یہ تو مذہبی انتہا پسندی کی کہانی تھی۔اس سے زیادہ بڑا مسئلہ مغربیت کی وہ لہر ہے جو طوفان بلاخیز کی طرح ہمارے معاشرے پر حملہ آور ہوچکی ہے۔ اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آثار یہی ہیں کہ یہ ہماری مذہبی ، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بہالے جائے گی۔
مغربیت کی اس حالیہ یلغار کا آغاز نوے کی دہائی سے ہوا جب تاریخ کا ایک عظیم انقلاب آیا،یعنی انفارمیشن ایج کا آغاز ہوا۔اس کے نتیجے میں دنیا حقیقی معنوں میں ایک بین الاقوامی گاؤں بن گئی۔مغرب کی تہذیب جو سوویت یونین کے خاتمے اور گلف وار میں اپنی فتح کے بعد خود اعتمادی کے نشے سے چور تھی ، دنیا میں اپنے سیاسی، معاشی اور سب سے بڑھ کر تہذیبی و فکری غلبہ کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ تادم تحریر اسے تینوں محاذوں پر شان دار کامیابی نصیب ہورہی ہے۔ حالات یہ بتارہے ہیں اور جائزے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے سیاسی اور معاشی غلبے پر تو اہل اسلام اور دیگر لوگوں کو کچھ تشویش ہے ، مگر ان کے تہذیبی غلبے کو سب لوگ خوش دلی سے قبول کررہے ہیں۔
پیو گلوبل ایٹیٹیوٹ پراجکیٹ سروے کے مطابق ایک امریکی ادارے نے دنیا کے ۴۴ ملکوں کے ۳۸ ہزار افراد کے انٹرویو کیے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا خاص طور پر مسلم ممالک میں امریکا مخالف جذبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سروے کے مطابق پاکستان کے ۶۹ فی صد لوگ امریکا سے نفرت کرتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ہم جس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جائزے کے مطابق اس نفرت کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد امریکی ٹی وی، فلمیں اور موسیقی پسند کرتے ہیں۔یہ جائزہ نہ بھی ہوتا تب بھی پاکستان کی حد تک ہم میں سے ہر باخبر شخص اس رجحان سے اچھی طرح واقف ہے کہ کس طرح امریکی فلمیں اورموسیقی ہمارے ہاں پسند کی جاتی ہے ۔ امریکی فاسٹ فوڈاور مشروبات ہمارے ہاں بے انتہا مقبول ہیں۔ ان کے تنگ و مختصر لباس ہمارے مردوں سے گزر کر عورتوں میں بھی عام ہورہے ہیں۔
ہمارا مقصود اس حقیقت کا بیان ہے کہ اگر امریکا اور مغرب کو سیاسی اور معاشی میدان میں شکست ہو گئی، گو اس کے امکانات بہت روشن نہیں، تب بھی ان کا تہذیبی غلبہ بغیر کسی نمایاں مزاحمت کے دنیا بھرمیں بشمول پاکستان پھیلتا رہے گا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ وی سی آر کے بعد پہلے ڈش اور اب انٹر نیٹ اور کیبل کے ذریعے مغربی افکار و خیالات اور اقدار و روایات ہمارے معاشرے میں علانیہ ہجوم کررہے ہیں اور کامیابی سے ہمارے گھروں کو فتح کررہے ہیں۔ دوسری طرف مغرب کی تہذیبی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہندوستانی میڈیا نیز خود ہماری اشرافیہ اور میڈیا کے لوگ مغربیت کو ہمارے گھروں میں ہماری زبان میں پھیلارہے ہیں۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مغربی تہذیب سے مفتوح ہونے کے قریب ہے۔اہل مغرب نے اپنے دور حکومت میں ہماری اشرافیہ کے اذہان کوتسخیر کیا تھا۔ اب لگتا ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ، ایک محدود اقلیت کو چھوڑ کر، ان کے رنگ میں رنگنے کے لیے تیار ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اہل مغرب کی نقالی ان کی تہذیب اور کلچر کے اعتبار سے تو کرنے کے لیے مستعد ہیں ، مگر اجتماعی زندگی کے بارے میں ان کی ذمہ دارانہ روش اور اخلاقی خوبیاں اخذ کرنے کے معاملے میں بالکل پیچھے ہیں۔وہ بے شک مادہ پرست ہیں ، مگر ان کی اکثریت اجتماعی معاملات میں اعلیٰ اخلاقی روش کی پابند ہے،مگر ہم اسلام کے نام لیوا ہونے کے باوجود اجتماعی اخلاقیات کے بارے میں ہر سطح پر بدترین روش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔مسلم قوم کی عصبیت کے خاتمے ، انتہا پسندی اور مغربیت کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقی انحطاط، بلاشبہ قومی سطح پر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

____________