اُنتیس واں باب 

ہمارے ملک میں دوسروں کی نیتوں پر حملہ کرنا ایک عام رواج بن گیا ہے۔ ’’فلاں شخص دشمن کا ایجنٹ ہے‘‘، ’’فلاں گروہ سی آئی اے اور یہودیوں کا پروردہ ہے‘‘، ’’فلاں شخص مغرب سے مرعوب ہے اس لیے ایسی باتیں کررہا ہیں‘‘،’’فلاں شخص یہ سب کچھ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کررہا ہے اور اُس کی نیت بالکل خراب ہے‘‘ اس طرح کے فقرے اور تبصرے ہمارے ہاں عام سنائی دیتے ہیں۔ ہم لوگ کسی کی دلیل کی طرف توجہ نہیں دیتے بلکہ اُس کی نیت کو مدار ٹھہرا کر اُس کی بات رد یا قبول کرتے ہیں۔ حالانکہ نیت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ اس دنیا میں ہم کسی کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس کی نیت اچھی ہے یا خراب۔ اسی لیے ہمارے دین نے ہمیں سب کے بارے میں عموماً حُسنِ ظن سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔ کسی کی نیت کے متعلق فتویٰ لگانا ایک خاص مفہوم میں اپنے آپ کو خدائی کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ گویا یہ ایک غلط رویہ ہے۔ 
جب کسی فرد یا گروہ کے پاس کسی بات کا مدلل جواب نہیں ہوتا تو وہ اس کی نیت پر حملے کرتا ہے اور اُس کو غیر مخلص ٹھہراتا ہے۔ اس طرح یہ کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ اُس سے متنفر ہوں اور اُس کے دلائل پر کان نہ دھریں۔ اس کے مقابلے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ کسی کی نیت کے تجزئے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اُس کے دلائل پر غوروفکر کیا جائے۔ اگر اُس کی دلیل مضبوط ہے تو اُس کی بات ماننے کی قابل ہے، اور اگر اُس کی دلیل کمزور یا غلط ہے تو اُس کی بات قابلِ رد ہے۔ نیتوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ دنیا میں وہی فرد یا گروہ کامیاب ہے جو دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ 
ایک صحیح بات کو ماننے میں انسان کے سامنے بنیادی طور پر دوہی رکاوٹیں پیش آتی ہیں، ایک تعصب اور دوسری نفسانی خواہشات۔ تعصب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے گروہ سے اتنی محبت ہوجاتی ہے کہ پھر وہ ہر دوسری بات کی طرف سے اپنی آنکھوں، کان اور دل کو بند کرلیتا ہے۔ گویا وہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ اگر مجھے کہیں سے صحیح بات مل جائے تو تب بھی میں اُسے نہیں مانونگا، کیونکہ یہ بات میری قوم، پارٹی، جماعت یا خاندان کے خلاف جارہی ہے۔ ایسا تعصب انسان کو انصاف کی صفت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ انسانیت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ 
دوسری بڑی رکاوٹ ذاتی نفسانی خواہشات ہیں۔ ایسا انسان یہ سوچتا ہے کہ اگر میں نے صحیح بات مان لی تو میری قیادت اور سرداری کو نقصان پہنچے گا یا میری دولت میں کمی ہوجائے گی۔ چنانچہ وہ ایک صحیح بات کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور اس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنادیتا ہے۔ یہ رویہ دنیا میں انسان کی اجتماعی اور انفرادی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور آخرت کے لحاظ سے بھی خسارے کا سودا ہے۔ 
کچھ لوگوں کے اندر دومزید ذہنی رویے پائے جاتے ہیں، ایک غصہ اور دوسرا جذباتیت۔ غصہ اور جذباتیت انسان کوصحیح اور غلط کام میں تمیز سے محروم کردیتے ہیں اور ایسے لوگ عموماً غلط اقدامات اٹھاتے ہیں، یعنی ایسے اقدامات جو امن کو تہہ و بالا کردیں۔ 
انسانی ضمیر اور سارے مذاہب کی یہ متفقہ ہدایت ہے کہ انسان کو ہر وقت انصاف کی بات پر قائم رہنا چاہیے۔ حتیٰ کہ اپنے دشمن کے معاملے میں بھی انصاف کے راستے سے کبھی نہیں ہٹنا چاہیے۔ جذباتیت کے بجائے انسان کو ہر وقت ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لینا چاہیے۔ اسی کو صبر کہتے ہیں۔ صبر کے روئے کے ساتھ کیے گئے فیصلے عموماً دیرپا اور مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔
اس دنیا میں ذاتی تربیت کا مشکل ترین کام گروہی تعصب اور ذاتی خواہشات سے بلند ہوکر انصاف کے مقام پر فائز ہوناہے۔ ذاتی تربیت کا یہ کام بہت بڑی مشق اور صبر چاہتا ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے آپ کو مسلسل یہ یاد دلاتا رہے کہ اُسے تعصب سے اوپر اٹھنا ہے، تو ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب اُس کی سوچ پوری طرح انصاف کے تابع بن جاتی ہے۔ شیطانی قوتیں انسان کو تعصب اور گروہی وذاتی مفادات کی طرف بلاتی ہیں، جب کہ رحمانی طاقتیں اُسے مسلسل انصاف کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ 
اگر کوئی انسان اس دنیا میں کوئی مثبت کام کرنا چاہتا ہے، انسانیت کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور اپنی آخرت بہتر کرنا چاہتا ہے تو اُس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ انصاف پر مبنی سوچ کی طرف مسلسل اپنی کوشش جاری رکھے۔ یہ چند دنوں کاکام نہیں ہے بلکہ برسوں کی ذہنی مشقت، جدوجہد اور ریاضت کے ذریعے ہی اس مقصد کو حاصل کیاجاسکتا ہے، اور پھر اس مقصد کو قائم رکھنے کی جدوجہد تو انسان کو ساری زندگی کرنی چاہیے۔ یہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔