اوپر کی ساری بحث کو نظر میں رکھنے کے لیے اس کا خلاصہ ہم یہاں نکات کی صورت میں پیش کیے دیتے ہیں اور پھر اس پر غور کر کے دیکھتے ہیں کہ ان سارے نکات سے ’’الجماعۃ‘‘ کے معنی طے کرنے میں ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے۔
اوپر کی ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ:
۱۔ ’’الجماعۃ‘‘ کی اصطلاح اجتماعیت سے متعلق ہے۔
۲۔’’الجماعۃ‘‘ اور ’’السلطان‘‘ یعنی اقتدار مترادف اصطلاحات ہیں۔
۳۔ حکمران کی اطاعت ’’الجماعۃ‘‘ سے جڑے رہنے کا ایک تقاضا اور اس کا انکار ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہونے کے مترادف ہے۔ حکمران کی اطاعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی ہے کہ:
ا۔ حکمران اپنی ظاہری شکل و صورت اور اپنے معاشرتی رتبے کے اعتبار سے، خواہ ہمیں کتنا ہی ناپسند ہو، ہمیں بہرحال اس کی اطاعت پر قائم رہنا ہے۔
ب۔ حکمران اگر ظلم و عدوان پر اتر آئے اور اپنی رعایا کے حقوق کے معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرے، تب بھی اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچا جائے۔
ج۔ حکمران اگر فاجر و فاسق ہو، تب بھی ’’الجماعۃ‘‘ سے جڑے رہنے کا تقاضا ہے کہ اس کی اطاعت سے انکار نہ کیا جائے۔
د۔ مسلمانوں کو ہر حال میں حکمرانوں کا خیر خواہ اور ناصح ہونا چاہیے۔
ہ۔ حکمران اگر کوئی ایسا حکم دیں جس کی تعمیل سے پروردگارعالم کی معصیت اور نافرمانی لازم آتی ہو تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کی جائے۔
و۔ حکمران کی اطاعت اس وقت تک لازم ہے، جب تک وہ ’’کفربواح‘‘ یعنی کھلے اور واضح کفرکا مجرم نہ ہو۔
۴۔ نظام حکومت (امارت) کی اہانت اور تحقیر کا رویہ بھی’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہونے کے مترادف ہے۔ بہ الفاظ دیگر ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی حکومت کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا رویہ رکھے۔
۵۔ ریاستی معاملات میں اختلاف کی صورت میں اکثریتی گروہ کی راے کی عملاً پابندی کرنا بھی ’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کا ایک تقاضا ہے۔
۶۔ مسلمانوں کا ایک نظم کے بجاے متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جانا ہی دراصل ’’الجماعۃ‘‘ کا نقیض ہے۔
۷۔ ’ ’التزام جماعت‘‘ کے حکم کی اصل علت مسلمانوں کو متحد اور منظم رکھنا ہے۔
۸۔ جو شخص ’’الجماعۃ‘‘ کو توڑنے کی اور اس طرح امت کو وحدت کے بجاے تفرقے کی راہ سمجھانے کی کوشش کرے، اسے ہرگز اس کا موقع نہیں دیا جائے گا اور اس کے جرم کی پاداش میں اسے قتل کر دیا جائے گا۔
۹۔ اگر کسی وجہ سے مسلمانوں کی ’’الجماعۃ‘‘ موجود نہ رہے اور ان کے مختلف گروہ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا لیں تو عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے جھگڑے سے الگ رہیں، خواہ اس کے لیے انھیں اپنے آپ کو اپنے گھروں ہی میں کیوں نہ بند کرنا پڑ جائے۔
۱۰۔ ’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا نظم اجتماعی وجود میں آ جائے تو اس کے بعد سب مسلمان اس سے جڑ کر اور اس کے وفادار بن کر رہیں۔
اس ساری بات کو سامنے رکھ کر اب آئیے ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم و معنی کے بارے میں جو مختلف آرا پائی جاتی ہیں، ان پر غور کر کے دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کون سی راے زیادہ صائب ہے۔
جیسا کہ ہم اپنے مضمون کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں، ان میں سب سے پہلی راے یہ ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد ’’مسلمانوں کی اکثریت‘‘ ہے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس کے معنی ’’امت کے علما اور مجتہدین کے گروہ‘‘ کے ہیں۔ تیسرے گروہ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد’’ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا گروہ‘‘ ہے۔ چوتھے گروہ کے نزدیک اس سے مراد ’’تمام مسلمان‘‘ ہیں اور پانچویں گروہ کے نزدیک اس سے مراد ’’مسلمانوں کا اجتماعی نظم‘‘ ہے۔
اوپر کی ساری بحث کو سامنے رکھ کر ان آرا پر غور کیجیے تو اس سے بعض آرا کی غلطی تو بالبداہت واضح ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر علما اور مجتہدین کے گروہ کو ’’الجماعۃ‘‘ قرار دینے کی کوئی دلیل ان روایتوں میں نہیں ملتی۔ ان میں سے کوئی ایک روایت بھی اس معنی کی طرف کوئی خفی اشارہ بھی نہیں کرتی۔
اسی طرح ان تمام روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ سے مسلمانوں کا سواد اعظم یا ان کی اکثریت، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا گروہ یا تمام مسلمان بھی مراد نہیں لیے جا سکتے۔ مثال کے طور پر ان روایتوں کی درج ذیل عبارتوں کو دیکھیے:
۱۔ ’’میں تمھیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں، مجھے ان کا حکم اللہ نے دیا ہے: ’’الجماعۃ‘‘ کا ۔‘‘
۲۔’’ہم نے اس شخص کے معاملے میں جتنا صبر کیا ہے، شاید کسی اور معاملے میں کبھی نہیں کیا۔ اس نے ہماری ... ’’جماعت‘‘ میں تفرقہ ڈالا۔‘‘
۳۔’’الجماعۃ رحمت اور تفرقہ عذاب ہے۔‘‘
۴۔ ’’لوگو، تم پر لازم ہے کہ الجماعۃ کے ساتھ منسلک رہو اور تفرقے سے بچو۔‘‘
۵۔ ’’تم لوگ جب ’امیر کے طور پر‘ ایک آدمی پرمتفق ہو اور ان حالات میں کوئی شخص تمھاری وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے اور تمھاری الجماعۃ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے...۔‘‘
۶۔ ’’میں نے پوچھا: اگر ان کی کوئی ’’الجماعۃ‘‘ اور سربراہ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟ فرمایا:پھر ان تمام گروہوں سے الگ رہنا۔‘‘
ان تمام عبارتوں میں ایک ایک کر کے ’’مسلمانوں کی اکثریت‘‘، ’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا گروہ‘‘ یا ’’تمام مسلمان‘‘ رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ یہ عبارتیں ان معنی کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’اگر ان کی کوئی الجماعۃ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟‘‘ کو تینوں طرح سے پڑھ کر دیکھیے:
۱۔ اگر ان کی کوئی ’’اکثریت‘‘ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟
۲۔ اگر ’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا کوئی گروہ‘‘ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟
۳۔ اگر ’’تمام مسلمان‘‘ یا ’’امت مسلمہ‘‘ نہ ہو تو پھر میں کیا کروں؟ باقی تمام عبارتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔
جہاں تک ’’نظم اجتماعی‘‘ کا تعلق ہے، ہمارے نزدیک یہی ’’الجماعۃ‘‘ کے صحیح معنی ہیں۔ اوپر کی تمام روایتوں میں اس معنی کو رکھ کر دیکھیے تو اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ’’الجماعۃ‘‘ کے معنی مسلمانوں کے نظم اجتماعی ہی کے ہیں۔ اس کے علاوہ روایتوں میں ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کے جو تقاضے بیان ہوئے ہیں، وہ تمام تقاضے غور کیجیے تو سیاسی نظم ہی کے ساتھ وابستہ رہنے کے تقاضے ہیں۔ چنانچہ یہ دیکھیے کہ روایتوں میں ’’الجماعۃ‘‘ اور’’السلطان‘‘ یعنی سیاسی اقتدار مترادف الفاظ کی حیثیت سے آئے ہیں۔ امیر یا حکمران کی اطاعت الجماعۃ سے وابستہ رہنے کا ایک تقاضا ہے۔ اسی طرح حکومت کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا رویہ رکھنا حکومت کی اہانت اور تحقیر سے پرہیز کرنا اور ریاست کا نظم جب ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ‘ کے اصول پر چل رہا ہو تو اختلاف کی صورت میں اکثریت کی راے کی عملاً پابندی کرنا بھی ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کے تقاضوں میں سے ہے۔ اس کے علاوہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کے لیے ’’الجماعۃ‘‘ کا لفظ بولا ہے، اس کا نقیض مسلمانوں کا متحارب گروہوں میں بٹ جانا ہے۔ التزام جماعت کے حکم کی علت مسلمانوں کو متحد اور منظم رکھنا ہے۔ ’’الجماعۃ‘‘ میں رخنہ ڈالنے کی سزا موت ہے اور ’’الجماعۃ‘‘ کی غیرموجودگی اور اس طرح مسلمانوں کے متحارب گروہوں میں بٹ جانے کی صورت میں مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ ہے کہ وہ ہرگروہ سے الگ رہیں، اس کے لیے، خواہ انھیں اپنے آپ کو گھروں میں بند ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور خواہ آبادی چھوڑ کر جنگل ہی میں کیوں نہ جا کر رہنا پڑے۔ ان تمام باتوں پر غور کیجیے تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ کے معنی مسلمانوں کے نظم اجتماعی یا سیاسی نظم کے ہیں اور ’’التزام جماعت‘‘ کا حکم دراصل سیاسی نظم کے ساتھ وابستہ اور اس کا فرماں بردار رہنے کے معنی میں ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ان تمام روایتوں کو سامنے رکھیے تو ان سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی، خواہ صالح حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہو یا غیر صالح، ’’الجماعۃ‘‘ کے لفظ کا اطلاق اسی پر ہو گا۔ یہ ایسی ہی بات ہے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات میں لفظ ’’امیر‘‘ حکمران کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اب ،خواہ حکمران صالح ہو یا غیر صالح، امیر کے لفظ کا مصداق وہی ہو گا۔ یہی معاملہ ’’الجماعۃ‘‘ کا بھی ہے۔ ان روایات سے یہ بات، البتہ معلوم ہوتی ہے کہ حکمران اگر کفر بواح کا مرتکب ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کے لیے ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہونا اور اس کا التزام چھوڑ دینا جائز ہو جاتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ اس صورت میں بھی ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہونا جائز ہی ہوتا ہے۔ اسے قرآن و سنت کی واضح نصوص کی غیرموجودگی میں فرض یا واجب بہرحال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ دیکھیے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مشہور روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ حکمران اگر کفر بواح کا مرتکب ہو توتمھیں لازماً اس کے خلاف کسی انقلابی جدوجہد کا آغاز کر دینا چاہیے۔ اس کے برعکس آپ نے جو بات فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر حال میں حکمران کی اطاعت کی جائے، کسی حال میں بھی اس کی ذمہ داریوں میں خلل ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ البتہ اگر وہ کسی ایسے کھلے کفر کا مرتکب ہو جس کے خلاف تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت موجود ہو تو پھر اس کی اطاعت سے نکلنا جائز ہے ۔

____________