کے واقعے کے ذمہ دار تھے، ان کے ساتھ بش کا کوئی لین دین تھا۔ ظاہر ہے کہ کانسپریسی تھیوریز کی بنیاد پر تو کسی بھی وقت کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس حقائق کی بنیاد ہمیشہ واضح دلیل پر ہوتی ہے۔ 


کیا افغانستان پر امریکی حملہ صحیح تھا؟ 

جب طالبان حکومت نے بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیاتو امریکہ نے طالبان پر زبردست بمباری شروع کردی۔ دوسری طرف شمالی اتحاد نے بھی اپنے حملے بڑھادئے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں تین مہینے کے اندر اندر طالبان حکومت ختم ہوگئی، کابل پر حامد کرزئی کا قبضہ ہوگیا اور امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان میں اتر گئیں۔ اس راقم کی نظر میں امریکہ کا یہ حملہ غلط تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ بات واضح تھی کہ اس حملے کے نتیجے میں لازماً ہزاروں بے گناہ افراد ہلاک ہوں گے۔ نیز اُس وقت اس بات کا بھی تجزیہ نہیں ہوسکتا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں مستقبل میں کیا مصیبتیں اور مشکلات سامنے آئیں گی۔ چنانچہ اُس وقت امریکہ کے لیے صحیح راستہ یہی تھا کہ وہ افغانستان پر اقتصادی اور دیگر پابندیاں لگاتا۔ اس کے نتیجے میں کسی نہ کسی دن طالبان کو بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے سر جھکانا پڑتا۔ 
یہی وجہ ہے کہ کابل پر قبضے کے چھ برس بعد بھی افغانستان کے حالات پہلے کی طرح مخدوش اور دگرگوں ہیں۔ نیز مستقبل کے لیے بھی کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی۔ جب باہر کی کوئی فوج کسی جگہ آتی ہیں، تو اُس سے بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں اور اُس کے اقدامات کے نتیجے میں عام لوگ بھی اُس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ یہی کچھ افغانستان میں ہورہا ہے اور اس کے اثرات سبھی ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان پر، پڑرہے ہیں۔ 


حل: افغان عوام کو کیا کرنا چاہیے

سوال یہ ہے کہ افغانستان کے معاملے میں اب کیا کیا جائے۔سب سے اچھا راستہ تو یہ ہے کہ افغانستان سے سب غیر ملکی نکل جائیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ نہ تو امریکہ اس مشورے پر کان دھرے گا اور نہ القاعدہ۔ لہٰذا جو کچھ کرنا ہے، وہ خود افغانوں ہی کو کرنا ہے۔آج اس امر کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے اندر تمام سابقہ طالبان کرزئی حکومت کے خلاف مسلح اقدامات ختم کردیں،اور اپنے آپ کو ایک سیاسی تنظیم میں ڈھال لیں۔تمام مقامی کمانڈر اپنی اپنی افواج کو افغان فوج میں ضم کرلیں۔اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکے گا کہ امریکی افواج سے افغانستان چھوڑنے اور کرزئی حکومت سے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا جائے۔اور پھر ان دونوں کو یہ مطالبہ ماننے پر مجبور ہونا پڑے گا۔اگر کابل کی موجودہ حکومت کے خلاف مسلح اقدامات ختم نہ ہوئے تو امریکی فوج موجود رہے گی اورافغانستان بدامنی کا شکار رہے گا۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ طالبان دوبارہ اُسی طرح برسراقتدار آسکیں جس طرح وہ ستمبر2001ء سے پہلے تھے، کیونکہ افغانستان کے سارے تضادات جوں کے توں ہیں۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیوں یعنی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی میں افغانستان کے متعلق حکمت عملی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عراق کے متعلق یقیناًامریکی قوم دو حصوں میں تقسیم ہے، لیکن افغانستان کے متعلق یہ صورتحال نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خود بھی آگے بڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جن سے افغانستان میں امن قائم ہوجائے اور غیر ملکی افواج یہاں سے چلی جائیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ طالبان اپنے آپ کو ایک جمہوری سیاسی پارٹی کی شکل میں ڈھال لیں اور وہ خود بھی یہ مطالبہ کرلیں کہ امریکی افواج کے ساتھ ساتھ القاعدہ کو بھی یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ افغانستا ن کے حالات کو دیکھتے ہوئے راقم کا یہ تجزیہ ہے کہ طالبان کا ایک اسلامی جمہوری پارٹی کی شکل میں انتخاب جیتنا عین ممکن ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ یہ مقصد صبروحکمت اور لچک ہی کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 


پاکستان کو کیا کرنا چاہیے

ابتدا سے ہی افغانستان کے متعلق پاکستانی حکومت کی پالیسی بے اصولی اور وقتی مفادات پر مشتمل رہی ہے۔ اس پالیسی نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان نے افغانوں کی متحدہ تنظیم کو نو حصوں میں تقسیم کیا اور افغانوں کی جلاوطن حکومت نہیں بننے دی۔ پاکستان، اور اُس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی مہربانیوں کی وجہ سے، ساری تنظیموں کے پاس اسلحہ، ڈالر اور دوسرا سازوسامان آگیا۔ افغانستان کی خانہ جنگی کی بنیاد یہی فیصلہ بنا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کو بھی مجاہدین بہت بھلے لگتے تھے اور جہاں سے بھی کوئی فرد افغانستان کی مزاحمت کی تحریک میں شمولیت کے لیے آنا چاہتا، اُسے امریکہ کی طرف سے پوری پوری آسانیاں فراہم کی جاتیں۔ پاکستانی فوجی حکومت بھی اُس وقت ڈالروں کے مزے میں مست تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مختلف ایجنسیاں طاقت کے مختلف اور متضاد مراکز کی حمایت کرتی تھیں۔ 
1994ء سے لے کر ستمبر2001ء تک پاکستان طالبان حکومت کا حامی رہا اور اس حمایت کی وجہ سے اُسے پوری دنیا کی ناراضگی مول لینی پڑی۔ ظاہر ہے کہ یہ اندھی حمایت غلط تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو سات مطالبات پر مبنی ایک فہرست پیش کرکے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں، یا ہمارے دشمن ہیں۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف نے بغیر کسی توقف اور مشورے کے، امریکہ کے سارے مطالبات مان لیے۔ اگر اُس وقت پاکستان میں کوئی نام نہاد قسم کی جمہوری حکومت بھی موجود ہوتی تو نہ امریکہ اس رنگ میں یہ مطالبہ کرسکتا تھا اور نہ حکومت ان مطالبات کو اس انداز میں مان سکتی تھی۔ بدقسمتی سے ہماری فوجی حکومتیں اپنے ادارتی مفادات (Corporate Interests) کے لیے ہر وقت سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی یہی کچھ ہوا اور امریکہ کے ناجائز مطالبات بھی مان لیے گئے۔ اُس وقت بے نظیر اور نواز شریف میں سے جس کی بھی حکومت ہوتی، وہ طالبان کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ لیکن وہ امریکہ کو کبھی یہ اجازت نہ دیتی کہ وہ طالبان پر حملے کے لیے پاکستانی سرزمین اور پاکستانی ہوائی اڈے استعمال کرے۔ ممکن ہے کہ جمہوری حکومت امریکہ اور طالبان کے درمیان مکالمے کا آغاز کرتی اور معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔ کم ازکم یہ تو نہ ہوتا کہ جنرل مشرف اپنے ایک جرنیل، یعنی جنرل محمود کو گفتگو کے لیے قندہار بھیجے اور وہ طالبان کو کہے کہ امریکہ کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔
فوجی حکومتوں نے قبائلی علاقوں کو بھی ہمیشہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ پاکستان کی ساری بڑی پارٹیوں کی یہ خواہش ہے کہ قبائلی علاقوں کوپاکستان میں ضم کردیا جائے۔ یہ مطالبہ سبھی پارٹیوں کے انتخابی منشوروں کا بھی حصہ ہے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ اس راہ میں رکاوٹ ہے۔ اگر قبائلی علاقے صوبہ سرحد(پختون خواہ) کا حصہ ہوتے اور وہاں قانون کی پوری عمل داری ہوتی، تو ہمارے آج کے مسائل بہت کم ہوجاتے۔ اس راقم کے خیال میں جب تک پاکستان میں حقیقی جمہوریت آنہیں جاتی، تب تک افغانستان کے متعلق پالیسی میں کسی بنیادی اصلاح کی زیادہ توقع نہیں۔ بہت سے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ ایک طاقت کی مدد کرتا ہے، اور دوسرا حصہ مخالف طاقت کی حمایت کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ 
فی الوقت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ افغانستان کی موجودہ حکومت اور طالبان کے درمیان مکالمہ شروع کرنے کی کوشش کرے۔ صرف اسی طریقے سے وہاں پاکستان کے خلاف موجودہ نفرت کی فضا کم ہوسکتی ہے۔ قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد کا حصہ بنادیا جائے اور وہاں کے میدانی علاقوں میں سکول اور ہسپتال کھولے جائیں۔ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے اور سب پارٹیوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ وہاں اپنی تنظیمیں بنائیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، وہاں بلدیاتی، صوبائی اور قومی انتخابات جماعتی بنیاد پرکرائے جائیں اور سارے ترقیاتی کام منتخب نمائندوں کے ذریعے کروائے جائیں۔