درج بالا نقطۂ نظر کو ثابت کرنے کے لیے اس حدیث کو پیش کیا جاتا ہے:

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَضْحٰی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلّٰی فَمَرَّعَلٰی النِّسَاءِ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّیْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ؟ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَ تَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ. (بخاری، رقم ۲۹۸)
’’حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر کے دن نماز پڑھنے کی جگہ کی طرف نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کے گروہ، صدقہ کیا کرو۔ بے شک، میں نے تمھاری اکثریت کو آگ میں دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگیں: وہ کیوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت زیادہ لعنت ملامت کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘

اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں کہ جہنم میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔ یہ راے اس وجہ سے قائم کی گئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں موجود اسلوب کو صحیح طرح سے نہیں سمجھا گیا۔ یہ اسلوب عام طور پر ان احادیث میں موجود ہوتاہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ اس طرح کے خواب اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے لیے تعلیم کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ان میں ان کوتمثیلاً بعض حقائق بتائے جاتے ہیں۔ان میں حقائق کو علامتوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو تعلیم دے سکیں۔ بطور اصول یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس طرح کے تمام خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں اور ان میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے، وہ من وعن مراد نہیں ہوتا۔علامتی طریقے کسی حقیقت کے اظہار کا بہت اثر انگیز اور لطیف ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان میں حقیقت پردے میں ہوتی ہے، تاہم جو انسان رک کر ان کے بارے میں سوچتا ہے، اس پر یہ بالکل عیاں ہوجاتی ہے۔ وہ اس پرایسے اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے شعر وشاعری۔ وہ انسان کے اندر یہ تحریک پیدا کرتے ہیں کہ وہ ان علامتوں میں جو گہرائی پوشیدہ ہے، انھیں سمجھے۔ وہ اسے غوروفکر پر ابھارتے ہیں اور اخذ واستنباط پر انگیخت کرتے ہیں۔
چنانچہ اللہ کے رسول خوابوں کے ذریعے سے اپنی تعلیم کو مؤثر بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تمثیلات اس کی بہترین مثال ہیں۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب قرآن میں بیان ہوا ہے۔ انھوں نے اس کی جو تعبیر کی، وہ بھی قرآن میں بیان ہوئی ہے۔اگر انھوں نے یہ دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند اور سورج انھیں سجدہ کررہے ہیں تو وہ سمجھ گئے کہ ان آسمانی سیاروں کے ذریعے سے بعض متعین شخصیات کو ممثل کیا گیا ہے۔
وہ احادیث جن میں خواتین کی تعداد کو مردوں سے زیادہ بتایا گیا ہے، ان کی تاویل بھی اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کرنی چاہیے۔چنانچہ یہ احادیث جہنم میں خواتین کی تعداد ہرگز نہیں بیان کرتیں، کیونکہ یہ تو ان میں بیان کیے ہوئے خواب کی من وعن تاویل ہوگی۔ اس کے برعکس ان احادیث میں انھیں صرف اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ کچھ ایسے اعمال زیادہ کرتی ہیں جو انھیں جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ایسے کاموں سے انھیں اجتناب کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اس حدیث میں خواتین کوان کے ان اعمال سے متنبہ کرنے کے لیے جہنم سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس وجہ کو علامتی طریقے سے بیان کیا گیا ہے جو انھیں جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔

____________