آر جے میک کلوی کہتا ہے:’لیکن بنیادیں بھی یہ ظاہر کرتی تھیں کہ یہ [دوسرا ہیکل] ہیکل سلیمانی سے گھٹیا ہو گا۔‘۳۸؂ ’دی سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری‘ میں ہے کہ یہ ہیکل سلیمانی ۳۹؂ کے مقابلے میں تعمیر کے لحاظ سے گھٹیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر جارج اے بارٹن بیان کرتا ہے:

The dimensions of the building were probably the same as those of Solomon\'s Temple, though the edifice was apparently at first lacking in ornament. It was probably because the building was less ornate that the old men who had seen the former Temple wept at the sight of its successor. ؂40

اس عمارت کی پیمایشیں غالباً ویسی ہی تھیں، جیسی ہیکل سلیمانی کی۔ عمارت پہلی نظر میں آرایش و زیبایش سے محروم دکھائی دیتی تھی۔ وہ بڑے بوڑھے آدمی، جنھوں نے’پہلے ہیکل‘ کو دیکھا تھا، اس کے ’جانشین ہیکل‘ کو دیکھ کر روتے تھے۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ یہ عمارت اتنی آراستہ و پیراستہ نہ تھی۔

۴۔ اگر کوئی شخص ان آیات کا مفہوم و مدعا متعین کرنے کے لیے مخلصانہ اور معروضی (غیرجانب دارانہ) تنقیدی مطالعہ کرے تو وہ صرف ایک ہی نتیجے پر پہنچے گاکہ یہ آیات صاف اور واضح طور پر صرف ان قربانیوں سے متعلق نظر آتی ہیں جو قدیم زمانے سے مکے میں کعبے کے زائرین (حجاج) سر انجام دیتے آئے ہیں۔ یہ آیات کسی طرح بھی دوسرے یازرو بابل کے ہیکل سے متعلق قرار نہیں دی جا سکتیں۔ درج ذیل نِکات کی مدد سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجائے گی: ایک تو یہ کہ ہیکلِ ثانی ہیکل سلیمانی سے زیادہ شان دار نہ تھا (خواہ اس شان و شوکت سے روحانی شوکت ہی کیوں نہ مراد لی جائے)، جیسا کہ بعض علما مراد لیتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ غیر یہودی اقوام اور بادشاہ دوسرے ہیکل کی روشنی اور طلوع کی چمک دمک کے پاس کبھی نہیں آئے (آیت۳) ۔ صرف یہودیوں کی ایک مختصر سی تعداد ہی تھی جو اس کی زیارت کرتی تھی۔ اور وہ بھی اس وقت جب انھیں جلا وطنی سے واپسی کی اجازت مل گئی تھی۔ یہ زمانہ ۵۱۵ ق م سے ۷۰ء ہی تک کا ہے۔ اس کے بعد یہودیوں کا یہ دوسرا ہیکل بھی تباہ و برباد کر دیا گیا تھا۔ اور پچھلی تقریباً بیس صدیوں سے اس کا صفحۂ ہستی پر کوئی وجود نہیں۔اس ۵۱۵ ق م سے ۷۰ء کے زمانے کے دوران میں بھی متعدد مرتبہ اس ہیکل اور یہودیوں کو شدید مصائب سے گزرنا پڑا (ملاحظہ ہو ضمیمہ ۳’ہیکل سلیمانی کی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ‘)۔
تیسری بات یہ کہ نہ تو کبھی سمندر کے کثیر اموال یا کثیر سمندری لوگ یہودی قوم کی طرف منتقل ہوئے اور نہ کبھی غیر یہودی اقوام کی افواج نے یہودی عقائد کی صداقت یا ان کے دوسرے ہیکل کی عظمت قبول کی (آیت۵) ۔
چوتھی بات یہ کہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں کہ عرب کے زائرین و حجاج (مدیان، عیفاہ اور شیبا کے لوگ جو قطورہ کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسلیں ہیں) کے اونٹوں کے جھنڈ کبھی خداوند کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اس دوسرے ہیکل کی زیارت کے لیے آیا کرتے ہوں (آیت ۶)۔۴۱؂
پانچویں بات یہ کہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بیٹوں قیدار اور نبایوت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسلیں (عرب قومیں)کبھی دوسرے ہیکل کے گرد جمع ہوئی ہوں، یا انھوں نے اس دوسرے ہیکل پر کبھی ریوڑوں اور دنبوں کی قربانیاں پیش کی ہوں، جو خداوند کے چبوترے پر قربانی کی حیثیت سے قبول کر لی گئی ہوں (آیت۷)۔
چھٹی بات یہ کہ یہ بات کسی طرح دوسرے ہیکل پر لاگو نہیں ہوتی کہ ’تیرے دروازے لگاتار کھلے رہیں گے، وہ دن یا رات میں کسی وقت بند نہ ہوں گے ، لوگ غیر یہودی اقوام کی افواج تجھ پر لائیں گے، اور یہ کہ ان کے بادشاہ لائے جائیں گے‘ (آیت ۱۱)۔ دروازوں کا تو ذکر ہی کیا، وہاں تو پچھلے دو ہزار سال سے سرے سے ہیکل کی کوئی عمارت ہی صفحۂ ہستی پر موجود نہیں ۔
ساتویں بات یہ کہ اقوام کی تاریخ میں کسی وقت بھی ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا کہ اہل بابل کے وہ بیٹے، جنھوں نے یہودیوں کو عذاب میں مبتلا کیا تھا، یہود کے پاس سرنگوں ہو کر آئے ہوں ۔ اور وہ سب لوگ، جنھوں نے ان یہودسے نفرت کا اظہار کیا تھا، اپنے آپ کو ان یہود کے پاؤں کے تلووں کے نیچے جھکایاہو، جیسا کہ آیت ۱۴ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ جہاں تک کعبے کا تعلق ہے تو جو یمنی افواج اپنی کعبے کو نقصان پہنچانے کی بد نیتی کی وجہ سے پوری طرح تباہ وبرباد کر دی گئی تھیں، اُن کی نسلیں باقاعدگی سے پورے جوشِ عقیدت کے ساتھ اس(کعبے) کی زیارت کے لیے حاضر ہوتی چلی آ رہی ہیں۔
آٹھویں بات یہ کہ دوسرے ہیکل یا یہودیوں کے بارے میں یہ بات کسی طرح بھی نہیں کہی جا سکتی: ’میں تجھے ابدی افتخار کی ۴۲ ؂ چیزاور تمام نسلوں کی مسرت بناؤں گا‘۔۴۳؂ (آیت ۱۵)۔
نویں بات یہ کہ دوسرے ہیکل کے بارے میں یہ بات بھی درست نہیں کہ’تیری سرزمین میں آیندہ کبھی تشدد کے بارے میں کوئی بات نہ سنی جائے گی۔ تیری سرحدوں میں نہ تباہی ہو گی نہ بربادی، بلکہ تو اپنی دیواروں کو نجات کہے گا اور اپنے دروازوں کو حمد‘ (آیت ۱۸)۔
دسویں بات یہ کہ دوسرے ہیکل یا اسرائیلیوں کے بارے میں یہ دعویٰ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ’تیرا سورج کبھی نہیں ڈھلے گا ، نہ تیرا چاند کبھی غائب ہو گا، کیونکہ خداوند تیری ابدی روشنی ہو گا اور تیرے ماتم کے دن ختم ہو جائیں گے۔‘ (آیت۲۰) ، کیونکہ دوسرے ہیکل اور اسرائیلیوں نے اتنی زیادہ بدبختیاں اور نشیب و فراز دیکھے ہیں جو اس دعوے کو صریحاً جھٹلا رہے ہیں کہ’خداوند تیری ابدی روشنی ہو گا۔‘
گیارھویں بات یہ کہ اسرائیلیوں کا کردار اور ان کی حیثیت اس دعوے کے سراسر خلاف ہے جو آیت۲۱ میں کیا گیا ہے، یعنی ’تیرے لوگ بھی تمام کے تمام نیکوکار ہوں گے وہ اس سرزمین کے ہمیشہ کے لیے وارث ہوں گے۔ ‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیکو کار ہونے کے بجاے وہ بدکار، سودخور اور سرمایہ پرست بن کر رہ گئے۔ اور’ اُس سر زمین کے ہمیشہ کے وارث‘ ہونے کے بجاے، اس سے دھتکارے جا کر در در کی ٹھوکریں کھانا ان کا مقدر بنا رہا۔ اور اب جو انھیں وہاں دوبارہ تمکن نصیب ہوا ہے تو اس سرزمین میں رحم دلی، بے لاگ انسانی ہمدردی، خدا ترسی اور نیکوکاری کے بجاے اُنھوں نے جس طرح ظلم و بربریت اور لوٹ کا بازار گرم کیا ہے، اُسے کسی طرح بھی نیکو کاری نہیں کہا جا سکتا۔
مندرجہ بالا تنقیدی و تحلیلی مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اپنے تمام معانی کی لطافتوں اور مضمرات سمیت کتاب یسعیاہ کے باب ساٹھ کے الفاظ کا دوسرے ہیکل یا اسرائیلیوں سے کوئی تعلق نہیں۔
۵۔ کتاب یسعیاہ کے باب ساٹھ کا دوسرے ہیکل یا یہودیوں پر اطلاق مکمل طور پر مسترد ثابت ہو چکا ہے۔البتہ اس کی آیات کا متعین مفہوم دریافت کرنے کی کوشش کی جانی باقی ہے۔ اگر کوئی شخص ان آیات کا مفہوم اور مضمرات متعین کرنے کی مخلصانہ اور غیر جانب دارانہ کوشش کرے تو وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچے گا، اور وہ یہ کہ یہ آیات صاف اور واضح طور پر صرف ان قربانیوں سے تعلق رکھتی ہیں جو زمانۂ قدیم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار کے طور پر حاجی لوگ مکے میں خانہ کعبہ کے قریب پیش کرتے تھے۔ ذیل میں چند ملاحظات درج ہیں جو ان آیات کے تحلیلی مطالعے پر مبنی ہیں۔ اس سے ان آیات کی اہمیت، مقصد اور اصل حیثیت کا اِدراک کرنے میں مدد حاصل ہو گی:

(۱) آیت ۳ میں کہا گیا ہے: ’اور غیر یہودی قومیں [N.I.Vاور اکثر دوسرے تراجم کے مطابقْ اقوام‘] تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور بادشاہ ۴۴؂ تیرے عروج و طلوع کی روشنی کی طرف ‘۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب تک یہ ہیکل یہودیوں کے قبضے میں رہا، غیر یہودی اقوام کو اصل اور مرکزی ہیکل میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اگر کوئی غیر یہودی اس حرم میں داخل ہونے کی جسارت کرتا تو اسے سزاے موت دے دی جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیکل کے ساتھ غیرقوموں کے لیے بھی ایک صحن موجود تھا، لیکن یہ حرم کے اندر نہیں، بلکہ اس سے باہر واقع تھا۔ ’غیریہودیوں والے صحن میں ہر شخص کو آنے کی اجازت تھی۔ یہ ہیکل دوسرے دالانوں سے ایک جنگلے کے ذریعے سے جدا کیا گیا تھا، اور اس پر یہ تختی لکھ کر لگائی ہوئی تھی کہ غیر یہودیوں کا اندرونی صحنوں میں داخلہ منع ہے ، اور اس کی سزا موت ہے۔۴۵؂ ‘ جب یہودی ہیکل سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیے گئے تو اس کی عمارت بھی تباہ و برباد کر دی گئی اور زمین نامی اس سیارے پر پچھلی بیس صدیوں سے ایسے کسی ہیکل کا وجود نہیں۔ اگر اسرائیل کی حکومت اس ہیکل کو دوبارہ تعمیر کر لیتی ہے، جس کے لیے یہ سر توڑ کوششیں کر رہی ہے اور جس کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ یہودی اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو جائیں گے، تو اس کے بعد پھر یہ حرم غیر یہودی النسل لوگوں کے لیے ممنوع قرار پائے گا۔ صرف مکہ کا حرم ہی وہ حرم ہے جہاں قدیم زمانے سے ساری دنیا کی تمام قوموں کے مسلمان باقاعدگی سے حج و عمرہ کے لیے آ رہے ہیں۔
(۲) آیت ۴ کے ان الفاظ کا اطلاق کبھی دوسرے ہیکل پر نہیں کیا جا سکتا کہ ’ اپنی آنکھیں اِدھر اُدھر اٹھاؤ اور دیکھو وہ سب اپنے آپ کو وہاں جمع کر رہے ہیں۔ وہ تیرے پاس آتے ہیں۔ تیرے فرزند دور سے آئیں گے اور تیری بیٹیاں تیرے پہلو میں پرورش پائیں گی۔[GNBنے اس کا ترجمہ بہتر انداز میں اس طرح کیا ہے: ’تیری بیٹیاں اس طرح اٹھا کر لائی جائیں گی جس طرح بچے اٹھا کر لائے جاتے ہیں‘]، لیکن جہاں تک کعبے کا تعلق ہے، یہ الفاظ اپنے ہر مفہوم کے اعتبار سے اس پر کلیۃً منطبق ہوتے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ قرآن کریم نے حج اور وہاں پیش کی جانے والی قربانیوں کا منظر ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْْتِ أَن لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْْئاً وَطَہِّرْ بَیْْتِیَ لِلطَّاءِفِیْنَ وَالْقَاءِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ . وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ . لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْأَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیْرَ . ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَہُمْ وَلْیُوفُوا نُذُورَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوا بِالْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ . ذَلِکَ وَمَن یُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّہِ فَہُوَ خَیْْرٌ لَّہُ عِندَ رَبِّہِ وَأُحِلَّتْ لَکُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ . حُنَفَاء لِلَّہِ غَیْْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ وَمَن یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاء فَتَخْطَفُہُ الطَّیْْرُ أَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ . ذَلِکَ وَمَن یُعَظِّمْ شَعَاءِرَ اللَّہِ فَإِنَّہَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ. ۴۶؂

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے اس گھر ،یعنی خانہ کعبہ کی[اس ہدایت کے ساتھ ] جگہ تجویز کی تھی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور[تمھیں حکم دیا تھا کہ] میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انھیں عطا کیے ہیں۔[اور انھیں ہدایت کر دو کہ] اس میں سے خود بھی کھاؤاور تنگ دست محتاج کو بھی دو۔ پھر[انھیں چاہیے کہ] وہ اپنا میل کچیل دور کریں اوراپنی نذریں پوری کریں ، اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔یہ ( تو تھا کعبے کی تعمیر کا مقصد) ۔ اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اُس کے رب کے نزدیک خود اُسی کے لیے بہتر ہے۔ اور تمھارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے ، سوائے اُن چیزوں کے جو تمھیں بتائی جا چکی ہیں۔پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو، یک سو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا ، اب یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کوپیس کر رکھ دیا جائے گا۔ یہ (ہے اصل معاملہ ۔اسے سمجھ لو ) ، اورجو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ بات دلوں کے تقویٰ کا مظہر ہے ۔

(۳) دوسرے ہیکل کے بارے میں یہ بات کسی طرح بھی نہیں کہی جا سکتی، جیسا کہ آیت ۵ کا دعویٰ ہے کہ’سمندروں[کے مال و اسباب] کی کثرت تیری طرف منتقل کی جائے گی۔ غیریہودی اقوام کی افواج تیرے پاس آئیں گی‘ ، یہ بات صرف مکہ معظمہ کے کعبے ہی پر صادق آتی ہے کہ اگرچہ یہ ایک بنجر سرزمین میں واقع ہے، پھر بھی یہاں دنیا بھر کے ہر قسم کے مال و اسباب فراوانی کے ساتھ دستیاب ہیں۔ پھر یہ مکہ ہی ہے جہاں پوری دنیا سے غیر یہودی النسل مسلمان اہلِ ایمان (مرد اورعورت) اپنے تمام متاع و اسباب کے ساتھ بحری ، بری اور ہوائی راستوں سے اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ جو آٹھویں آیت میں فرمایا گیا ہے : ’یہ کون ہیں جو بادل کی طرح اڑے چلے آتے ہیں اور جیسے کبوتر اپنی کابک کی طرف‘، تولاکھوں حاجیوں کے ساتھ جوق در جوق ہوائی جہازوں کا اترنا اس کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ اور یہ منظر دنیا کے اور کسی بھی معبد کے لیے آنے والی پروازیں پیش نہیں کرتیں۔
(۴) دوسرے ہیکل کے متعلق یہ دعویٰ کون کر سکتا ہے، جیسا کہ آیت ۶ میں کیا گیا ہے ، کہ ’اونٹوں کے ہجوم تمھاری سرزمین کو ڈھانپ لیں گے، مدیان اور عیفاہ کے نوجوان اونٹ، وہ سب شیبا سے آئیں گے، وہ سونا اور خوشبوئیں لائیں گے، اور وہ خداوند کی حمدوں کے ترانے بلند آواز میں بیان کریں گے۔۴۷؂ ‘دنیا کی تاریخ کے کسی مرحلے میں ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ عرب اقوام کے اتنے بڑے ہجوم کبھی اونٹوں کے قافلوں کی صورت میں یروشلم کے حرم کی طرف گئے ہوں۔ جہاں تک حرمِ مکہ اور وہاں پیش کی جانے والی قربانیوں کا تعلق ہے، آیت کے یہ الفاظ اُس پر حرف بہ حرف صادق آتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ اِلتفات ہے کہ حُجّاجِ کِرام تلبیہ کے الفاظ بلند آواز سے ادا کرتے ہیں (جن کا ایک حصہ یہ ہے:’اے اللہ، سب تعریف تیرے ہی لیے ہے‘)، جیسا کہ بائبل میں درج ہے: ’وہ خداوند کی حمد کا اعلان یا اظہار کریں گے۔ [بلند آواز سے اور کھلم کھلا اعلان کریں گے]‘ ۔
(۵) روے زمین پر کوئی شخص ’دوسرے ہیکل‘ کے متعلق ساتویں آیت کے اس دعوے کی تائید نہیں کر سکتا کہ ’قیدار کے تمام ریوڑ تیرے پاس جمع کیے جائیں گے۔ نبایوت کے دنبے تیری خدمت میں پیش ہوں گے۔ وہ میری قربان گاہ پر آئیں گے اور شرفِ قبولیت پائیں گے اور میں اپنی عظمت کے گھر کو شان و شوکت دوں گا۔‘ قیدار اور نبایوت حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فرزند ہیں اور ان کی نسل ہزاروں سال سے سرزمین عرب میں آبادہے۔ ان میں یروشلم کی زیارت کرنے اور وہاں قربانیاں پیش کرنے کی کبھی کوئی رسم و روایت نہیں رہی۔ دوسری طرف جدید دنیا کا ہر صاحبِ علم اِنسان جانتا ہے کہ سرزمینِ عرب کے باشندے زمانۂ قدیم سے حج و زیارت کے لیے حرمِ مکہ کی طرف آتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات اس حقیقت کا تشفی بخش ثبوت نہیں ہے کہ کتاب یسعیاہ کے باب ساٹھ کی مندرجہ بالا آیات واضح طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل کی طرف سے حرمِ مکہ پر قربانیاں پیش کرنے سے متعلق ہے۔ مزید براں یہ بات بھی قابلِ اِلتفات ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے گھر کو کیوں کر عظمت بخشے گاجو صفحۂ ہستی پر سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ یہ صرف مکہ کے مقام پر اللہ تعالیٰ کی عظمت والا گھر ہی ہے جو زمانۂ قدیم سے حفظ و امان کے ساتھ قائم و دائم ہے، جسے ہر مفہوم کے اعتبار سے شان و شوکت دی جا سکتی ہے، اور فی الواقع دی بھی گئی ہے۔ P.H. Kelley نے اس آیت کی اس طرح تشریح کی ہے کہ ’سرزمینِ عرب کے قبائل بھی دنبوں اور ریوڑوں کی قربانیاں اور نذریں پیش کرتے ہیں۔ ۴۸؂ ‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرزمینِ عرب کے قبائل کبھی یروشلم کی طرف اپنی قربانیاں پیش کرنے کے لیے نہیں جاتے تھے۔ ان کے درمیان جو روایت چلی آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ مکے کی طرف قربانیاں لے کر جاتے ہیں، جو اُن کے حج کی ایک اہم رسمِ عبادت ہے۔
(۶) آیت ۹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’یقیناًجزائر میرے منتظر ہوں گے یا میری خدمت میں حاضر ہوں گے اور طرشیش کے بحری جہاز پہلے تیرے فرزندوں کو دور دراز سے لے کر آئیں گے۔‘ طرشیش سپین کے جنوبی ساحل پر واقع تھا، جیسا کہ متعلقہ حاشیے میں وضاحت کی گئی ہے۔ جب تک یروشلم کا ہیکل قائم تھا ،اس وقت تک کسی ہسپانوی کے اس پر قربانی پیش کرنے کے لیے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا، جبکہ دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ پہلی صدی ہجری ہی میں سپین پر عربوں کا قبضہ ہو گیا تھا اور وہاں ان کی بستیاں بھی قائم ہو چکی تھیں۔ اہلِ عرب جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے پیدا ہونے کے ناتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ہیں، باقاعدگی سے حرمِ مکہ کی زیارت کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے تاکہ عمرہ (چھوٹا حج ، جو سارا سال ہوتا رہتا ہے )اور حج ادا کریں، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی یاد منائیں۔
(۷) جہاں تک آیت ۱۱ کا تعلق ہے کہ ’تیرے دروازے لگاتار کھلے رہیں گے وہ دن یا رات میں کسی وقت بند نہ ہوا کریں گے‘ تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اس کتاب کے مصنف کو بذاتِ خود حرمِ مکہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے اور اس نے بذاتِ خود یہ بات دیکھی ہے کہ مکہ میں حرمِ کعبہ کے دروازے دن رات کے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں اور یہ صدیوں کی روایت ہے۔ جہاں تک ’دوسرے ہیکل‘ کا تعلق ہے تو جب اس طرح کی کوئی عمارت سرے سے موجود ہی نہیں تو اس کے دروازے کہاں سے آئیں گے۔ اس طرح ان کے دن رات کھلے رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
(۸) آیت ۱۴ میں دعویٰ کیا گیا ہے: ’جن لوگوں نے تجھ پر ستم ڈھائے ہیں ، ان کے بیٹے بھی سر جھکائے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ اور وہ تمام بھی، جنھوں نے تجھ سے نفرت کا اظہار کیا، تیرے پاؤں کے تلووں کے نیچے اپنے آپ کو جھکائیں گے۔ اور وہ تجھے خداوند کا شہر اور اسرائیل کے مقدس کا صیہون کہیں گے۔‘ یہ بات حرمِ مکہ پر حرف بہ حرف پوری اترتی ہے۔ جنوری ۶۳۰ء میں پیغمبر اسلام کے ہاتھوں فتح مکہ کے موقع پر اس کا عملی مظاہرہ سامنے آیا۔ جہاں تک اس ترکیب کا تعلق ہے کہ ’اسرائیل کے مقدس کا صیہون‘ تو سیاق و سباق کے لحاظ سے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ یہ صریحاً یا تو بعد کے کسی مؤلف کا اضافہ ہے یا پھر کسی مفسر کی تشریح ہے۔’خداوند کا شہر‘ ، ’بیت اللہ‘ کا بعینہٖ ترجمہ ہے جو عربی زبان میں خانہ کعبہ کا نام ہے۔
(۹) آیت۱۵ کا ابتدائی حصہ ’جبکہ تجھے چھوڑا گیا ہے اور نفرت کی گئی ہے ‘ صریحاً حضرت ہاجرہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اوپر متعلقہ حاشیے میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ’یہ صورت ایک، فراق میں تنہا چھوڑی ہوئی، بیوی کی ہے‘ (بحوالہ ’ڈملوکی تفسیر‘ اور’ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘)۔ جہاں تک آیت کے آخری جملے کا تعلق ہے، یعنی ’میں تجھے ایک ابدی عظمت بناؤں گا اور بہت سی [اصل میں ’بہت سی‘ کی جگہ لفظ ’تمام‘ ہونا چاہیے تھا، جیسا کہ N.I.V وغیرہ نے اس کا ترجمہ کرتے وقت لکھا ہے] ’نسلوں کی مسرت ‘، تو ’ابدی عظمت‘ اور ’تمام نسلوں کی مسرت‘ کے الفاظ کا اِطلاق یروشلم کے ہیکل پر کسی طرح نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف حرمِ مکہ ہی ہے جس پر اِن الفاظ کا ہر لحاظ سے اِطلاق ہوتا ہے۔
(۱۰) آیت ۱۸ میں ہے :’تیری سرزمین میں آیندہ کبھی تشدد نہ سنا جائے گا، نہ تیری سرحدوں کے اندر تباہی و بربادی [ہو گی] ،لیکن تو اپنی دیواروں کو نجات اور اپنے دروازوں کو حمد کہے گا۔‘ یروشلم اور اس کے ہیکل کے ’تشدد، تباہی اور بربادی‘ سے محفوظ ہونے کا تو ذکر ہی کیا، یہ تو پچھلے دو ہزار سال سے صفحۂ ارضی پر موجود ہی نہیں ہے۔ اس آیت کے الفاظ کا اِطلاق یروشلم کے ہیکل پر کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ یروشلم کے ہیکل کی تاریخ کا ایک خاکہ کتاب کے آخر میں ایک ضمیمے میں دیا گیا ہے، وہاں یہ بات ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف حرمِ مکہ پر اس کا حرف بہ حرف اطلاق ہوتا ہے۔
(۱۱) آیت ۲۱ میں ہے: ’تیرے لوگ بھی تمام نیک ہوں گے، وہ اس سرزمین کے ہمیشہ کے لیے وارث ہوں گے ‘ ۔ یہودیوں کے متعلق یہ دعویٰ کون کر سکتا ہے کہ وہ سرزمینِ یروشلم کے ہمیشہ کے لیے وارث رہے ہیں ؟ دوسری طرف ہر صاحبِ علم شخص جانتا ہے کہ اہل عرب حرمِ مکہ پر زمانۂ قدیم سے قابض چلے آ رہے ہیں۔ جہاں تک آیت کے آخری الفاظ ’میری شان اور عظمت بیان کی جائے‘ کا تعلق ہے تو جس کسی نے بھی حرمِ کعبہ کا حج یا عمرہ کیا ہو، وہ اس بیان کی تصدیق کرے گا۔

________

حواشی

۳۸؂ ’نیو بائبل ڈکشنری‘ ، ۱۱۷۰ ۔

۳۹؂ ملاحظہ کیجیے’ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری ‘، ۱۱۰۰۔
۴۰؂ ’دی جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا ‘، ۱۲: ۹۷۔
۴۱؂ ’گڈنیوز بائبل‘ یسعیاہ ۶۰: ۶، صفحہ ۷۲۲پر درج ہے:

Great caravans of camels will come, from Midian and Ephah. They will come from Sheba (...)! All the sheep of Kedar and Nebaioth Will be brought to you as sacrifices And offered on the altar to please the Lord.

مدیان اور عیفاہ سے اونٹوں کے بڑے بڑے کاروان آئیں گے۔ وہ شیبا سے آئیں گے۔ (...)! قیدار اور نبایوت کی تمام بھیڑیں قربانی کے لیے تمھارے پاس لائی جائیں گی اور چبوترے پر پیش کی جائیں گی۔

C.E.V۔ یسعیاہ ،باب۶۰:۶، صفحہ۸۷۷ پردرج ہے:

Your country will be covered with caravans of young camels from Midian and Ephah. The people of Sheba will bring gold and spices in praise of me, the Lord. Every sheep of Kedar will come to you; rams of Nebaioth will be yours as well. I will accept them as offerings and bring honor to my temple.

تمھارا ملک مدیان اور عیفاہ سے [آنے والے] نوجوان اونٹوں کے کاروانوں سے ڈھکا جائے گا۔ شیبا کے لوگ مُجھ خداوند کی حمد میں سونا اور مصالحے لائیں گے۔ قیدار کی ہر بھیڑ تمھارے پاس آئے گی، نبایوت کے دنبے بھی تمھارے ہوں گے۔ میں انھیں قربانی کے طور پر قبول کروں گا اور اپنے ہیکل کو اعزاز بخشوں گا۔

جہاں تک دوسرے ہیکل کا تعلق ہے، مندرجہ بالا بیان کے مشمولات محض خیال و خواہش کی غمازی کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں جو مناظر پیش کیے گئے ہیں وہ بائبل کے کسی خوش اعتقاد مؤلف کے محض خواب ہیں، جو اس بے چارے کی دل داری کے لیے کبھی زمینی حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکے۔

42. New Jerusalem Bible, p. 1283.
43. NIV. p. 780.

۴۴؂ یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ میتھیو ہنری کی پرانے اور نئے عہد نامے کی تفسیر ۵: ۳۵۱ کے مطابق ’بادشاہوں‘ کا مطلب ’خوب صورت ، طاقت ور اور اثر و رسوخ والے آدمی‘ہے۔

45. Mckenzie's Dic. of the Bible, p.875.

۴۶؂ قرآن مجید، الحج ۲۲: ۲۶۔۳۲۔

47. The Nelson's Study Bible, p. 1208.
48. Page H. Kelley in the Broadman Bible Com, ed. Clifton J. Allen etc., (Nashville, Tennessee, Broadman Press, 1971), 5:360.

____________