علما کی ایک کثیر تعداد کی یہ راے ہے کہ کوئی خاتون ریاست کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ ان میں سے بیش تر اپنی راے کے استدلال میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں:

عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِی اللّٰہُ بِکَلِمَۃٍ سَمِعْتُہَا مِنْ رسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَّامَ الْجَمَلِ بَعْدَمَا کِدْتُّ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَہُمْ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَأَنَّ أہْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّکُوْا عَلَیْہِمْ بِنْتَ کِسْرٰی قَالَ: لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَہُمُ إِمْرَأۃً. (بخاری، رقم ۴۱۶۳)
’’حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس بات میں فائدہ دیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ جمل کے دنوں میں سنا، جبکہ میں اصحاب جمل کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے والا تھااوران کے ساتھ مل کر لڑنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سنا کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران مقرر کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم نے کسی خاتون کواپنا حکمران بنایا، وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتی۔‘‘

اس حدیث پر مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

۱۔حدیث کے متن سے واضح ہے کہ جنگ جمل (جو کہ۳۶ھ میں ہوئی) سے پہلے یہ حدیث کسی کو معلوم نہیں تھی۔ یہ صرف اس وقت سامنے آئی جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سامنا جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔
۲۔ اس روایت میں ایک راوی عوف ابن ابی جمیلہ کواگرچہ بعض ائمۂ فن نے قابل اعتماد قرار دیا ہے، تاہم ان کے بارے میں مندرجہ ذیل جرح پیش نظر رہنی چاہیے:

ابوزرعہ اور عقیلی، دونوں نے عوف ابن ابی جمیلہ کو اپنی ’’کتاب الضعفاء‘‘ میں درج کیاہے۔ ۲؂
الحاکم نیشاپوری بیان کرتے ہیں:

’’میں نے پوچھا کہ عوف ابن ابی جمیلہ کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ انھوں نے (دارقطنی ) نے جواب دیا: ’لیس بذاک‘۔‘‘ ۳؂

الجزجانی بیان کرتے ہیں:

’’عوف ابن ابی جمیلہ بڑی لاپرواہی سے اپنے دائیں بائیں سے کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کی آ را میں سے روایت کرتے ہیں۔‘‘ ۴؂

المزی بیان کرتے ہیں:

’’ ان میں سے کچھ کی راے ہے کہ وہ قابل بھروسا نہیں ہیں۔وہ ایسی باتیں الحسن سے بیان کرتا ہے جو کبھی کسی نے بیان نہیں کی ہیں۔‘‘ ۵؂

۳۔ یہ حدیث غریب ہے۔ فن حدیث میں اگر ایک روایت کی کسی بھی کڑی میں اگر صرف ایک راوی ہو تو وہ روایت غریب کہلاتی ہے۶؂۔ اس روایت کو صرف ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے بیان کیا ہے۔ اس حدیث کی نوعیت ایسی ہے کہ اسے دوسرے صحابہ کرام کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا چاہیے تھا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی نے بھی اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیا۔
۴۔اگر حدیث کے متن کا جائزہ لیا جائے توہم آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اس طرح کے الفاظ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورسے پہلے اور اس کے بعد بھی کتنی ہی کامیاب حکومتیں تھیں جن کی حکمران خواتین تھیں۔
۵۔ سب سے آخری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ حدیث قرآن مجید کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْْنَہُمْ. (الشوریٰ ۴۲: ۳۸)
’’ان کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔‘‘

درج بالا آیت سے مراد یہ ہے کہ مسلمان حکومت کو باہمی مشورے سے تشکیل پانا چاہیے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اختلاف راے کی صورت میں اکثریت کی راے فیصلہ کن ٹھہرے گی۔ چنانچہ جب تک ایک حکومت کو اکثریت کا اعتماد حاصل ہے، اسے برقرار رہنا چاہیے اور جب اسے یہ اعتماد حاصل نہ رہے تو اسے حکومت کرنے کا حق نہیں رہنا چاہیے۔ قرآن مجید نے کہیں بھی اس عمومی اصول سے خواتین کو مستثنیٰ قرارنہیں دیا۔ چنانچہ اس آیت کی رو سے اگر کسی ملک میں ایک خاتون ہی کو اکثریت کا اعتماد حاصل ہو ، تو وہ یقیناًاس ملک کی سربراہ بن سکتی ہے۔
جو لوگ خواتین کے حکمران بننے کے قائل نہیں ہیں، ان کاایک اوراستدلال یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید نے مرد ہی کو خاندان کا سربراہ مقرر کیا ہے اور چونکہ ریاست مختلف خاندانوں ہی کا مجموعہ ہوتی ہے ، لہٰذا خاندان کا سربراہ بھی صرف مرد ہوسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں خواتین چونکہ خاندان کی سربراہ نہیں بن سکتیں، اس لیے وہ ریاست کی سربراہ بھی نہیں بن سکتیں۔
اس ضمن میں یہ بات سمجھنی بہت ضروری ہے کہ خاندان کا نظام اور حکومت کا نظام سربراہ کے تعین کے معاملے میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ قرآن مجید کے مطابق خاندان کا سربراہ بعض مزاجی اوصاف کی وجہ سے منتخب کیا جاتا ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ خاندان کا کفیل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ شوہر کو گھر کا سربراہ نہ صرف اس کے مزاج کے اوصاف کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس پر گھر والوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی ڈالی گئی ہے۔
اس کے برعکس، جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ ریاست کا سربراہ صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جسے قوم کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہو۔ یہ قرآن مجید کے حکم ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْْنَہُمْ‘، ’’ ان کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہے‘‘ (الشوریٰ ۴۲: ۳۸) کا لازمی تقاضا ہے۔ چنانچہ اگر کسی ملک میں یہ اعتماد خاتون کوحاصل ہو جائے تو وہ ریاست کی سربراہ قرار پائے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اکثریت کی راے کا احترام کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں خاندان کے سربراہ کا انتخاب کسی ریاست کے سربراہ کے انتخاب سے بالکل مختلف معاملہ ہے۔ایک کا اطلاق دوسرے پر کسی طرح نہیں کیا جا سکتا۔

_____
۲؂ کتاب الضعفاء ، ابو زرعہ ۶۵۹۔ کتاب الضعفاء ، عقیلی ۳/ ۴۲۹۔
۳؂ سؤلات الحاکم، دارقطنی۲۶۱۔
۴؂ احوال الرجال، الجزجانی۱۱۴۔
۵؂ تہذیب الکمال ، المزی ۲۲/ ۴۴۰۔
۶؂ مقدمہ ، ابن صلاح ۲۷۰۔

____________