پچھلے صفحات میں ہم نے کوشش کی ہے کہ اس موضوع کے حوالے سے زیر بحث آنے والی روایات پر ایک نظر ڈال لیں اور ان سے کیے گئے استنباط کی حقیقت بھی واضح کر دیں۔ اس مطالعے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام روایات میں صرف مرنے والے کی وصیت ، اس پر عائد ہونے والی دینی ذمہ داری کی تکمیل اور اس کی اس تمنایا ارادے کی تکمیل کی تصویب کی ہے جو وہ کسی خیر کے کام کے بارے میں رکھتا تھا۔
قرآن مجید نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی آدمی کوئی نیکی کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ محض اس وجہ سے نہیں کر سکا کہ قدرت کی طرف سے موانع پیش آ گئے تو اس شخص کو اس کار خیر کا اجر ملے گا۔سورۂ نساء میں ہے:

وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً، وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا.(۴ :۱۰۰) 
’’اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا،وہ زمیں میں بڑے ٹھکانے اور وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے گا، پھر موت اس کو آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے لازم ہو گیااور اللہ بخشنے والااور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اس آیۂ کریمہ کی روشنی میں دیکھیں توان روایات میں بیان کیے گئے بیش تر معاملات میں خود مرنے والا اپنے اس عمل پر اجر کا حق دار ہے جو وہ انجام نہیں دے سکا۔وہ بھی جس نے نذر مانی، لیکن موت کے باعث نذر پوری نہیں کر سکا۔ وہ بھی جس کا ارادہ کسی کار خیر کا تھا، لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے انجام نہیں دے سکا۔ وہ بھی جس کے دل میں نیکی کی خواہش تھی، لیکن وہ اپنی خواہش کی تکمیل سے محروم رہا۔
سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سائلین سے یہ کیوں نہیں فرمایا:’ قد وقع أجرہ علی اﷲ‘۔یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس پر واضح تھا کہ ہر آدمی کو اس کا اپنا عمل ہی فائدہ دے گا۔ انھوں نے اپنی بیٹی فاطمہ پرکس طرح واضح کیا تھا کہ آخرت میں پیغمبر کی بیٹی ہونا بھی، اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
ہمارے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ جوابات، اصل میں مرنے والے کی نسبت سے نہیں تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن مجید کا وہ اصول بھی تھا جو ہم سورۂ نساء کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں اور وہ اصول بھی تھا جسے آپ نے ’انقطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔اگر محض اس پہلو سے جواب دیتے تو آپ یقیناً،یہی فرماتے کہ وہ جو نیکی کے کام کر سکے، ان کا اجر بھی انھیں ملے گا اور جو وہ کسی قدرتی مانع کے سبب سے نہیں کر سکے، اس کا اجر بھی انھیں ملے گا۔وہ نیکیاں جو وہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے نہیں کر سکے، ان کا اجر انھیں کسی صورت میں نہیں ملے گا، خواہ تم ان کی طرف سے یہ عمل جتنی مرتبہ چاہے کرو۔
لیکن آپ کے سامنے اولاد اور والدین اوربھائیوں اور بہنوں کے باہمی تعلق میں ایک فطری رجحان کا مسئلہ ہے، یعنی یہ تعلق مرنے والے کی نسبت سے اس کے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں، اس کی خواہشوں اور اس کے ارادوں کی تکمیل کے شدید جذبے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کے کاموں میں اس جذبے کو ہمیشہ تحسین کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ مرحوم کا قرض اتار دینا، اس نے کوئی کام، اگر شروع کیا تھا اس کو مکمل کر دینا، اس کی اولاد کی کفالت یا شادیوں کی ذمہ داری اٹھا لینا وغیرہ۔ یہی جذبہ، اگر اس کے دینی ارادوں یا خواہشوں سے متعلق ہو تو اس کا جواب کیا ہو گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اسی طرح تحسین کی ہے جس طرح اس کی تحسین ہونی چاہیے تھی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ ان روایات کا ایصال ثواب سے تعلق قائم کرنے کے لیے، نہ ان روایات میں کوئی گنجایش ہے اور نہ قرآن مجیدکے مسلمات ہی اس کی اجازت دیتے ہیں۔
ہمارے سماج میں ایصال ثواب تصور سے آگے بڑھ کر، رسوم کا ایک باقاعدہ نظام بن چکا ہے۔ یہ رسوم، قل، چہلم، تیجا، ساتا، جمعرات، برسی یا سالانہ ختم وغیرہ کے ناموں سے موسوم ہیں۔ ان میں تلاوت قرآن مجید کی جاتی ہے اور کچھ کھانے پینے کا سامان میسر کیا جاتا ہے ۔ یہ کھانے پینے کے سامان کا زیادہ حصہ شرکاے مجلس کی تواضع میں صرف ہو جاتا ہے۔یہ سارا عمل یا اس کا بڑا حصہ دکھاوا بن کر رہ گیا ہے۔خیرات کا بہت کم حصہ، کسی غریب کے کام آتا ہے، بلکہ یہ رسم مرنے والے کے ورثا کو غریب کر دیتی ہے۔ بہرحال، یہ اگر پورے خلوص سے بھی ہو تو پہلی بات تو یہ بالکل واضح ہے کہ اس طرح کسی رسم کا کوئی ثبوت ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی میں نہیں ملتا۔یہ بات دین کے مسلمات میں سے ہے کہ تعبدی امور میں وہ چیزیں جن کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے، بدعت قرار پاتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہ رسوم جس اصول پر مبنی ہیں، وہ اصول قرآن وحدیث میں بیان کیے گئے اصول اجر کے بالکل منافی ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک یہ رسوم نہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے درست ہیں اور نہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صحیح ہیں۔
لیکن یہ رسوم جس جذبے پر مبنی ہیں، وہ جذبہ بڑا اچھا ہے۔اگر دین کی اصل تعلیمات کی روشنی میں اس جذبے کی تکمیل پیش نظر ہو تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم مرنے والے کے لیے مغفرت کی دعا کریں اور اگر اس نے کوئی خیر کا کام شروع کیا ہے تو اسے مکمل کر دیں۔ اس کے بہنوں اور بھائیوں کی تکریم کریں۔ اس نے کوئی نیکی کا ایسا کام کیا تھا جسے جاری رکھا جا سکتا ہے، اسے جاری رکھا جائے۔ اس نے اگر کوئی نیکی کے کام کی تلقین کی ہے تو اس پر عمل کیا جائے۔ یہ اس کے اپنے کام ہیں اور یہی اس کے لیے کام آنے والے ہیں۔