خلاصہ

قرآن مجید ہم سے مطالبہ کرتاہے کہ سب مومن بھائی بھائی بن کررہیں۔ مگر اس مطالبہ میں بداخلاقی کے دوسرے مظاہر کی طرح بدگمانی بھی ایک نہایت موثر رکاوٹ ہے۔
ہم نے یہ جاناہے کہ سب انسان اچھے ہیں، سب سے غلطی ہوتی ہے۔کبھی ارادے سے اور کبھی بھول چوک سے۔ ان سب صورتوں میں ہمیں اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دوسروں کے بارے میں رائے بنانی ہے۔ اگر ہمارے پاس ثبوت موجود نہ ہوں تو ہمیں رائے بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے سامنے بات کا ایک رخ ہو تو دوسرے رخ کو جانے بغیر رائے نہیں بنانی چاہیے۔اگر ہم اس کے بغیر رائے بنائیں گے تو یہ بدگمانی ہے۔اوران کے ساتھ ناانصافی ہے۔
قرآن مجید کے اس مطالبہ کے لیے کہ ہم بھائی بھائی بن کررہیں،ضروری ہے کہ ہمارے اخلاق اچھے ہوں۔ اخلاق پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا دل دوسروں کے بارے میں صاف رہے ۔اس سلسلے میں لازم ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں اچھا سوچیں اور جو چیزیں برا سوچنے پر مجبور کررہی ہوں، ان کی غلطی کی حقیقت معلوم کریں، ان کی توجیہ اور پیش کردہ صفائی کو تسلیم کریں۔یہ سب کچھ ہم اس لیے کریں گے کہ ہم سب پرلازم ہے کہ ہم بھائی بھائی بن کررہیں۔یہ رشتہ اس وقت تک وجود میں نہیں آسکتا ،جب تک ہمارے دل دوسروں کے بارے میں صاف نہ ہوں۔ یا ہم خود آگے بڑھ کر حالات کی تحقیق کرکے اپنے دل کو صاف نہ کرلیں۔
بدگمانی ہماری اندرونی حالت کی خرابی سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ حسد و کینہ وغیرہ جیسی بیماریوں پر ہمیں نگاہ رکھنی چاہیے اور بیدار آدمی کی طرح ان کا علاج کرنا چاہیے۔ یہ تزکیۂ نفس کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کی مشق کرکے عادت ڈالنی چاہیے کہ ہم ہمیشہ مثبت رخ سے سوچ سکیں۔

 

دعا

اللہ تعالیٰ ہمیں بدگمانی جیسی اس بیماری سے بچائے۔ ہمیں ایسا انسان بنادے جو شکوک و شبہات کے بجائے یقینی باتوں پر عمل کرتا ہو۔ہمیں دوسروں کی خیرخواہی کی توفیق دے اوردوسروں کے بارے میں اچھے خیالات کی توفیق دے۔