آٹھواں باب 

مسئلہ افغانستان پر بحث سے پہلے یہ ضروری ہے کہ افغانستان کی پچھلی تاریخ کا بھی مختصراً جائزہ لیا جائے۔ظاہر شاہ1933میں بادشاہ مقرر کر دئے گئے۔اس کے چالیس سال بعد 1973میں ان کے چچا زاد بھائی سردار داؤد نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔اس کے پانچ برس بعد اپریل 1978 ؁میں کمیونسٹوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نور محمد ترکئی کو صدر بنایا گیا۔
ڈیڑھ سال بعد ستمبر1979میں کمیونسٹوں کے ایک اور دھڑے کے سربراہ اور وزیر دفاع حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔اس کے دور میں حالات بہت بگڑ گئے چنانچہ دسمبر 1979میں روسی افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں اور ببرک کارمل کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی امریکہ،پاکستان،چین اور عرب ممالک کے تعاون سے مجاہدین نے باقاعدہ مزاحمت شروع کر دی۔
مجاہدین کے بیشتررہنما سردار داؤد کے وقت سے ہی پاکستان میں مقیم تھے۔اس وقت ایک ہی تنظیم تھی جس کانام ’’جمعیت اسلامی‘‘ تھا۔اس کے قائد برہان الدین ربانی اور سیکرٹری جنرل گل بدین حکمت یار تھے۔(ان دونوں رہنماوؤں کو پہلی مرتبہ اِس راقم نے 1974ء میں پشاور میں جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر میں دیکھا تھا)۔ چونکہ اس معرکے میں پاکستان ہی فرنٹ لائن ریاست تھی۔اس لئے پاکستان کا کردار اور اس کے فیصلے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔اُس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ افغانستان میں روسی مداخلت کی مزاحمت کرنی ہے۔کیا یہ فیصلہ صحیح تھا یا غلط؟ کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ پاکستانی حکومت روس سے گفتگو کرکے افغانستان کے متعلق اُسے یقین دہانیاں کرواتی اور اس طرح روسی فوج افغانستان سے نکل جاتی؟یقیناًاُس وقت مناسب طریقہ کار یہ ہوتا کہ افغان مہاجرین کو سرحد کے دس کلومیٹر کے اندر اندر آباد کرلیا جاتا اور اقوام متحدہ کے ذریعے روس کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا کہ وہ افغانستان سے نکل جائے۔ ممکن ہے کہ اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ اسی جنگ کے نتیجے میں تو روس ٹوٹ گیا۔ تاہم یہ بات صحیح نہیں۔ افغانستان کی جنگ میں روس کا نقصان اس کے بجٹ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ درحقیقت افغانستان کی جنگ ہوتی یا نہ ہوتی، روس کو اپنے سسٹم کی اندرونی کمزوری کے تحت ٹوٹنا ہی تھا۔ اُس کے ٹوٹنے کی اصل وجہ کمیونزم کا اندرونی تضاد تھا جس کی وجہ سے گورباچوف اقتدار میں آیااور جس نے گلاسناٹ اور پیراسٹرائیکاجیسی اصطلاحات متعارف کروائیں۔ 
تاہم اگر اُس وقت پاکستان کو فوجی حکمت عملی اختیار کرنی تھی، تو اُس میں بھی پاکستان سے حکمت عملی کے میدان میں فاش غلطی ہوئی۔ 
دنیا کی تاریخ کے جنگی تجربات سے یہ متفقہ سبق ملتا ہے اور اسلامی تعلیمات کی بھی یہی ہدایت ہے کہ صرف وہی مسلح مزاحمت کامیاب ہوتی ہے جس کی ایک متفقہ تنظیم ہو،ا س کا سیاسی نظم ہو اور فوجی تنظیم اس کے ماتحت ہو۔اس کی پشت پر ایک مضبوط ریاست علی الاعلان کھڑی ہو۔اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ افغا ن مجاہدین کی ایک متفقہ جلاوطن حکومت بنتی۔اسی کی سربراہی میں جنگ آزادی لڑی جاتی اور دوسرے ممالک مثلاً پاکستان،امریکہ وغیرہ سے وہی جلاوطن حکومت معاہدے کرتی۔لیکن پاکستان نے اس کے برعکس طریقہ اختیار کیا۔ اور یہ کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ مجاہد تنظیمیں بنیں۔چنانچہ کچھ تنظیمیں تو براہ راست بنائی گئیں۔ مثلاً حکمت یار نے ربانی سے الگ ہو کر 1979 ؁ میں حزب اسلامی قائم کر لی۔مولوی یونس خالص نے حکمت یار سے اپنا دھڑا الگ کر لیا۔پھر پروفیسر سیاف نے 1980 ؁میں ’اتحادِ اسلامی‘ قائم کی۔جناب مجددی نے ’جبہ نجات ملی‘ قائم کی۔مولوی محمد نبی محمدی نے ’حرکت انقلاب اسلامی‘ قائم کی۔پیر گیلانی نے ’محاذ ملی افغانستان‘ قائم کی۔اس کے علاوہ اسی عمل سے شہ پاکر اہلِ تشیع کی بھی کئی تنظیمیں بن گئیں۔ پاکستان نے اس عمل کی خوب خوب حوصلہ افزئی کی ۔اس سے جنرل ضیاء کی حکومت کا اصل مقصد یہ تھا کہ تمام افغان تنظیمیں ایک خاص حد سے زیادہ طاقت ور نہ ہونے پائیں اور اس طرح حکومت پاکستان کے قابو میں رہیں۔فوجی حکومت کا خیال یہ تھا کہ اس طریقے سے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کے بارے میں اصل فیصلے کا اختیار اس کے پاس رہے گا اور امریکی امداد میں وہ اپنا حصہ زیادہ سے زیادہ رکھ سکے گی۔اس وقت کے پاکستانی جرنیلوں کا یہ خیال تھا کہ آئندہ کے افغانستان کو پاکستان کی ایک طفیلی ریاست، بلکہ درحقیقت پاکستان کا پانچواں صوبہ بن کر رہنا ہے۔ اس کو وہ حربی گہرائی( Strategic Depth )کے نام سے پکارتے تھے۔یہ بہت خود غرضانہ،غلط اور بے اصولی پر مبنی مقصد تھا۔اور مستقبل کے تمام مسائل نے اسی فیصلے سے جنم لیا۔
ظاہر ہے کہ جب مختلف مسلح تنظیموں کے پاس وسائل،ڈالر اور اسلحہ موجود ہو تو علاقے پر قبضے کے لئے وہ آپس میں بھی لڑیں گی۔ چنانچہ یہ تمام تنظیمیں آپس میں بھی لڑتی رہیں اور روسیوں کے خلاف بھی لڑتی رہیں۔چونکہ مجاہدین کی کوئی جلاوطن حکومت موجود نہیں تھی اس لئے اقوام متحدہ کے تحت جینیوا مذاکرات میں ان کی نمائندگی نہیں تھی اور پاکستان کا نمائندہ موجود تھا۔گویا پاکستان نے تمام پتے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔یہی وجہ ہے کہ 1988میں جینیوا معاہدے پر دستخط افغانستان کے ڈاکٹر نجیب اللہ کے نمائندے اور حکومت پاکستان کے ہوئے۔اگر اس کے بجائے یہی معاہدہ ڈاکٹر نجیب اللہ اور مجاہدین کی جلاوطن حکومت کے درمیان ہو تاتو پرامن انتقال اقتدار عمل میں آتا۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے کے بجائے ایک آزاد افغانستان ہوتا۔
فروری 1989میں روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں اور اس کے بعد تین برس تک ڈاکٹر نجیب اور مجاہدین کے درمیان لڑائی جاری رہی۔مارچ1992میں کابل کے دفاع پر مامور جنرل رشید دوستم کی بغاوت کی وجہ سے احمدشاہ مسعود کو کابل پر قبضے کا موقعہ ملا۔اب ایک اور خونریز دور کا آغاز ہوا جن میں تمام مجاہدین تنظیمیں آپس میں لڑتی رہیں۔اگلے چار برس پورا افغانستان لاقانونیت ،ظلم،بے انصافی اور طوائف الملوکی کی تصویر بنا رہا۔حتیٰ کہ اسی انارکی کے دوران میں طالبان نے جنم لیا۔گویا افغانستان کے حالات کی خرابی میں روسی افواج کی مداخلت کے بعد سب سے زیادہ کردار جنرل ضیاء کی غلط پالیسی کا تھا۔جماعت اسلامی بھی اس ذمہ داری میں ایک اعتبار سے شریک تھی کیونکہ جماعت اسلامی اس پورے دور میں اس پالیسی کی پشت پر رہی۔نیز تمام افغان مجاہد تنظیمیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔اس لئے کہ ان میں سے کسی تنظیم کی قیادت نے افغانستان کے اتحاد اور اسلام کے ارفع داعلیٰ اصولوں کی خاطر اپنی انا کی قربانی نہیں دی۔
طالبان تحریک اصلاً اس انتشار کے خلاف عوام کے سب سے بڑے فعال طبقے یعنی دینی مدارس کے نوجوان طلبہ کا احتجاج اور بغاوت تھی۔یہ بنیادی طور پر ایک مقامی اور دیسی تحریک تھی۔تاہم اس کی پرداخت میں جنرل نصیر اللہ بابر،دیگر پاکستانی اداروں،سی آئی اے،تیل کمپنی یونی کال اورسعودی عرب نے بھی ایک بڑا کردار ادا کیا۔
طالبان نومبر1994 ؁میں نمودار ہوئے۔اسی مہینے میں قندہار پر قبضہ کر لیا اور اگلے دو سال کے اندر اندر یعنی ستمبر1996 ؁تک کابل پر بھی ان کا قبضہ ہو گیا۔اس دوسالہ لڑائی کے دوران میں خونریزی یقیناًہوئی لیکن وہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کی جنگوں کی لحاظ سے مقابلۃًبہت کم تھی۔یہ پورا علاقہ جس پر اب تک طالبان نے قبضہ کیا تھا ،پشتون اکثریت کا علاقہ تھا،سوائے ہرات کے، جہاں تاجک اکثریت میں تھے۔ واضح رہے کہ طالبان تحریک کی تقریباً تمام تر لیڈر شپ پشتونوں پر مشتمل تھی۔تحریک کے وقتاً فوقتاً پچاس بڑے لیڈروں میں سے صرف تین یا چار غیر پشتون تھے۔(وقتاً فوقتاً اس لئے کہ بسا اوقات ملا محمد عمر اپنی کابینہ میں یک دم کافی تبدیلیاں لے آتے تھے۔)اس کے بعد طالبان اگلے پانچ سال تک غیر پشتون علاقے فتح کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ان میں تاجک،ہزارہ اور ازبک علاقے شامل تھے۔ان علاقوں پر قبضہ کے لئے بہت خون ریزی ہوئیں۔ایک اندازے کے مطابق پانچ سالوں میں دوطرفہ لڑائی میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے کئی علاقوں پر کئی کئی مرتبہ کامیابی اور پسپائی ہوئی۔مثلاً مئی 1997میں طالبان نے مزار شریف پر قبضہ کر لیااور پھر انہیں وہاں سے نکال دیاگیا۔اس کے بعد اگست 1998میں طالبان نے ایک دفعہ پھر مزار شریف پر قبضہ کر لیا۔یہی حالت بہت سے دوسرے علاقوں کی رہی۔طالبان کی فیصلہ کن شکست تک یہ لڑائی جاری تھی۔پشتونوں اور غیر پشتونوں کے درمیان اس لڑائی میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر بہت مظالم بھی ڈھائے گئے۔مثلاًمزار شریف میں ستمبر 1997 ؁میں دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے ہزاروں کی تعداد میں لو گ ہلاک کئے۔اس کے بعد جب اگست 1998میں طالبان نے دوبارہ مزار شریف پر قبضہ کیاتو انہوں نیبڑی تعداد میں ہزارہ قبائل کا قتل عام کیا۔
اس مختصر تاریخ کے بعد یہ ممکن ہے کہ ہم ان اسباب کا کھوج لگائیں جن کی وجہ سے طالبان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔اس زوال کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
طالبان تقریباً تمام پشتونوں پر مشتمل تھے اور وہ سب صرف ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے تھے:یہ بالکل قدرتی بات تھی کہ طالبان نے پشتون علاقے میں جنم لیا۔ان کی تقریباً تمام لیڈر شپ اور تمام فوج بھی پشتونوں پر ہی مشتمل تھی۔یہ اس لئے تھا کہ تمام بدامنی دراصل زیادہ تر پشتون علاقے میں تھی۔طالبان کا ظہور دراصل اسی بدامنی کا ردعمل تھا۔ازبک،تاجک،ہزارہ اور دیگر علاقے پرامن تھے۔ وہاں مستحکم اقتدار تھا۔اس لئے وہاں کوئی ردعمل بھی نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ طالبان کو اصل کامیابی پشتون علاقے میں ہی ملی اور اس علاقے میں امن وامان کے قیام سے عوام نے سکھ کا سانس لیا۔اس کے بعد طالبان نے غیر پشتون علاقوں کا رخ کیا اور ان پر حملہ آور ہوئے۔یہ طالبان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ان علاقوں میں عموماًامن تھا اس لئے طالبان کے حملے کا کوئی جواز نہ بنتا تھا۔ان علاقوں کے لوگ اور ان کی حکومتیں ممکن ہے طالبان کے معیار اسلام پر پوری نہ اترتی ہوں،تاہم یہ لوگ پوری اسلامی دنیا سے بہتر مسلمان تھے اور یہ بہت غیر مناسب تھاکہ ان پر فوج کشی کی جاتی۔جب ان علاقوں پر ایک ایسی فوج نے حملہ کیاجو ساری کی ساری پشتونوں پر مشتمل تھی اور جس کا ہرات کا سابقہ ریکارڈ یہ ظاہر کرتا تھا کہ اس نے مقامی انتظام وحکومت میں کوئی بھی غیر پشتون شامل نہیں کیا ،تو اس سے قدرتی طور پر غیر پشتونوں نے یہی سمجھا کہ پشتون ان کو غلام بنانے آرہے ہیں۔چنانچہ غیر پشتونوں نے اس کے خلاف نہایت سخت مزاحمت کی۔اور آخر وقت تک طالبان اس قابل نہیں ہوسکے کہ اس پورے علاقے پر قبضہ کر سکیں۔
طالبان صرف ایک ہی طبقے یعنی دینی مدارس سے فارع التحصیل طلبہ پر مشتمل تھے۔انہوں نے حکومت میں کبھی کسی غیر طالب کو شامل نہیں کیا۔حالانکہ اس طبقے سے باہر بھی بہت سے اچھے مسلمان موجود تھے۔اس سے ایک نقصان یہ ہوا کہ طالبان کے اذہان وسیع نہ ہو سکے۔اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ باقی تمام طبقات نے اپنے آپ کو طالبان کا محکوم سمجھ لیا۔
طالبان کے لئے مناسب حکمت عملی یہ تھی کہ ستمبر1996میں کابل اور پورے پشتون بیلٹ پر قبضہ کرنے کے بعد وہ یہ اعلان کرتے کہ وہ باقی تمام نسلی گروہوں اور طبقوں سے گفتگو کے ذریعہ ان کو بھی شریک اقتدار کریں گے۔اگر وہ ایساکرتے تواُسی وقت افغانستان میں امن کی شروعات پڑ جاتیں۔لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کے نتیجے میں افغانستان کے مزید پانچ برس خانہ جنگی کی نذر ہوئے اور مزید لاکھوں افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔


طالبان کا فہم اسلام:

طالبان نے اسلام کے فوری نفاذکو اپنا نصب العین قرار دیا اور اس کو حاصل کرنے میں انہوں نے جو بے اعتدالیاں کیں وہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو گئیں۔اس معاملے میں ان سے کئی غلطیاں ہوئیں۔یہ کہ انہوں نے اسلام کے نام پر ایسی چیزوں پر پابندیاں لگا دیں یا ان کے بجا لانے کا حکم دیا جو کسی طرح بھی بنیادی احکام کے ضمن میں نہیں آتیں،جن کے جواز وعدم جواز پر فقہا کے درمیان بہت اختلاف رائے ہے اور جن کو قانون کے زور پر پچھلے چودہ سو برس میں کبھی بھی نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔حتیٰ کہ دورِ رسالتؐاور دورِ خلفائے راشدین بھی ان امور کے ضمن میں کسی قسم کی قانون سازی یا سزاؤں سے خالی نظر آتا ہے۔مثلاً طالبان نے موسیقی کو ممنوع قرار دیا۔سب مردوں پر ایک مٹھی کی مقدار سے زیادہ داڑھی رکھنا لازم قرار دیا۔ٹی وی اسٹیشن بند کر دئے گئے۔طالبان کا سب سے بڑا نشانہ عورتیں تھیں۔طالبان جہاں جہاں بھی گئے،عورتوں کے سکول بند کر دئے گئے۔عورتوں کا کسی مرد کے بغیر گھر سے نکلنا کلیتہً ممنوع کر دیا گیا حالانکہ محتاط ترین فقہا کے نزدیک بھی کوئی عورت ایک دن اور ایک رات تک گھر سے اکیلی باہر جا سکتی ہے۔عورتوں کے لئے گھر سے باہر کام منع کر دیا گیا اور ان پر یہ لازم کر دیا گیا کہ وہ صرف اور صرف ایک خاص قسم کا نیلا برقعہ پہنیں گی۔حجاب کے طور پر چادر لینے یا کسی بھی دوسرے برقعے کے پہننے پر پابندی لگا دی گئی۔یہ وہ نیلا برقعہ ہے جسے صرف دیہاتی پشتون آبادی استعمال کرتی ہے۔گویا طالبان نے اسلام کے نام پر افغانستان کے دیہاتی پشتون کلچر کو سارے ملک پر نافذ کیا۔
اسی طرح یہ لازم کر دیا گیا کہ تمام تعلیم یافتہ لوگ ہر وقت کالی پگڑی پہنیں گے۔یہ درحقیقت دینی مدارس کے کلچر کو پورے افغانستان میں حاوی کرنے کی کوشش تھی،کسی بھی حکم کی خلاف ورزی پر عجیب سزائیں مقرر تھیں جن میں تحقیر،تمسخر اور تکبر کا پہلو نمایاں تھا۔مثلاً فٹ بال کی پاکستانی قومی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ،عین کھیل کے درمیان میں کھیل رکوا کر ،غیر شرعی لباس پہننے کے جرم میں ان کے سر منڈوادئے گئے۔اس سے غیر مسلموں اورعام لوگوں کے سامنے اسلام کی جو تصویر بنی، اس کا اندازہ ہر ذی فہم آدمی لگا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے طالبان نے اسلام کے نام پر ہر وہ کام کیا جس میں خبریت تو موجود تھی مگر جس سے اسلام کا ایک غلط تاثر ابھرتا تھا۔ مثلاً بامیان میں بدھا کے مجسموں کا انہدام یا عیسائیت پھیلانے کے نام پر مختلف امدادی کارکنوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمے وغیرہ۔
اس کے بجائے طالبان کو چاہئیے تھا کہ وہ اسلام کے احکام کو اسی طرح نافذ کرتے جس طرح حضورؐ اور خلفائے راشدین نے نافذ کیا تھا۔اس پورے دور میں صرف ایک مثبت چیز بتدریج لیکن بجبر نافذ کی گئی اور وہ تھی زکواۃ۔اس کے علاوہ ہر ہدایت اور حکم کو ترغیب،تلقین او رذہنی تربیت کے ذریعے نرمی اور محبت سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔مختلف بڑے جرائم پر انتہائی سزائیں بھی صرف اسی وقت نافذ کی گئی جب معاشرے کی پوری تربیت کی گئی اور جب ان جرائم کی طرف لے جانے والے عوامل تقریباًختم ہو کر رہ گئے۔حضورؐ کے زمانے میں حجاب کی کسی بھی خاص شکل کو نافذ نہیں کیا گیا اور کسی کو بھی اس طرح کی چیزوں کی خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں دی گئی۔اس طرح خلفائے راشدین کے زمانے میں لاکھوں مربع میل کے علاقے فتح ہوئے ،ہزاروں لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ،مگر وہ پورا زمانہ داڑھی،حجاب اور اسی قبیل کے دوسرے امور کے متعلق سزاؤوں سے خالی رہا۔درحقیقت طالبان کا تجربہ نفاذ اسلام اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ تھا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔اس کی وجہ سے خواتین اور عام لوگوں میں انقباض ولاتعلقی کی ایک کیفیت پیدا ہو گئی۔
طالبان کا یہ فہمِ اسلام اوراس ضمن میں ان کے اقدامات درحقیقت امریکہ اور مغرب کے بہت زیادہ مفاد میں تھے۔ اگر طالبان کی حکومت بن لادن کی سرپرستی نہ کرتی، تو امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ درحقیقت اس طرح کے تعبیرِ اسلام کی وجہ سے مغرب کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ذرائع ابلاغ پر اسلام کے خلاف خوب پروپیگنڈا کرے۔ چنانچہ اس طرح کے تعبیرِ اسلام پر مبنی حکومت مغرب کے مفاد میں ہوتی ہے کیونکہ اس طرح وہاں کے عوام اسلام سے متنفر ہوتے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال سعودی عرب ہے۔ وہاں بھی سرکاری سطح پر کسی حد تک بعض پہلووں کے اعتبار سے طالبان سے ملتا جلتا فہمِ اسلام نافذہے، تاہم مغرب کو اس حکومت سے کوئی خطرہ نہیں۔ مغربی ذرائعِ ابلاغ اس حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پروپیگنڈے بھی کرتے ہیں اور امریکہ ان عرب ممالک سے اپنے سارے سیاسی فائدے بھی حاصل کرتا ہے۔ 
طالبان کے ہاں جمہوریت،آزادئ رائے اور اپنے مخالفین کے لئے انصاف، عفوودرگزر اور رواداری کا جذبہ مفقود تھا۔اسی طرح ان میں رفاہ عامہ کے کاموں کے لیے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اگر وہ ستمبر1996کے بعد ملک کے اندر مکالمہ پر مبنی حکمت عملی کی ابتدا کرتے اور اقوام عالم سے اس میں مددکی اپیل کرتے تو شاید اب تک افغانستان کی کایا پلٹ چکی ہوتی اور طالبان غالب پارٹنرز کی حیثیت سے ایک خوبصورت،معتدل اسلامی افغانستان کے حکمران ہوتے۔لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔