باب نہم



حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل زمانۂ قدیم سے مکہ اور سرزمین عرب کے دوسرے خطوں میں رہتی چلی آ رہی ہے اور وہ ابھی تک وہاں رہ رہی ہے۔ بائبل کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فاران کے بیابان اوربیر سبع کے پاس آبادکیا تھا۔ بائبل کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ دونوں مقام صحراے سینائی میں واقع تھے، لیکن اس بات کا بائبل میں بھی کوئی نشان موجود نہیں کہ سینائی میں کبھی بنو اسماعیل آباد رہے ہوں۔
’دی نیو انگلش بائبل‘ میں درج ہے:

Ishma'el's sons inhabited the land from Havilah to Shur, which is east of Egypt on the way to Asshur, having settled to the east of his brothers. ؂1

اور اُس (اسماعیل ؑ ) کی اولاد حوِیلہ سے شور تک، جو مصر کے مشرق میں( سامنے) اُس راستے پر ہے جس سے اشورکو جاتے ہیں،آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائیوں کے مشرق میں(سامنے) بسے ہوئے تھے۔

’کنگ جیمز ورشن‘ میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

And they dwelt from Havilah unto Shur, that is before Egypt, as thou goest toward Assyria and he died in the presence of all his brethren. ؂2

اوروہ (اولادِ اسماعیل ؑ ) حوِیلہ سے شور تک، جو مصر کے مشرق میں( سامنے) اُس راستے پر ہے، جس سے اشورکو جاتے ہیں،آباد تھی۔ اور اس (اسماعیل ؑ )نے اپنے سب بھائیوں کی موجودگی میں وفات پائی۔

بائبل کے تقریباً تمام ترجموں اور ایڈیشنوں میں نسلِ اسماعیل ؑ کی آبادکاری کے متعلق یہی بیان درج ہے۔ ان کی آبادکاری کے لیے کوئی دوسرا بیان کہیں موجود نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائبل کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل ’حویلہ سے شور تک‘ کے علاقے میں آباد ہوئی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل کی جاے سکونت کے تعین کے لیے ’حویلہ‘ اور ’شور‘ کا محل وقوع ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کرنا ضروری ہے ۔’حویلہ‘ کا لفظ سرزمین یمن کے لیے استعمال ہوتا تھا اور’شور‘ کا مقام بحیرۂ قلزم کے شمال مشرقی سرے پر خلیج عقبہ کے نزدیک کسی جگہ واقع تھا۔ اس طرح یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بائبل کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل الحجاز کے علاقے میں آباد ہوئی تھی۔ حجاز یمن کے شمال میں سرزمین عرب کا مغربی خطہ ہے۔’ حویلہ‘ اور ’شور‘ کے محلِ وقوع کا مختصر بیان درج ہے۔


حویلہ

جہاں تک’ حویلہ‘ کا تعلق ہے، تو یہ جنوبی عرب یا یمن کا نام ہے۔ اسکندریہ کے مشہور جغرافیہ دان بطلیموس (متوفی۱۴۰ء) کے مطابق قدیم زمانے میں اس کا نام ’عریبیا فیلکس‘ (Arabia Falix)تھا۔ ’ایسٹن کی بائبل ڈکشنری‘ میں درج ہے:

A district in Arabia-Felix .؂3 (133). It is the opinion of Kalisch, however, that Havilah \"in both instances, designates the same country, extending at least from the Persian to the Arabian Gulf, and on account of its vast extent easily divided into two distinct parts." This opinion may be well vindicated. ؂4

عریبیا فیلکس میں ایک ضلع ۔ (...) ۔ تاہم کالش کی راے یہ ہے کہ یہ حویلہ دونوں مقامات پر ایک ہی ملک کی نشان دہی کرتا ہے، جو کم ازکم خلیج فارس سے خلیج عرب تک پھیلا ہوا ہے اور اپنے اس وسیع پھیلاؤ کی بنا پر بآسانی دو ضلعوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ اس راے کی تصدیق کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

ولیم سمتھ نے بھی تقریباً اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے:

A district in Arabia Felix, Gen. 10:7, named from the second son of Cush; probably the district of Kualan, in the northwestern part of Yemen. ؂5

یہ عریبیا فیلکس کا ایک ضلع ہے (کتاب پیدایش۱۰:۷) جس کا نام کوش کے دوسرے بیٹے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ غالباً یہ یمن کے شمال مغربی علاقے میں کیوآلان کا ضلع ہے۔

’انسا ئیکلو پیڈیا جوڈائیکا ‘نے لکھا ہے کہ حویلہ کا محل وقوع جنوبی عرب ہے:

The latter Havilah, the son of Joktan, apparently stands for a locality in South Arabia as do Hadoram (Gen. 10:27), Sheba (Gen. 10:28), and Ophir (Gen. 10:29). ؂6

بعد والا حویلہ، یعنی یُقطان کا بیٹا، بظاہر جنوبی عرب میں کسی مقام کو ظاہر کرتے ہیں، جیسا کہ حدورام (پیدایش۱۰:۲۷) ، شیبا (پیدایش ۱۰:۲۸) اور اوفیر (کتاب پیدایش ۱۰:۲۹)۔

’جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا‘نے مندرجہ ذیل وضاحت کی ہے:

HAVILAH: Name of a district, or districts, in Arabia. (133); the Ishmaelites are also placed in the same locality (Gen. xxv.18), (133). In Gen. x.29 and I Chron. i.23, Havilah is a son of Joktan, associated with Sheba and Ophir in the southern portion of the peninsula. (133). Havilah was identified by Bochart Niebuhr with Khaulan in Tehamah, between Mecca and Sana; ؂7

حویلہ عرب کے ایک ضلع یا ضلعوں کا نام: (...) نسلِ اسماعیل کی سکونت اسی مقام پر بتائی گئی ہے (کتاب پیدایش ۲۵:۱۸) ، (...) ۔ کتاب پیدایش ۱۰:۲۹ اور پہلی کتابِ تواریخ ۱:۲۳ میں حویلہ یقطان کا بیٹا ہے۔ یہ جزیرہ نماکے جنوبی حصے میں شیبا اور اوفیر سے منسلک ہے۔ (...) بوخرت نیبوہر نے حویلہ کی مکہ اور صنعا کے درمیان تہامہ میں خولان کے مقام پر نشان دہی کی ہے۔

مندرجہ بالا تمام حقائق سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حویلہ یمن کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا محل وقوع جزیرہ نماے عرب کے جنوب مغرب میں ہے۔

 

شُور

شور کے محل وقوع کی نشان دہی بحیرۂ قلزم کے شمال مشرقی سرے، یعنی خلیج عقبہ کے قریب کسی جگہ کی جا سکتی ہے ۔ ڈبلیو سمتھ نے اس کی مندرجہ ذیل الفاظ میں وضاحت کی ہے:

Shur may have been a fortified town east of the ancient head of the Red Sea; and from its being spoken of as a limit, it was probably the last Arabian town before entering Egypt. ؂8

امکان یہ ہے کہ شور بحیرۂ احمر کے قدیم سرے کے مشرق میں ایک قلعہ بند شہر تھا اور کیونکہ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ ایک آخری حد تھی تو اِمکان یہ ہے کہ یہ مصر میں داخل ہونے سے پہلے عرب کا آخری شہر تھا۔

اکثر علما کے خیال میں اس کا محل وقوع خلیج سویز کے جنوب مشرق میں صحراے سینائی میں تھا۔ صورتِ حال جو بھی ہو، یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ شور یا بیابانِ شور کنعان کے جنوب مغربی کونے سے باہرہی کسی جگہ واقع ہو سکتا ہے۔ امکان یہ ہے کہ یہ سرزمین عرب کے شمال مغربی سرے کے قریب ہو گی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائبل کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل عرب میں شور (سرزمین عرب کے شمال مغربی کونے) اور حویلہ(سرزمین عرب کے جنوبی ساحلی علاقے، یعنی یمن اور حضرموت) کے درمیان آباد ہوئی تھی۔ عرب کے لوگ اس خطے کو الحجاز کہتے ہیں۔ مکہ ، مدینہ اور طائف کے شہر اسی الحجاز میں واقع ہیں۔ اکثر نسلِ اسماعیل کے قبیلے (اہل عرب) اسی الحجاز میں یا اس کے ارد گرد آباد ہوئے تھے۔ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ بائبل کے مطابق حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فاران اور بیر سبع کے بیابان میں آباد کیا تھا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق فاران اور بیر سبع کا بیابان اور سرزمین موریاہ عرب میں واقع ہوں نہ کہ سینا میں۔
یہ بات کہ بیش تر قبائلِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، عالمی طور پر تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے اور اس پر کسی تفصیلی گفتگو کی ضرورت نہیں۔ ذیل میں جوزیفس کی \"Antiquities\" سے چند لائنیں نقل کی جاتی ہیں:

(...). And they circumcised him upon the eighth day. And from that time the Jews continue the custom of circumcising their sons within that number of days. But as for the Arabians, they circumcise after the thirteenth year, because Ismael, the founder of their nation, who was born to Abraham of the concubine, was circumcised at that age; (...). Of this wife were born to Ismael twelve sons; Nabaiot, Kedar, Abdeel , Mabsam [or Mibsam], Idumas, Masmaos, Massaos, Chadad, Theman, Jetur, Naphesus, Cadmas. These inhabited all the country from Euphrates to the Red Sea, and called it Nabatene. They are an Arabian nation and name their tribes from these, both because of their own virtue, and because of the dignity of Abraham their father. ؂9

اور انھوں نے آٹھویں دن اس کا ختنہ کیا۔ اس وقت سے یہودیوں کے ہاں یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ وہ دنوں کی اتنی تعداد کے اندراندر اپنے بیٹوں کا ختنہ کرتے ہیں، لیکن جہاں تک عربوں کا تعلق ہے، وہ تیرھویں سال کے بعد ختنہ کرتے ہیں،۱۰؂ کیونکہ ان کی قوم کے بانی اسماعیل ؑ ،جو ابراہیم ؑ کے ہاں ایک لونڈی سے پیدا ہوئے تھے ،ان کا ختنہ اس عمر میں کیا گیا تھا۔ (...)۔ اس بیوی سے اسماعیل ؑ کے ہاں بارہ بیٹے پیدا ہوئے: نبایوت۱۱؂، قیدار۱۲؂، عبدیل۱۳؂، مبسام(مبسام)، ادوماس۱۴؂، مسماء وس۱۵؂، مساء وس۱۶؂، حدد۱۷؂، تیمان۱۸؂،جیتر، نفیسس۱۹؂، قدماس۲۰؂۔ یہ دریاے فرات سے بحیرۂ احمر کے سارے ملک میں آباد ہوئے اوروہ اسے نباتین کہتے تھے۔ وہ ایک عربی قوم ہیں اور ایک تو ان کی اپنی نیکی کی وجہ سے اور دوسرے اپنے باپ ابراہیم ؑ کے بلند مرتبہ ومقام کی وجہ سے اپنے قبیلوں کے نام ان کے نام پر رکھتے ہیں۔

’کتاب جو بلیز‘ میں بھی یہ بات ثبت ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل عرب سے تعلق رکھتی ہے۔ ذیل میں اس مفہوم کا اقتباس درج ہے:

And Ishma'el and his sons, and the sons of Keturah, and their sons, went together and dwelt from Paran to the entering of Babylon in all the land which is towards the East facing the desert. And these mingled with each other, and their name was called Arabs, and Ishma'elites. ؂21

اور اسماعیل ؑ اور ان کے بیٹے ، اور قطورہ کے بیٹے ،اور ان (بیٹوں) کے بیٹے ، اکٹھے گئے اور فاران سے بابل کے داخلے تک ساری سرزمین میں، جو مشرق کی طرف صحرا کے بالمقابل ہے، آباد ہو گئے۔ اور یہ ایک دوسرے سے مل گئے اور وہ اہل عرب اور بنی اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئے۔

بائبل کی کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۔ ۱۸ کی وضاحت کرتے ہوئے لارنس بوط لکھتا ہے:

These names also represent a variety of Arabian Tribes. ؂22

یہ نام مختلف عرب قبائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

’نیوجیروسیلم بائبل‘ میں وضاحت ہے:

Ishmael's descendents are the North Arabian tribes. ؂23

شمالی عرب کے قبائل اسماعیل ؑ کی نسل سے ہیں۔

میکنزی اپنی لغاتِ بائبل میں لکھتا ہے:

He is the ancestor of a number of Arabian tribes. ؂24

وہ متعدد عرب قبائل کا جدُّالاجداد ہے ۔

یہ بات عربوں کی شاعری اور اُن کے قصے کہانیوں میں بھی بڑی کثرت سے بیان ہوئی ہے۔قریش حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دوسرے بیٹے قیدار کی نسل سے ایک نہایت اہم قبیلہ ہے اور یہ آغازِ اسلام سے سینکڑوں، بلکہ ہزاروں سال پہلے سے مکے میں آبادتھا۔

________

 

 

حواشی باب نہم

1. NEB-Gen. 25:18.
2. KJV-Gen. 25:18.

۳؂ ْ عریبیا فیلکس‘ جنوبی عرب یا یمن کا قدیم نام ہے۔ جے ۔اے تھامپسن نے ’انٹر پریٹرز بائبل ڈکشنری‘ ۱: ۱۷۹ میں وضاحت کی ہے:

Classical geographers, following Ptolemy (2nd century A.D.), divided the country into three parts: [1] Arabia Patrea, whose main city was Petra and which included Sinai, Edom, Moab, and E. Trans-Jordan; [2] Arabia Deserta, the Syrian Desert; and [3] Arabia Felix, "Fortunate Arabia," the S portion.

بطلیموس ( دوسری صدی عیسوی ) کی پیروی میں کلاسیکل جغرافیہ نویسوں نے اس ملک کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ (۱) عریبیا پیٹریا، جس کا اہم شہر پیٹرا تھا اور جس میں صحراے سینائی ، ادوم ، موآب اور شرق اردن شامل تھے، (۲) عریبیا ڈیزرٹا، یا صحراے شام اور (۳) عریبیا فیلکس، یعنی خوش نصیب عرب ، جس سے جنوبی حصہ مراد ہے۔

4. Easton\'s 1897 Bible Dic. in "Power Bible" CD. ROM Version.
5. W. Smith's Bible Dic., p. 235.
6. Enc. Judaica, CD-ROM Version.
7. The Jewish Enc., 6:266.
8. W. Smith's Bible Dic., p. 627.
9. Flavius, Antiquities, Book I, Ch. xii: 2, 4, p. 41.

۱۰؂ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اس 'Antiquities'کا مصنف فلیویس جوزیفس (قریباً ۳۷ تا قریباً ۱۰۰ء) آغاز اسلام سے پانچ صدی سے بھی زیادہ قبل وفات پا چکا تھا۔ایف ایل کراس ’اوکسفرڈ ڈکشنری آف دی کرسچن چرچ‘ میں لکھتا ہے :

He brought out c. 94 his second great work, the \'Antiquities of the Jews', the 20 books of which trace the history of the Jews from the creation of the world to the beginning of the Jewish war . ) Oxf. Dic. of the Christian Church\' (London: Oxf. Univ. Press, 1974, p. 759).

اُس نے قریباً ۹۴ ء میں اپنی عظیم کتاب 'Antiquities of the Jews\'شائع کی۔ اس کی بیس کتابیں آغازِ آفرینش سے جنگِ یہود تک یہودیوں کی تاریخ پر مشتمل ہیں۔ 
یہ جو اُس نے لکھا ہے کہ ’جہاں تک عربوں کا تعلق ہے، وہ تیرھویں سال کے بعد ختنہ کرتے ہیں‘ اگر یہ بات واقعہ کے اعتبار سے درست ہو تواس کا مطلب ہے کہ ختنہ کی یہ رسم زمانۂ قبلِ اسلام کے عربوں سے تعلق رکھتی ہے۔ مسلمانوں کا معاملہ یہ نہیں۔ وہ تو اپنے بچوں کا ختنہ اُن کے ابتدائی دنوں میں خاص طور پر ساتویں دن کرتے ہیں،جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے نواسوں حسن اور حسین کے ختنے اُن کی پیدایش کے ساتویں دن کیے تھے۔ (مستدرک حاکم والبیہقی بروایت حضرت عائشہ)
۱۱؂ نبایوت حضرت اسماعیل علیہ السلام کا پہلونٹا بیٹا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ پیٹرا کے نباتیوں کا جدِ اعلیٰ ہو۔ اسی کی وجہ سے بطلیموس جیسے قدیم جغرافیہ نویس شمالی عرب کو عریبیا پیٹریا کے نام سے موسوم کرتے تھے ۔
۱۲؂ قیدار عرب کے عظیم قبیلے قریش کا جدِّ امجد تھا۔محمد رسول اللہﷺ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ (ملاحظہ کیجیے ’جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا‘ ۷: ۴۶۲ ،لفظ ْ قیدار‘(
۱۳؂ ْ عبدیل‘ کے معنی ہیں ْ اللہ کا بندہ ‘ ،جسے عربی میں’عبداللہ‘کہتے ہیں، لیکن بائبل نے اسے ’عدبیل‘ کا نام دیا ہے (کنگ جیمز ورشن، کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۳)۔ ہو سکتا ہے کہ کاتب کی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو گیاہو۔
۱۴؂ بائبل میں اسے ’دُوماہ‘ لکھا گیا ہے (کنگ جیمز ورشن، کتابِ پیدایش ۲۵:۱۴)۔اسی کی وجہ سے عرب کا ایک مشہور شہر ’دُومتہ الجندل‘ کے نام سے منسوب ہے۔تبوک کی مہم کے دوران رسول اللہ ﷺ نے اس کا محاصرہ کیا تھا۔
۱۵؂ بائبل میں اسے ’مشماع‘ کا نام دیا گیا ہے(کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۴) ۔
۱۶؂ بائبل میں اسے ’مساع‘ کا نام دیا گیا ہے (کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۴)۔
۱۷؂ بائبل میں اسے ’حدر‘ کا نام دیا گیا ہے(کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۵) ۔
۱۸؂ بائبل میں اسے ’تیما‘ کا نام دیا گیا ہے(کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۵) ۔
۱۹؂ بائبل میں اسے ’نعفش‘ کا نام دیا گیا ہے (کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۵) ۔
۲۰؂ بائبل میں اسے ’قیدماہ‘ کا نام دیا گیا ہے(کتابِ پیدایش ۲۵: ۱۵) ۔

21. The Apocrypha and Pseudepigrapha of the OT, Vol. II Pseudepigrapha, Ed. Dr. R. H. Charles (Oxford: at the Clarendon Press, 1968), p. 43.
22. International Bible Com., Ed. William R. Farmer (Bangalore: TPI, 2004), 431.
23. Footnote 'b' on Gen 25:18 New Jerusalem Bible, p.47
24. McKenzie, Dic. of Bible, 1984, s.v. 'Ishmael', p.403.

____________