سولہواں باب 

مسلمہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا میں آزادئ رائے ہونی چاہیے۔ آزادئ رائے ہی کی بنیاد پر مکالمہ جنم لیتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو خوب سے خوب تر راستہ ملتا ہے۔ تاہم دنیا میں ہر اچھی چیز کی بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں۔ مثلاً بالکل بجاطور پر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کے ہاتھ کی آزادی اُس جگہ ختم ہوجاتی ہے جہاں سے دوسرے انسان کی ناک شروع ہوتی ہے۔ اسی طرح آزادئ رائے کی بھی حدود ہیں۔ اس کے آداب یہ ہیں کہ بات تہذیب اور شائستگی کے ساتھ کی جائے، ناروا اور غلط الزامات نہ لگائے جائیں، فریقِ مخالف کا احترام کیا جائے اور کسی کے مذہب یا مقدس ہستیوں کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ یہ چیزیں دل آزاری کو جنم دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں کے درمیان دشمنیاں اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ ہر اچھی گفتگو، مکالمے، تحریر، تقریر اور تصویر میں اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ہر زمانے میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان آداب کا خیال نہیں رکھتے۔ تاہم معاشرے کی اکثریت ان آداب کا خیال رکھتی ہے اور اُن لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے جو دوسروں کی مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز اور تضحیک کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ تاہم پچھلے کئی برس سے مغرب کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ توہین اور دل آزاری پر مبنی تحریروں اور تقریروں کو آزادئ اظہار کے پردے میں جائز قرار دیتا ہے اور الٹا اُن لوگوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسی توہین کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ اس کی ابتدا بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ سے ہوئی۔ یہ کتاب اسلام اور حضورؐ پر (خاکم بدہن) گھٹیا حملوں سے بھری ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر مسلمانوں کا احتجاج بالکل فطری تھا۔ تاہم مغرب نے نہ صرف یہ کہ سلمان رشدی کی مدافعت کی، بلکہ اُسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا، اور مختلف سربراہان مملکت سے اُس کی ملاقاتیں کروائیں۔ حال ہی میں برطانیہ نے اُسے ادب کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا ہے۔ 
اسی طرح بدنامِ زمانہ بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین، جس نے اپنے ناول ’’لجا‘‘ میں اسلام کے خلاف بہت بدزبانی کی ہے، کو یورپی پارلیمنٹ نے اظہار خیال اور آزادئ رائے کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا۔ مغرب کے اکثر میڈیا گروپوں نے بھی تسلیم نسرین کی حمایت کی۔ حالانکہ اس کے بالکل برعکس مغرب نے امن کو خطرے کے بہانے کی آڑ میں بہت سے مسلمان مصنفین پر پابندی لگائی ہے۔ حتیٰ کہ بوسنیا کے سابق صدر عالی جاہ عزت بیگ کی کتاب Islam between East and Westپر بھی فرانس میں پابندی لگادی گئی۔ 
اس کے بعد سے لے کر اب تک یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کہیں کارٹونوں کے ذریعے اسلام کی تضحیک کی جاتی ہے، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں قرآن مجید پر پابندی لگادی جائے یا مساجد کے مینار نہ بنائے جائیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے ایک ریپبلیکن رہنما نے یہاں تک ہرزہ سرائی کی کہ اگر اُس کے ملک کے خلاف حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تومکہ اور مدینہ پر بمباری کی جائے۔ 
تاہم یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ سارا مغرب اس طرح نہیں سوچتا۔ جب ڈنمارک میں ایک اخبار نے دل آزار کارٹون چھاپے تو ڈنمارک کی حکومت کا رویہ بہت افسوس ناک رہا۔ وزیراعظم نے مسلمان ممالک کے سفیروں سے ملاقات سے بھی انکار کردیا اور کہا کہ چونکہ یہ آزادئ اظہار کا مسئلہ ہے اس لیے اس معاملے پر معذرت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس جب ناروے کے ایک اخبار نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا تو ناروے کے وزیراعظم نے علی الاعلان مسلمانوں سے معافی مانگی اور اس بات پر بہت ندامت کا اظہار کیا کہ ایک اخبار کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مسلمانوں کے دل آزاری ہوئی۔ یورپ اور امریکہ کے اندر بہت سے اہم دانش وروں اور صائب الرائے افراد نے مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی چیزوں کی سخت مذمت کی۔ حتیٰ کہ امریکی حکومت نے بھی نیم دلی کے ساتھ ان چیزوں کی مذمت کی۔ 
تاہم یورپ کے چند بڑے ممالک مثلاً برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کا رویہ بڑا ہی افسوس ناک رہا۔ چنانچہ یہاں ہمارے سامنے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک طرف تو مغرب دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں مسلمان ممالک کی مدد کا خواست گار ہے، لیکن دوسری طرف مغرب کے چند اہم بڑے ممالک مسلمانوں کی دل آزاری کے درپے ہیں اور اس طرح کے کرتوتوں کے ذریعے مسلمانوں کو مسلسل اشتعال دلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ ایسا کیوں کررہے ہیں؟
اس راقم کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ مغرب ہمیں مسلسل ایک ہیجانی کیفیت میں رکھنا چاہتا ہے۔ جب کوئی قوم ہیجانی کیفیت کا شکار ہوجاتی ہے تو مشتعل ذہن کی نفسیات کے ساتھ وہ مسلسل ایسے Desperate اقدامات اٹھاتی ہے جو اُس کے طویل المیعاد مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔ ہیجانی کیفیت میں مبتلا قوم ٹھندے دل ودماغ کے ساتھ سوچ بچار نہیں کرسکتی۔ حتیٰ کہ وہ دشمن کی چالوں کا تجزیہ اور اُس کا صحیح توڑ بھی نہیں کرسکتی۔ یہی کارٹونوں والے سانحے کی مثال لے لیجئے۔ جب ان کارٹونوں کی اشاعت کے دوتین مہینے بعد یہ خبر عالمِ اسلام میں پھیلی تو مختلف جگہوں میں مظاہرے شروع ہوئے۔ اکثر مظاہروں میں تشدد کے واقعات بھی ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان میں خصوصاً بہت زیادہ تشدد آمیز رویہ دیکھنے میں آیا۔ لاہور اور پشاور میں ایک دن یوں بھی گزرا جب ہر طرف لاقانونیت اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ پشاور میں بے شمار دکانیں لوٹی گئیں اور ٹرانسپورٹروں نے مقابل کمپنیوں کی بیسیوں بسوں کو آگ لگادی۔ 
عالم اسلام میں ریاستی سطح پر یہ ہوا کہ کئی سربراہوں نے ان کارٹونوں کی مذمت کی اور یہ اعلان کیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ بہت سی سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ کے لیے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔ سعودی عرب کے اندر اس بائیکاٹ پر عمل ہوا اور چند ہی دنوں میں ڈنمارک کی ڈیری مصنوعات کی درآمد پچیس فیصد رہ گئی۔ 
جب چند ہفتوں کا یہ ہیجانی دور ختم ہوگیا، تو سب کچھ اُسی طرح نارمل ہوگیا جس طرح پہلے تھا۔ جلسے جلوس ختم ہوگئے، اقوام متحدہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا گیا، ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم ہوگیا اور اب یوں لگتا ہے جیسے مسلمان اس سانحے کو بھول گئے ہیں۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا ردِ عمل واقعی یوں ہی ہونا چاہیے تھا، جیسا ہوا؟ یا اس سے مختلف ہونا چاہیے تھا؟ کیا اس موقع پر ہمیں کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہیے تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا فوری ردِ عمل ہیجانی تھا، جو درحقیقت ہمارے دشمن کے مفاد میں تھا۔ اور ہمارا طویل المیعاد کوئی ردعمل تھا ہی نہیں۔ زندہ قوموں کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا۔ اور اس طریقے سے دنیا کے اندر کوئی معرکہ نہیں جیتا جاسکتا۔ 
زندہ قوموں کے شایانِ شان طرزعمل یہ ہوتا کہ ساری دنیا کے مسلمان، سیاست اور مسلک پرستی سے بالاتر ہوکر، بالکل اتفاق کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نکل کر پرامن مظاہرے کرتے، جارحانہ زبان استعمال نہ کرتے اور دنیا بھر کے امن پسند غیر مسلموں سے اپیل کرتے کہ وہ بھی اس احتجاج میں اُن کے ساتھ شریک ہوجائیں۔ 
دوسرا نکتہ مسلمان تنظیموں کے عمل کرنے کا تھا۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ ڈنمارک کی مصنوعات کی فہرست مرتب کرکے ہر مسلمان کو پہنچاتے، تاکہ ان مصنوعات کا موثر اور مسلسل بائیکاٹ جاری رہتا۔ 
تیسرا نکتہ مسلمان حکمرانوں کے عمل کرنے کا تھا۔ وہ یہ کہ وہ او آئی سی کی سطح پر اس کے خلاف ایکشن لیتے اور متفقہ طور پر اس ضمن میں ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس موقع پر مسلمان حکمرانوں کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ جو ملک بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دے گا، اُسے دوست تصور نہیں کیا جائے گا۔ 
اگر افراد، تنظیموں اور مسلمان حکمرانوں کی طرف سے ایسا طرزعمل ہوتا، تو یقیناًاس کا اثر ہوتا۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ ہمارے لوگ اس واقعے کو بھول گئے ہیں۔ سیاسی تنظیمیں اس سانحے کو فراموش کرکے نئے نئے ہیجانی مسائل کی تلاش میں ہیں تاکہ نعرہ بازی اور جذباتیت کے ذریعے اپنے مفادات کو حاصل کیا جاسکے۔ اور جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے، انہوں نے تو یقیناً اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ مسلمان اس واقعے کو بھول گئے ہیں، اور یوں ان کے اوپر سے دباؤ ختم ہوگیا ہے۔ 
مغرب کی طرف سے دشمنی اور تضحیک پر مبنی ہر اقدام پر ہمارا ردِعمل وقتی اور ہیجانی ہوتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ مغرب کا اصل مقابلہ تو صرف جمہوریت، تعلیم، انصاف اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ حکمت پر مبنی اقدامات ہی کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ مغرب تو یہ چاہتا ہے کہ ہمارا ہیجانی طرزِعمل مسلسل جاری رہے۔ اسی میں مغرب کا فائدہ ہے۔ کیونکہ اس طرزِعمل کے ذریعے ہم مقابلے کے اصل عوامل کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ مغرب مسلسل ترقی کررہا ہے اور ہم مسلسل پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ 
اس راقم کا یہ تجزیہ ہے کہ مغرب کا اسلام دشمن اور مسلمان دشمن طبقہ یہ سب کچھ جان بوجھ کررہا ہے، تاکہ مسلمانوں کے اندر فوری ردعمل کی نفسیات مسلسل پختہ ہوتی رہیں، اور یوں طویل المیعاد منصوبہ بندی کی طرف ان کا دھیان نہ جائے۔ جب ایک فرد فوری ردعمل پر مبنی ایک Drasticاقدام لے لیتا ہے، تو اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اور دشمن کو اپنا غم وغصہ دکھا دیا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد طویل المیعاد منصوبہ بندی کی طرف اس کی توجہ نہیں جاتی۔ وہ وقت اور زمانے کو اپنے مفاد میں استعمال نہیں کرتا، بلکہ وقت کے تھپیڑوں اور حالات کی رو کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ جب تک مسلمان اپنی اس ذہنیت کو نہیں بدلیں گے، تب تک وہ مقابل قوتوں کے حملوں کا جواب نہیں دے سکیں گے اور وقت کے دھارے کو اپنے قابو میں نہیں لاسکیں گے۔