پہلی بحث


ہمارے منفی اور مثبت پہلو

پہلے باب میں عروج و زوال کے محرکات کے حوالے سے ہم نے جن عناصر کا ذکر کیا تھا ، ان میں سے دو غیر اختیاری تھے: اول یہ کہ قوم کی توانائی جس کا انحصار کسی قوم کے مرحلۂ زندگی پر ہوتا ہے، کس مقام پر ہے؟ دوسرا یہ کہ قوم کو آیا کوئی چیلنج درپیش ہے؟ اگر ہے تو اس کی شدت کتنی ہے؟ اہل پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہ دونوں غیر اختیاری عناصر ان کے حق میں ہیں۔پاکستانی قوم خارج کی طرف سے مسلسل ایک چیلنج کا شکار ہے ، مگر یہ چیلنج کبھی اتنا نہیں بڑھاکہ ہماری کمر توڑ ڈالے۔ دوسری طرف ہماری قوم چونکہ ابھی اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہے ، اس لیے اس میں قدرتی توانائی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔
جہاں تک عروج و زوال کے اختیاری محرکات کا سوال ہے ،بدقسمتی سے یہ مکمل طور پر ہمارے خلاف جاتے ہیں۔ جدید علوم اور تعلیم میں ہم دنیا بھر سے پیچھے ہیں۔اخلاقی معاملات میں ہمارا رویہ انتہائی پست ہے۔سب سے بڑھ کر ہم نے خدا سے ایک عہد باندھا اور اس کے بعد من حیث القوم بدترین منافقت کا ثبوت دیا ہے۔ ہم حکومت و اقتدار کی سطح پر تو مقتدر طبقات پر مغربیت کا الزام ڈال کر بری ہوجاتے ہیں ، مگر ہمارے اپنے گھروں اور ذاتی زندگی میں توحید و شریعت کو بے وقعت کرنے کے جرم میں ہم سب شریک ہیں۔ہمارے قومی کردار میں متعدد ایسی چیزیں شامل ہوچکی ہیں جس کے بعد ہم اپنے اوپر عائد ہونے والی اسلامی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
ہماری کوتاہیاں کسی ایک طبقے کی نہیں، بلکہ قوم کا ہر گروہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہماری اشرافیہ اور حکمران طبقے کا ذہناً اس قوم سے کوئی تعلق نہیں۔ان میں سے اکثر مغربی افکار کے پروردہ ہیں جن کی تہذیب، ثقافت، اقدار، زبان اور مفادات، سب اس قوم سے جدا ہیں۔ جب تک ہندوؤں کا سامنا تھا یہ لوگ اسی قوم کا حصہ تھے، مگر اس کے بعد ان کے مفادات ان پر ہرچیز سے زیادہ حاوی ہوچکے ہیں۔یہی حال ہماری سیاسی قیادت کا ہے جو مخصوص طبقات کے مفادات کی محافظ بن کر رہ گئی ہے۔ سیاست دانوں میں جہاں اخلاص ہے ، وہاں دوراندیشی اور حکمت کا فقدان ہے اور جہاں فہم و دانائی ہے ، وہاں ذاتی مفاد ہر شے پر حاوی ہے۔ ہماری مذہبی قیادت ، الّا ماشاء اللہ ،جمود اور فرقہ واریت کی اسیر ہے۔ ہمارے عوام الناس کا قومی مزاج ان تمام بیماریوں سے متاثر ہے جن کی بنا پر وہ دین و شریعت اور اخلاق و فطرت کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ہمارے ادارے شکستہ اور کرپشن کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔

____________