ہم نے تاریخ جیسے موضوع پر قلم اٹھایا اور اختصار کو اپنا شعار قرار دیا، اس لیے عین ممکن ہے کہ ہمارے بیانات کا ربط بعض مقامات پر زیادہ واضح نہ ہوا ہو۔ بہرحال ہم اس مختصر تحریر میں تاریخ بیان نہیں کررہے ، بلکہ فلسفۂ تاریخ کی روشنی میں قوموں کے عروج و زوال کے چند قواعد بیان کررہے ہیں۔ جو لوگ تفصیلات کے طالب ہیں، وہ ابن خلدون، گستاؤ لی بان ، ٹوائن بی اور اشپنگلر وغیرہ کے کام کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ 
تاہم جو بات ہم نے پچھلے مباحث میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ بے ربط انداز میں عمل نہیں کرتی ۔ اس بارے میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ تاریخی عمل میں کام کرنے والے عناصر اس قدر متنوع اوربے گنتی ہوتے ہیں کہ معاصرین بھی ان کا حقیقی ادراک نہیں کرپاتے ۔ بعد میں آنے والوں کے لیے تو ان سے اصولوں کا استنباط کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔پھر واقعات کی ایک سے زیادہ تاویلات کی گنجایش بھی باقی رہتی ہے۔سب سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ واقعات جب اگلی نسلوں تک پہنچتے ہیں تو اکثر ان کی صحت یقینی نہیں ہوتی۔ یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ ہم تک واقعات کا ابلاغ مکمل بھی ہے یا نہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود فلسفۂ تاریخ پر اب تک جو کام ہو چکا ہے ، اس سے یہ بات اب بالکل واضح ہے کہ تاریخی عمل اتفاقات کا نام نہیں ہے۔ جب یہ عمل ایک قوم کی زندگی میں پورے طور پر روبہ عمل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں عروج و زوال کاوہ سلسلہ وجود میں آتا ہے جو کائنات کی ہر شے میں ظہور پذیر ہوتا ہے ۔
عروج و زوال کایہ معاملہ چشم زدن میں رونما نہیں ہوتا، بلکہ تدریجی عمل اور مختلف مراحل سے گزر کر ایک منطقی انجام تک پہنچتا ہے۔عروج و زوال کے اس عمل میں قومی زندگی کے تمام عناصر کا ایک کردار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف اس پورے عمل سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں ، بلکہ اصلاً اس کے تخلیق کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی جسد اور اس کے عناصر قدرت کے کچھ قوانین کے پابند ہوتے ہیں ، تاہم خدا نے انسان کوایک صاحب اقتدار ہستی کے طور پر اس دنیا میں بھیجا ہے، اس لیے معاملات کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک قوم کے افراد زندہ رہتے ہیں اور اخلاقی ومادی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں ، تب تک عروج و سرفرازی ان کا مقدر رہتی ہے ۔ مگر جب وہ اخلاقی اور مادی دنیا کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرکے خوش گمانیوں، توہمات اور جذباتیت کے سہارے زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں تو زوال سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔

____________