بعض لوگوں کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ مرد خواتین سے برترہیں۔وہ اپنے اس نظریے کی تائید میں مندرجہ ذیل آیتیں پیش کرتے ہیں:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُونَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ. (النساء ۴: ۳۴)
’’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلتدی ہے اور اس وجہ سے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ. (البقرہ ۲: ۲۲۸)
’’اور شوہروں کواپنی بیویوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔‘‘

اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن مجید کے مطابق عورت اور مرد انسان ہونے کی حیثیت سے برابر ہیں اور ایک جیسی عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھیے :

فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ اَنِّیْ لَآاُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُم مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی. (اٰل عمرٰن ۳: ۱۹۵)
’’اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ ‘‘

یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً. (النساء ۴: ۱)
’’اے لوگو، ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔‘‘

یہ بات واضح رہے کہ خاندان کی تنظیم میں میاں اوربیوی، دونوں کو کچھ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جس کی وجہ سے ایک دوسرے پرمختلف حیثیتوں میں برتر قرارپاتا ہے۔ سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیت۳۴ کی رو سے مرد کو بحیثیت سربراہِ خاندان بیوی پر فوقیت حاصل ہے۔ اسی بات کو سورۂ بقرہ کی اوپر بیان کردہ آیت ۲۲۸نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’شوہروں کو بیویوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔‘‘ کچھ دائرے ایسے ہیں جس میں خواتین معاملات میں فطری طور پر مردوں پر برتری رکھتی ہیں۔
سورۂ نساء کی آیت ۳۴ میں شوہروں کو’’ قوام‘‘ کہنے کی دو وجوہات ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی لحاظ سے اس ذمہ داری کے لیے زیادہ موزوں ہیں اور اپنے اندر فاعلیت کا مزاج رکھنے کی وجہ سے زیادہ مستحق ہیں کہ انھیں گھر کا سربراہ بنایا جائے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ خاندان کی معاشی کفالت کی ذمہ داری شوہر کے کندھوں پر ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلام خواتین کو ہرگز کمانے سے منع نہیں کرتا۔ وہ انھیں صرف یہ بتاتا ہے کہ کمانے کی ذمہ داری ان کے شوہروں پر ہے، ان کی نہیں۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ آیت میں یہ نہیں کہاگیا کہ شوہر یا بیوی میں سے جو کمائے وہ گھر کا سربراہ بنے گا، بلکہ آ یت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی چاہے کمائے یا نہ کمائے، شوہر ہی گھر کی معاشی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا پابند ہے۔ خواتین اگر چاہیں یا ان کی کوئی ایسی ضرورت ہو کہ انھیں کمانا پڑے تو وہ کما سکتی ہیں، لیکن گھرکانظم ونسق چلانے کی ذمہ داری اسلام نے مرد کے کندھوں پر ڈالی ہے اوراسی وجہ سے گھر کی چھوٹی سی ریاست کا سربراہ مرد کو بنایاگیا ہے۔
یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور استدلال کا تجزیہ کرلیا جائے جس کی رو سے مردوں کو عورتوں سے برتر قرار دیا جاتا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق عورت کومرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، گویا کہ اماں حوا کو بابا آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔ چنانچہ عورت کی حیثیت مرد کے مقابلے میں ثانوی ہے۔ حدیث کا متن مندرجہ ذیل ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآءِ فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَیْءٍ فِی الضِّلَعِ أَعْلَاہُ فَإِنْ ذَہَبْتَ تُقِیْمُہُ کَسَرْتَہُ وَإِنْ تَرَکْتَہُ لَمْ یَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ. (بخاری، رقم۳۱۵۳)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو۔ بے شک، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا اوپر کا حصہ سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو یہ ٹوٹ جائے گی اور اگر اسے ایسا ہی چھوڑ دو گے تو یہ ٹیڑھی رہے گی۔ چنانچہ عورتوں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو۔‘‘

سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ قرآن مجید کے مطابق حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے نہیں پیدا کیا گیا۔ سورۂ نساء کی پہلی ہی آیت میں یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ پہلا مرد اور پہلی عورت (آدم وحوا)، دونوں براہ راست اللہ تعالیٰ نے مٹی سے تخلیق کیے تھے۔
سورۂ نساء میں ہے:

یٰٓاََیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا.(۴: ۱)
’’اے لوگو، ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا۔ ‘‘

بعض لوگ اس آیت کا اس طرح ترجمہ کرتے ہیں:

’’وہی اللہ ہے جس نے تمھیں ایک آدمی (آدم) سے بنایااور پھر اس سے اس کی بیوی (حوا )کو پیدا کیا۔‘‘

وہ اس آیت کی تشریح میں یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا۔اس آیت کا غلط ترجمہ کرنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ عربی جملے ’خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا‘ ( اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا) کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ ’مِنْہَا‘ کا واضح مطلب یہ ہے کہ جس جنس یا صنف (species )سے آدم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اسی جنس یا صنف سے حوا کو بنایا۔ مندرجہ ذیل آیت ہمارے اس نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہے:

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا.(النحل ۱۶: ۷۲)
’’یہ اللہ ہی ہے جس نے تمھاری جنس سے تمھارا جوڑا بنایا۔ ‘‘

اوپر بیان کی گئی آیت کے الفاظ: ’وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا‘ کے لفظی معنی وہی ہیں جو ’وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا‘ کے ہیں۔ چنانچہ کیا اس کے یہ معنی ہوں گے: ’’وہی اللہ ہے جس نے تم سے تمھارے جوڑے تخلیق کیے‘‘، یعنی ہر بیوی کو اس کے شوہر سے پیدا کیا گیا، جیسے کہ حوا کوآدم سے پیدا کیا گیا تھا؟ یقیناً یہ غلط ترجمہ ہے۔ لفظ ’اَنْفُس‘ ’نَفْس‘ کی جمع ہے جس کے معنی یہاں صنف (species) کے ہیں، ’’جسمانی وجود‘‘ کے نہیں۔
جہاں تک اوپر نقل کی گئی حدیث کا تعلق ہے، تو اس میں الفاظ ’’سے پیداکیا گیا ہے‘‘ سے لازماً پیدایش کے مادے کو مراد لینا درست نہیں ہے ، بلکہ یہ الفاظ کسی چیز کی ساخت یا جوہر کی طرف بھی اشارہ کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں ہے:

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ. (الانبیآء ۲۱: ۳۷)
’’انسان عجلت سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ انسان کی پیدایش کا جوہر جلد بازی ہے۔ یہ لفظ اس کی فطرت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر زیر بحث حدیث کے سارے طرق اکٹھے کیے جائیں اور ان کا تجزیہ کیا جائے تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں عورت کی فطرت کو پسلی کی طرح قرار دیا ہے۔اس تشبیہ میں ایک بہت بلیغ اشارہ پایا جاتا ہے کہ خاتون کی فطرت بہت نازک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تھوڑی سی جذباتی اور ضدی بھی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہروں کو نصیحت کی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ ان کی اس فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت سے معاملہ کریں۔ ان کے ساتھ سختی سے معاملہ کرنے کے بجاے ان کی فطرت کو سامنے رکھیں اور ان کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔

____________