مندرجہ ذیل حدیث کی بنیاد پر یہ راے قائم کی گئی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں کم عقل ہوتی ہیں:

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَضْحٰی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلّٰی، فَمَرَّ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ... مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْہَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ، قُلْنَ: مَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: أَلَیْسَ شَہَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَہَادَۃِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ بَلٰی، قَالَ: فَذَالِکَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِہَا، أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتِ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْنَ: بَلٰی، قَالَ: فَذَالِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِہَا. (بخاری، رقم ۲۹۸)

’’حضرت ابو سعید خدری (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر کے موقع پر نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے خواتین کے گروہ، ... باوجود ناقصات عقل و دین ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو مضبوط ارادے والے مرد کو مخبوط الحواس کرتے نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ، ہمارے مذہبی اور دنیاوی امور میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے دنیاوی امور کا نقص ہے۔ (آپ نے فرمایا): کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت جب حیض سے ہوتی ہے تو نہ وہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دینی امور کا نقص ہے۔‘‘

اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ اس حدیث میں عربی کی ترکیب ’نَاقِصَاتُ عَقْلٍ وَ دِیْنٍ‘ کا غلط ترجمہ ہے۔ عام طور سے لفظ ’نقص‘ کے وہی معنی لیے جاتے ہیں جو اردو میں ’’نقص‘‘، یعنی عیب کے ہیں ، جبکہ عربی کے فعل ’نقص‘ کے معنی کم کرنے کے ہیں ۱؂ اور جب ’’عقل‘‘ کا لفظ ’’دین‘‘کے ساتھ اس طرح استعمال ہوتا ہے تو ’’عقل‘‘ کے معنی دنیاوی امور کے ہوتے ہیں۔اگر ان دونوں پہلوؤں کو اور سیاق وسباق کوبھی ملحوظ رکھا جائے تو’نَاقِصَاتُ عَقْلٍ وَ دِیْنٍ‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ خواتین کو دنیااور دین کے معاملات میں رعایت دی گئی ہے۔ دنیاوی امور میں رعایت، جیسا کہ اس حدیث میں آگے بیان ہوا ہے، یہ ہے کہ انھیں بعض معاملات میں زحمت نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر قرآن مجید قانونی دستاویزات میں گواہ بننے کی ترغیب مردوں کو دیتا ہے اور خواتین کو عدالتوں کے چکر لگانے اور اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی زحمت نہیں دینا چاہتا، جبکہ کوئی دوسرا یہ بخوبی کام کر سکتا ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ خواتین کو اس طرح کے معاملات میں صرف اسی وقت شامل کرے جب مرد میسر نہ ہوں۔
اسی طرح اسلام نے خواتین کو دین کے معاملات میں یہ رعایت دی ہے کہ انھیں مخصوص ایام میں نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا مکلف نہیں ٹھہرایاگیا، جیسا کہ حدیث میں آگے بیان ہوا ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ دو مختلف زبانوں میں مستعمل ایک ہی لفظ کے معنی بھی ایک ہوں۔ مثال کے طور پر لفظ ’’غلیظ‘‘کے معنی عربی میں ’’مضبوط‘‘ کے ہیں، جبکہ اردو میں ’’غلیظ‘‘ کے معنی ’’گندے‘‘کے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن مجید (النساء ۴: ۲۱) نے نکاح کو ’مِیْثَاقًا غَلِیْظًا‘، یعنی ’’مضبوط معاہدہ‘‘ کہا ہے۔
مزید برآں جو لوگ اس حدیث کی بنا پر خواتین کو مردوں سے کم عقل سمجھتے ہیں، وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ حدیث میں خواتین کو صرف ’’ناقصات عقل‘‘ نہیں کہا گیا، بلکہ ’’ناقصات دین‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ اگر ’’ناقصات عقل‘‘ کے معنی یہ لیے جائیں کہ خواتین عقل میں مردوں سے کم تر ہیں تو پھر’’ ناقصات دین‘‘ کا معنی یہ لینے پڑیں گے کہ جس دین کی وہ پیروی کرتی ہیں، اس میں بھی کچھ خلل اورکمی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ غلط فہمی اردو میں ’’نقص‘‘ کے جو معنی ہیں، وہی عربی میں مراد لینے سے پیدا ہوئے ہیں، ورنہ اس حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کو بعض دنیاوی اور بعض دینی امور میں رعایت دی گئی ہے۔

_____
۱؂ لسان العرب، ابن منظور ۷/ ۱۰۰۔

____________