بارہواں باب 
کوسوو،سابقہ یوگوسلاویہ کا ایک ایسا صوبہ تھا جہاں البانوی نژاد مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اس صوبے کی آبادی تقریباً بیس لاکھ تھی اور اس میں نوے فیصد باشندے البانوی نژاد تھے جن کی اکثریت مسلمان تھی۔باقی دس فیصدسرب تھے۔
چونکہ سربیا ہی آنجہانی یوگوسلاویہ کا سب سے بڑا صوبہ تھا اور یوگوسلاویہ کی فوج اور صنعت میں اس کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔اس لئے سربیا نے اپنی آزادی کے فوراً بعد سرب نسل کو بچانے کے بہانے اپنی افواج کوسوو بھیج دیں۔یوں کوسوو میں بر وقت کوئی ایسی تحریک آزادی شروع نہیں ہوسکی،جس کی وجہ سے اسے بوسنیا کے ساتھ آزادی حاصل ہوسکتی۔تاہم وہاں مسلمانوں کی ایک پرامن تحریک آزادی جناب ابراہیم رگوا کے زیر قیادت ابھر آئی۔لیکن چونکہ اس جدوجہد آزادی کے لئے ابھی حالات بہت غیر مناسب تھے، اس لئے یہ ایک غیر نمایاں شکل(low profile)میں رہی۔تاہم جب بوسنیا میں امریکی مداخلت کے بعد ڈ یٹن امن سمجھوتے کے تحت امن قائم ہوا اور مسلمانوں کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقعہ ملا تو کوسوو کی تحریک آزادی کو بھی مہمیز ملی۔یوںیہاں آزادی کی تحریک زور پکڑنے لگی۔
بوسنیا کے تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے کوسوو کی تحریک آزادی نے شروع ہی سے چند ایک اصول طے کرلئے۔ایک یہ کہ جدوجہد بنیادی طور پر پرامن ہوگی،یہ ایک ہی تنظیم کے زیرقیادت ہوگی،اس کا لیڈر بھی ایک ہی ہوگا اور اس کا اصل کام دنیا پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کوسوو کے عوام آزادی چاہتے ہیں۔چنانچہ یہ پرامن جدوجہد شروع ہوئی۔
کوسوو میں کئی علاقے ایسے تھے جو سرب فوج کے کنڑول سے باہر تھے،چنانچہ ایسے علاقوں میں تحریک آزادی نے اپنی انتظامیہ بھی قائم کرلی۔چونکہ یہ بھی خطرہ تھا کہ سرب افواج ان علاقوں پر حملہ نہ کردیں اس لئے مدافعتی دستے بھی تیار ہوگئے۔تاہم بہت سختی کے ساتھ اس امر کا خیال رکھا گیا کہ یہ دستے دفاع کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کریں گے اور خصوصاً سرب آبادی کے خلاف کسی قسم کی جارحیت نہیں کریں گے۔یہی وجہ ہے کہ اس پورے عرصے میں جب کہ سرب افواج نے بے شمار دفعہ جارحیت کی اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کی اپنی پوری کوشش کی لیکن کوسوو کے مسلمانوں کی طرف سے صرف اور صرف اپنا دفاع کیا گیا اور آگے بڑھ کرجواب میں کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
جب یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ کوسوو کے البانوی نژاد باشندے سربیا سے آزادی چاہتے ہیں تو اُس وقت ابراہیم رگوا نے نیٹو سے مداخلت کی اپیل کردی۔چونکہ اس سے پہلے بوسنیا کے معاملے میں نیٹو سے بہت غفلت ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں امن کا سہرا امریکہ کے سر سج گیاتھا اس لئے نیٹو نے فوری مداخلت کی اور سربیا کو الٹی میٹم دیا کہ وہ اپنی افواج کوسوو سے باہر لے جائے۔سربیانے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔چنانچہ نیٹو کی فضائی افواج نے سربیا کے دارالحکومت بلغراد پر فضائی حملہ شروع کیا۔سن نناوے کا یہ فضائی حملہ کئی ہفتے تک جاری رہا ،جس کے نتیجے میں بلغراد کی بے شمار عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور سربیا کو سرتسلیم خم کردینا پڑا۔گویا نیٹو نے مسلمانوں کے ایک علاقے کو آزادی دلانے کے لئے اپنے ہم مذہب عیسائیوں پر کئی ہفتے تک بمباری کی۔
بہر حال جب سن نناوے میں سربیا کی افواج وہاں سے نکل گئیں تو ایک معاہدے کے تحت کوسوو میں اقوام متحدہ کے امن مشن کو تعینات کیا گیا۔اس امن مشن میں پاکستانی دستوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی اور ہے۔ اس امن مشن کی زیرنگرانی انتخابات ہوئے جن میں حسب توقع ابراہیم رگوا کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔چونکہ یہ خطرہ تھا کہ ابھی یہ نوزائدہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکے گا اس لئے مقامی حکومت کو رفتہ رفتہ اختیارات سونپے گئے۔اقوام متحدہ کے اسی امن مشن کے تحت اس ملک میں دوسرے عام انتخابات ابھی اکتوبر 2005ء کے تیسرے ہفتے میں منعقد ہوئے۔
وہاں کی تحریک آزادی نے بھی اس حکمت وفراست کا مظاہرہ کیا کہ سربیائی افواج کے انخلا کے بعد اعلان آزادی کرنے میں کوئی جلدی نہیں کی، بلکہ اقوام متحدہ کی مداخلت کو تسلیم کیا اور اعلان کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی اسکیم کے تحت ہی آزادی کا اعلان کریں گے۔اسی پالیسی کے تحت کوسوو نے ابھی تک آزادی کا رسمی اعلان نہیں کیا اور اس کے تمام تر حکومتی اخراجات یورپ اور امریکہ کو مل کر برداشت کر رہے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب یورپ کے اندر کوسوو نام کا ایک مسلمان ملک معرض وجود میں آکر اقوام متحدہ کا رکن بھی بن جائے گا۔کیونکہ اقوام متحدہ نے اعلان کردیا ہے کہ کوسوو کو بہت جلد ایک آزاد ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا۔ 
کوسوو کی جدوجہد آزادی کیوں کامیاب ہوئی۔اگر درج بالا پوری بحث کو ذہن میں رکھا جائے تو اس کی وجوہات یہ ہیں۔
O یہ جدوجہد متحد،پرامن اور جمہوری اصولوں کے مطابق تھی۔اور ایک ہی لیڈر شپ کے تحت تھی۔
O مسلمانوں نے صرف اپنا دفاع کیا اور اس سے آگے بڑھ کر کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا۔
O کوسوو کے مسلمانوں نے اپنے آپ کوبین الاقوامی جہادی تحریکوں سے دور رکھا اور ان کو اپنے ہاں آنے کی اجازت نہ دی۔
O کسی حالت میں بھی انہوں نے جلدبازی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔بلکہ ہر قدم پرحکمت اور صبر سے کام لیا۔