باب پنجم



بائبل کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ’ پہاڑوں میں سے ایک پر ‘ جو ’موریاہ کی سرزمین میں‘ واقع تھا، اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بائبل میں اس واقعہ کا ان الفاظ میں ذکر ہے:

اور موریاہ کی سرزمین میں جاؤ اور اسے [اپنے اکلوتے بیٹے کو] وہاں ان پہاڑوں میں سے ایک پر جو میں تمھیں بتاؤں گا، سوختنی قربانی کے طور پر پیش کرو۔ ۱؂

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس لڑکے کے قربانی کے طور پر پیش کیے جانے کا مقام کوئی ’سرزمینِ موریاہ کا پہاڑ‘ تھا۔ لفظ موریاہ پوری بائبل میں صرف دو مقامات پر استعمال ہوا ہے:

(الف) ’اور تو موریاہ کی سرزمین میں جا‘۔(پیدایش ۲۲: ۲)
(ب) سلیمان ؑ نے موریاہ پہاڑ میں ،یروشلم کے مقام پر، خداوند کا گھر تعمیر کرنا شروع کیا، جہاں اللہ تعالیٰ اس کے باپ داوٗد ؑ پر نمودار ہوا تھا، جو جگہ داوٗدؑ نے اورنان یبوسی کے کھلیان میں [اس مقصد کے لیے] تیارکی تھی۔ (۲۔ تواریخ ۳: ۱ )

علما کا اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا بائبل کے ان دونوں مقامات پر موریاہ کا ذکر ایک ہی محلِ وقوع پردلالت کرتا ہے یا اس سے مختلف مقامات مراد ہیں۔’ہارپر کی بائبل ڈکشنری‘ کے مطابق ان سے موریاہ کے دو مختلف مقام مراد ہیں(صفحہ۶۵۴ )۔’ جیوئش انسائیکلوپیڈیا ‘کا دعویٰ ہے:

Modern scholars who distinguish between these two places advance different theories as to the meaning of the word "Moriah." ؂2

جدید علما جو اِن دو مقامات کے درمیان اِمتیاز کرتے ہیں، وہ لفظِ’ موریاہ‘ کے معنی کے بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے ہیں۔

بائبل کے مختلف علما اورمذہبی محققین نے موریاہ کے محل وقوع کی مندرجہ ذیل مقامات پر نشاندہی کی ہے:
۱۔ حبرون کے قریب ایک پہاڑ، جیساکہ ہیسٹنگز کی نظر ثانی شدہ ڈکشنری میں درج ہے:

some scholars have proposed a location for Moriah on a mountain near Hebron. ؂3

کچھ علما نے موریاہ کے محل وقوع کے لیے حبرون کے قریب ایک پہاڑ کے اوپر ایک جگہ تجویز کی ہے۔

۲۔ قدیم شکیم سے چار کلومیٹر شمال مغرب میں نابلوس کے جدید شہر کے قریب کوہِ جریزیم۔۴؂ شکیم یروشلم سے قریباً ۵۰ کلومیٹر شمال میں اور سامریہ ۵؂سے نو کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ جہاں ہیکل سامریہ تعمیر کیا گیا تھا۔
۳۔ کوہ کَلْوری جہاں بعد میں حضرت عیسیٰعلیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جیسا کہ ’ڈِووشنل فیملی تفسیرِ بائبل‘ میں درج ہے:

There is no improbability in the general opinion, that the very spot was mount Calvary where Christ the great anti-type was afterwards crucified.؂6

عام راے یہ ہے کہ وہ جگہ (موریاہ) کوہ کَلْوری ۷؂ ہی تھی، جہاں بعد میں حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا۔اور یہ بات کوئی غیر ممکن بھی نہیں۔

۴۔ یروشلم کے قریب ارونا یبوسی(Araunah the Jebosite)کا کھلیان، جسے حضرت داؤد علیہ السلام نے اس سے خرید لیا تھا اور جہاں بعد میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہیکل تعمیر کیا تھا۔
پہلے تین موریاؤں پر اسی باب میں گفتگو کی جارہی ہے۔ چوتھے موریاہ پر اگلے باب میں گفتگو ہوگی۔

 

الف۔ حبرون کے نزدیک ایک پہاڑ پر

جہاں تک حبرون کے نزدیک ایک پہاڑی پر واقع پہلے موریاہ کا تعلق ہے، اس پر کسی گفتگو کی ضرورت نہیں، کیونکہ (۱) بائبل کا کوئی ممتاز عالم اسے قابل ذکر تک نہیں سمجھتا۔ (۲) یہ بائبل کے بھی خلاف ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یا تو خود حبرون ہی میں رہایش پذیر ہوئے تھے یا ممرے (Mamre) ۸؂ میں، جو حبرون ۹؂سے چار کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موریاہ کے لیے اپنا سفر اپنی رہایش گاہ سے صبح سویرے شروع کیا تھا اور تین دن کی سخت مسافت کے بعد وہ ابھی تک اپنی منزل مقصود سے بہت ہی دور تھے۔ یہ بات کسی طرح قابل تصور نہیں کہ تین دن کے لگاتار سخت سفر کے بعد بھی وہ اتنی مختصر سی مسافت طے نہ کرسکے ہوں۔

 

ب۔ کوہِ کَلْوری پر،جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

جہاں تک دوسرے موریاہ کا تعلق ہے، جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ کوہ کَلْوری پر واقع ہے، جہاں بعد میں حضرت عیسیٰعلیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا، تو اس پر بھی کسی خاص بحث و گفتگو کی ضرورت نہیں، کیونکہ (۱) اسے بھی بائبل کے کسی ممتاز عالم نے قابلِ ذکر خیال نہیں کیا اور (۲) یہ نظریہ بائبل کے مندرجات سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ (کوہِ کَلْوری) یا تو یروشلم کے جدید شہر کے اندر، مگر قدیم شہر کی دیواروں سے باہر کسی جگہ واقع تھا یا اس کے کہیں قریب ہی واقع تھا۔۱۰؂ یہ مقام یروشلم، بیر سبع، حبرون یا ممرے، کسی سے بھی بیس میل سے زیادہ دور نہیں۔ اس تک پہنچنے میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چند گھنٹے سے زیادہ نہ لگتے۔ تو پھر بھلا یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ تین دن کے لگاتار اور پُر مشقت سفر کے بعد بھی وہ اتنا مختصر سا فاصلہ نہ طے کر سکے ہوں۔

 

ج۔ کوہِ جریزیم پر

جہاں تک تیسرے موریاہ کا تعلق ہے، جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ شکیم کے قدیم شہر کے قریب کوہ جریزیم پر واقع تھا تو اسے سامریوں نے اپنے ہیکل (حرم) کی اہمیت و حرمت قائم کرنے کے لیے ہیکل کے محل وقوع سے منسلک کر دیاتھا۔ ’دی السٹریٹڈ بائبل ڈکشنری‘میں درج ہے:

The Samaritan tradition identifies the site with Mt. Gerizim (as though Moriah = Moreh; cf. Gn. 12:6) ؂11

سامری روایت اس کا محل وقوع کوہِ جریزیم سے منسلک قرار دیتی ہے (گویا کہ موریاہ اور مورِہ ایک ہی مقام ہو۔ ملاحظہ کیجیے کتاب پیدایش۱۲: ۶)۔

’ ڈملوکی تفسیرِ بائبل ‘نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے۔ ۱۲؂
’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری‘ نے اس موضوع پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے:

The Samaritans, who consider Mount Gerizim the holy mountain of God, place the sacrifice of Isaac on that mountain, and believe that Moriah was Moreh near Shechem; and that it was the site of the first encampment of Abraham in the land of Canaan, where he built an altar to the true God (Gen 12:6,7). Such an identification, they believe, justifies their separation from Jerusalem, and their right to worship God on Mount Gerizim (see Jn 4:20,21). It is, of course, entirely without support. 1 ؂3

سامری لوگ جو کوہِ جریزیم کو خداوند کا مقدس پہاڑ تصور کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ؑ کی قربانی اسی پہاڑ پر پیش کی گئی تھی۔ ان کا عقیدہ ہے کہ موریاہ ہی وہ مورِہ ہے جو شکیم کے نزدیک واقع ہے اور یہ کہ یہ مقام ابراہیم ؑ کا سرزمینِ کنعان میں پہلا پڑاؤ تھا۔ جہاں انھوں نے سچے خداوند کے لیے ایک چبوترہ تعمیر کیا تھا(پیدایش ۱۲: ۶۔۷)۔ ان کا ایمان ہے کہ اس کو یہ شناخت دیناان کی یروشلم سے علیحدگی اور ان کی کوہِ جریزیم پر خداوند کی عبادت کے حق کی وجہ جواز ہے (ملاحظہ کیجیے انجیل یوحنا ۴: ۲۰۔۲۱)۔ یہ بلاشبہ کسی بھی قسم کی تائید سے عاری ہے۔
’ہیسٹنگز کی نظر ثانی شدہ بائبل ڈکشنری ‘نے بھی اسی طرح کی بات کی ہے:

There is some similarity between the names of Moriah and 'Moreh,' the latter located near Shechem (Gn 12:6, Dt 11:30) and Mount Gerizim. And it may have been owing to this that the Samaritans have claimed Gerizim as Abraham's mountain (cf Jn 4:20). Gn 22:4 has been often cited to suggest that Gerizim, a mountain visible for some distance, must be the Moriah of Abraham, because he 'lifted up his eyes and saw the place afar off. ؂14

موریاہ اور مورِہ کے ناموں میں کسی قدر مشابہت پائی جاتی ہے۔ موخرالذکر شکیم ( پیدایش ۱۲: ۶، استثنا ۱۱:۳۰) اور کوہِ جریزیم کے نزدیک واقع ہے۔ اور یہی وجہ ہو گی کہ سامریوں نے جریزیم کے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ابراہیم ؑ کا پہاڑ تھا(دیکھیے انجیل یوحنا ۴ : ۲۰) ۔ پیدایش ۲۲: ۴ کو اکثراس مقصد کے لیے پیش کیا جاتا ہے کہ جریزیم جو کچھ فاصلے سے نظر آنے والا ایک پہاڑ ہے، لازماً ابراہیم ؑ والا موریاہ ہے، کیونکہ اس نے ’اپنی نگاہ اٹھائی اور اس جگہ کو بہت دور دیکھا‘۔

سامریہ کے لوگ یہودیہ کی جنوبی سلطنت کے شدید مخالف تھے۔ جب کتاب تواریخ کے مصنف نے ہیکل سلیمانی کا موریاہ کے نام کے ساتھ تعلق قائم کیا تا کہ یہودی حرم کی اہمیّت اور اس کا تقدس قائم ہو سکے تو اس کے جواب میں سامریوں نے موریاہ کا تعلق کوہ جریزیم پر واقع اپنے حرم کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہیسٹنگز کی لغاتِ بائبل میں ایس۔ آر ۔ڈرائیور(S.R.Driver) کی تحریر سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

In view of the rivalry which prevailed in later times between the Samaritans and the Jews, the preference of the former for Gerizim does not count for much; and with regard to the other arguments it may be doubted whether, in a narrative which cannot be by an eye-witness or contemporary of the facts recorded, the expressions used are not interpreted with undue strictness. ؂15

بعد کے زمانے میں سامریوں اور یہودیوں کے درمیان جو رقابت جاری و ساری تھی، اس کے پیش نظر اول الذکر (سامریوں) کا جریزیم کو ترجیح دینا کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اور جہاں تک دوسرے دلائل کا تعلق ہے، اس بات میں شک کی پوری گنجایش ہے کہ جو کہانی کسی عینی شاہد کی بیان کردہ نہ ہو یا جو حقائق کسی ہم عصر کے لکھے ہوئے نہ ہوں، کہیں ان کی تاویل میں غیر ضروری سختی تو نہیں برتی گئی۔

سامریوں کے زرخیز دماغ نے اپنے دعوے کے حق میں امکانات تلاش کرنے شروع کیے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ کوئی نظریہ، خواہ کتنا ہی مبہم کیوں نہ ہو، کچھ انوکھے اور جدّت پسند’ علما‘ کی تائید حاصل کرہی لیتا ہے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اختراع کرنے والوں کے مذموم عزائم سے بے خبر بعض غیر متعصب اور انصاف پسند علما اس عجیب نظریے کو معروضی طور پر قبول کرلیتے ہیں اور اس کے حق میں کچھ دلائل بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ اسی طرح چند ایک علما اس کے اندر کسی معقولیت کے امکان کو یکسر رد نہیں کر دیتے، لیکن اس کے باوجود علما کی اکثریت اس نظریے کی حماقت کا شعور حاصل کرنے میں کوئی دِقّت محسوس نہیں کرتی۔ پوری بائبل میں کوہِ جریزیم کے لیے کبھی بھی ’موریاہ‘کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ تاریخ کے اوراق اور علم کی دنیا میں سامریوں کی اس دیدہ و دانستہ اور اپنے مقاصد کے لیے تراشی ہوئی اختراع کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔
مندرجہ بالاتمام گفتگو سے یہ بات واضح ہے کہ سامریوں کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو کوہِ جریزیم پر قربانی کے لیے پیش کرنے کے محل وقوع کا دعویٰ بعض علاقائی، فرقہ وارانہ مراسمِ عبادت اور نسلی رقابتوں کی وجہ سے تراشا گیا تھا۔ اس کی کوئی حقیقی بنیاد نہ تھی۔ واضح رہے کہ مورِہ کوئی بنجر بیابان نہ تھا ۔ یہ ایک زرخیز اور خوبصورت پہاڑی علاقہ تھا، جس کے چاروں طرف گھنے جنگل اور بکثرت سبزہ زار تھے۔ بائبل نے اسے شاہ بلوط کے درختوں سے بھی متعلق قرار دیا ہے۔ عظیم سمندر(بحیرۂ روم) اس کے مغرب میں بہت زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔ اس کے مشرق میں تھوڑے ہی فاصلے پر دریاے اردن واقع ہے۔ اس کے شمال مشرق اور جنوب مشرق کی طرف کوئی بیس پچیس میل کے دائرے میں گلیلی کا سمندر اور بحیرۂ مردار واقع ہیں، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں کافی وقت سے مقیم تھے، اس لیے اس سے وہ ضرور واقف ہوں گے۔ یہ محض سادگی اور بے خبری ہی ہو سکتی ہے کہ وہ کسی نام نہاد سوختنی قربانی کے لیے ایندھن کی لکڑی کا گٹھا مورِہ کی طرف اٹھا کر لائیں۔ یہ تو گویا ’الٹے بانس بریلی کو‘ والی بات ہوئی۔ مندرجہ بالا تمام مبحث کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ اکیلا نکتہ ہی حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے اس جگہ [مورِہ] لانے کے امکان کو مسترد کر دیتا ہے۔
میسو پوٹیمیا(Mesopotamia) میں اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام شمال مغرب کی طرف روانہ ہوئے اور فدان آرام کے راستے حاران پہنچے۔ وہاں کچھ دیر قیام کے بعد انھوں نے جنوب مغرب کی سمت اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ حلب، حمص، دمشق وغیرہ کے راستے وہ کنعان کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ کنعان میں ان کا پہلا پڑاؤ مورِہ میں ہوا۔ یہاں انھوں نے کچھ عرصے کے لیے اپنے کنبے کے قیام کا بندوبست کیا۔ تب وہ مزید آگے مصر ۱۶؂ کی طرف بڑھے تاکہ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے لیے کوئی موزوں مرکز تلاش کریں۔ یہ دیکھ کر کہ مصر ان کی تبلیغی سرگرمیوں کے لیے کوئی زرخیز میدان نہ تھا، وہ واپس مورِہ آگئے اور کچھ دیر وہاں قیام فرمایاتاکہ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے لیے نئے آفاق دریافت کریں۔ ان کے اس تبلیغی مرکز کی تلاش کے سفر کے دوران میں ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ اسی مورِہ کے مقام پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تبلیغی سرگرمیاں مختلف ممالک میں سرانجام دیں گے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی سرگرمیوں کے لیے ادوم (Edom)کا انتخاب کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کے لیے سالم۱۷؂ (اُن دنوں یروشلم کا نام محض ’سالم‘ تھا) کے جنوب میں قریباً بیس میل کے فاصلے پر اپنا مرکز قائم کیا۔ اور اپنے خاندان کو ممرے(Mamre)، حبرون(Hebron) اورمکفیلا (Machpelah) کے علاقے میں آباد کیا۔حبرون سے قریباً پچیس میل جنوب مغرب میں بیر سبع ان کے مویشیوں کے لیے چراگاہ تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کا خاندان مستقل طور پر یہیں آباد ہو گیا تھا اور مورِہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ آیا تھا۔
مورِہ کے متعلق مندرجہ بالا معلومات بڑی احتیاط سے اٹلسوں، تفسیروں، ڈکشنریوں، انسائیکلوپیڈیاؤں اور بائبل کے اصل متن جیسے مستند مصادر و مآخذ سے جمع کی گئی ہیں۔ ذیل میں صرف دو مختصر اقتباسات دیے جارہے ہیں ۔ولیم سمتھ اپنی لغات بائبل میں لکھتے ہیں:

The oak of Moreh was the first recorded halting-place of Abram after his entrance into the land of Canaan. Gen. 12:6. It was at the "place of Shechem," ch. 12:6, close to the mountains of Ebal and Gerizim. Deut. 11:30. ؂18

سرزمین کنعان میں داخلے کے بعد ابرام کا پہلا ثابت شدہ پڑاؤمورِہ کا شاہ بلوط تھا (کتاب پیدایش ۱۲:۶)۔ یہ کوہِ عبال و جریزیم کے قریب ہی شکیم کے مقام( ۱۲: ۶) پر واقع تھا(کتاب استثنا ۱۱: ۳۰)۔

ریورنڈ اے ایچ گُنر (Rev.A.H.Gunner) اور ایف۔ ایف بروس (F.F.Bruce) ’السٹریٹڈ بائبل ڈکشنری‘ میں بیان کرتے ہیں:

Dt. 11:30 makes reference to the \'oak of Moreh\' in the district of Gilgal (i.e. the Shechemite Gilgal). It is recorded that Abraham pitched his camp there on arriving in Canaan from Harran, and it was there that God revealed himself to Abraham, promising to give the land of Canaan to his descendants. ؂19

کتاب استثنا ۱۱: ۳۰ میں مورِہ کے شاہ بلوط کا جلجال کے ضلعے (شکیم والے جلجال) میں ذکر کرتی ہے۔ درج ہے کہ ابراہیم ؑ نے حاران سے کنعان پہنچنے پروہاں اپنا کیمپ قائم کیا۔ اسی مقام پر خداوند نے ابراہیم ؑ پر اپنا آپ ظاہر کیا(وحی نازل کی) اور سرزمینِ کنعان اس کی نسلوں کو دینے کا وعدہ کیا۔

نوٹ:یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ موریاہ(یا المروہ) ، مورہ اور ممرے تین الگ الگ الفاظ ہیں۔ موریاہ (یاالمروہ)کی یہ حیثیت کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کی قربانی کا مقام ہے، یہودی، مسیحی اور مسلم روایت میں مُسلَّم متفق علیہ ہے۔ البتہ یہ کہ اس کا محل وقوع کیا ہے،ایک مختلف فیہ بات ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ مقام مکے کا المروہ ہے اور یہودونصاریٰ کسی ایک بات پر متفق نہیں ہیں۔ اگرچہ کتاب تواریخ کے مصنف کے نزدیک یہ یروشلم میں وہ جگہ ہے جہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کیا گیا تھا، لیکن یہ بیان بوجوہ درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔مورہ کا تعلق کوہِ جریزیم سے ہے اور ممرے مکفیلہ اور حبرون کے علاقے میں واقع ہے، یعنی مورہ یروشلم کے شمال میں واقع ہے اور ممرے اس کے جنوب میں۔

 

 

حواشی باب پنجم

۱؂ کتابِ مقدس، پیدایش ۲۲: ۲۔

2. The Jewish Enc., 9:17.
3. Hastings Dic. of the Bible Rvd. by Frederick Grant & H. H. Rowley (NY: Charles Scribner\'s Sons, 1963), pp. 674f.
4. New Bible Dic. II, Ed, N. Hellyer Revision Ed, (Leicestor: Inter-Varsity Press, Eng, 1986), p. 415.
5. New Bible Dic., II, Ed, 1099.
6. John Fawcett, The Devotional Family Bible Com. (London: Suttaby, Evance & Co, 1811), Vol 1, no paging.

۷؂ انجیل متی۲۷: ۳۳۔ ۳۴کے سلسلے میں ’کرسچن تفسیرِ بائبل‘(Christian Community Bible, Catholic Pastoral Edn, 1995, p. 66f ) میں وضاحت کی گئی ہے:

When they reached the place called Golgotha (or Calvary) which means the Skull, they offered him wine mixed with gall. Jesus tasted it but would not take it.

جب وہ اس جگہ پہنچے جسے’ گلگوتھا‘ (یا ’کال وری‘) کہا جاتا تھا، جس کے معنی ہیں ’کھوپڑی‘، تو انھوں نے اسے پِت ملی ہوئی مَے پینے کو دی، مگر اس نے چکھ کر پینا نہ چاہا ۔

۸؂ ’ممرے ‘ کے مقام کو ’موریاہ‘کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دونوں نام الگ الگ مقامات پر دلالت کرتے ہیں۔ ’دی السٹریٹڈ بائبل ڈکشنری‘ میں(صفحہ۹۴۰پر) ایف ایف بروس رقم طراز ہیں:

[Mamre] A place in Hebron district, W from Machpelah (Gen.23:17. 19; 49:30; 50 :13), associated with Abraham (Gen. 13:18; 14:13; 18:1) and Isaac (Gen. 35:27). Abraham resided for considerable periods under the terebinth of Mamre; there he built an altar, there he learnt of the capture of Lot, there he recieved Yahweh\'s promise of a son and pleaded for Sodom, and from there he saw the smoke of Sodom and its neighbour cities ascend. The site has been identified at Rametel-Khalil, 4 km N of Hebron.

[ممرے] مکفیلہ سے مغرب میں حبرون کے ضلعے میں ایک مقام [ہے]، جس کا ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ سے ایک تعلق ہے۔ ابراہیم ؑ قابلِ ذکر عرصے تک ممرے کے بلوط کے زیرِ سایہ قیام پذیررہے۔ یہاں انھوں نے قربانی کاایک چبوترہ تعمیر کیا، یہیں انھیں لوط ؑ کی مغلوبیت کا پتا چلا، یہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کا وعدہ ہوا اور انھوں نے سدوم کے حق میں (اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کی اور یہیں سے انھوں نے سدوم اور اس کے پڑوسی شہروں کا دھواں اٹھتے دیکھا۔ اس مقام کے محل وقوع کی حبرون سے چار کلو میٹر شمال میں رامۃ الخلیل کے مقام پر نشان دہی کی گئی ہے۔

یہی مصنف اپنی کتاب 'Places Abraham Knew' میں صفحات ۴۱، ۴۳ اور ۴۶ پر لکھتا ہے:

In so far as Abraham had a place in Canan which could be called his home, it was at Mamre. His family and household could stay here while he was leading caravans or taking part in pastoral activity elsewhere. (...). To Jews, Christians and Muslims, however, its fame is based on the fact that is was here that Abraham stayed and had those dealings with God which have won for him the name 'The Friend of God\'.

اگرابراہیم ؑ کی کنعان میں کوئی ایسی جگہ تھی جسے وہ اپنا گھر کہہ سکتے تو وہ ممرے میں تھی۔ جب وہ کاروانوں کی قیادت کر رہے ہوتے یا کسی اور جگہ اپنے جانوروں کی گلّہ بانی کر رہے ہوتے تو ان کا کنبہ اور ان کے گھر والے یہاں قیام کرتے تھے۔ (... ) ۔ تاہم یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک اس کی شہرت کی بنیاد اس حقیقت پر قائم ہے کہ یہی وہ جگہ تھی جہاں ابراہیم ؑ قیام پذیر ہوئے تھے اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وہ معاملات ہوئے تھے جن کی وجہ سے انھیں ’خلیل اللہ‘ کے لقب سے سرفراز کیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ التفات ہے کہ یہ ممرے کسی شاہ بلوط کے درخت کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہ کوئی ناقابل کاشت یا بنجر زمین نہ تھی۔ سوختنی ایندھن وہاں بکثرت دستیاب تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہاں سوختنی قربانی کے لیے لکڑیاں لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس طرح بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اِس ممرے کا اُس موریاہ سے کوئی تعلق نہیں ، جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا اور بعض علما کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔

9. New Bible Dic. II Ed., 730.

۱۰؂ ہارپر بائبل ڈکشنری میں لفظ ’کال وری‘ کو (صفحہ ۱۵۰ پر) حضرتِ یسوع علیہ السلام کے سولی چڑھائے جانے کا مقام قرار دیاگیاہے:

the site of Jesus' crucifixion. Three gospels recorded both the Semitic name of this site, "Golgotha," and a translation, "Place of the Skull" (Matt. 27:33; Mark 15:22; John 19:17). Luke 23:33 records only a shorter and more accurate translation, "Skull." The name "Calvary" derives from the Vulgate's Latin translation of this word (calvaria). It is likely that the site was so named because of its habitual use for executions. Less likely is an explanation rooted in the physical appearance of the place. Apart from the name very little is confidently known about Calvary. John 19:20 and Jewish and Roman execution customs indicate that it was located outside Jerusalem's city walls. Roman crucifixion customs and the reference to passers-by (Matt. 27:39) also suggest it was near a thoroughfare, while the fact that the cross was visible from afar (Matt. 27:55) could indicate an elevated location. Nevertheless its precise location remains in dispute.

یہ [کَلْوری] عیسیٰ ؑ کی [نام نہاد] سولی دیے جانے کی جگہ ہے۔تین انجیلیوں نے اس مقام کا سامی نام ’گلگوتھا‘ اور اس کاترجمہ ’کھوپڑی کی جگہ‘ دونوں درج کیے ہیں۔ لوقا کی انجیل (۲۳: ۳۳) نے صرف ایک مختصر اور نسبتاً زیادہ صحیح ترجمہ ’ کھوپڑی‘ نقل کیا ہے۔ لفظ کَلْوری بائبل کے لاطینی ترجمے ولگیٹ سے ماخوذ ہے۔ ممکن ہے کہ اس جگہ کا یہ نام اس لیے پڑا ہو کہ یہاں بالعموم سزاے موت پر عمل درآمد کیا جاتا تھا۔ ایک کم تر امکان یہ بھی ہے کہ اس مقام کی ظاہری صورت کھوپڑی سے ملتی جلتی ہو۔ نام کے علاوہ کَلْوری کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انجیل یوحنا (۱۹: ۲۰) سے اور یہودیوں اور رومیوں کی سزاے موت دینے کی رسوم سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ شہر یروشلم کی دیواروں سے باہر واقع تھی۔ رومیوں کی سولی پر لٹکانے کی رسوم اور انجیل متی (۲۷: ۳۹) میں راہ گیروں کے ذکر سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ ایک شارع عام کے قریب واقع تھی ۔ اوراس حقیقت سے کہ صلیب دور دراز سے بھی نظر آ رہی تھی (متی ۲۷: ۵۵)، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اونچی جگہ پر واقع تھی، تاہم اس کا صحیح محل وقوع ایک متنازع بات ہی ہے۔

11. The Illustrated Bible Dic., (Inter-Varsity Press, 1980), 2:1025.

۱۲؂ ڈملو لکھتا ہے:

The Samaritans assert that Mt. Gerizim was the scene of the event, regarding Moriah as Moreh in Shechem (J.R. Dummelow, A Com. on The Holy Bible, NY, The Macmillan Co, 1956, 30)

سامریوں کا دعویٰ ہے کہ کوہ جریزیم ہی اس واقعہ کا مقام ہے۔ وہ موریاہ کو شکیم کا مورِہ تصور کرتے ہیں۔

13. Seventh-Day Adventist Bible Dic., Revised Edn., Ed. by Siegfried H. Horn (Hagerstown: Review and Herald Publg. Association, 1979), p. 760.
14. Hastings Dic. of the Bible Rvd. by Frederick Grant & H. H. Rowley (NY: Charles Scribner's Sons, 1963), pp. 674f.
15. Hastings Dic of the Bible, s.v. 'Moriah' by S. R. Driver, 3:437.

۱۶؂ ہو سکتا ہے کہ یہ خاص مصر نہ ہو۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ جزیرہ نماے سینا ہو۔
۱۷؂ مکینزی کی لغاتِ بائبل میں بیان کیا گیا ہے:

(Gn 14:18), identified with Jerusalem in Ps 76:3 and in early Jewish tradition, which is accepted by modern interpreters. (J. L McKenzie\'s Dic. of Bible, 759).

(کتاب پیدایش ۱۴: ۱۸) ۔ زبور ۷۶:۳ اور قدیم یہودی روایات اس [سالم] کو یروشلم قرار دیتی ہیں اور جدید مفسرین بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔

18. W. Smith's A Dic. of the Bible, p. 416.
19. The Illustrated Bible Dic., 2:1025.

____________