قومی زندگی کے ساتھ مزید حادثہ یہ ہوا کہ مغرب پسند اشرافیہ اور سیاسی قیادت کا ٹکراؤ فکری اور مذہبی قیادت سے شروع ہوگیا۔ان کے ٹکراؤ سے نہ صرف قومی تعمیر و ترقی کا عمل متاثر ہوا ، بلکہ ہمارے قومی مزاج میں دو انتہائی تباہ کن رجحانات داخل ہوتے چلے گئے۔ایک مغربی فکروعمل کامعاشرے میں نفوذ دوسرے مذہبی جمود اور انتہا پسندی کا فروغ۔یہ بات چونکہ بڑی اہم ہے ، اس لیے ہم اس کی ذرا تفصیل بیان کرنا چاہیں گے۔
تحریک پاکستان میں اسلام کا نعرہ لگنے سے ہماری مذہبی قیادت کویہ خیال ہوا کہ یہاں کے عوام اجتماعی زندگی میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف اقتدارایسے مغرب پرست لوگوں کے ہاتھ میں ہے جونفاذ اسلام کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ اس میں مخلص ہیں ۔ چنانچہ اقتدار ان سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے۔بدقسمتی سے ان دونوں باتوں سے متعلق بعض اہم پہلو ان کی نظر میں نہ رہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے مقتدر طبقات ذہناً مغرب سے مرعوب تھے اور ہیں ، مگر اسلام کا جو تصور مذہبی طبقات پیش کرتے رہے ، اس سے متعلق بعض حقیقی سوالات تھے جن کا مدلل اور تسلی بخش جواب دینا اہل مذہب کی ذمہ داری تھی جسے پورا کیے بغیر انھیں مغرب کی ذہنی غلامی سے نکالنا ممکن نہ تھا۔اس کے بجاے ہمارے اہل علم نے مغربی معاشرے کے بعض منفی پہلوؤں کو اجاگر کرکے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ انھوں نے مغرب زدہ اشرافیہ پر اتمام حجت کردیا ہے۔حالاں کہ یہ روش دانائی ہی کے نہیں خیرخواہی کے بھی اس جذبے کے خلاف تھی جو پیغمبرانہ دعوت کا شیوہ رہا ہے۔دوسری طرف عوام کے بارے میں بھی ان کا اندازہ درست نہ تھا۔ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ عوام الناس کی تربیت نہ ہونے کی بنا پراسلام سے ان کی وابستگی جذبات کی حد تک تھی او ر ان کا اسلامی شعور بہت پختہ نہ تھا۔مزید یہ کہ صرف مذہبی بنیادوں پر دینی قیادت کو سیاسی اقتدار دینا اس قوم کی روایت نہ تھی۔چنانچہ انھیں مؤثر عوامی تائید نہ مل سکی۔اقتدار کے سر چشموں کو بھرپور عوامی تائید کے بغیر ہٹانا ممکن نہیں ہوا کرتا۔ ان حقائق کو نظر انداز کرکے مغرب زدہ اشرافیہ کے خلاف محاذ قائم کرلیاگیا۔جس کے نتیجے میں ایک بے فائدہ ٹکراؤ شروع ہوگیا ۔
اہل مذہب کی پالیسی شروع دن سے یہ رہی کہ دستور کی سطح پر اسلامی احکامات کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔وہ بھول گئے کہ قوم دستور سے نہیں ، بلکہ دستورقوم سے بنتا ہے۔بہرحال آئین کی کاغذی سطح پر مغرب زد ہ اشرافیہ نے اسلام کی رسمی موجودگی کو گوارا توکرلیا ، لیکن معاشرتی سطح پر انھوں نے خواتین کے حقوق اور پردہ وغیرہ کے عنوانات سے بعض مباحث چھیڑدیے، تاہم میڈیا کی طاقت نہ ہونے کی بنا پر ان کے اثرات زیادہ نہ بڑھ سکے ۔ دوسرے یہ کہ ان کا جواب دینے کے لیے علما نے ایک بھرپور اور منظم علمی تحریک چلائی جس نے ان کے تھوڑے بہت اثرات کو بھی غیر مؤثر کردیا۔ایوب خان کے دور میں قانون کی سطح پر کچھ ایسے اقدامات کیے گئے جو رائج اسلامی تصورات سے بعید تھے، تاہم عوام میں مغربیت کے نفوذ کی کوئی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ دوسری طرف دستوری سطح پر اسلام کی اہمیت کو چیلنج نہیں کیا گیا۔یہ صورت حال آج کے دن تک برقرار ہے۔اس کے دو تین اسباب ہیں: ایک تو تحریک پاکستان کا پس منظر،دوسرے عوام الناس کی اسلام سے جذباتی وابستگی اور تیسرے یہ حقیقت کہ بہرحال ہماری اشرافیہ نظریاتی طور پر ہی سہی اسلام کے دین حق ہونے کی قائل ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال غلام احمد پرویز صاحب کا اشرافیہ میں نفوذ تھا۔ پرویزصاحب کا نقطۂ نظر ایک جملے میں اگر بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہے کہ ہر حقیقت قرآن کی بارگاہ میں سجدہ کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب کبھی قرآنی بیانات اور مغربی مسلمات میں ٹکراؤ ہوتا تو وہ اپنی مخصوص لغت کی مدد سے قرآن کومغربی افکار کے تابع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے خیالات دراصل اشرافیہ کے اس ذہن کے عکاس تھے کہ اسلام حق تو ہے ، مگر اس کی کوئی ایسی بات قابل قبول نہ ہوگی جو مغربی اقدار و روایات کے خلاف ہو۔ چنانچہ اسلام کی وہ تعبیر ہماری اشرافیہ کو بڑی پسند آئی جس میں اسلام کے حق ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں تھا ، مگر زندگی کے عملی میدان میں اس کا کوئی کردار نہ تھا۔

____________