ضمیمہ ۲
 

(بحوالہ باب ششم)

 

’کتابِ تواریخ‘ اگرچہ آج بائبل کی مستند کتابوں میں شامل ہے ،لیکن علما کے نزدیک اس کی استنادی حیثیت مضبوط نہیں، اس لیے اس کا ہیکل سلیمانی کے محل وقوع کو’ موریاہ ‘کا نام دینا کوئی وزن نہیں رکھتا۔ ڈبلیو ۔ ایچ بَینِٹ (W. H. Bennett) ’جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا‘ میں ان الفاظ میں اس امر کی تصدیق کرتے ہیں:

Chronicles (from its position in many manuscripts [MSS], etc., after Nehemiah) only obtained its place in the canon by an afterthought. ؂1

کتاب تواریخ (اس حیثیت سے کہ متعدد مسودات وغیرہ کی رو سے یہ کتابِ نحمیاہ کے بعد کی کتاب ہے) صرف بعد کی سوچ بچار ہی کے ذریعے سے بائبل کی مستند کتاب کی حیثیت اختیار کر سکی ہے۔

اس کا بیان ہے کہ یہ کتاب مسیحیوں کی مستند کتابوں کی بعض فہرستوں میں شامل نہیں تھی۔ وہ لکھتا ہے:

The omission؂2of Chronicles from some Christian lists of canonical books is probably accidental. ؂3

کتاب تواریخ کا مستند کتابوں کی بعض مسیحی فہرستوں سے حذف ہونا غالباً ایک اتفاق کی بات ہے۔

جہاں تک اس کی تاریخِ تدوین کا تعلق ہے، وہ کہتا ہے :

It is part of a larger work, Chronicles-Ezra-Nehemiah, composed in the Greek period between the death of Alexander (B.C. 323) and the revolt of the Maccabees (B.C. 167). (133). Chronicles-Ezra-Nehemiah must be later than the times of Ezra and Nehemiah (458-432). In style and language the book belongs to the latest period of Biblical Hebrew. The descendants of Zerubbabel (I Chron. iii. 24) are given, in Masoretic text, to the sixth generation (about B.C. 350); in the LXX, Syriac, and Vulgate, to the eleventh generation after Zerubbabel (about B.C. 200) [which shows that it was written or added after BC 200]. The list of high priests in Neh. xii. 10, 11, extends to Jeddua (c.330). These lists might, indeed, have been made up to date after the book was completed; but other considerations point conclusively to the Greek period; e.g., in Ezra vi. 22, Darius is called \"the king of Assyria.\" On the other hand, the use of the book in the Ecclesiasticus (Sirach) referred to above, the absence of any trace of the Maccabean struggle, and the use of the LXX, Chronicles by Eupolemus (c. B.C. 150; see Swete, l.c. p. 24), point to a date not later than B.C. 200. Hence Chronicles is usually assigned to the period B.C. 300-250.؂4

یہ ایک بڑی کتاب ’تواریخ - عذرا- نحمیاہ‘ کا ایک حصہ ہے۔ جو سکندر اعظم کی وفات (۳۲۳ ق م) اور مکابیوں کی بغاوت (۱۶۷ ق م) کے درمیان یونانی دور میں مدوّن ہوئی۔ (...) ۔ [کتاب] ’تواریخ- عذرا- نحمیاہ‘ یقیناًعذرا اور نحمیاہ (۴۵۸ ۔۴۳۲ ق م) سے بعد کے زمانے میں لکھی گئی ہوگی۔ اسلوب اور زبان کے اعتبار سے یہ کتاب بائبل کی عبرانی زبان کے سب سے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ مسوراتی متن میں زروبابل کی بعد کی نسلیں (تواریخ۳:۲۴) چھٹی نسل (تقریباً ۳۵۰ ق م) تک دی گئی ہیں۔ ہفتادی ترجمے، سُریانی ترجمے اور ولگیٹ میں زروبابل کے بعد گیارھویں نسل (تقریباً ۲۰۰ ق م) تک کی نسلیں دی گئی ہیں ]اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تحریر یا اس میں اضافہ ۲۰۰ ق م کے بعد کیا گیا تھا[۔ نحمیاہ ۱۲ :۱۰۔۱۱ میں سردارکاہنوں کی فہرست جِدُّوعہ (قریباً ۳۳۰) تک چلتی ہے۔ یہ فہرستیں حقیقت میں کتاب کے مکمل ہو جانے کے بعد اپ ٹو ڈیٹ کی گئی ہوں گی، لیکن کچھ اور لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ واضح طور پر یونانی دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مثلاً عذرا (۶:۲۲) میں داریو س ]دارا[کو ’ شاہِ اشُور‘ قرار دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف [الف] اس کتاب کا محوّلہ بالا اَکلیسیا سِتکُس [Ecclesiasticus](یشوع بن سیراخ) میں استعمال [ب] اس میں مکابیوں کی جدوجہد کے کسی نشان کی غیر موجودگی اور [ج] اس میں ہفتادی ترجمے اور کتابِ تواریخ از یوپولیمس(Eupolemus)، (تقریباً ۱۵۰ ق م، ملاحظہ کیجیے سویٹے، صفحہ ۲۴ ) کا استعمال ایک ایسی تاریخ کی نشان دہی کرتے ہیں جو ۲۰۰ ق م سے بعد کی نہیں۔ اس طرح کتابِ تواریخ عام طور پر ۳۰۰ سے ۲۵۰ ق م تک کے زمانے سے متعلق قرار دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ایمل جی ہراخ، پروفیسر، ربانیکل لٹریچر و فلسفہ، شکاگو یونیورسٹی ’جیوئش انسائیکلوپیڈیا‘ میں بیان کرتے ہیں کہ تالمود کے علما اس کتاب کی تاریخی صحت پر شک کا اظہار کرتے تھے۔ اور یہ کہ کتاب تواریخ کے مؤلف نے (اشخاص و اماکِن کے) نام بیان کرنے میں ’بڑی آزادی‘ سے کام لیا ہے:

On the whole, Chronicles was regarded with suspicion; its historical accuracy was doubted by the Talmudic authorities, (...). The names were treated with great freedom; ؂5

مجموعی طور پر کتاب تواریخ شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ تالمودکے علما اس کی تاریخی صحت پر شک و شبہ کا اظہار کرتے تھے۔ (... ) ۔ ناموں کو بڑی آزادی سے برتا گیا تھا۔

’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ کا خیال ہے کہ ہیکل کی تعمیر کا حال بیان کرتے وقت کتاب تواریخ کے مؤلف نے اپنی خواہش اور ڈیزائن کی مناسبت سے تفاصیل کو حذف کرنے یا ان میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں پوری آزادی سے کام لیا ہے:

Certain items concerning the building of the Temple have been omitted, others are presented more briefly, others are given in the same wording as Kings, while others are entirely new. ؂6

ہیکل کی تعمیر کے سلسلے میں بعض امور حذف کر دیے گئے ہیں۔ کچھ دوسرے امور کو زیادہ مختصر بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ کچھ مزید دوسری باتیں بعینہٖ کتابِ ملوک کے الفاظ میں درج کی گئی ہیں، جبکہ کچھ اور باتیں ایسی بھی ہیں جو بالکل نئی ہیں۔

نَور فوک انگلینڈ میں عبرانی کے پروفیسر ایچ بَینٹ ’جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا ‘میں رقم طراز ہیں کہ اس میں مختلف قسم کی تحریفیں آزادی سے کی گئی تھیں۔ مصنف نے اس کی تدوین کے دوران میں جس طرح کی آزادیاں کھلے دل سے استعمال کی ہیں، ان کے علاوہ بعض بعد کے ’علما‘ نے اس کی تکمیل کے بعد بھی تحریف اور اضافے سے کام لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

(...) and perhaps additions were made to the book after it was substantially complete. In dealing with matter not found in other books it is difficult to distinguish between matter which the chronicler found in his source, matter which he added himself, and later additions, as all the authors concerned wrote in the same spirit and style; (...). Where Chronicles contradicts Samuel-Kings preference must be given to the older work, except where the text of the latter is clearly corrupt. With the same exception, it may be assumed that sections of the primitive "Chronicles" [some older book on the annals of history of the concerned period other than the book of Chronicles of the Bible, which the Chronicler used as a source] are much more accurately preserved in Samuel-Kings than in Chronicles. (...) The consistent exaggeration of numbers on the part of the chronicler shows us that from a historical point of view his unsupported statements must be received with caution. (...). What they prove is that he did not possess that sense of historical exactitude which we now demand from the historian.؂7

(133)۔ اس کتاب کے معقول حد تک مکمل ہو جانے کے بعد بھی شاید اس میں اضافے کیے جاتے رہے ہیں۔ اِس مواد کے متعلق جو دوسری کتابوں میں دستیاب نہیں، کسی نتیجے تک پہنچنے کے سلسلے میں ایسے مواد کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ہے جو کتابِ تواریخ کے مؤلف نے اپنے ماخذ سے نقل کیا یا جس کا اس نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے یا جو کچھ اس کے بعد میں اضافہ کیا گیا، کیونکہ تمام متعلقہ مصنفین نے اسے ایک ہی جذبے کے تحت اور ایک ہی اسلوب میں لکھا ہے۔ (...)۔ جہاں کتاب تواریخ کا مصنف’ سموئیل - ملوک‘ سے اختلاف کرتاہے، وہاں پرانی کتاب (سموئیل و ملوک) کو ترجیح دی جانی چاہیے، سوائے ایسی حالت کے کہ جہاں مؤخر الذکر کتاب کا متن واضح طور پر تحریف شدہ ۸؂ ہو۔ ایسے ہی استثنا کے ساتھ یہ بھی فرض کر لیا جانا چاہیے کہ قدیمی ’کتاب تواریخ‘ ]یہ ایک قدیمی کتاب تواریخ ہے جس میں متعلقہ عہد کے تاریخی واقعات درج ہیں اور یہ بائبل کی کتابِ تواریخ سے ایک مختلف کتاب ہے اور اسے بائبل کی کتاب تواریخ کے مصنف نے اپنے ماخذ کے طور پر استعمال کیا تھا[ کے اجزا بائبل کی کتاب تواریخ کی نسبت بائبل کی کتب سموئیل و ملوک میں کہیں زیادہ صحت و درستی کے ساتھ ضبطِ تحریر میں لائے گئے۔ (... )۔ کتابِ تواریخ کے مصنّف کی اعداد کے سلسلے میں مسلسل مبالغہ آرائی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی نقطۂ نظر سے اس کے ایسے بیانات کو قبول کرنے میں احتیاط برتی جانی چاہیے، جن کی تائید میں کوئی دوسرا مواد موجود نہیں۔ (...)۔ ان باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج ہم ایک مؤرخ سے جس طرح کے واقعات کے ٹھیک ٹھیک بیان کی توقع رکھتے ہیں، وہ (کتابِ تواریخ کا مؤلف) اس طرح کے مؤرخانہ شعور سے عاری تھا۔

جے ای گول ڈنگے، رجسٹرار شعبۂ عہد نامہ قدیم، سینٹ جان کالج، نوٹنگھم نے بھی ’نیو بائبل ڈکشنری‘ کے مقالے ’کتابِ تواریخ‘ میں اسی طرح کے ملاحظات نقل کیے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:

Like most OT books, however, Chronicle is of anonymous authorship, and no conclusions are possible as to who wrote it. (...), he did wish to bring a specific message from God applied to the people of his own day, and it is this that leads him to his extensive working of his text, omitting what was now irrelevant, adding material that was now newly relevant, changing what was now misleading, and so on. Chronicles has been regarded as poorer history than Samuel-Kings, (...). Some of its alterations to Samuel-Kings raise historical problems: (...) textual corruption or misunderstanding has often been suspected. (...)۔ here the author perhaps resembles an artist painting the figures of the past in the dress of his own age. Such characteristics have led to the questioning of the extra material Chronicles includes which does not appear in Samuel-Kings. (...), and the main narratives, as we have noted, are substantially derived from Samuel-Kings. ؂9

تاہم عہد نامہ قدیم کی اکثر کتابوں کی طرح کتابِ تواریخ کے مصنف کا نام بھی معلوم نہیں۔ اور یہ بات کسی طرح اخذ نہیں کی جاسکتی کہ یہ کس نے لکھی ہے۔ (... )، اُس کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے دور کے لوگوں پر لاگو کرنے کے لیے خداوند کی طرف سے خصوصی پیغام لائے۔ اور یہی وجہ ہے جس کے تحت اُس نے اپنے متن پر اس طرح کی شدید مشقّت کی ہے کہ جو بات اسے موجودہ حالات میں غیر متعلق نظر آئی، وہ اس نے حذف کر دی، اور جو مواد آج کے حالات سے مطابقت رکھتا تھا، اُس کا اُس نے اضافہ کیا، جو چیز موجودہ ماحول میں گمراہ کُن دکھائی دی، وہ اُس نے تبدیل کر دی، علیٰ ہٰذا القیاس۔ کتاب تواریخ کو کتاب سموئیل و ملوک کی نسبت گھٹیا درجے کی تاریخ قرار دیا گیاہے۔ (... )۔ اِس نے سموئیل و ملوک میں جو تبدیلیاں کی ہیں، اُن سے بعض اوقات تاریخی نوعیّت کے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ (... )۔ اُس پر متنی تحریف یا غلط فہمی کا اکثر شک کیا گیا ہے۔ (...)۔ یہاں مؤلف غالباً ایک ایسے آرٹسٹ سے مشابہ نظر آتا ہے جو ماضی کے اشخاص کی تصویر کشی اپنے دور کے لباس میں کرتا ہے۔ اس طرح کی خصوصیات نے اُس زائد مواد کے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو کتابِ تواریخ میں شامل ہیں، مگر سموئیل و ملوک میں موجود نہیں۔ (... )، اور اہم بیانات، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، زیادہ تر سموئیل و ملوک ہی سے ماخوذ ہیں۔

میکنزی نے بھی اپنی ڈکشنری آف بائبل میں لکھا ہے کہ کتابِ ملوک کا مؤلف تاریخ کے بجاے اپنے خود ساختہ تین مقاصد میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ’ ہیکل اور طریقِ عبادت کو فوقیت دی جائے‘:

It may be summed up by saying that the Chronicler intended to write not what happened, but what ought to have happened; (...). This ideal is specified by three theological principles which he represents as governing events: (...), and the primacy of the temple and the cult. (...). The third principle appears in the space and importance which the Chronicler gives to the temple and its cult and personnel, (...). It is necessary to see the Chronicler\'s purpose. ؂10

اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ کتابِ تواریخ کا مصنف یہ نہیں لکھنا چاہتا تھا کہ حقیقت میں کیا رونما ہوا ہے، بلکہ وہ یہ لکھنا چاہتا تھا کہ کیا رونما ہونا چاہیے تھا۔ (... )۔ اِس نصب العین کی تین دینیاتی اصولوں کے ذریعے سے نشان دہی کی گئی ہے جن کو وہ مرکزی اور بنیادی واقعات کے طور پر پیش کرتا ہے: (... )۔ اور ہیکل اور طریق عبادت کی فوقیت (... )۔ تیسرا اصول اس مقام اور اُ س اہمیّت سے ظاہر ہوتا ہے جو کتابِ ملوک کا مؤلف ہیکل کو اِس میں طریقِ عبادت اور اِس کے افراد کو دیتا ہے، (... )۔ یہ ضروری ہے کہ کتابِ ملوک کے مؤلف کا مقصد پیشِ نظر رہے۔

ریورنڈ جے ملکاہی، پروفیسر صُحفِ مقدّسہ ،روح القدس کالج، کِمّیج، ڈبلن نے بڑی دلچسپی کے ساتھ کتابِ ملوک کے مؤلِّف کے مضامین و مقاصد کا ’اے نیو کیتھولک کمنٹری‘ میں تجزیہ کیا ہے، اور اُس کی’اِستنادی حیثیت ‘ کا پول مندرجہ ذیل الفاظ میں کھولا ہے:

The claim of Jerusalem to be the only place where legitimate worship of Yahweh is possible is the second principal element in the Chronicler\'s theme. (...). In the neutral passages (...) there seems to be no reason to doubt the strictly historical character of the narrative. In the other passages, however, we should be doing an injustice to him, were we to judge him merely as an historian. Since, for him, history is a handmaid of theology, it is the theological understanding that is important for him, not the naked historical fact. If he clothes this naked fact with somewhat imaginary adornments, we must accept this as his method of teaching theology and not reproach him for the lack of an historical exactness which a comparison between his text and that of Sm-Kgs shows that he never intended. On other matters, which were not affected by the Chronicler\'s special point of view and purposes, historical value is recognized in his traditions.؂11

یروشلم کا یہ دعویٰ کہ یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی جائز عبادت کی جاسکتی ہے، کتابِ ملوک کے مصنف کے مضامین کا دوسرا بڑا عنصر ہے۔ (... )۔ غیر جانبدار عبارات میں (...)، اس بیان کے یقینی تاریخی کردار پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، تاہم دوسری عبارتوں میں اگر ہم اسے محض ایک مؤرخ کی حیثیت سے پرکھیں تو ہم اُس کے ساتھ بے انصافی کریں گے، کیونکہ اُس کے خیال میں تاریخ تو شریعت کی ایک دست بستہ کنیز ہے۔ اس کے نزدیک تو اہمیت صرف الٰہیاتی فہم کو حاصل ہے، نہ کہ عریاں تاریخی حقائق کو۔ اگر وہ اِن برہنہ حقائق کو کسی قدر تخیلاتی آرایشوں میں ملبوس کرتا ہے تو ہمیں اِس بات کو اُس کے الٰہیات کی تعلیم کے طریقے کے طور پر قبول کرلینا چاہیے، اور اُسے اس بات پر ملامت نہیں کرنی چاہیے کہ اس میں تاریخی قطعیت کا فقدان ہے۔ اُس کے متن کا ’سموئیل۔ ملوک‘ کے متن کے ساتھ موازنہ کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی قطعیّت کبھی اس کے پیش نظر تھی ہی نہیں۔ دوسرے معاملات میں ،جو کتابِ ملوک کے مؤلف کے خصوصی نقطۂ نظر اور مقاصد سے متاثر نہیں ہوتے تھے، اس کی روایات کی تاریخی قدروقیمت تسلیم کی جاتی ہے۔

ایچ فائفر نے ’انٹر پریٹرز بائبل ڈکشنری‘ میں کتابِ ملوک پر اپنے مقالے میں اس کا قدرے تفصیلی تجزیاتی مطالعہ کیا ہے۔ اس کے مضمون سے چند اقتباسات دیکھ کر قاری کو ایک صحیح راے قائم کرنے میں مدد ملے گی:

The Chronicler not only teaches the proper faith in God, after the manner of the Priestly Code, by such graphic fictitious stories, (...). To raise the low morale at such times, the Chronicler exaggerated the splendor of the Jewish kingdom in the past, (...). In glorifying Judaism and the Jews through the centuries beyond all possibilities, the Chronicler necessarily rewrote the history from David to Cyrus; he freely omitted from his sources, added to them, modified them, being blissfully unaware of anachronisms ؂12 and impossibilities. (...). In general the Chronicler modified our canonical sources with complete freedom to suit his ideas. (...), and modified what did not agree with his religious views or his notions of the facts of history. (...). Elsewhere the Chronicler rewrote the narration of Samuel and Kings in order to express his own views, which often differed from those of his sources; (...). These examples suffice to illustrate the various methods by which the Chronicler rewrote, edited, shortened, expanded, and arbitrarily changed the passages in Samuel and Kings which suited his purposes, omitting the rest, (...); in the other half the Chronicler, unless he had access to other sources unknown to us was able to display his vivid imagination by composing freely, without any guidance. (...). A date ca 250 B.C. or a little earlier is far more probable than 400-350 B.C. ؂13

کتابِ تواریخ کا مؤلف پریسٹلی کوڈ کے انداز میں اس طرح کی خوبصورت جعلی کہانیوں کے ذریعے سے خداوند پر صحیح ایمان کی تعلیم دیتا ہے،(... )۔ ایسے مواقع پر پست حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے کتابِ ملوک کا مؤلف ماضی کی یہودی سلطنت کی عظمت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ (...)۔ پچھلی تمام صدیوں میںیہودیت اور یہودیوں کی تمام امکانات سے ماورا عظمت بیان کرنے کے لیے کتابِ ملوک کے مؤلف نے داؤد سے ساءِرس تک کی تاریخ کو ضرورتاًنئے سرے سے رقم کیا ہے۔ اس نے پوری آزادی سے اپنے مآخذ میں سے[ جو چاہا] حذف کر دیا، [جس چیز کا چاہا] ان میں اضافہ کر دیا، انھیں [اپنی مرضی کے مطابق]جس رنگ میں چاہا، ڈھال دیا۔ اس کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اسے یہ تک خبر نہیں کہ یہ باتیں غیر ممکن الوقوع ہیں یا تاریخی نظامِ اوقات کے خلاف ہیں۔(...) ۔ عمومی طور پر کتابِ ملوک کے مؤلف نے ہمارے مستند مآخذ کو اپنے نظریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انھیں نئے رنگ میں ڈھالنے کے سلسلے میں مکمل آزادی سے کام لیا۔(... )، اور جو چیزیں اس کے مذہبی نظریات یا تاریخی حقائق کے متعلق اس کے خیالات سے موافقت نہیں رکھتی تھیں، انھیں اس نے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر لیا۔ (...)۔ بعض دوسرے مقامات پر ’کتابِ تواریخ‘ کے مؤلف نے کتابِ سموئیل اور کتابِ ملوک کے بیانات کو نئے سرے سے لکھا ہے تاکہ وہ اپنے ان ذاتی نظریات کو نمایاں کر سکے جو اکثر اس کے مآخذ کے نظریات سے مختلف ہوتے تھے۔ (... )۔ وہ مختلف طریقے جن کے ذریعے سے کتابِ تواریخ کے مؤلف نے کتابِ سموئیل اور کتاب ملوک کی عبارتیں دوبارہ لکھیں، یا انھیں اَیڈٹ کیا، یا ان میں اختصار کیا، یا انھیں پھیلایا، یا ان کو من مانے انداز میں اپنے مقاصد کے مطابق تبدیل کر کے بقایا کو حذف کر دیا۔ ان سب کی وضاحت کے لیے اس طرح کی کافی مثالیں موجود ہیں، (... ) ۔ [کتاب کے] دوسرے نصف حصے میں’کتابِ تواریخ‘ کا مؤلف بغیر کسی رہنمائی کے آزادانہ انداز میں عبارت آرائی کرکے اپنے واضح تخیلات کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ہاں اگر اس کی رسائی کچھ ایسے دوسرے مآخذ تک تھی، جن کا ہمیں علم نہیں تو اور بات ہے۔(... )۔[اس ’کتابِ تاریخ‘ کی تالیف کی تاریخ کے سلسلے میں] بہ نسبت اس بات کے کہ یہ ۴۰۰ ۔۳۵۰ ق م کے دوران میں لکھی گئی ہو، یہ امکان غالب ہے کہ یہ تقریباً ۲۵۰ ق م میں یا اس سے کچھ پہلے لکھی گئی ہو۔

تقریباً ہر اس عالم نے جس نے اس کتابِ تواریخ کے متعلق کچھ لکھا ہے، اس کے متعلق اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ذیل میں اِن کا ایک ملخّص درج ہے:

۱۔ابتدا میں کتابِ تواریخ اس قابل نہ سمجھی گئی کہ اِسے عہد نامہ قدیم کی مستند کتابوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اِسے بعد کے کسی دَور میں اس فہرست میں شامل کیا گیا۔
۲۔اِسے مستند کتابوں کی بعض مسیحی فہرستوں سے حذف بھی کر دیا گیا تھا۔
۳۔عہد نامہ قدیم کی اکثر کتابوں کی طرح ’کتابِ تواریخ‘ کے مصنّف کا نام بھی معلوم نہیں۔ اور اِس بات کا کوئی اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اِسے کِس نے لکھا تھا(نیو بائبل ڈکشنری)۔
۴۔’جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا ‘کے مطابق ’کتابِ تواریخ‘ کا عہدِ تصنیف عام طور پر ۳۰۰ ق م سے ۲۵۰ ق م تک قرار دیا جاتا ہے۔
۵۔کیونکہ یہ واقعے کے رونما ہونے سے تقریباً سات سو سال بعد کِسی نامعلوم مؤلِّف کی لکھی ہوئی ہے، اِس لیے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مصنف واقعہ کا عینی شاہد نہ تھا۔
۶۔جیسا کہ ’جیوئش انسائیکلوپیڈیا ‘میں درج ہے: ’مجموعی طور پر کتابِ تواریخ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ تالمود کے مستند علما کے نزدیک اس کی تاریخی صحت مشکوک تھی۔‘
۷۔کتابِ تواریخ کے مؤلّف نے وہ ’تواریخ‘ دوبارہ بیان کی ہے جو اس سے پہلے کتابِ سموئیل، کتابِ ملوک وغیرہ میں لکھی ہوئی تھی، لیکن ’نیو بائبل ڈکشنری‘ کے مطابق یہ سموئیل اور ملوک سے گھٹیا درجے کی تاریخ ہے۔
۸۔کتابِ تواریخ کا مؤلّف کچھ خود ساختہ مقاصد اور نظریات کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے، جیسا کہ ’اِنٹر پریٹرز ڈکشنری آف بائبل‘ میں بیان کیا گیا ہے، حضرت داوٗد ؑ سے سائرس تک کے دور کی تاریخ اپنی اس ضرورت کے تحت دوبارہ لکھی ہے۔ اُس نے اپنے ماخذ سے [ جو باتیں اُسے ناپسند محسوس ہوئیں اُنھیں] پوری آزادی سے حذف کر دیا، اُن میں اضافہ کیااور انھیں نئے رنگ میں ڈھالا۔ اُس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ ان ناممکن الوقوع چیزوں اور سنین و اوقات میں اس بے ربطی کے بارے میں بالکل بے خبر ہے۔(...)۔ عمومی طور پر ’کتابِ تواریخ‘ کے مصنّف نے ہمارے مستند مآخذ کو اپنے نظریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مکمل آزادی کے ساتھ اُن میں تبدیلیاں کی ہیں۔(...)۔ اُس کے مذہبی نظریات یا تاریخی حقائق سے متعلق جو بات اُس کے نظریات سے مطابقت نہ رکھتی تھی، اُسے اُس نے اپنی مرضی کا رنگ دے دیا۔ اُس نے یہودیت اور یہودیوں کو اتنا عظیم الشان بنا کر پیش کیا جو کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ (...) ۔ کسی دوسری جگہ کتابِ تواریخ کے مؤلف نے کتابِ سموئیل اور کتابِ ملوک کے بیانات کو اپنے ذاتی خیالات کے رنگ میں ڈھالنے کے لیے انھیں نئے سرے سے تحریر کیا، جو اکثر اصل مآخذ سے مختلف تھے۔ (...)۔ یہ مثالیں ان مختلف طریقوں کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں جن کے مطابق کتابِ تواریخ کے مؤلّف نے کتابِ سموئیل اور کتابِ ملوک کی عبارتوں کو دوبارہ لکھا، مدوّن کیا، مختصر کیا، پھیلایا اور من مانے طریقے سے اُس میں تبدیلیاں کیں اور جو کچھ باقی بچا، اُسے حذف کردیا۔ یہ سب کچھ اُس نے اِس طرح کیا کہ اُس کے مقاصد پورے ہو سکیں۔
۹۔میکنزی کے الفاظ میں ’ہیکل کی فوقیت‘ اُس کے خود ساختہ مقاصدمیں سے ایک اہم مقصد تھا اور یہ بات نہایت ضروری ہے کہ کتابِ ملوک کے مؤلّف کے مقاصد کو ملحوظ رکھا جائے۔
۱۰۔اپنے اِس خود ساختہ نصب العین کے پیشِ نظر اُس نے ہیکل سلیمانی کو تقدّس اورعظمت دینے کی کوشش کی۔ اور واقعات کو ایسا رنگ دیا کہ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے محل وقوع کو موریاہ سے منسلک کر سکے۔

________

 

حواشی ضمیمہ ۲ ’کتاب تواریخ‘ کی استنادی حیثیت

1.The Jewish Enc., 4:60.
2.The Jewish Enc., 4:60.

۳؂ اگر یہ’ حذف‘ صرف ایک فہرست سے ہوتا تو پھر بھی اسے بہ یک جنبشِ قلم ، بغیر کسی وجہ جواز کے، ’اتفاقی‘ قرار نہیں دیا جا سکتا تھا، لیکن یہاں یہ حذف ’مستند کتابوں کی بعض مسیحی فہرستوں‘ سے ہوا ہے (فہرستوں کا صیغۂ جمع میں ہوناقابلِ توجہ ہے)، اور اس کا مستند کتابوں کی بعض فہرستوں جیسی اہم دستاویزات سے یوں حذف ہونا اس فیاضی اور بے نیازی سے ’ حادثاتی یا اتفاقی‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

4.The Jewish Enc., 4:60.
5.The Jewish Enc., 4:60.
6.The 7th-Day Adventist Bible Com., 3:118.
7.The Jewish Enc., 4:62-63.

۸؂ یہاں لفظ ’مؤخر الذکر‘ (latter) صریحاً ’سموئیل۔ملوک‘کا حوالہ دے رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا ‘کے اس آرٹیکل کے مصنف کے مطابق ’سموئیل۔ملوک‘بھی ’تحریف‘ سے محفوظ نہیں۔

9. New Bible Dic., 2nd Ed., 187-88.
10. J. L. McKenzie's Dic. of the Bible, 131-32.
11. A New Catholic Commentary on Holy Scripture, revised and updated 1975, Ed. Rev. Reginald C. Fuller, (Hong Kong: Thomas Nelson Ltd., 1981), pp. 353, 55f.

۱۲؂ ’ anachronisms‘ کا مطلب ہے: ’ وقت کی غلطی، جس کی وجہ سے کوئی چیزغلط وقت سے منسوب کر دی جاتی ہے، کوئی بے وقت چیز یا بعد از وقت چیز۔‘

13. The Interpreter\'s Dic. of the Bible, 1:574-80.

____________