اس تجزیہ کے آخر میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی وضاحت کردی جائے کہ ہم نے قوم کے دیگر مسائل سے پہلو تہی کیوں کی ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا قومی وجود متعدد مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مثلاً دولت کی غیر مساوی تقسیم، مختلف قومیتوں کے درمیان اعتماد کا مسئلہ ، علاقائی عصبیت، ملک کے معاشی مسائل ،مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ بندی وغیرہ، مگر ہمارے نزدیک سیاسی اور معاشی مسائل وقتی ہوتے ہیں جو اکثر کسی حکمران کی اچھی یا بری پالیسی سے بدلتے رہتے ہیں، جبکہ دیگر معاملات ،مثلاً مغربیت ،انتہا پسندی اور جذباتیت وغیرہ ایسے مسائل ہیں جو مرض سے زیادہ علامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ چیز ہمارے اس تجزیے سے واضح ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے فاعل طبقات کی ذہن سازی کی جائے۔جو لوگ قوم کی سیاسی، فکری اور مذہبی قیادت کررہے ہیں اور جو ملک کے بیش تر وسائل اور مواقع پر قابض ہیں، جب تک ان کی صحیح تربیت نہیں ہوتی ،کسی خیر کے پنپنے کا امکان زیادہ روشن نہیں۔خوش قسمتی سے عصر حاضر میں عوام الناس میں سے بہت بڑی تعداد قیادت اور اشرافیہ کی صفوں میں اپنی جگہ بنارہی ہے۔ان میں قومی دردمترفین کی بہ نسبت زیادہ ہے۔پھر جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ قوم اپنی زندگی کے مرحلۂ شباب میں ہے جس میں قوم کے ہر طبقے میں زندہ اور دردمند افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔چنانچہ اگر ایک معقول اور مدلل بات سامنے آئے گی تو یہ لوگ اسے آگے بڑھ کر قبول کریں گے اور اس کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ ایک روزیہ فروغ ایک فکری انقلاب میں تبدیل ہوجائے گا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہی فکری انقلاب قوموں کی ترقی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔
ہم نے یہ کتاب تاریخ کے اسباق کی بنیاد پر لکھی ہے۔ وہ اسباق جو ہماری قوم کو یاد نہیں رہے۔ مگر یاددہانی کرانا ہی ہمارا کام ہے۔ یاددہانی نبیوں اور رسولوں کی سنت ہے۔ہمارے لیے یہ ممکن تھا کہ اس کتاب کو صرف عروج و زوال کے قوانین کے بیان پر ختم کردیتے۔ ہمیں وہ باتیں نہ کہنی پڑتیں جن کے بعد کہنے والے کا ایمان اور اسلام ہی بہت سے لوگوں کی نگاہوں میں مشکوک ہوجاتا ہے۔ ایک ایسی قوم میں جہاں دنیا پرستی اور ذاتی مفاد نے ہر انسان کو بے حس بنادیا ہو،جہاں اندھے راہ دکھانے والوں کا راج ہو، جہاں چونا پھری قبروں کامیلہ لگا ہو، جہاں مچھر چھانے جاتے اور اونٹ نگلے جاتے ہوں ، وہاں خاموشی ہی میں عافیت ہے۔ہم یہ عافیت ضرور حاصل کرتے اگر قیامت کا دن نہ آنا ہوتا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ نہ دکھانا ہوتا۔ اگر ہمیں اپنے رب کے حضورلوٹ کر نہ جانا ہوتا۔
قلم ہمارا ہتھیار ہے ۔ اسے تلوار بناکر جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا، اب نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم السلام کے رب سے دعا ہے:

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادئ پر خار میں آوے

____________