باب دہم



بائبل کی کتاب یسعیاہ ۱؂کے باب ساٹھ میں بیان کردہ پیشین گوئی آگے درج کی جا رہی ہے۔ ایک شہرہ آفاق مسلم صاحبِ علم قاضی سلیمان منصور پوریؒ نے اسے اس مقصد کے لیے اپنی کتاب میں نقل فرمایا ہے اور وہاں چند سطروں میں اس کی وضاحت کی ہے۔ ۲؂ ان کی نقل کردہ پیشین گوئی کا تفصیلی مطالعہ مفید، برمحل اور ضروری ہے۔ اس کے متعلق تفصیلی حواشی، جو وافر حوالوں اور متعلقہ اقتباسات پر مشتمل ہیں، موقع ہی پر درج کر دیے گئے ہیں۔ تفصیل کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی ہے کہ کوئی ناکافی شہادت کا الزام نہ لگا سکے۔ متن کے ساتھ ساتھ ان حواشی کا بھی احتیاط سے مطالعہ ضروری ہے تاکہ عبارت کے آخر میں جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں، ان کی اہمیت واضح ہو سکے۔ بعض حالات میں یہ موضوع سے براہِ راست متعلق محسوس نہیں ہوتے، لیکن تصور واضح کرنے کے لیے ان کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ مناسب یہ ہو گا کہ اس پورے باب کے مکمل مطالعے کے بعد یہ آیات مع اپنے حواشی کے ایک دفعہ پھر پڑھ لی جائیں۔ اس طرح اس بات کا اندازہ ہو سکے گا کہ ان آیات سے جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں، وہ مکمل طور پر برمحل اور مناسب ہیں:

اُٹھ،۳؂ منور ہو، کیونکہ تیرا نور آ گیا،۴؂ اور خداوند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا ، کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی، اور تیرگی امتوں پر، لیکن خداوند تجھ پر طالع ہوگا، اور اس کا جلال تجھ پر نمایاں ہو گا۔ اور قومیں ۵؂ تیری روشنی کی طرف آئیں گی ، ۶؂ اور سلاطین ۷؂ تیرے طلوع کی تجلی۸؂ میں چلیں گے۔ اپنی آنکھیں اٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔ وہ سب کے سب اکٹھے ہوتے ہیں اور تیرے پاس آتے ہیں۹؂۔ تیرے بیٹے دور سے آئیں گے ، اور تیری بیٹیوں کو گود میں اٹھا کر لائیں گے۔۱۰؂ تب تو دیکھے گی اور منور ہو گی۔ ہاں تیرا دل اچھلے گا اور کشادہ ہو گا، کیونکہ سمندر کی فراوانی تیری طرف پھرے گی، ۱۱؂ اور قوموں کی دولت تیرے پاس فراہم ہو گی۔ اونٹوں کی قطاریں ۱۲؂ اور مدیان ۱۳؂ اور عیفہ۱۴؂ کی سانڈنیاں آ کر تیرے گرد بے شمار ہوں گی۔ وہ سب سبا ۱۵؂ سے آئیں گے، اور سونا اور لُبان لائیں گے، اور خداوند کی حمد کا اعلان کریں گے۔ ۱۶؂ قیدار[قریش جو حضرت اسماعیل ؑ کے بیٹے قیدار کی نسل سے ہیں] کی سب بھیڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی۔ نبایوت ۱۷؂ کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ۱۸؂ وہ میرے مذبح ۱۹؂ پر مقبول ہوں گے، ۲۰؂ اور میں اپنی شوکت کے گھر کو جلال بخشوں گا۔۲۱؂ یہ کون ہیں جو بادل کی طرح اڑے چلے آتے ہیں،۲۲؂ اور جیسے کبوتر اپنی کابُک کی طرف ؟ یقیناًجزیرے میری راہ دیکھیں گے، اور ترسیس ۲۳؂ کے جہاز پہلے آئیں گے کہ تیرے بیٹوں کو ان کی چاندی اور ان کے سونے سمیت دور سے خداوند تیرے خدا اور اسرائیل کے قدوس کے نام کے لیے لائیں۔ (... )۔ اور تیرے پھاٹک ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔وہ دن رات کبھی بند نہ ہوں گے،۲۴؂ تاکہ قوموں کی دولت اور ان کے بادشاہوں کو تیرے پاس لائیں، کیونکہ وہ قوم اور وہ مملکت جو تیری خدمت گزاری نہ کرے گی، برباد ہو جائے گی۔ ہاں وہ قومیں بالکل ہلاک کی جائیں گی۔۲۵؂ (... )۔ اور تیرے غارت گروں کے بیٹے تیرے سامنے جھکتے ہوئے آئیں گے، اور تیری تحقیر کرنے والے سب تیرے قدموں پر گریں گے، اور وہ تیرا نام خداوند کا شہر ، صیہون، ۲۶؂ ا ور اسرائیل کا قدوس ۲۷؂ رکھیں گے۔ اس لیے کہ تو ترک کی گئی ۲۸؂ اور تجھ سے نفرت ہوئی، ایسا کہ کسی آدمی نے تیری طرف گزر بھی نہ کیا۔ میں تجھے ابدی فضیلت اور پشت در پشت ۲۹؂ کی شادمانی کا باعث بناؤں گا۔ (... )۔ پھر کبھی تیر ے ملک میں ظلم کا ذکر نہ ہو گا، اور نہ تیری حدود کے اندر خرابی یا بربادی کا، بلکہ تو اپنی دیواروں کا نام نجات اور اپنے پھاٹکوں کا حمد رکھے گی۔ ( ... )۔ تیرا سورج پھر کبھی نہ ڈھلے گا ۳۰؂ اور تیرے چاند کو زوال نہ ہو گا، کیونکہ خداوند تیرا ابدی نور ہو گا، اور تیرے ماتم کے دن ختم ہو جائیں گے۔ اور تیرے لوگ سب کے سب راستباز ہوں گے۔ وہ ابد تک ملک کے وارث ہوں گے، یعنی میری لگائی ہوئی شاخ۳۱؂ اور میری دستکاری ٹھہریں گے، تاکہ میرا جلال ظاہر ہو۔۳۲؂

ذیل میں چند ملاحظات درج ہیں جن سے قاری کو مندرجہ بالا آیات کے صحیح مقام اور ان کے مضمرات کے ادراک میں مدد ملے گی:
۱۔ مندرجہ بالا عبارت میں بائبل کے مؤلفین کی طرف سے بڑی آزادی کے ساتھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، جیسا کہ ’نیو جیرو سلم بائبل‘ کی آیت ۱۲ ،۱۴ پر دیے گئے ملاحظات سے ظاہر ہے جو اوپر متعلقہ ذیلی حاشیہ میں نقل کیے گئے ہیں۔ اس لیے ہر ہر آیت کو اس کی اپنی حیثیت کے مطابق قبول یا ردّ کیا جانا چاہیے۔
۲۔ بائبل کے اکثر مفسرین ان آیات کا تعلق ہیکل سلیمانی کی تعمیر ثانی سے متعلق قرار دیتے ہیں جسے عام طور پر دوسرا ہیکل یا زَرُبّابل کا ہیکل ۳۳؂ کہتے ہیں۔ (ہیکل سلیمانی کی تاریخ کا مختصر حال کتاب کے آخر پر درج شدہ ضمیمہ۳ میں بیان کیا گیا ہے)۔
۳۔ بائبل کے اکثر علما کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا عبارت کے مطابق یہ دوسرا ’ہیکل‘ پہلے ہیکل سے زیادہ شان دار ہونا چاہیے تھا۔۳۴؂ ’دی نیو اوکسفرڈ اینوٹیٹڈ بائبل‘ کا خیال ہے:

The new Jerusalem will surpass Solomon\'s city in beauty and tranquillity. ؂35

نیا یروشلم خوبصورتی اور امن و سکون میں سلیمان کے شہر سے بڑھ کر ہو گا۔

حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ جے ۔ایل میکنزی اپنی لغت بائبل میں کہتا ہے:

It [The Second Temple] was no doubt of the same dimensions and structure as the temple of Solomon but much inferior in the richness of its decorations (Ezr 3:12; Hg 2:3). ؂36

یہ [دوسرا ہیکل] اپنی پیمایشوں اور ڈھانچے کے اعتبار سے بلاشبہ ہیکل سلیمانی جیسا ہی تھا ،لیکن زیبایش و آرایش کی شان و شوکت کے لحاظ سے اس کی نسبت بہت گھٹیا تھا (کتابِ عذرا۳: ۱۲؛ کتاب حجی ۲: ۳)۔

ڈبلیو سمتھ اپنی لغت بائبل میں لکھتا ہے:

From these dimensions we gather that if the priests and Levites and elders of families were disconsolate at seeing how much more sumptuous the old temple was than the one which on account of their poverty they had hardly been able to erect, Ezra 3:12, it certainly was not because it was smaller; but it may have been that the carving and the gold and the other ornaments of Solomon\'s temple far surpassed this, and the pillars of the portico and the veils may all have been far more splendid; so also probably were the vessels; and all this is what a Jew would mourn over far more than mere architectural splendor. ؂37

ان پیمایشوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کاہن اور لاوی اور خاندانوں کے بزرگ یہ دیکھ کر غیر مطمئن تھے کہ پرانا ہیکل نئے ہیکل کی نسبت جو اُن کی غربت کی وجہ سے بڑی مشکل سے تعمیر ہو سکا تھا (عذرا۳:۱۲)، کتنا عظیم الشان اور قیمتی تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ یہ سائز میں چھوٹا تھا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ ہیکل سلیمانی کے نقش و نگار اور سونا اور دوسرے زیورات اس سے کہیں زیادہ شان و شوکت والے تھے اور غلام گردش کے ستون اور پردے کہیں زیادہ شان دار تھے۔ برتن بھی غالباً ایسے ہی تھے۔ اور یہی وہ سب کچھ ہے جس پر ایک یہودی، محض تعمیراتی شان کی نسبت، کہیں زیادہ ماتم اور افسوس کر سکتا ہے۔

________

حواشی


۱؂ ڈاکٹر ڈبلیو فچ، منسٹر، چرچ آف سکاٹ لینڈ، گلاسگو ، ’نیو بائبل کمنٹری‘ میں کتابِ یسعیاہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے صفحہ۶۰۴پر لکھتا ہے :

This is a prophecy of great beauty, thrilling with the joy of a great assurance that the purpose of God is so triumphantly to be fulfilled in the earth.

یہ بہت حسین پیشین گوئی ہے، جو اس عظیم الشان یقین دہانی کی مسرت سے محظوظ کرتی ہے کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا مقصد بڑی کامیابی کے ساتھ پورا ہونے والا ہے۔

۲؂ قاضی سلیمان منصور پوری ، ’رحمۃ للعالمین ‘، ( دہلی، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس ، ۲۰۰۱ء ) ،۱:۱۹۶۔
۳؂ کیرل سٹوہل موئلر’ دی جیروم بائبل کمنٹری ‘ میں(صفحہ۳۸۲پر) بیان کرتا ہے :

These chapters (60-62), especially ch. 60 according to Dhorme (op. cit., xlvii), are a lyrical description of the new Jerusalem.

یہ ابواب (۶۰ ۔ ۶۲) ، بالخصوص باب ۶۰ ، دھورمے (حوالہ بالا۴۷) کے مطابق نئے یروشلم کا غنائی بیان ہے۔

وہ باب ۶۰ کی تشریح کو ’نئے یروشلم کی شان و شوکت‘ کا عنوان دیتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس باب ۶۰ کا تعلق ’دوسرے ہیکل‘ سے قرار دیا جاتا ہے۔ہیکلِ سلیمانی کا ایک مختصر بیان کتاب کے اخیر میں ایک ضمیمے میں درج ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ یروشلم ایک با معنی لفظ ہے، اس کے دوحصے ہیں: یرو= شہر یا جگہ، اور شلم = امن ۔ اس طرح یروشلم کے معنی ہوئے: ’امن کا شہر یا مقام‘ ۔ بائبل میں بغیر کسی وضاحت کے دو یروشلموں کا ذکر ہے۔ پہلا اور پرانا ’امن کا شہر‘ تو کنعان والا یروشلم ہی ہے جو حضرت ابراہیم ؑ سے بھی پہلے وہاں موجود تھا۔ دوسرا اورنیا ’امن کا شہر‘ مکہ ہے، جس کی بنیاد حضرت ابراہیم ؑ نے رکھی تھی اورجس کا قرآن کریم میں ’البلد الامین‘ کے نام سے ذکر ہے۔ لفظ کے ہر مفہوم کے اعتبار سے صرف مکہ ہی یروشلم ’امن کا شہر‘ ہے، اس موضوع پر مصنف کی ایک اور کتاب میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
۴؂ سون کینوقماش نامی یہودی تفسیر بائبل (صفحہ ۱۱۳۴)سے یہاں ایک ذیلی حاشیہ درج کیا گیاہے:

This is addressed to Jerusalem. Light being the symbol of joy and salvation, Jerusalem is told that the light had been rekindled (K).

اس کا خطاب یروشلم سے ہے ۔کیونکہ روشنی مسرت اور نجات کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس لیے بتایا گیا ہے کہ یروشلم میں وہ شمع دوبارہ فروزاں کی گئی ہے۔

یروشلم کی تاریخ کے لیے کتاب کے اخیر میں ضمیمہ ملاحظہ کیجیے۔
۵؂ NIVنے اس لفظ کا ترجمہ’اقوام‘ (Nations) کیا ہے۔ بالعموم اس لفظ’ Gentile‘ کے معنی ’یہودیوں کے علاوہ دوسری تمام اقوام ‘ہیں۔
۶؂ دی ریورینڈ ڈاکٹر آئی ڈبلیو سلوٹکی نے ’کتاب یسعیاہ پر انگریزی ترجمہ و تفسیر (مطبوعہ لندن ، دی سون کینو پریس ، ۱۹۴۹ء) میں صفحہ ۲۹۲ پر ایک عمدہ ذیلی حاشیہ درج کیا ہے:

The nations will learn the ways of God, religion and morality, from [you].

قومیں [تم] سے خداوند کی راہیں، مذہب اور اخلاق سیکھیں گی۔

۷؂ میتھیو ہنری کی’ عہد نامہ قدیم و جدید کی تفسیر‘ (۵: ۳۵۱) میں وضاحت کی گئی ہے:

'kings' means: 'men of figure, power, and influence'.

’بادشاہوں ‘کا مطلب ہے: ’خوب صورت، طاقت ور اور اثر و رسوخ والے لوگ‘۔

۸؂ ڈاکٹرڈبلیو فچ ’محولہ بالا‘ ’نیو بائبل کمنٹری‘ (صفحہ ۶۰۴) پر لکھتا ہے:

Then will the city be the centre of the world\'s light, for the glory of the everlasting God will rest upon her and will radiate around the world.

اس وقت یہ شہر دنیا کی روشنی کا مرکز ہو گا، کیونکہ ازلی و ابدی خداوند اس پر قائم رہے گا اور پوری دنیا کے اردگرد روشنی پھیلائے گا۔

یہاں یہ بات قابلِ ملاحظہ ہے کہ ’ہیکل دوم‘ کو یسعیاہ کے بعد کبھی ایسی شان و شوکت حاصل نہیں ہوئی جیسی یہاں بیان کی گئی ہے۔ یہ صرف مکہ کا خانہ کعبہ ہی ہے جس کے متعلق اس شان و شوکت اور عظمت کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
۹؂ میتھیو ہنری اپنی ’عہد نامہ قدیم و جدید کی تفسیر‘، جلد پنجم، 204An Exposition of the O & NT (NY: Robert Carter & Bros., 530, Broadway, 1712)207, میں صفحہ ۳۵۰پر رقم طراز ہے:

When the Jews were settled again in their own land after their captivity, many of the people of the land joined themselves to them; but it does not appear that there ever was any such numerous accession to them as would answer the fulness of this prophecy; and therefore we must conclude that this looks further, to the bringing of the Gentiles into the [naturally, the forthcoming words should have been \'fold of that altar or sanctuary'; but it is the dexterity and adroitness of the worthy commentator that he manipulates to interpret it in the following terms] gospel church, not their flocking to one particular place, though under that type it is here described. There is no place now that is the centre of the church's unity [thanks are due to accept this bare fact, which was, of course, unavoidable; but133]; but the promise respects their flocking to Christ, and coming by faith, and hope, and the holy love, into that society which is incorporated by the charter of his gospel, and of the unity of which he only is the centre.

جب یہودی اپنی جلا وطنی کے بعد دوبارہ اپنی سرزمین میں آباد ہوئے تو اس سرزمین کے بہت سے لوگوں نے ان میں شمولیت اختیار کر لی، لیکن ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ اتنی کثیر تعداد میں کبھی الحاق ہوا ہو جس سے یہ پیشین گوئی مکمل طور پر پوری قرار دی جا سکے، اس لیے ہمیں لازماً یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ یہ کسی مستقبل کے واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی انجیلی کلیسیا میں ’غیر یہودی قوموں کو شامل کرنا‘ نہ کہ ان کا کسی خاص جگہ پر اجتماع ، اگرچہ یہاں پر جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے [فطری سی بات ہے کہ ’غیر یہودی قوموں کو شامل کرنا‘ کا تعلق ’اس حرم یا قربانی کے چبوترے کے دائرے میں‘ ہونا چاہیے، لیکن یہاں لائق مفسر کی مہارت و ذہانت کو داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے کیسی چابک دستی سے مفہوم کیا سے کیا بنا دیا ہے:’ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔‘ ] اب [دنیا میں] کوئی ایسی جگہ نہیں جو کلیسا کے اتحاد کا مرکز ہو، لیکن یہ وعدہ ان کے مسیح کے پاس اکٹھا ہونے سے متعلق ہے۔ اور ایمان اور امیداور مقدس محبت کی بدولت اس سوسائٹی میں داخل ہونے سے متعلق ہے جو اس انجیل و بشارت کے ذریعے سے عمل میں آیا ہے اور اس اتحاد سے متعلق ہے جس کا مرکز صرف وہی [مسیح] ہے۔

مسیحی علما ، عہد نامہ قدیم کی سادہ سی عبارتوں کو توڑ مروڑ کر کس مہارت سے حضرت یسوع مسیح یا کلیسا پر چسپاں کر دیتے ہیں ، مندرجہ بالا عبارت اس کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
۱۰؂ ’نیو انگلش بائبل‘ میں ہے:

Your daughters walking beside them leading the way.

تمھاری بیٹیاں ان کے ساتھ چلتی ہیں اور راستہ دکھاتی[یا عبور کرتی] ہیں۔

میتھیو ہنری کی ’عہد نامہ قدیم و جدید کی تفسیر‘ (۵: ۳۵۱) میں ہے :

Sons and daughters shall come in the most dutiful manner'.

بیٹے اور بیٹیاں انتہائی فرض شناسی اور خدمت گزاری کے انداز میں آئیں گی۔

یہ دونوں تراجم اس سیاق وسباق میں ایک معقول مفہوم فراہم کرتے ہیں۔ یہ مردوں اورعورتوں کے کاروانوں اور گروہوں کے اکٹھے ہو کر مکے کے اس حرم کے حج کے لیے آنے کی ایک سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔
۱۱؂ ’نیو جیروسیلم بائبل‘ (صفحہ ۱۲۸۲) میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:

since the riches of the sea will flow to you, the wealth of the nations come to you;

کیونکہ سمندر کی دولت تمھاری طرف بہ کر آئے گی، قوموں کی دولت تمھارے پاس آئے گی۔

N.I.V (صفحہ ۷۷۹) نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:

the wealth on the seas will be brought to you, to you the riches of the nations will come.

سمندروں پر کی دولت تمھارے پاس لائی جائے گی۔ تمھارے پاس قوموں کی دولت آئے گی۔

’دی سنکینوقماش‘ (صفحہ۱۱۳۴) نے یہاں ایک حاشیہ درج کیا ہے:

Whereas in the past the Land of Israel was desolate and forsaken, it will now be crowded with multitudes like a roaring sea (K).

جبکہ ماضی میں اسرائیل کی سرزمین ویران اور بے آباد تھی، اب یہ لوگوں کے ہجوم سے بھر کر ایک چنگھاڑتے ہوئے سمندر کے مانند ہو جائے گی۔

لیکن جہاں تک ’دوسرے ہیکل‘ کا تعلق ہے یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔
۱۲؂ ’وکلف کی تفسیر بائبل‘ (صفحہ۶۵۱) میں ہے:

It is quite remarkable that, in origin, all these offered treasures are preponderantly Arabian.

یہ بات بڑی اہم ہے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے قربانی کے لیے پیش کیے جانے والے اِن تمام خزانوں کی غالب اکثریت اقوامِ عرب سے متعلق ہے۔

لیکن اپنے دل کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے وہ اس کی تاویل یوں کرتا ہے:

Perhaps there is a suggestion here that Islam will some day turn to the Cross.

شاید یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ایک نہ ایک دن عیسائیت قبول کر لے گا۔

لیکن یہ اس فاضل مصنف کی خوش فہمی اور محض خواب و خیال ہی ہے۔
۱۳؂ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ (جلد ۴، صفحہ۳۱۴) لفظ ’مدیان‘ کی تشریح میں لکھتی ہے:

A region in the desert of Arabia (see on Ex. 2:15).

یہ صحراے عرب کا ایک خطہ ہے۔(ملاحظہ کیجیے خروج۲: ۱۵)

حقیقت یہ ہے کہ مدیان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کی بیوی قطورہ [جنھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سارہ کی وفات کے بعد اپنی زوجیت میں لیا تھا] کے چھ بیٹوں میں سے ایک تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قطورہ سے اپنے ان بیٹوں (زمران، یقشان، میدان، مدیان، اشباک اور شعاع) کو عرب میں آباد کیا تھا۔
۱۴؂ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ (۴: ۳۱۴) لفظ ’عیفاہ‘ کی مندرجہ ذیل وضاحت کرتی ہے:

A Midianite tribe (Gen. 25:4; 1 Chron. 1:33), and here the region they inhabited.

ایک مدیانی قبیلہ (پیدایش۲۵:۴، ۱۔کتاب تواریخ۱:۳۳)۔ اور یہاں اس سے مراد وہ خطہ ہے جہاں وہ رہایش پذیر تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ عیفاہ مدیان کے پانچ بیٹوں (عیفاہ، عیفر، حنوخ، عبیدہ اور علداہ) میں ایک سے تھا۔ مدیان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان بیٹوں میں سے ایک تھا جو اُن کے ہاں قطورہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔
۱۵؂ N.J.B.(صفحہ ۱۲۸۳) کا بیان ہے:

Midian, Ephah and Sheba are peoples of Arabia.

مدیان، عیفاہ اور شیباہ سرزمین عرب کی قومیں ہیں۔

’7th Day Adventist Bible Dic.‘(صفحہ ۱۰۱۵) میں وضاحت کی گئی ہے:

It is now generally held that it was a queen of this Arabian Sheba, in the area now called Yemen, who made a visit to Solomon (1Ki 10:1-13). The Sabeans were one of the most important peoples of all Arabia. (...). They built large dams and an extensive irrigation system, which made their country the most fertile in ancient Arabia. This is why it was known in classical times as Arabia Felix, \'Happy Arabia.\'

اب عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ عرب کے اس شیبا کی، جو اس خطے میں واقع ہے جسے اب یمن کہتے ہیں، ایک ملکہ تھی جو حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے آئی تھی (املوک۱۰: ۱۔۱۳)۔ سبائی پورے عرب کی سب سے اہم اقوام میں سے ایک تھی۔ (...)۔ انھوں نے بڑے بڑے بند اور آبپاشی کا ایک وسیعنظام تعمیر کیا تھا۔ جس سے ان کا ملک قدیم عرب کا سب سے زیادہ زرخیز ملک بن گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کلاسیکی دور میں عریبیا فیلکس یعنی ’خوش و خرم عرب‘ کہتے تھے۔

۱۶؂ ٹائنڈیل ہاؤس، کیمبرج کا وارڈن ڈیرک کڈنر اپنی کتاب’یسعیاہ کی تفسیر‘ میں صفحہ ۶۲۱ پر لکھتا ہے:

v. 7 is crucial to the understanding of the chapter [60].

ساتویں آیت اس باب [۶۰] کا مفہوم سمجھنے کے سلسلے میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔

۱۷؂ ڈملو نے اپنی تفسیر میں صفحہ ۴۵۰ پر لفظ ’نبایوت‘ کی اس طرح وضاحت کی ہے:

a tribe allied to Kedar, descended from Ishmael (Gn 25:13).

قیدار کا ساتھی ایک قبیلہ، جو اسماعیل ؑ کی نسل سے ہے(پیدایش۲۵: ۱۳)۔

’دی نیوجیر وسیلم بائبل‘ (صفحہ۱۲۸۳) نے نبایوت کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:

an Arabian people, see Gn. 25:13; 28:9; 36:3.

ایک عربی قوم، ملاحظہ کیجیے کتاب پیدایش۲۵: ۱۳،۲۸: ۹،۳۶:۳۔

’اے نیو کیتھولک کمنٹری اون ہولی سکرپچر‘ صفحہ۵۹۷ پر تشریح کرتی ہے:

The tribes of 'Kedar' and of 'Nebaioth\' were of Ishmaelite origin, and were mainly shepherds.

’قیدار‘ اور’نبایوت‘ کے قبیلے اسماعیل ؑ کی نسل سے تھے اور وہ زیادہ تر چرواہے تھے۔

’دی وِکلف بائبل کمنٹری‘ صفحہ ۶۵۱ پر یہ کہنے کے بعد کہ :

It is quite remarkable that, in origin, all these offered treasures are preponderantly Arabian.

یہ بہت اہم ہے کہ یہ تمام پیش کردہ خزانے بنیادی طور پرزیادہ عرب سے تعلق رکھتے ہیں۔

اپنے دل کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مندرجہ ذیل پیش گوئی کرتا ہے:

 

Perhaps there is a suggestion here that Islam will some day turn to the Cross.'

شاید یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک نہ ایک دن اسلام عیسائیت قبول کر لے گا۔

۱۸؂ اصل عبرانی بائبل میں اس لفظ ’خدمت کرنا‘ کے لیے’ شرث ‘کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے ’سٹرونگز ڈکشنری آف دی ہبریوبائبل‘ (صفحہ۱۲۲، اندراج ۸۳۳۴۔۸۳۳۵) میں یہ معنی درج ہیں:

to attend as a menial or worshipper; fig. to contribute to, minister, wait on;' or \'service (in the temple)

ایک ادنیٰ انسان یا عبادت گزار کی طرح خدمت میں حاضر ہونا مجازی طور پر امداد کرنا، خدمت کرنا، خدمت میں حاضر رہنا یا ہیکل میں خدمت بجا لانا یا عبادت کرنا۔

’یہودی تفسیر پنٹاٹیوک اینڈ ہفتوراز‘ (صفحہ۸۷۵) میں جے ایچ ہرٹز عبرانی لفظ کا ترجمہ'Minister' کرتا ہے اور حاشیہ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’قربانیوں کے لیے جانور فراہم کرکے۔‘
۱۹؂ ڈملو نے اپنی تفسیرکے صفحہ ۴۵۰ پر یہاں ایک ذیلی حاشیہ دیا ہے:

The nations are pictured as coming in a long train, to bring their riches for the service of the sanctuary.

قوموں کو ایک بڑے سلسلے میں آتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ اس حرم کی خدمت کے لیے اپنی دولت لائیں۔

میتھیو ہنری کی’ عہد نامہ قدیم و جدید کی تفسیر‘ (۵: ۳۵۱) میں درج ہے:

Great numbers of sacrifices shall be brought to God's altar, acceptable sacrifices, and, though brought by Gentiles, they shall find acceptance.

خداوند کے چبوترے پر قربانیوں کی بہت بڑی تعداد لائی جائے گی جو قابل قبول قربانیاں ہوں گی اور اگرچہ انھیں غیر یہودی قوموں کے لوگ لے کر آئیں گے پھر بھی یہ شرفِ قبولیت حاصل کر یں گی۔

اگرانھیں ہیکل دُوُم کے حوالے سے دیکھا جائے تو اُنھیں محض من پسند تخیلات ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
۲۰؂ ’نیو انٹر نیشنل ورشن‘ میں صفحہ۷۷۹ پر اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

They will be accepted as offerings on my altar, and I will adorn my glorious temple.

وہ میرے چبوترے پر قربانی کے طور پر قبول کیے جائیں گے اور میں اپنے عظیم الشان ہیکل کو سجاؤں گا۔

۲۱؂ ’نیو انٹر نیشنل ورشن‘ میں صفحہ۷۷۹ پر اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

and I will adorn my glorious temple

اورمیں اپنے عظیم الشان ہیکل کو سجاؤں گا۔

’دی سنکینوقماش‘ (صفحہ۱۱۳۴) نے یہاں ایک ذیلی حاشیہ درج کیا ہے:

By causing the nations to bring their gifts and offerings to it (K).

قوموں کی اس پر اپنی قربانیاں اور اپنی نذریں پیش کروا کر۔

۲۲؂ یہ جدے کے ہوائی اڈے پر روزانہ بادلوں کی طرح آنے اور زمین پر اترنے والے ان ہزاروں ہوائی جہازوں کی عکاسی کرتا ہے، جو کروڑوں زائرین کو عمرے کے لیے سارا سال اورلاکھوں حاجیوں کو حج کے لیے ذی الحج کے مہینے میں لے کر آتے ہیں ۔
۲۳؂ کیرل سٹوہل ملر’دی جیروم تفسیر بائبل‘ میں صفحہ۳۸۳پر لفظ ’ترشیش‘ کی وضاحت کرتا ہے:

A Phoenician colony in southern Spain (Jon 1:3).

جنوبی سپین میں ایک فینقی نو آبادی۔

یہاں یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ سپین پر قریباً آٹھ صدیوں تک عرب مسلمانوں کی حکومت رہی۔ یہ مسلمان بحری جہازوں کے ذریعے سے حج ادا کرنے کے لیے حرمِ مکہ کا سفر کرتے تھے۔
۲۴؂ ڈاکٹر ڈبلیو فچ، منسٹر، چرچ آف سکاٹ لینڈ، گلاسگو’نیو بائبل کو منٹری‘ میں صفحہ۶۰۴ پر کتاب یسعیاہ کی تفسیر میں لکھتا ہے:

The gates will not be shut by day nor night, a symbol of absolute security under the blessing of her God.

دن ہو یا رات کسی وقت دروازے بند نہیں ہوں گے۔ اس بے پایاں تحفظ کییہ ایک علامت ہے جو اس کے خداوند کی برکت کے تحت حاصل ہوگا۔

لیکن لفظ کے کسی مفہوم کے اعتبار سے بھی انھیں ہیکل دوم سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف حرمِ مکہ کے لیے یہ کلیتاً صحیح ہے جس کے دروازے حجاج کرام کے لیے دن رات کھلے رہتے ہیں۔ ان حجاج کی اکثریت غیر یہودی النسل ہوتی ہے اور جن میں کئی ملکوں کے بادشاہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ دن رات میں ایک لمحے کے وقفے کے بغیر خانۂ کعبہ کے گرد طواف میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وبرکت سے اِنھیں وہاں مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
۲۵؂ ’دی نیوجیروسیلم بائبل‘ میں صفحہ ۱۲۸۳ پر آیت ۱۲ کے سلسلے میں ایک حاشیہ درج ہے:

Interrupting the continuity, [v. 12] is very probably additional.

تسلسل منقطع کرنے والی یہ (آیت ۱۲)غالباً ایک [بعدکا] اضافہ ہے۔

’اے نیو کیتھولک کمنٹری اون ہولی سکرپچر‘ (صفحہ ۵۹۷) نے بھی اس آیت کی اسی طرح تشریح کی ہے:

In a context of this kind, the threat mentioned in 12 is astonishing, and is probably a gloss inserted later.

اس قسم کے سیاق و سباق میں [آیت] ۱۲ میں بیان کردہ دھمکی حیران کن ہے اور غالباً بعد میں بڑھائی ہوئی کوئی تشریح ہے۔

۲۶؂ لفظ ’صیہون‘ کا مختصر تعارف اس کتاب کے باب ۱۱ کے اخیر میں درج ہے۔(دیکھیے: صفحہ ۱۸۵)
۲۷؂ ’دی نیوجیروسیلم بائبل‘ (صفحہ۱۲۸۳) کے الفاظ میں یہ بھی آیت ۱۲ کی طرح’بڑی غالب حد تک اضافی، یعنی الحاقی ہو سکتی ہے‘، لیکن اگر آیت ۱۲ ، ۱۴ پوری طرح تحریف شدہ ، اضافی اور بعد کی داخل کردہ نہ بھی ہوں اور اُن کا مفہوم صحیح سالم اورغیر تحریف شدہ ہو تو بھی حرمِ مکہ پر ان کا پورے اطمینان سے اطلاق کیا جا سکتا ہے اور یہ پیغمبرِ اسلام کے ہاتھوں فتحِ مکہ کی صحیح عکاسی کرتی ہیں۔
۲۸؂ ڈملو نے اپنی تفسیر (صفحہ۴۵۰) میں اس جگہ ایک ذیلی حاشیہ دیا ہے۔ اس میں درج ہے:

The figure is that of a forsaken wife (546)

صورت حال ایک تنہا چھوڑی ہوئی بیوی کی ہے(۵۴: ۶)۔

’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ (۴: ۳۱۵) میں درج ہے:

Like a forsaken wife.

ایک یکہ و تنہا چھوڑی ہوئی بیوی کی طرح۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ اسماعیل ؑ کی والدہ ہاجرہ سے متعلق ہے۔
۲۹؂ ’دی نیلسن سٹڈی بائبل‘ نے آیت ۱۵ میں صفحہ۱۲۰۹پر ایک حاشیہ درج کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

The new sanctuary will be greater than the old one because it is eternal, rich, and spiritual (vv. 17, 18)

نیا حرم پرانے سے زیادہ عظیم ہو گا ،کیونکہ یہ ابدی ، مالا مال اور روحانی ہے (آیت ۱۷۔۱۸)۔

جو حرمِ مکہ کے بارے میں ہوبہو صحیح ہے۔
۳۰؂ ’سنکینوقماش‘ (صفحہ ۱۱۳۷) نے یہاں ایک ذیلی حاشیہ درج کیا ہے :

Israel's sovereignty and glory will never again depart (K).

اسرائیل کی حاکمیت اور شان و شوکت پھر کبھی ختم نہ ہو گی۔

یہ ایک خواہشاتی توقع سے زیادہ کچھ نہیں جو کبھی عملی صورت نہیں اختیار کرسکتی۔ دوسری طرف حرمِ مکہ پر اس کا کلی اطلاق ہوتا ہے۔
۳۱؂ ’سنکینوقماش‘میں صفحہ ۱۱۳۷پر اس جگہ درج ذیل حاشیہ دیا گیا ہے:

Israel's national glory will endure for ever, because the restoration will be the work of God (K).

اسرائیل کی قومی شان و شوکت ہمیشہ کے لیے قائم رہے گی، کیونکہ بحالی کا یہ عمل خداوند کا کام ہو گا۔

یہ بھی ایک خواب و خیال ہی رہا، کیونکہ ہیکل دُوُم کی تعمیر کے بعد بھی اسرائیل کی شان و شوکت کی وہ بحالی، جس کو یہاں ’خداوند کا کام‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، کبھی حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکی۔ وہ (یہودی) ایرانی، یونانی، سریانی یا رومی سلطنتوں کے تحت صرف محدود سی ایک’داخلی خودمختاری‘ سے زیادہ کچھ نہ حاصل کر سکے۔ ہیکل ۷۰ء میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور’اسرائیل کی قومی شان و شوکت ہمیشہ کے لیے باقی رہے گی‘ کا خواب محض ایک سُندر سپنا ہی رہا۔
۳۲؂ کتاب مقدس، یسعیاہ۶۰: ۱ ۔ ۲۱۔
۳۳؂ ڈاکٹر ڈبلیو فچ ’نیوبائبل کومنٹری‘ میں اپنی کتاب یسعیاہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

Jerusalem is to be rebuilt (...). Then will the city be the centre of the world\'s light [unfortunately the city could never become 'the centre of the world\'s light'], for the glory of everlasting God will rest upon her and will radiate around the world [the world never saw this dream come true]. (...) iii. Jerusalem to be built again. (lx. 10-14). (...). When rebuilt the gates will not be shut by day nor night (11), a symbol of absolute security under the blessing of her God [Of course, it is quite true that \'the gates will not be shut by day nor night' because they do not even physically exist on earth. As such, the question of their being ever shut does not arise! Because it is 'a symbol of absolute security under the blessing of her God\' How can someone dare to comment on it!], and also implying the warmth of the welcome that will be given to those that seek an entrance therein.

یروشلم کو دوسری دفعہ تعمیر ہونا ہے۔ (...) ۔ اس وقت یہ شہر دنیا کی روشنی کا مرکز ہو گا [لیکن بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ یہ شہر کبھی بھی دنیا کی روشنی کا مرکز نہ بن سکا]، کیونکہ ازلی اور ابدی خداوند کی شان و شوکت اس پر برقرار رہے گی اور دنیا کے ارد گرد روشنی پھیلائے گی [لیکن دنیا نے کبھی بھی یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوتے نہیں د یکھا]۔ (...)۔ یروشلم کا دوبارہ تعمیر کیا جانا (۶۰:۱۰۔۱۴)۔ (...) ۔ جب یہ دوبارہ تعمیر ہو گا تو دروازے دن یا رات میں کسی وقت بند نہ ہوں گے(۱۱)، اپنے خداوند کی برکت کے تحت مطلق تحفظ کی علامت [بلاشبہ یہ بالکل سچ ہے کہ ’دروازے دن یا رات میں کسی وقت بند نہ ہوں گے۔‘چونکہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، اس لیے ان کے کبھی بند ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ’کیونکہ یہ اپنے خداوند کی برکت کے تحت مطلق تحفظ کی ایک علامت ہیں۔‘ بھلا کوئی شخص جھوٹ کے اس طومار پر تبصرہ کرنے کی کیسے جرأت کر سکتا ہے] اور یہ اس پُر جوش خیرمقدم کی غمازی بھی کرتا ہے جو اُن لوگوں کو پیش کیا جائے گا جو اس میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

مندرجہ بالا عبارت کا پہلا ذیلی حاشیہ بھی ملاحظہ کیجیے۔
۳۴؂ مندرجہ بالا آیات ۵،۱۵،۲۰،۲۱ کے ذیلی حواشی بھی ملاحظہ کیجیے۔
۳۵؂ N.O.A.B یسعیاہ ۶۰:۱۷۔۱۸ (صفحہ ۹۵۰) پرذیلی حاشیہ ملاحظہ کیجیے۔
۳۶؂ جے ایل میکنزی کی ’لغتِ بائبل‘، ۸۷۵۔
۳۷؂ ڈبلیو سمتھ کی ’لغتِ بائبل‘، ۶۸۰۔

____________