۵۔ خواتین کی دیت۷؂

دیت ایک طرح کا جرمانہ ہے جو قاتل مرنے والے مرد یا عورت کے خاندان والوں کو اس صورت میں اداکرتا ہے جب وہ اسے معاف کردیں۔ عام طورپریہ مانا جاتاہے کہ مقتول خاتون کی دیت مقتول مرد کے مقابلے میں آدھی ہے۔ قرآن مجید کی جس آیت میں دیت کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہے:

فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌم بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْْہِ بِاِحْسَانٍ.(البقرہ ۲: ۱۷۸)
’’پھرجس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت دی گئی ہو تو وہ معروف کی پیروی کرے اوراچھے طریقے سے دیت ادا کرے۔‘‘

اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دیت سوسائٹی کے معروف کے مطابق ادا کی جائے گی۔ معروف کے معنی سوسائٹی کے رسم ورواج اور طریقہ کے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کی دیت مردوں سے آدھی تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنے زمانے میں عورتوں کی دیت مردوں کے مقابلے میں آدھی مقرر کی۔
مختلف معاشروں میں دیت ان کے دستور اوررسم ورواج کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے اور ہر معاشرے کو اپنے ہاں کے رسم ورواج کو سامنے رکھتے ہوئے دیت کی مقدار طے کرنی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کاپابند نہیں کرتا کہ عورت اور مرد کی دیت میں تفریق کی جائے یا ایک غلام اور آزاد کی دیت اور ایک مسلمان اورایک غیر مسلم کی دیت میں فرق کیا جائے۔ اسلام صرف یہ چاہتا ہے کہ اس معاملے میں معاشرے کے رسم ورواج کی پیروی کی جائے۔ علما حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے معروف کو اس زمانے میں رائج کرنے پر غلط اصرار کرتے ہیں۔ چودہ سوسالوں میں معاشرتی معاملات اور ثقافتی رسم ورواج میں بڑی تبدیلیاں نمودار ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہر معاشرہ کو اپنے رسم ورواج کی پیروی کرنی چاہیے۔ ہمارے ملک میں دیت کے بارے میں کوئی معروف متعین نہیں ہے۔ لہٰذا ہماری ریاست اس بارے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ ایک مشہور عالم دین ابن عابدین لکھتے ہیں:

إِعلم أن المسائل الفقہیۃ، إما أن تکون ثابتۃ بصریح النص، وہی الفصل الأوّل، وإما أن تکون ثابتۃ بضرب إجتہاد ورأی، وکثیر منہا ما یبنیہ المجتہد علی ما کان فی عرف زمانہ بحیث لوکان فی زمان العرف الحادث لقال بخلاف ما قالہ أوّلاً. ولہذا قالوا فی شروط الإجتہاد: أنہ لا بد فیہ من معرفۃ عادات الناس فکثیر من الأحکام تختلف بإختلاف الزمان لتغیر عرف أہلہ ولحدوث ضرورۃ أو فساد أہل الزمان بحیث لوبقی الحکم علی ما کان علیہ أوّلاً للزم منہ المشقۃ والضرر بالناس ولخالف قواعد الشریعۃ المبنیۃ علی التخفیف والتیسیر ودفع الضرر والفساد. (رسالہ ابن عابدین ۱۲۵)
’’جاننا چاہیے کہ فقہی مسائل یا تو نص صریح سے ثابت ہوتے ہیں اور یہی پہلی قسم ہے اور یا اجتہاد وراے سے ثابت ہوتے ہیں۔ اجتہاد وراے پر مبنی مسائل میں سے بہت سے وہ ہیں جن کی بنا اہل اجتہاد اس حیثیت سے اپنے زمانے کے عرف پر رکھتے ہیں کہ وہ اگر عرف حادث کے زمانے میں ہوتے تو اپنی پہلی راے کے خلاف راے دیتے۔ چنانچہ اجتہاد کی شرائط میں وہ یہ شرط بھی بیان کرتے ہیں کہ اس میں لوگوں کی عادات کی معرفت ضروری ہے،کیونکہ زمانے میں تبدیلی کے ساتھ بہت سے احکام تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات سکتی ہیں۔ مثلاً عرف میں تغیر، ضرورت کا اقتضا یا لوگوں کے احوال میں اس بنا پر کسی خرابی کا اندیشہ کہ حکم اگر پہلی صورت پر باقی رہا تو ان کے لیے ضرر اور مشقت کا باعث اور ہماری اس شریعت کے قواعد کے خلاف ہوگا جو آسانی، سہولت اور دفع ضرر وفساد پر مبنی ہے۔ ‘‘

____
۷؂ اس مسئلہ کی وضاحت استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی راے پر مبنی ہے۔ دیکھیے: میزان ، جاوید احمد غامدی ۶۲۰۔۶۲۱۔

____________